شام میں ’’منظم اپوزیشن‘‘ تیار!

شام میں اپوزیشن جماعتوں کا ایک محاذ تیزی سے ابھر رہا ہے۔ چھ ماہ قبل بشارالاسد انتظامیہ کے خلاف تحریک کے آغاز سے اب تک ملک کے اندر اور باہر حکومت کے مخالفین کو متحد اور منظم کرنے کے لیے مضبوط اپوزیشن کو سامنے لانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ ۲؍ اکتوبر کو ترکی میں جس سیرین نیشنل کونسل کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے وہ اب تک بنائے جانے والے اپوزیشن محاذ میں سب سے زیادہ طاقتور دکھائی دیتی ہے۔ ۱۵ ستمبر کو جس کونسل کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا اس کا یہ وسیع ورژن ہے۔ اس میں سیرین ٹرانزیشنل کونسل کے سربراہ اور ساربون کے پروفیسر برہان غالیون سمیت کئی اہم شخصیات شامل ہیں۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ نئی کونسل مضبوط اپوزیشن بن کر ابھرے گی۔ بشارالاسد انتظامیہ کے مخالف ممالک اس عبوری کونسل کو متوقع حکومت کی حیثیت سے قبول کرنا بھی شروع کرسکتے ہیں۔

دی سیرین نیشنل کونسل کی ۲۳۰ نشستیں ہیں۔ ان میں سے ۲۱۰ کو جلد از جلد پُر کرنا لازم ہے۔ باقی ۲۰ نشستیں اُن گروپوں کے لیے ہیں جنہوں نے اب تک خود کو حکومت کے خلاف میدان میں اتارا نہیں یا اپنی شناخت ظاہر نہیں کی۔ ۷۵ نشستیں اوریجنل کونسل اور ۵۵ نشستیں ملک بھر میں حکومت مخالف مظاہروں کا اہتمام کرنے والی مقامی رابطہ کمیٹیوں کے لیے ہیں اور بیس بیس نشستیں اخوان المسلمون، ۲۰۰۵ء کے اعلانِ دمشق پر دستخط کرنے والوں، آزاد عناصر اور کردوں کے لیے مختص ہوں گی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جس زبان میں گفتگو کرتے تھے اس سے بہت ملتی جلتی زبان بولنے والوں کے بنیاد پرست عیسائی گروپ دی ایسیرینز کو سیکریٹیریٹ میں ایک نشست ملے گی۔

نشستوں کی یہ تقسیم ملک کے اندر اور باہر رہ کر بشارالاسد انتظامیہ کے خلاف تحریک چلانے والوں کے درمیان معاملات کو متوازن رکھنے کے لیے ہے۔ تناسب ۶۰ اور ۴۰ کا ہے۔ ملک میں رہ کر حکومت کی مخالفت کرنے والے بہت سے لوگ کریک ڈاؤن سے بچنے کے لیے اپنے نام ظاہر نہ کرنے پر مجبور ہیں۔ فورسز نے اب تک ۳ ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتارا ہے اور ۱۳ ہزار سے زائد جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔

دی سیرین نیشنل کونسل میں پروفیسر برہان غالیون اور اعلانِ دمشق پر دستخط کرنے والوں کی شمولیت اس خدشے کو رفع کرنے میں مدد دے گی کہ کونسل کے اصل ارکان کا جھکاؤ اسلام نواز عناصر کی طرف تھا، گوکہ ارکان میں تنوع پہلے بھی پایا جاتا تھا۔ ان میں اخوان المسلمون کے ارکان کے ساتھ ساتھ تیل کی صنعت سے وابستہ شہر بنیاس کی معروف شخصیت انس ایروت بھی شامل ہے جس نے بہت سے مظاہروں کی قیادت کی۔ کونسل کے ارکان میں مقامی رابطہ کمیٹیوں کے سیکولر قائدین عمر عدلبی اور رامی نخل کے ساتھ ساتھ معروف مصنف یاسین الصالح کے بھائی خالد حج الصالح اور (شاید) شام کے سب سے معروف سینئر منحرف ریاض سیف شامل ہیں۔

دی سیرین نیشنل کونسل اپوزیشن کے پچھلے گروپوں سے کہیں زیادہ پروفیشنل اور منظم دکھائی دیتی ہے۔ بالخصوص برہان غالیون کی سربراہی میں قائم گروپ کے مقابلے میں۔ اس نئی کونسل کا سیکریٹریٹ ۲۹ ارکان پر مشتمل ہوگا۔ سات رکنی ایگزیکٹیو بورڈ ہوگا جس کا صدر ہر چند ماہ کے بعد تبدیل ہوگا۔

نئی کونسل کا کہنا ہے کہ تمام فرقوں سے تعلق رکھنے والے شامی باشندوں کو کثیر الجماعتی جمہوریت کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔ اس کے منشور میں حکومت سے بات کرنے پر اس کا تختہ الٹنے کو ترجیح دی گئی ہے۔ یہ سوچ دراصل سڑک پر آکر تحریک چلانے والوں کے جذبات سے ہم آہنگ ہے جن کا کہنا ہے کہ حکومت سے مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے۔ کونسل شام میں بیرونی عسکری مداخلت کی بھی مخالف ہے اور وہ نہیں چاہتی کہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے والے تشدد پر مائل ہوں، ہتھیار استعمال کریں کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں بشارالاسد انتظامیہ کے اس الزام کو تقویت ملے گی کہ اس کے خلاف تحریک چلانے والے چند مسلح گروہوں کے سوا کوئی اور نہیں۔

۴؍ اکتوبر کو چین اور روس نے شام میں جمہوریت کے لیے سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی قرارداد کی مخالفت کی۔ اس کے جواب میں دی سیرین نیشنل کونسل نے دنیا بھر کی حکومتوں سے رابطے شروع کردیے ہیں۔ لندن میں بشارالاسد حکومت کے ایک مخالف اسامہ مناجد کا کہنا ہے کہ حکومت کے مخالفین کئی ممالک میں نمائندہ دفاتر کھولنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ خود اسامہ مناجد واشنگٹن میں دفتر کھولنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ کونسل کی توسیع سے قبل اس کے کرتا دھرتا ترک وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سے ملے۔ ترکی نے کونسل کو انقرہ میں دفتر قائم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ کونسل کو یقین ہے کہ ترکی میں دفتر قائم ہوگیا تو دیگر حکومتیں بھی اسے دفاتر قائم کرنے اور کام کرنے کی اجازت دیں گی۔ کونسل چاہتی ہے کہ پڑوسی ممالک سرحدی علاقوں میں اس کے ارکان کے لیے پناہ گاہیں قائم کرنے کی اجازت دیں تاکہ وہ شامی فورسز کے مظالم سے بچنے کے لیے وہاں آسکیں۔ اس تصور کی عملی صورت فی الحال ممکن دکھائی نہیں دیتی۔

ملک کی نسلی اور مذہبی اقلیتوں کو یہ یقین دلانے پر کونسل کو غیر معمولی توجہ دینا ہوگی کہ اخوان المسلمون کی شمولیت سے ملک کے سیکولر مزاج پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ واضح رہے کہ شام میں اخوان المسلمون کی رکنیت سنگین جرم ہے۔ اخوان سے متعلق خدشات رفع کرنے کی ایک کوشش یہ بھی ہے کہ کونسل کی ترجمان بسماء قدمانی حجاب استعمال نہیں کرتی۔ کونسل کو عیسائیوں اور علویوں کو اپنی صفوں میں زیادہ اہمیت دینا ہوگی جو ملک کی آبادی کا دس دس فیصد ہیں۔ واضح رہے کہ صدر بشارالاسد اور چند جرنیلوں کا تعلق علوی فرقے سے ہے۔ ساتھ ہی خواتین کو بھی نظر انداز کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔ کونسل کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ترکی کی قدرے نرم رویہ رکھنے والی اسلامی حکومت کے آغوش میں نہیں۔ سیکولر مزاج رکھنے والوں کے ذہنوں میں یہ خدشہ پلتا ہی رہے گا کہ اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے ارکان معاملات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے رہیں گے۔

(بشکریہ: ہفت روزہ ’’اکنامسٹ‘‘ لندن۔ ۸؍ اکتوبر ۲۰۱۱ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*