ہمارا مقصد فلسطینیوں کو اپنے وطن واپس لانا ہے!

بھارتی انگریزی روزنامہ ’’دی ہندو‘‘ کے نمائندہ اتول اینجا کو انٹرویو دیتے ہوئے حماس سیاسی بیورو کے نائب سربراہ ڈاکٹر موسیٰ ابومرزوق فرماتے ہیں کہ حماس غزہ اور مغربی کنارہ میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کو قبول کرنے پر آمادہ ہے جس کا دارالخلافہ مشرقی یروشلم ہو۔ ذیل میں انٹرویو کا مکمل متن درج ہے:


سوال: غزہ میں مزاحمت کا پہلا مرحلہ تازہ جنگ کے بعد مکمل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ آپ کی مزاحمت اس سطح سے کس انداز میں پیش قدمی کرے گی جہاں یہ اب تک پہنچ گئی ہے؟

جواب: اس مرحلے کے دوران اسرائیلی جارحیت نے غزہ کو بحری، فضائی اور زمینی حملوں کے ذریعہ ہر طرف سے نشانہ بنایا۔ غزہ کی پٹی جیسا کہ آپ جانتے ہیں ایک بہت ہی چھوٹا سا علاقہ ہے۔ یہ ۳۶۵ مربع کلومیٹر ہے اور دنیا کی انتہائی گنجان آبادی والا علاقہ ہے۔ اس چھوٹے سے علاقے میں ۱۵ لاکھ لوگ رہتے ہیں۔ غزہ میں زیادہ تر لوگ پناہ گزیں ہیں۔ یہ لوگ تاریخی فلسطین کے اپنے آبائی شہروں، گائوں اور زمینوں سے آئے ہیں۔ تقریباً ۷۵ فیصد یا دس لاکھ لوگ پناہ گزیں ہیں جو اس علاقے میں رہتے ہیں۔ اب جبکہ حماس نے ۲۰۰۶ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کر لی تو ہم نے تحریک کے نظریہ پالیسی اور ہدف کو تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ ابتدا سے ہی ہمارا مقصد اپنے لوگوں کو فلسطین واپس لانا رہا ہے۔ ہم نے شروع سے ہی اس بات پر زور دیا ہے کہ فلسطینیوں کو اپنے ملک میں رہنے کا حق ہے نہ کہ پناہ گزیں کیمپوں میں۔ ہمارا مقصد اپنی ریاست کا قیام اور غاصبانہ قبضے کے خلاف جدوجہد رہا ہے۔

سوال: کیا آپ یہ فرما رہے ہیں کہ آپ کا حتمی مقصد ایک واحد فلسطینی ریاست ہے؟ کیا آپ دو ریاستی حل کو قبول کرنے کی جانب مائل ہیں؟

جواب: دیکھیے! انتخابات جیتنے کے بعد ہم نے مغربی کنارہ اور غزہ پٹی میں فلسطینی ریاست کے قیام کو خطے میں طاقت کے توازن کے پیشِ نظر قبول کر لیا۔ اس کے بعد ہم نے یہ مشورہ دیا کہ فلسطینی ریاست اور اسرائیل کے مابین بغیر اسرائیل کو تسلیم کیے امن قائم ہونا چاہیے۔ یہ انتخابات جیتنے کے بعد ہمارا مقصد تھا۔ ماضی میں فلسطین کے حوالے سے ہمارا یہ ہدف نہیں تھا۔

سوال: چنانچہ آپ کا مقصد غزہ اور مغربی کنارہ سمیت اُس سرزمین پر فلسطینی ریاست کا قیام تھا جسے اسرائیل نے ۱۹۶۷ء کی جنگ کے دوران اپنے غاصبانہ قبضے میں لے لیا تھا؟ بہرحال یہ آپ کا اصل ہدف نہیں ہے؟

جواب: ہم ترجیحات رکھتے ہیں۔ اس وقت ہماری ترجیح اسرائیلی محاصرے کو ختم کروانا ہے اور فلسطینیوں کو یہ سہولت فراہم کرنا ہے کہ وہ اپنی عمارتوں اور گھروں کی تعمیرنو کر سکیں جو غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے تباہ و برباد ہو گئے ہیں۔ اس وقت یہ ہماری پہلی ترجیح ہے۔ ہماری دوسری ترجیح یہ ہے کہ ہم اپنے قومی اتحاد کو ازسرِنو بحال کریں۔

سوال: کس منصوبے کے تحت؟ ایک یمنی تجویز ہے اور مصری بھی بطور ثالث فلسطینی اتحاد کے حصول کی کوششوں میں شامل رہے ہیں۔

جواب: اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آیا منصوبہ یمنی ہے یا مصری ہمیں اپنے اہداف حاصل کرنے ہیں، واسطے بہت زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ اہم چیز ہمارے اتحاد کی تعمیرِ نو ہے۔ ہماری تیسری ترجیح ایک فلسطینی ریاست کا قیام جس میں مغربی کنارہ اور غزہ پٹی شامل ہو اور یروشلم اس کا دارالخلافہ ہو۔

سوال: جب آپ دارالخلافہ کے لیے یروشلم کا ذکر کرتے ہیں تو اس سے مراد آپ کی محض مشرقی یروشلم ہوتی ہے؟

جواب: دیکھیے اسرائیلیوں کو مغربی کنارہ اور غزہ سمیت ۱۹۶۷ء کی سرحدوں تک واپس جانا چاہیے جس کا مطلب یہ ہے کہ مشرقی یروشلم فلسطینی ریاست کا دارالخلافہ ہو گا۔ یہ کام انجام دیے جانے کے بعد پھر ہم اُس مرحلے پر پہنچیں گے جہاں فلسطینی ریاست اور اسرائیل کے مابین امن کے قیام کی کوشش ہو گی۔ ہم بطور ایک تحریک خواہ حکومت میں ہوں یا حکومت سے باہر ہوں اسرائیل کو ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے تسلیم کرنے کے مخالف ہیں کیونکہ اس صورت میں ہمارے تمام حقوق کی بازیابی ممکن نہیں ہو سکے گی۔

سوال: کیا یہ حقوق پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے حقوق سے مربوط ہیں؟

جواب: ہمارے پناہ گزین لبنان اور شام میں ہیں جنہیں لازماً اپنے وطن اور اُن رشتہ داروں کے پاس واپس آنا چاہیے جو ہنوز ان کے انتظار میں ہیں۔ یہ لوگ محض ایسی ریاست قبول نہیں کریں گے جو مغربی کنارہ اور غزہ پٹی میں محدود ہیں۔

سوال: انہیں کہاں واپس ہونا چاہیے؟ مغربی کنارہ یا غزہ یا اپنے آبائی گائوں یا شہر جو موجودہ اسرائیل میں واقع ہیں؟

جواب: اگر یہ لوگ مغربی کنارہ یا غزہ واپس لوٹتے ہیں تو یہ ان کی اپنے وطن، اپنے گائوں، اپنے گھر واپسی نہیں ہو گی تو پھر یہ اپنے ملک کے اندر البتہ ایک دوسرے علاقے میں دوبارہ پناہ گزیں ہوں گے۔ مغربی کنارہ اور غزہ پٹی میں پہلے ہی ۱۵ لاکھ سے زیادہ پناہ گزیں ہیں۔ ہم تاریخی فلسطین کی بات کر رہے ہیں نہ کہ مغربی کنارہ اور غزہ پٹی کی۔

سوال: تو گویا آپ اسرائیل کو تسلیم کیے بغیر ۱۹۶۷ء کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام چاہتے ہیں۔ لیکن معمول کی صورتحال آخری مرحلہ مکمل ہونے کے بعد پیدا ہو گی یعنی جب پناہ گزیں اپنے آبائی وطن واپس لوٹ آتے ہیں؟

جواب: اس کے بعد ایک قسم کا حل عوام کے مابین ہو گا۔ اب اگر لوگ اسرائیل واپس ہوتے ہیں اور مکمل حقوق بشمول انسانی حقوق اور سیاسی حقوق سے لطف اندوز ہوتے ہیں تو مستقبل جو وہ چاہتے ہیں ان کی مرضی کے مطابق ہو گا۔ ہماری کوشش یہ ہے۔ فلسطینیوں کی امیدیں پوری ہوں اور ان کے ساتھ مکمل انصاف ہو۔

سوال: یہ الزامات لگتے رہے ہیں کہ حماس ایک دہشت گرد تنظیم ہے جو تمام یہودیوں کو غرقِ سمندر کرنا چاہتی ہے؟

جواب: یہ سچ نہیں ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ تاریخ میں یہودی متعدد قتلِ عام سے دوچار ہوئے ہیں۔ قتلِ عام جرمنی میں ہوا، دوسری جنگ عظیم میں پولینڈ میں ہوا اور اسپین میں ہوایہ قتل اہم قتلِ عام ہیں جن سے ہمارے عوام دوچار ہے ہیں۔ ان عوامی خونریزیوں کے بعد یہودیوں نے اسلامی ممالک کا رُخ کیا جن میں ترکی، فلسطین اور مراکش خاص طور سے قابلِ ذکر ہیں جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اسلامی دنیا کے متعدد مقامات میں یہودیوں نے پناہ حاصل کی۔ اس وقت ہمیں کسی مذہب کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اگر آپ اسلامی ممالک پر نگاہ ڈالیں گے تو ہمیں آپ ایک مخلوط خطے کا حصہ پائیں گے۔ میں اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں حضرت عیسیٰؑ پر ایمان نہ رکھوں۔ میں مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک میں حضرت موسیٰؑ پر ایمان نہ رکھوں۔ ہمارے لیے یہودیوں کے دیگر انبیا پر بھی ایمان لانا ضروری ہے۔ ہمارا مذہب کسی بھی قسم کی تفریق کو مسترد کرتا ہے۔ لہٰذا یہ بات کہنا کہ ہم یہودیوں کو سمندر میں پھینک دیں گے محض ایک پروپیگنڈا ہے۔ اس کے برعکس یہ بھی ضروری ہے کہ فلسطینی عوام کے قتلِ عام کی حقیقت کو تسلیم کیا جائے۔ غزہ کے گزشتہ قتلِ عام میں ۱۵ سو لوگ مارے گئے جن میں ۴۰۰ بچے اور دو سو سے زیادہ خواتین تھیں۔

سوال: وہ کیا اصول ہیں جو فلسطینی مزاحمت کو متحد کیے ہوئے ہیں؟ آپ کے ساتھ بطور اتحادی بائیں بازو کا گروہ پاپولر فرنٹ برائے آزادی مردم فلسطین (PFLP) بھی ہے۔ آپ کو وینزویلا جیسے ملک کی بھی حمایت حاصل ہے۔ کیا آپ بائیں بازو یا مارکسی اصولوں اور اسلامی اصولوں کے مابین کوئی تضاد پاتے ہیں یا آپ ان دونوں کو کسی نہ کسی طرح قریب آتے دیکھ رہے ہیں؟

جواب: ہماری ذمہ داری ایک مسلمان کی حیثیت سے مظلوم اور ستم رسیدہ عوام کا ساتھ دینا ہے۔ نظریاتی پہلوئوں میں دراصل انسانی قدریں ہیں جو ہمارے اور ان کے مابین قدرِ مشترک کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہمیں ستم رسیدہ عوام کے ساتھ کھڑا ہونا ہے اُن عوام کے ساتھ جو بھوک اور اغیار کے تسلط کی مصیبت میں مبتلا ہیں۔

سوال: اس بات کی کوشش ہوتی رہی ہے کہ حماس کا تعلق دہشت گردی اور القاعدہ سے جوڑ دیا جائے۔ کیا آپ القاعدہ کو مسترد کرتے ہیں؟

جواب: ہم کُلّی طور پر اُن سے مختلف ہیں۔ ہم اغیار کے زیرِ تسلط ہیں۔ یقینا ہم القاعدہ کو مسترد کرتے ہیں۔

سوال: کیا حالیہ جنگ کے دوران غزہ میں آپ کی مزاحمت ایک وسیع تر جدوجہد کا حصہ جس میں حزب اللہ لبنان بھی شامل ہے اور جسے شام اور ایران جیسے ممالک کی پشت پناہی حاصل ہے؟

جواب: ہماری کامیابی صرف غزہ کے عوام کی نہیں بلکہ تمام فلسطینیوں کی فتح ہے۔ یقینا اسرائیل کی شکست کے ساتھ ہم نے خطے میں بہت سی دوسری قوتوں کو بھی شکست سے دوچار کیا ہے جو مختلف وجوہات کی بنا پر چاہتی تھیں کہ غزہ پٹی کو دوبارہ قبضے میں لے لیا جائے۔ لہٰذا اس کا فائدہ ان تمام ممالک کو ہو گا جو حماس کے ساتھ کھڑے تھے یا مختلف طریقوں سے حماس کی مدد کر رہے تھے۔ اس مرحلے پر ہماری حمایت حزب اللہ، شام اور ایران کے علاوہ بھی ہیں۔ اگر آپ جنگ کی طرف دیکھیں تو مسلم دنیا اور باقی دنیا کے بیشتر لوگ حماس کے ساتھ کھڑے تھے۔ وہ حماس کے پرچم بلند کر رہے تھے اور اسرائیل کے پرچم جلا رہے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پوری دنیا میں ہمیں کروڑ ہا لوگوں کی حمایت حاصل ہے۔

سوال: دوحہ کانفرنس کی کیا اہمیت ہے جہاں حماس اور اس کے اتحادیوں کو مدعو کیا گیا تھا؟

جواب: دوحہ کانفرنس میں قطر کے امیر نے (فلسطینی انتظامیہ کے صدر) محمود عباس کو دعوت دی تھی۔ لیکن وہ سعودی عرب اور مصر کی طرف سے دبائو کی وجہ سے اس میں شرکت کے لیے قدم نہیں اٹھا سکے۔ اس کے بعد حماس کو اس کانفرنس میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا اس لیے کہ فلسطینیوں سے متعلق کسی کانفرنس میں اگر فلسطینیوں کی نمائندگی نہ ہو تو پھر اس کانفرنس کی کوئی اہمیت ہی نہیں رہ جاتی ہے۔ یہ ایک اچھی کانفرنس تھی اس لیے کہ اس نے فلسطینی جدوجہد کی حمایت کی تھی۔ اب یہ بہت واضح ہے کہ بعض ممالک اس وقت فلسطینی جدوجہد اور کاز کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ یہی اصول ہے، پیغام ہے جو دوحہ کانفرنس سے سامنے آیا ہے۔

سوال: کیا اسرائیل فلسطین تنازعہ کے حل میں ترکی کا کوئی مخصوص کردار ہے؟

جواب: ہماری بین الاقوامی حمایت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ جب ہم نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تو روس، ترکی اور بہت سارے دوسرے ممالک نے ہماری حمایت کی۔ اب یورپی نمائندے جو شام کے صدر اور وزیر خارجہ سے ملنے آتے ہیں وہ ہمیں ملنے کے لیے تلاش کرتے ہیں۔

سوال: کیا اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے آپ سے ملاقات کی ہے؟

جواب: نہیں لیکن میری ملاقات سیکریٹری جنرل کے دورے سے ایک روز قبل مغربی کنارہ اور غزہ میں ان کے سیاسی نمائندہ سے ہوئی ہے۔

سوال: آپ اس تنازعہ میں مصر کے کردار کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

جواب: ہمیں مصر کی پالیسیوں سے اختلاف ہے۔ ہم مصریوں سے یہ چاہتے ہیں کہ وہ رَفح گیٹ کھول دیں اس لیے کہ اس کے بغیر باقی دنیا تک ہماری رسائی نہیں ہو پا رہی ہے۔ مصر میں امریکا کی ایک وسیع فوجی موجودگی کے حوالے سے تجاویز رہی ہیں تاکہ سرنگوں کے ذریعہ غزہ کے اندر اسلحوں کی اسمگلنگ کو روکا جا سکے۔ یہ مصر کی ذمہ داری ہے کہ وہ جو اقدام چاہے اپنی سرزمین میں کرے۔ غزہ سے مصر یا اسرائیل میں کوئی چیز اسمگل نہیں ہو رہی ہے۔ ممکن ہے بعض لوگ اسرائیل اور مصر سے کچھ چیزیں غزہ اسمگلنگ کرنے میں ملوث ہوں لیکن یہ اُن ممالک کی ذمہ داری ہے ہماری نہیں۔

سوال: کیا آپ بین الاقوامی معائنہ کاروں کو غزہ کے اندر قبول کریں گے؟

جواب: نہیں، ہم بین الاقوامی معائنہ کاروں کو نہ تو غزہ کے اندر قبول کریں گے اور نہ ہی مصر اور غزہ کو ملانے والی سرحد پر قبول کریں گے۔

سوال: کیا آپ رَفح بارڈر کراسنگ پر یورپی معائنہ کاروں اور فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس کے نمائندوں کی موجودگی قبول کریں گے؟

جواب: ہمیں گیٹس پر یورپی معائنہ کاروں یا محمود عباس کے نمائندوں کی موجودگی پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

(بشکریہ: بھارتی روزنامہ ’’دی ہندو‘‘)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*