موٹاپے کا مرض جدید طرزِ زندگی کا نتیجہ

موٹاپا جدید زندگی کا نتیجہ ہے۔ موٹا پے کا تعلق محض چند انسانی افعال سے نہیں ہے مثلاً زیادہ کھانے یا کم ورزش کرنے سے بلکہ یہ جدید زندگی کا نتیجہ ہے۔ برطانوی حکومت کے ایک تھنک ٹینک کی تحقیقات کے مطابق بیسویں صدی میں ٹیکنالوجی کے انقلاب نے وزن بڑھنے کے عمل کو تیز کیا ہے اور اسے آبادی کی اکثریت کے لیے ناگزیر بنا دیا ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق: سر ڈیوڈ کنگ جو برطانوی حکومت کے سائنسی مشیر اعلیٰ ہیں،ان کا کہنا ہے کہ ہماری جسمانی و حیاتیاتی نشوو نما ہمارے گرد وپیش کے ماحول سے ہم آہنگ نہیں ہوتے ہیں۔ ما قبل تاریخ کے زمانے میں ہماری زندگی کا دارو مدار اجناس پر مبنی سادہ غذائوں پر ہوتا تھا لیکن اب ہم توانائیوں سے بھر پور غذائیں استعمال کرتے ہیں، مصنوعی طور پر تیار کردہ سستی اور ہلکی غذائوں کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں، موٹر انجن پر مبنی ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتے ہیں، محنت سے بچانے والے آلات کا استعمال کرتے ہیںاور بیٹھ کر انجام دینے والا پیشہ اختیار کرتے ہیں۔ یہی وہ اسباب ہیں جو موٹاپے کو جنم دیتے ہیں اور یہ اسباب جدید دور کی پیداوار ہیں۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اگر چہ اس حوالے سے ہر ایک کی شخصی ذمہ داری اہم ہے تاہم مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مسئلہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے کیونکہ موٹاپے سے نبرد آزما ہونا ماحول کی تبدیلی سے نبرد آزما ہونا ہے اس کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی واحد جادو کی چھڑی میسر نہیں ہے۔ حتیٰ کہ بھوک کو کم کرنے والی نئی ادویات بھی اس سلسلے میں بہت زیادہ مدد گار نہیں ہو سکتیں، اس لیے کہ اس مسئلے کا تعلق پورے سسٹم سے ہے۔

تحقیق کاروں کا کہناہے کہ موٹاپا ایک وبائی مرض کی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس وقت دنیا میں ۳۰ کروڑ لوگ موٹاپے کے مرض میں مبتلا ہیں۔

(بحوالہ: ’’پریس ٹی وی‘‘۔ ۲۵ اکتوبر ۲۰۰۷ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*