ایران کے پاس جوہری فنی مہارت موجود ہے!

واشنگٹن پوسٹ کے حوالے سے خبر ہے کہ ’’نیوز ویک‘‘ کے نامہ نگار لالی ویموت (Lally Weymouth) نے البرادی سے مصاحبہ (Interview) کیا جس کے سوال و جواب کی تفصیل درج ذیل ہے:


س: کیا آپ ایجنسی کی سربراہی کے تیسرے دور کی سربراہی کے لیے بھی امیدوار ہوں گے؟

ج: میں اکیلا کینڈیڈیٹ ہوں۔

س: امریکا آپ سے کیوں نجات چاہتا ہے؟

ج: ان کا خیال ہے کہ میں دو بار انٹرنیشنل اٹامک انرجی کمیشن کا سربراہ رہا ہوں اس لیے مجھے نہیں رہنا چاہیے۔ جبکہ بہت سارے ممالک مجھ سے درخواست کرتے ہیں کہ اس منصب پر باقی رہوں۔ اس لیے ہمارے درمیان تنازعہ ہے اور بہت سارے اہم مسائل ہیں‘ ایران بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے‘ اسی طرح شمالی کوریا۔ چنانچہ جانے سے پہلے میں پیش رفت دیکھنا چاہتا ہوں۔

س: بش حکومت کا کہنا ہے کہ آپ ایران کی نسبت بہت زیادہ سخت نہیں تھے۔ آپ کا ردِعمل کیا ہے؟

ج: یہ بات منحصر ہے کہ آپ نرم ہونا کسے کہتے ہیں۔ میں نے جو کچھ ایران میں حاصل کیا‘ اس پر مجھے فخر ہے۔ اٹھارہ ماہ پہلے ایران ایک Black Box تھا‘ جو کچھ وہاں ہو رہا تھا اس کے بارے میں ہم زیادہ نہیں جانتے تھے۔ ہر ایک جانتا ہے کہ ان کا پروگرام کس قدر وسیع اور الجھا ہوا تھا۔ سختی سے کام لے کر ہی تاسیسی مواد کی تیاری کو بند کرایا اور اس وقت بھی جہاں ضرورت محسوس کرتے ہیں‘ جاتے ہیں تاکہ مطمئن ہو جائیں کہ کہیں ہم سے کچھ چھپایا تو نہیں جارہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ سفارت کاری کے ساتھ ایران کا مسئلہ حل ہو جائے گا اور اس طریقے سے شمالی کوریا کے لیے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

س: امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام میں معاہدوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور وہ دھوکا دیتے ہوئے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

ج: ایران نے ماضی میں خلاف ورزی کی ہے اور ہم نے اس کی رپورٹنگ بھی کی ہے۔ چنانچہ صحیح تدبیر کو بروئے کار لایا گیا اور اب تعاون شروع ہوا ہے اور اس کے بعد کوئی خلاف ورزی نہیں کی۔ ہمارے پاس کوئی ایسی دلیل نہیں ہے کہ جس کی بنا پر ہم کہیں کہ انہوں نے خلاف ورزی کی ہے۔ جب تعاون کر رہے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ تعاون کر رہے ہیں۔ ہم یورنیم کی افزودگی کو متوقف کرنے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ پچھلی بار فوجی مقامات کا بھی معائنہ کیا۔

س: ایران اپنے مکمل چرخہ سوخت (Centrifuge) کو صلح آمیز جوہری پروگرام کا عنوان دے کر اس کی کس طرح توجیح کر رہا ہے۔؟

ج: انہوں نے یورپی ممالک کو ایسے شواہد پیش کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایٹمی بجلی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ تو ان کی طرف سے ایک فنی توجیہ ہے۔ ان کی دوسری توجیہ یہ بھی ہے کہ ان پر پابندیاں لگائی جاتی رہی ہیں اور انہیں دنیا سے الگ تھلگ کرنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں‘ اس لیے وہ خودکفیل ہونا چاہتے ہیں۔ اس لیے یورپی ممالک سے ان کے مذاکرات بہت اہم ہیں۔ اس احساسِ ضرورت یعنی مستقل طور پر چرخہ سوخت رکھنے کی ضرورت کی نفی میں اطمینان بخش دلائل دیے جائیں۔

س: ایران کب تک ایٹم بم حاصل کر سکتا ہے؟

ج: یہ بات منحصر ہے کہ کیا وہ ایٹم بم بنانے کے در پے ہے۔ میں نے تو ایسا کچھ نہیں پایا۔ البتہ وہ جوہری علمی مہارت ضرور رکھتے ہیں۔ اگر چاہیں تو چرخہ سوخت شروع کر کے وہ دو سال میں مواد تیار کر سکتے ہیں۔ اگر ان کے پاس مواد موجود ہے تو اسلحہ بنانے کے لیے صرف ایک سال کا عرصہ درکار ہے لیکن یہ وقت ہی بتا سکتا ہے کیونکہ ایران کے پاس فنی مہارت اور ساخت کی صنعت موجود ہے۔

س: ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟

ج: آپ کو چاہیے کہ تحقیق کریں۔ البتہ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ سفارتی طریقہ اپنایا جائے۔ اگر کسی پر جوہری ہتھیار بنانے کا الزام عائد ہوتا ہے تو آپ اس کی وجہ دریافت کریں کہ کیوں وہ عدم تحفظ کے احساس سے دوچار ہے؟ آپ ایران کی علیحدگی اور ان کی ٹیکنالوجی و اقتصاد سے متعلق ضروریات کا احساس کریں۔ ان پر بیس سالوں سے پابندیاں عائد ہیں۔

س: امریکا کو کیا کرنا چاہیے؟

ج: میں چاہتا ہوں کہ امریکا یورپی ممالک کے ذریعہ ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کرے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ امریکا کے عزم اور تعاون کے بغیر نتیجہ حاصل نہیں کر سکتے۔ خلیجِ فارس اور مشرقِ وسطیٰ میں بحالیٔ امن کے لیے بہت سارے کام انجام دیے جانے چاہییں۔ امریکا شمالی کوریا کے ساتھ تعاون کر رہا ہے‘ میں نہیں جانتا کہ ایران کے ساتھ کیوں نہیں تعاون کرتا ہے؟

س: کیا ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کا امکان ہے؟

ج: ایران یورپی ممالک کے ساتھ تعاون کر رہا ہے‘ اس لیے فوجی کارروائی کی بات اس مرحلے میں کسی قسم کی مدد نہیں کر سکتی۔ میں نہیں سمجھتا کہ فوجی کارروائی سے ایران کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ میری نظر میں ایران جوہری مہارت میں خودکفیل ہے اور وہ خفیہ طور پر اس کام کو انجام دے سکتا ہے۔ آپ اس کے پروگرام کو تاخیر سے دوچار کر سکتے ہیں مگر وہ پھر دوبارہ جوہری اسلحے بنانے کا اہل ہو سکتا ہے۔

س: کیا یہ بات صحیح ہے کہ اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار ہونے کی وجہ سے ایران اسے حاصل کرنا چاہتا ہے؟

ج: ان کا کہنا ہے کہ سلامتی کے عوامل میں عدم توازن موجود ہے۔ اس بات کو قبول کریں کہ ۲۰ سے ۳۰ ممالک کے پاس جوہری ہتھیار ہیں یا جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔ یہ سب کے سب ایک سلامتی کے نظام کے محتاج ہیں۔

س: کیا آپ کے پاس کوئی نمونہ ہے جس سے ممالک کو چرخہ سوخت (Centrifuge) کو لانے سے روکا جائے۔

ج: میرا خیال ہے کہ کسی ملک کے لیے مستقل چرخہ سوخت رکھنا صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ ایسا ملک بالقوۃ جوہری ہتھیار رکھتا ہے اور ایٹم بم بنانے تک فاصلہ زیادہ نہیں رہتا۔ میری رائے یہ ہے کہ جو ممالک صلح آمیز مقاصد کے لیے جوہری مہارت کی ضرورت کا احساس کرتے ہیں‘ انہیں اس کے استعمال اور لازمی مہارت رکھنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ البتہ چرخہ سوخت اقوامِ متحدہ کے نیوکلیئر نگراں کا ادارہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی طرف سے کنٹرول ہوتا رہے تاکہ وہ یقینی بنائے کہ سوخت کا استعمال شدہ مواد تباہ کر دیا گیا ہے۔

س: اطلاعات کے مطابق امریکی وزارتِ دفاع نے ایک ٹیم ایران کی سرزمین میں داخل کی ہے۔ کیا اس بارے میں آپ کو بھی کوئی اطلاع دی گئی؟

ج: ہمیں ایران سے تازہ معلومات حاصل نہیں‘ جو کچھ ہمیں اطلاعات دی گئی ہیں‘ ہم ان کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ ایران جیسے وسیع ملک کے بارے میں اطلاعات کے اپنی کارکردگی پر انحصار کرنا مشکل کام ہے۔

س: NPT معاہدہ میں مئی میں تحدید ہونا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس بارے میں مذاکرات مشکلات سے دوچار ہیں۔ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

ج: میں ناامید ہوں کیونکہ اس کانفرنس کے بہت سارے تمہیدات کا شاہد نہیں ہوں۔ لوگ انڈے توڑنے پھوڑنے میں لگے ہیں۔ میں نے اس بارے میں کوئی مفید بحث نہیں دیکھی۔

س: امریکی وزارتِ توانائی جوہری تجہیزات سے خارج ہونے والی سوخت کے بارے میں تحقیق کیے جانے کے بارے میں دلچسپی دکھا رہی ہے۔

ج: وہ غلط پیغام دے رہے ہیں۔ آپ کسی کو نہیں کہہ سکتے کہ ’’جوہری ہتھیاروں کو چھوئو نہیں جبکہ خود اسے بنانے کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں‘‘۔

س: اطلاع ملی ہے کہ مصر نے جوہری تجربہ کیا ہے؟

ج: حکومتِ مصر نے پچھلے دنوں کہا ہے کہ مخصوص تجربوں کی گذارش میں کچھ غلطی تھی مگر ان کے پاس جوہری پروگرام نہ تھا۔ صلح کے بعض زاویوں کے عنوان سے ہمیں چاہیے کہ تحفظ و سلامتی کے متوازن دائرے میں تعاون کریں۔

س: کیا آپ کا کہنا ہے کہ مسئلہ فلسطین سے ناامیدی نے مصر کو جوہری ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی طرف مائل کیا ہے؟

ج: نہیں! میں ایسا نہیں کہتا۔ مشرقِ وسطیٰ میں غیرمتوازن احساسِ عدم تحفظ موجود ہے۔

(ترجمہ: عبدالحسین موسوی۔ بشکریہ: مہر نیوز ڈاٹ کام)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.