پاکستان میں کوئی غیرملکی جنگجو موجود نہیں!

جب انٹیلی جینس ایجنسیز نے ایک دہشت گردانہ سازش کے انکشاف کا دعوی کیا جس کا مقصد اسلام آباد اور اس کی اطراف میں واقع متعدد حکومتی تنصیبات کو تباہ کرنا تھا تو پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے کوہاٹ سے رکن قومی اسمبلی جاوید احمد پراچہ کا نام اس موقع پر اہم کردار کے طور پر سامنے آیا۔ پراچہ کوہاٹ میں اسی وقت سے گرفتار ہیں۔ ان پر یہ الزام ہے کہ ۲۰۰۱ء میں جب امریکا نے تورا بورا پہاڑی کا محاصرہ کیا تو وہاں سے فرار ہو کر سرحد آنے والے متعدد عرب و دیگر جنگجوئوں کا پراچہ نے دفاع کیا تھا۔ پراچہ نے ۱۹۷۷ء میں سیاست میں قدم رکھا تھا۔ ان کی سیاسی زندگی کا بیشتر دورانیہ غیرنمایاں رہا ہے۔ ان کے غیرمعروف سیاسی کردار کے دورانیہ میں نواز لیگ کے ٹکٹ پر ۱۹۹۷ء میں ان کا قومی اسمبلی کے رکن کے لیے منتخب ہونا ایک استثنیٰ ہے۔ وہ جمعیت طلبائے اسلام جو کہ مولانا فضل الرحمن کی جماعت جمعیت العلمائے اسلام کی طلبہ تنظیم ہے‘ کے دس سال تک صدر رہ چکے ہیں۔ یہ جمعیت العلمائے اسلام کے صوبائی صدر بھی رہ چکے ہیں لیکن نسبتاً کم عرصے کے لیے اس لیے کہ انہیں پالیسی کی خلاف ورزی کی بنا پر اس عہدے سے معزول کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ پراچہ ۱۹۷۹ء سے کُل پاکستان سنی سپریم کونسل کے چیئرمین اور گذشتہ ۱۵ سالوں سے کوہاٹ اہل سنت و الجماعت کے چیف ایگزیکٹو بھی رہے ہیں۔ کوہاٹ‘ ہنگو‘ پارا چنار اور اورک زئی کے علاقے میں فرقہ ورانہ کشیدگی کے خاتمے میں ان کی کوششوں کے عوض انہیں صوبۂ سرحد کے وزیر اعلیٰ میر افضل خان کی جانب سے امن کا انعام دیا گیا۔ بہرحال ان کے اپنے بیان کے مطابق پراچہ کے کاموں کا اصل محور دارالعلوم انجمن تعلیم القرآن ہے‘ جسے ان کے بڑوں نے قائم کیا ہے اور جس کے وہ گذشتہ ۳۰ سال سے سربراہ ہیں۔ ہیرالڈ کے ساتھ اپنے اس انٹرویو میں پراچہ نے اپنے خلاف حکومت کے الزامات کا جواب دیا ہے۔


سوال: اپنا پس منظر بتائیے۔ آپ کس طرح مسلم لیگ (نواز) کیمپ میں داخل ہوئے؟

جواب: میں ۱۹۹۷ء میں مسلم لیگ (نواز) میں شامل ہوا۔ اس شرط پر کہ نواز شریف ملک میں شریعت کے قوانین نافذ کریں گے جو کہ انہوں نے کیا۔ انہوں نے مجھے قومی اسمبلی کی شریعت بل کمیٹی کا چیئرمین بنایا اور ترمیمی بل پاس کیا جس سے اسلامائزیشن کی راہ ہموار ہوتی تھی۔ اسی وجہ سے میں نواز شریف کا ہمیشہ وفادار رہوں گا۔

سوال: یہ خیال کیا جاتا ہے کہ مذہبی جماعتوں کے القاعدہ اور طالبان عناصر کے ساتھ گہرے روابط ہیں۔ کیا آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں؟

جواب: آپ کے سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام صرف مذہبی جماعتوں کے حلقوں تک محدود ہے اور سیاسی جماعتیں مسلمانوں کی نمائندہ نہیں ہیں۔ میں نے ہزاروں القاعدہ کے مشتبہ عناصر کی پاکستان کی جیلوں سے رہا کرانے میں مدد کی ہے اور یہ رہائی میں نے ان کے مقدمے کو عدالت میں لے جاکر حاصل کی ہے۔ کسی مذہبی جماعت یا گروہ نے کسی مرحلے پر میری مدد نہیں کی اور نہ ہی کسی مذہبی جماعت نے ان پر ایک پائی خرچ ہی کیا۔

سوال: ایسے لوگوں کی رہائی کے لیے آپ کی کوششوں کی معقول وجہ کیا تھی‘ وضاحت کریں گے؟ اس کے بجائے آپ نے بے گناہ پاکستانیوں کی رہائی کے لیے کیوں کوششیں نہیں کیں جو پاکستان بھر کی جیلوں میں مدت سے قید ہیں؟

جواب: میں نے ۳۵۰۰ لوگوں کو رہا کروایا جو افغانستان گئے تھے اور پھر انہیں پاکستانی حکام نے انتہائی کمزور الزامات کی بنیاد پر گرفتار کر لیا تھا۔

سوال: آپ کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ آپ القاعدہ کے ہمدردوں میں سے ہیں۔ آپ کس طرح اس نیٹ ورک کے رابطے میں آئے؟

جواب: ۲۰۰۱ء میں تورا بورا پر امریکی بمباری کے بعد سے میں ایک یکسر مختلف انسان بن گیا۔ ہزاروں جنگجو جن میں بیشتر عرب تھے‘ امریکی تعاقب سے بچنے کے لیے بھاگ کر اپنے خاندان کے ساتھ کرم ایجنسی کے منگالو داردر گائوں میں پناہ لینے آئے‘ جہاں گائوں والوں نے ان کے تمام سامان ان سے چھین لیے۔ وہاں سے عرب جنگجو قریب کے ایک دوسرے گائوں کی طرف کوچ کر گئے‘ جہاں بنگش قبیلہ کے لوگ رہتے تھے۔ جب لوگوں کو یہ پتا چلا کہ ان عربوں کو لوٹ لیا گیا ہے تو دس گائوں پر مشتمل عوام کے ایک ہجوم نے داردر پر حملہ کر دیا اور گائوں کو آگ لگا دی۔ بنگش قبیلہ (میں بھی اسی قبیلے کا ایک فرد میں ہوں) نے مجھ سے مدد کی درخواست کی‘ اس لیے کہ وہ لوگ ان جنگجوئوں کی زبان نہیں سمجھ پارہے تھے۔ میں نے ان کے لیے کھانے اور دوائوں کا انتظام کیا۔ اس سے پہلے جہاد میں میری کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن اس تجربے نے میرے نقطۂ نظر اور رویے میں مکمل تبدیلی پیدا کر دی۔

سوال: قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کا غیرملکیوں کے حوالے سے کیا ردِعمل تھا؟

جواب: وہ لوگ بہت ہی زیادہ معاون تھے‘ خاص طور سے پاکستانی فوج۔ انہوں نے ہمیں جیپیں اور کاریں فراہم کیں تاکہ ہم جہادیوں کو منتقل کریں۔ ہمارے ساتھ تقریباً ایک ہزار سے ۱۵۰۰ تک لوگ‘ جن کا تعلق امریکا‘ برطانیہ‘ فرانس‘ سوئٹزرلینڈ اور جرمنی سے تھا‘ اس کام میں شامل تھے۔ انہیں فوج نے علی زئی قلعہ منتقل کیا تھا‘ جہاں جنگ پھوٹ پڑی‘ جس کی وجہ سے ان کے بیشتر لوگ وہاں سے فرار ہو گئے‘ سوائے کوئی ۴۰۰ عربوں کے جو وہیں رہے۔ بہرحال جلد ہی وہاں امریکی ہیلی کاپٹرز پہنچ گئے اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے ان عربوں کو گرفتار کر لیا۔ اس سے قبل عربوں نے مجھے اپنے پاسپورٹ دے دیے تھے اور مجھ سے کہا کہ وہ پاکستان میں درست کاغذات کے ذریعہ داخل ہوئے تھے اور پھر خصوصی طیاروں کے ذریعہ افغانستان بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے اپنے کروڑوں ڈالر روسیوں کے خلاف جہاد میں خرچ کیے تھے۔ اتنا ہی نہیں ان جہادیوں نے اربوں روپے مختلف خفیہ ایجنسیوں کو بطور اعانت دیے تھے۔

سوال: کیا آپ ان ایجنسیوں کے نام بتا سکتے ہیں؟

جواب: نہیں! میں ان ایجنسیوں کے نام نہیں بتا سکتا۔

سوال: ان گرفتاریوں پر آپ کا کیا ردِعمل تھا؟

جواب: میں نے فوری طور سے جہادیوں کی گرفتاری کو چیلنج کیا۔ پشاور ہائی کورٹ میں حبس بے جا کا مقدمہ دائر کرتے ہوئے کوہاٹ کی جیل میں ایف بی آئی کے اہل کاروں کی موجودگی سے بھی میں نے عدالت کو آگاہ کیا۔ بعد میں اس مقدمہ کو سپریم کورٹ میں لے جایا گیا‘ اس درخواست کے ساتھ کہ امریکیوں کو ان عربوں کو گوانتاناموبے لے جانے سے روکا جائے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت بھی کوئی راحت فراہم نہ کر سکی۔

سوال: حکومت کا خیال ہے کہ یہ لوگ جنہیں آپ جہادی کا نام دے رہے ہیں‘ دہشت گرد ہیں جو پرویز مشرف اور شوکت عزیز پر ہونے والے خودکش حملوں میں ملوث رہے ہیں۔ آپ کیوں اب بھی ان کی حمایت کر رہے ہیں؟

جواب: کوئی عرب دہشت گرد ملک میں نہیں ہیں۔ حکومت صرف امریکی مفادات کے لیے کام کر رہی ہے۔ میں اس شخص کو ایک کروڑ روپے دوں گا جو پاکستان میں عربوں کی موجودگی کو ثابت کر دے۔ وہ لوگ چیچنز‘ ازبک اور قبائلی طالبان ہیں۔

سوال: وہ یہاں کیا کر رہے ہیں؟

جواب: انہیں امریکا کی طرف سے سویت یونین کے خلاف جنگ کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ جب امریکا کا مقصد پورا ہو گیا تو اس نے جہادیوں کو چھوڑ دیا۔ یہ مجاہدین اﷲ کی خاطر لڑنے آئے تھے نہ کہ بش اور کلنٹن کی خاطر۔ اب امریکا انہیں اس لیے ختم کرنا چاہتا ہے کہ اسے خوف لاحق تھا کہ یہ لوگ اس کے اقتدار کو چیلنج کریں گے۔ اسامہ بن لادن کی مثال لے لیجیے۔ اس نے امریکا میں تعلیم حاصل کی۔ اسامہ کے والد بش سینئر کے تجارتی شریک تھے۔ اس نے اس دہشت گردی کا ڈرامہ اس لیے رچایا کہ تیل کی تجارت کو ہڑپ لیا جائے۔ بش جونیئر کے پاس بھی اپنا ایجنڈا ہے۔ وہ وسطی ایشیا کے ممالک پر افغانستان کے ذریعہ امریکا کا کنٹرول چاہتا ہے اور اسلام کا خاتمہ بھی۔ لیکن بہرحال افغانستان اور عراق میں امریکا کو جس ذلت کا سامنا ہے‘ انصاف کی کسوٹی اس کے حق میں فیصلہ دے گی جو صحیح راہ پر ہیں۔

سوال: اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ روس افغانستان کو بہت پہلے چھوڑ چکا ہے‘ کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہ لوگ افغانستان میں قیام کریں۔ ان حضرات کو اپنے وطن واپس جانے میں کیا چیز مانع تھی؟

جواب: یہ لوگ اسلام کا دفاع کرنے آئے تھے۔ انہوں نے اربوں ڈالر فلاہی کاموں پر خرچ کیے‘ جن میں سڑکوں کی تعمیر‘ پانی اور اس کی فراہمی کے منصوبے نیز طالبان دور میں ہسپتالوں کی تعمیر شامل ہے۔ انہوں نے اپنے وطن کی جائیدادیں فروخت کر دیں‘ اس واسطے کہ وہ پانی سے متاثرہ اس ملک کی تعمیرِ نو کریں گے۔ طالبان کے سقوط کے بعد یہ لوگ امریکیوں اور ان کے اتحادیوں کو قتل کر کے جنت میں اپنی جگہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

سوال: یہ حقیقت ابھی بیان ہونے سے رہ گئی ہے کہ یہ لوگ اپنے ملک میں اپنے بھیانک جرم کی وجہ سے شدت سے مطلوب ہیں اور واپسی کی صورت میں انہیں موت کی سزا کا سامنا ہو گا۔ یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ انہوں نے افغانستان ہی رہنے کا فیصلہ کیا ہو؟

جواب: یہ بالکل غلط بات ہے۔ ہم نے کوئی ۳۵۰ عربوں کو ان کے وطن واپس بھیجا ہے اور ان میں سے کسی ایک کو بھی پھانسی نہیں ہوئی۔

سوال: آپ نے انہیں کہاں بھیجا؟

جواب: ان کے ملک بھیجا اور دوسری جگہ کہاں بھیجیں گے؟ آپ پشاور ہائی کورٹ کے ریکارڈ سے اس کی تصدیق کر سکتے ہیں۔

سوال: وزیرِ داخلہ نے آپ پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ آپ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں اور القاعدہ و طالبان عناصر کی حمایت میں ملوث رہے ہیں؟

جواب: امریکا نے پاکستانی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ مجھے دہشت گرد اعلان کرے۔ امریکا مجھ پر یہ الزام لگاتا ہے کہ جن مجاہدین کو میں نے رہا کروایا ہے بعد میں وہ عراق چلے گئے ہیں اور وہ وہاں امریکا کے خلاف جہاد میں حصہ لے رہے ہیں۔

سوال: یقینا وزیرِ داخلہ کے پاس دہشت گردوں سے آپ کے رابطے سے متعلق ثبوت ہوں گے؟

جواب: ایک وجہ تو یہ ہے کہ میں پاکستان سنی سپریم کونسل کا چیئرمین ہوں جبکہ فیصل صالح حیات کا تعلق شیعہ فرقے سے ہے۔ اگر ان کے پاس کوئی ثبوت ہے تو انہیں سامنے لانا چاہیے۔ ان کے عائد کردہ الزامات کے فوراً بعد ہی میں پشاور ہائی کورٹ گیا۔ اگر میں دہشت گرد ہوں تو عدالت کو مجھے پھانسی دے دینی چاہیے۔

سوال: آپ شیعہ اور سنی کے مابین امن کے لیے کام کرنے والے کی حیثیت سے مشہور ہیں جس کے لیے آپ ماضی میں انعام سے بھی نوازے گئے ہیں۔ اس کے باوجود فیصل صالح حیات کے شیعہ ہونے کی وجہ سے آپ دشواری محسوس کرتے ہیں؟

جواب: وہ پاکستان کو جھنگ بنانا چاہتے ہیں جو فرقہ ورانہ تشدد کے لیے بدنام ہے۔ وہ ایک فرقہ ورانہ بحران پیدا کرنے کے درپے ہیں تاکہ شیعہ برادری سے پیسہ حاصل کر سکیں۔ فیصل صالح حیات کابینہ میں سب سے زیادہ بدعنوان وزیر ہے اور یہ پہلا شخص ہے جسے نیب نے گرفتار کیا تھا‘ اس کے خلاف بدعنوانی اور گھپلے کے ۱۶ مقدمات ہیں۔

سوال: وزیرِ داخلہ تنہا اپنے ذاتی خیال کی بنیاد پر تو آپ پر الزام نہیں لگا سکتے تھے؟

جواب: اگر حکومت ان کے اس خیال میں شریک ہوتی تو کیوں وزیرِ اطلاعات شیخ رشید میرے بارے میں یہ فرماتے کہ میں کسی دہشت گردی کے واقعہ میں ملوث نہیں ہوں۔

سوال: کیا آپ کو آپ کی پارٹی (مسلم لیگ نواز گروپ) کی حمایت حاصل ہے؟

جواب: پاکستان مسلم لیگ نواز نے نہ ہی مجھے کوئی مدد دی اور نہ ہی مجھے اپنا کام کرنے سے روکا۔

سوال: کیا آپ اپنے کام خود اپنے پیسوں سے جاری رکھے ہوئے ہیں؟

جواب: میرے بہت سارے دوست ہیں جو وکیل ہیں‘ وہ عدالت میں مقدموں کی مفت پیروی کر رہے ہیں۔

سوال: ہوائی جہاز کے ٹکٹوں کے پیسے کہاں سے آتے ہیں؟

جواب: یہ چندوں اور خیرات کے پیسے ہوتے ہیں۔ میں نے مجاہدین کو ان کے وطن واپس بھیجنے کے لیے ہوائی جہاز کے ٹکٹوں پر ۳۰ لاکھ روپے خرچ کر چکا ہوں۔

سوال: کیا آپ کو طالبان برانڈ اسلام قبول ہے؟

جواب: ایک سو فیصد۔ یہ کُل کا کُل اسلام ہے۔

سوال: آپ نے اس سے پہلے یہ دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی فوج شروع میں طالبان کے باقی ماندہ لوگوں کی مدد کر رہی تھی۔ کیا آپ کے خیال میں پاکستانی فوج میں اب بھی ایسے لوگ ہیں جو طالبان کی حمایت کرتے ہوں؟

جواب: کہیں کا بھی مسلمان ہو خواہ وہ فوجی ہو یا شہری‘ طالبان کا حامی ہے۔ صرف وہ لوگ جو کافر قوتوں سے پیسے لے رہے ہیں‘ ان کے مخالف ہیں۔

سوال: بم دھماکے‘ قاتلانہ حملے‘ جنوبی وزیرستان اور بلوچستان میں بے چینی کا سلسلہ جاری ہے‘ ملک میں حالیہ ابتر صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟

جواب: جنرل پرویز مشرف۔ وہ عوام کا قاتل ہے‘ اس لیے قرآن کے مطابق عوام کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کے ذمہ دار حکمراں ہیں۔

سوال: بعض حلقوں کا خیال ہے کہ آپ فوج کے ایجنٹ ہیں۔ آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہیں گے؟

جواب: اگر ایجنسیاں غیرمسلموں کے خلاف جہاد کی حمایت کرتی ہیں تو میں ان کے قدم چومنے کے لیے تیار ہوں۔ لیکن جیسی صورتحال ہے اس میں‘ میں اُن کا ایجنٹ نہیں ہوں۔

سوال: آپ جہاد کے سیاق میں فوج کا کردار کیسا دیکھتے ہیں؟

جواب: کوئی بھی فتویٰ پاکستانی فوج یا حکومت کے خلاف اب تک جاری نہیں ہوا ہے۔ جب کوئی فتویٰ سامنے آئے گا جیسا کہ وانا اور بلوچستان میں آچکا ہے تو ہم اس پر عمل کریں گے۔ پھر ہم حرکت میں آئیں گے۔

(بشکریہ: ماہنامہ ’’ہیرالڈ‘‘۔ کراچی۔ ستمبر ۲۰۰۴ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*