تنظیمی چارٹ۔ بین الاقوامی صہیونی تنظیم

الف۔ بین الاقوامی صہیونزم کانگریس

مختلف ممالک میں صہیونیوں کے نمائندوں اور صہیونی مملکت کے مختلف اتحاد (کہ جن میں اکثریت سرمایہ دار اور اہلِ ثروت طبقہ شامل ہے) پر مشتمل ایک بین الاقوامی صہیونزم کانگریس تشکیل دی گئی ہے۔ یہ کانگریس میں صہیونیوں کی سب سے زیادہ بااختیار اور تمام بڑے فیصلہ جات کرنے والا ادارہ بن گئی ہے۔ اس میں کئی ایک ہیت بھی تشکیل دی گئی جیسے قانون سازی، قضائی، نظارتی، اقتصادی، کُلی و جزوی وغیرہ۔ اس کانگریس کا انعقاد ابتدا میں ہر سال پھر ہر دو سال میں ایک بار اور اب ہر چار سال میں ایک بار ہوتا ہے۔

ب۔ صہیونزم کی عمومی کمیٹی

یہ کمیٹی مذکورہ بالا کانگریس کے انعقاد کے حوالے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق تنظیم کو چلانے کی ذمہ دار ہے۔ اس کمیٹی کا اجلاس عام طور پر ہر سال ایک بار اور اس کے اہم ذمہ داروں کا اجلاس بڑے منظم انداز سے ہر ماہ یا ڈیڑھ ماہ بعد ہوتا ہے۔

ج۔ اجرائی کمیٹی

اجرائی کمیٹی یا آپریشنل کمیٹی جو درحقیقت پوری تنظیم کے لیے آپریشنل بازار کا درجہ رکھتی ہے۔ تمام پروگرام، منصوبوں اور قراردادوں پر عمل درآمد کروانا اس کمیٹی کے ذمہ ہے۔ اس کمیٹی کا مرکزی دفتر قدس میں ہے۔ اس کی ایک برانچ نیو یارک میں بھی ہے۔

د۔ بین الاقوامی صہیونی تنظیم کا اقتصادی نظام

۱۸۹۷ء میں جب سوئٹزر لینڈ کے شہر ’’بال‘‘ میں پہلی صہیونی کانگریس کا انعقاد ہوا، اُسی زمانے سے اس قیادت نے یہ مقصد بھی طے کر لیا کہ مالیات کا بھی ایک سسٹم جو بہت مربوط اور منظم ہو ایجاد کیا جائے تاکہ سیاسی فعالیتوں کے اخراجات پورے کرنے کے ساتھ ساتھ ہجرت کرنے والے لوگوں کے لیے وظیفہ اور فلسطین میں سکونت اختیار کرنے والے یہودیوں کے اخراجات اور ان کی دیکھ بھال کی جاسکے۔ تنظیم کا یہ شعبۂ مالیات جو علانیہ طور پر حکومتوں اور لوگوں سے چندہ اکٹھا کرتا ہے اس کے علاوہ خفیہ طور پر کئی ایک پیچیدہ راستوں کے ذریعہ بھی اپنی مالی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔

یہودیوں کے شعبۂ مالیات کے تین اصلی یا بنیادی اکائونٹ ہیں جن کے شرح درج ذیل ہے:

۱) رہائشی اکائونٹ: یہ وہ پہلا یہودی اکائونٹ ہے کہ جس کا ہدف فلسطین میں یہودیوں کی رہائش کو وسعت دینا ہے۔ یہ ایک شیئر ہولڈنگ کمپنی کے عنوان سے رجسٹرڈ (ایک شیئر ایک پونڈ) ہوا۔ لیبر بینک کی تاسیس، بجلی فراہم کرنے والی کمپنی میں سرمایہ کاری اور مہاجر یہودیوں کو قرضوں کی فراہمی وغیرہ اس اکائونٹ کی سروسز میں سے ہیں جو آگے چل کر ’’سینٹرل بینک اسرائیل‘‘ کی صورت اختیار کر گیا۔

۲) یہودی قومی اکائونٹ: یہ تنظیم کے ایک بازر کے عنوان سے تشکیل دیا گیا جس کا ہدف اراضی کی خرید، ناقابلِ استعمال اراضی کو قابلِ استعمال و قابلِ کاشت بنانا اور تمام سرزمین کو یہودی کرنا تھے۔ اس اکائونٹ میں سرمایہ لانے کا طریقہ یہ وضع کیا گیا کہ نیلے رنگ کے چھوٹے چھوٹے صندوقچے گھروں میں اور دیگر تمام یہودی اداروں میں دروازوں کے ساتھ نصب کیے گئے کہ لوگ آتے جاتے کچھ نہ کچھ امداد اس میں ڈالتے رہیں۔ ۱۹۴۸ء میں اس اکائونٹ میں تقریباً ۹ لاکھ ۳۶ ہزار ہیکٹر زمین (کہ جو اس وقت یہودیوں کی ملکیت میں کُل اراضی کا نصف تھا) ان کے پاس ہو چکی تھی۔

۳) تاسیسی اکائونٹ: یہودی ایجنسی اور بین الاقوامی صہیونی تحریک کی مالی حوالے سے ریڑھ کی ہڈی کی مانند یہی اکائونٹ ہے۔ اس کی ذمہ داریوں میں تمام امدادوں کو مرکزیت دینا، تمام قرضہ جات اور متروکہ اموال کو مناسب طریقہ سے استعمال کرتے ہوئے فلسطینی سرزمین میں تعمیری منصوبوں کو پورا کرنا وغیرہ شامل ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور پھر اسرائیلی مملکت کے قیام کے وقت اس اکائونٹ کو اور اہم ذمہ داریاں سونپ دی گئیں جن میں جدید مہاجروں کی نامزدگی اور انھیں سکونت دینا، چھوٹے بڑے رہائشی منصوبوں کا اجرا، کھیتی باڑی کا فروغ، صنعت، تعلیم، صحت و صفائی اور جوان تر لوگوں کو ہجرت کروانے جیسے شعبوں میں اس کا کردار بڑھتا چلا گیا۔ یہ اکائونٹ اسرائیل اور امریکا کے علاوہ دوسرے ۴۷ ممالک میں بھی فعال ہے۔

ہ۔ بین الاقوامی صہیونزم تنظیم سے وابستہ دیگر ادارے

بہت سارے ایسے ادارے اور تنظیمیں ہیں جو مختلف ممالک میں جو علانیہ اور رسمی طور پر صہیونزم کے حوالے سے متحرک ہیں اور ان کی یہ فعالیت سیاسی، اقتصادی، ثقافتی، دفاعی اور اسلحہ سازی جیسے شعبوں میں ہے۔ ان میں معروف ترین امریکا کی آیپاک، فرانس کی الیانس، امریکا میں صہیونزم یونین، کینیڈا میں آگوڈیٹ صہیون وغیرہ ہیں۔ فی الحال سب سے زیادہ اہم ترین ادارے امریکا میں متحرک ہیں۔

(بحوالہ: ماہنامہ ’’منتظرِ سحر‘‘ کراچی۔ نومبر ۲۰۰۸ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*