ایک فیصد سے زائد آبادی جیل میں

مختصر مختصر

* امریکا میں کُل آبادی کا ایک فیصد سے زائد حصہ جیلوں میں ہے۔ ۱۹۸۷ء میں قیدیوں کی تعداد ۵۸۵۰۸۴ تھی، جو (بیس برسوں میں تین گنا) بڑھ کر ۲۰۰۷ء میں ۱۵۹۶۱۲۷ ہو گئی ہے۔

* البتہ اِس عرصے میں سنگین جرائم میں ۲۵% کمی واقع ہوئی ہے۔ مگر عدالتوں نے جرائم پر زیادہ سخت سزائیں سنائی ہیں۔

* امریکی جیلوں میں قید کُل شہریوں میں سے ۹۱% مرد ہیں اور صرف ۹% خواتین۔

* اِن قیدیوں میں سے ۴۰ء۳ فیصد سیاہ فام ہیں، ۳۶ء۲ فیصد سفید فام، ۲۰ء۵ فیصد ہسپانوی نسل کے اور بقیہ ۳ فیصد دیگر نسلوں سے تعلق رکھنے والے۔

(بحوالہ: ’’ٹائم‘‘۔ شمارہ: ۱۷ مارچ ۲۰۰۸ء)

* چین میں کھائے جانے والے کُل گوشت کا ۶۵% حصہ خنزیر کے گوشت پر مشتمل ہے، جس کی قیمت میں حالیہ دنوں میں ۷۰% تک اضافہ ہو گیا ہے۔

(بحوالہ: ’’ٹائم‘‘۔ شمارہ: ۲۸ جنوری ۲۰۰۸ء)

* چین نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ ایک جوڑے کی ایک اولاد (بیٹا ہو یا بیٹی) والی اُس کی سرکاری پالیسی برقرار رہے گی تاکہ اُس کی افزائش آبادی کی شرح کم رہے۔ اندازہ ہے کہ ۲۰۱۰ء میں چین میں شرحِ افزائش ۱ء۲۸ فیصد رہے گی۔

* ۲۰۱۰ء میں مغربی یورپ میں شرحِ افزائش ۰ء۱۸ فیصد رہنے کا امکان ہے جو دنیا کے کسی بھی خطے میں سب سے کم شرحِ افزائشِ آبادی ہو گی۔

* ۲۰۱۰ء کے لیے جاپان نے اپنی شرحِ افزائش کا اندازہ ۰ء۸۴ فیصد لگایا ہے۔

* اِن سب کے برعکس افریقی ملک نِیجر (Neiger) نے ۲۰۱۰ء کے لیے اپنی شرحِ افزائشِ آبادی کا اندازہ ۵ء۰۵ فیصد لگایا ہے۔ صحارا کے پار کی ریاستوں میں افزائشِ نسل کی شرح اِس وقت دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

(بحوالہ: ہفت روزہ ’’نیوز ویک‘‘۔ شمارہ: ۳۱ مارچ ۲۰۰۸ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*