آسٹریلیا میں مسلمانوں کے لیے جگہ نہیں!

آسٹریلیا کے ایک سنسر حکومتی وزیر نے ۲۳ فروری کو کہا کہ وہ مسلمان جو اسلامی قانون کے تحت زندگی گزارنا چاہتے ہیں‘ آسٹریلیا میں ان کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ وزیر نے زور دیا ہے کہ تارکینِ وطن کو آسٹریلیا کے اَقدار کے مطابق زندگی بسر کرنی ہو گی۔

Treasurer Peter Costello کا یہ بیان وزیراعظم John Howard کے اس بیان کے ٹھیک چند دن بعد سامنے آیا‘ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مسلمانوں کے کچھ طبقات آسٹریلیائی معاشرے کے مخالف ہیں اور پھر انہوں نے خواتین کے تئیں مسلمانوں کے رویے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ Costello نے فرمایا کہ ’’مسجد میں داخلے سے پہلے آنے والوں سے کہا جاتا ہے کہ اپنے جوتے باہر اتار دیں۔ یہ احترام کی علامت ہے۔ اگر آپ کو موزوں کے ساتھ چلنے میں اعتراض ہے تو مسجد میں داخل نہ ہوں‘‘۔ یہ بات انہوں نے سڈنی کے ایک کنزرویٹو تھنک ٹینک سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’آپ کو آسٹریلین بننے سے پہلے کچھ اَقدار کا پابند ہونے کے لیے کہا جائے گا اگر آپ کو ان اَقدار کی پابندی پر اعتراض ہے تو آپ آسٹریلیا نہ آئیں‘‘۔ ان کے اس بیان پر کم از کم ایک اسلامی گروپ نے شدید رِدّعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ Costello سستی شہرت کی سیاست کر رہے ہیں اور اسلام خوفی کو ہوا دے رہے ہیں۔

آسٹریلیا کے Islamic Friendship Association کے بانی Keysar Trad نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ’’انہیں اسلامی ایشو کو اٹھانے کا کوئی حق نہیں ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام کو اپنی سستی شہرت کے لیے کیوں سیاست میں گھسیٹتے ہو۔ Costello جو زمانے سے آسٹریلیا کے وزیراعظم بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں‘ نے محمدؐ کے توہین آمیز خاکے کی اشاعت کے خلاف مسلم ممالک میں ہونے والے احتجاج پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ’’مسلمان محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی شبیہ پسند نہیں کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اخبارات کو نہیں شائع کرنا چاہیے لیکن مسلمانوں کو بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ ان اخبارات یا ممالک کے خلاف تشدد کا کوئی جواز نہیں ہے‘ جو ان اخبارات کو اپنی چیزیں شائع کرنے کی اجازت دیتے ہیں‘‘۔

(بشکریہ: اے پی ’’ڈیلی ٹائمز‘‘۔ شمارہ۔ ۲۴ فروری ۲۰۰۶ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*