Abd Add
 

’’ہماری جوہری سرگرمیاں قانونی ہیں!‘‘

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد سے انٹرویو

عالمی خبر رساں ایجنسی رائٹر اور اسپین کے ٹیلی ویژن چینل ’’ٹی وی ای ‘‘ نے گزشتہ دنوں ایرانی صد رمحمود احمد ی نژاد سے انٹرویو لیا جس کے اہم اقتباسات کا ترجمہ نذر قارئیں ہے۔


سوال: جناب صدر، ایران نے یورینیم کی افزودگی معطل کرنے سے انکار کردیاہے اس صورت حال میں ایران کے چیف مذاکرات کار علی لاریجانی ترکی میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ ہاوئیرسولانا سے کس بنیاد پر بات چیت کریں گے؟

جواب: ایران کے جوہری پروگرام پر تنازع کی نوعیت مکمل طور پر سیاسی ہے، اس میں قانونی اور تکنیکی امور کا کوئی دخل نہیں۔ ایران نے بین الاقوامی قوانین کی کبھی بھی خلاف ورزی نہیں کی۔ چند(مغربی) ممالک جو سب سے زیادہ نیوکلیئر ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں، نہیںچاہتے کہ دوسرے ملکوں کے پاس بھی یہ ٹیکنالوجی ہو۔ ہمارا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے وہ جوہری ایندھن تیارکرتے ہیں جس سے پیچھے ہٹنے کی کوئی معقول وجہ نہیں ۔لاریجانی اور سولانا کے مابین بہت اہم اور مفید مذاکرات ہوں گے جن کا مقصد ابہام کو دور کرنا اور باہمی مفاہمت پیدا کرنا ہوگا۔

سوال: کیا ایران افزودگی کا ’’دوہرا تعطل‘‘ اور پابندیاں قبول کر لے گا؟

جواب: یہ ایشو (دہرا تعطل) لا یعنی ہے جس کی کوئی قانونی بنیاد ہی نہیں ہے۔ ہمارا جوہری کام قانونی ہے۔ آپ کسی ملک سے ایک غیر قانونی کام(اقوام متحدہ کی قرار داد) کے ذریعے اپنی قانونی سرگرمیاں معطل کرنے کے لیے نہیںکہہ سکتے اور پھر’’دہری معطلی‘‘ ایک غلط اصطلاح ہے۔

سوال: ایران جوہری ایندھن کیوں تیارکرناچاہتا ہے؟

جواب: ایران کامقصدبالکل واضح ہے۔ اپنے تجربات کی بنیاد پر اگرکوئی ملک مختلف پر امن مقاصد کے لیے نیو کلئر ٹیکنالوجی استعمال کرنا چاہتا ہے تو اسے اس کے لیے درکار ایندھن بھی تیار کرنا چاہیے اور تمام ممالک کو اس کا یہ حق تسلیم کرنا چاہیے۔

سوال: اگر جوہری کام معطل کرنے کے لیے ایران پر بین الاقوامی دبائو بڑھ گیا تو آپ کو پارلیمنٹ نے جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے ) کے ساتھ تعاون کی سطح پر نظر ثانی کا جو اختیار دیا ہے اس کو استعمال کرتے ہوئے ایران کون سے قدم اٹھائے گا؟اگر اقوام متحدہ نے وسیع تر پابندیاں عائد کر دیں تو کیا ایران تیل کو بطور ہتھیار استعمال کرے گا؟

جواب: ایرانی قوم دبائو کا مقابلہ کرنا جانتی ہے اوروہ دھمکیوں کو مواقع میں تبدیل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ ایران کا پر امن ایٹمی پروگرام قانون کے دائرے میں رہاہے اور ہم اسے جاری رکھنا چاہیں گے۔ اور ہاں ہم تیل کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔

سوال: آپ کا اپنے وزیر خارجہ منوچہر متقی اور امریکی وزیر خارجہ کونڈالیزارائس کے مابین ممکنہ مذاکرات کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ایران کا کہنا ہے کہ امریکا نے اس سے متعلق اپنا لہجہ تبدیل کیا ہے کیا تہران ان بین الاقوامی معاملات پر امریکا کے ساتھ براہ راست مذکرات کرنے کو تیار ہے جن کا اسے سامنا ہے ؟

جواب: ہم نے ہمیشہ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ہم مذاکرات کے لیے تیا ر ہیں لیکن اس کے لیے ہماری یہ شرط ہے کہ یہ مذاکرات بین الاقوامی میڈیا کی موجودگی میں ہوں اور انہیں براہ راست نشر کیا جائے۔ ہماری ان مذاکرات کے بارے میں اچھی یادیں نہیں جن سے قوم کو آگاہ نہیں رکھا گیا ہے۔

سوال: کیا یہ فیصلہ ایرانی اسٹیبلشمنٹ نے کیا ہے ؟

کیا اس ایشو پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے؟

جواب: ایران کا موقف ہمیشہ سے یہی رہا ہے، اس میں کوئی نئی بات نہیں۔ یہ کوئی انفرادی فیصلہ نہیں بلکہ اس پر اتفاق رائے موجود ہے۔

سوال:عراق کا مسئلہ حال کرانے میں ایران امریکا کی کس طرح مدد کر سکتا ہے اور کیا ایران عراق کے ہمسایہ ممالک کے اس اجلاس میں شریک ہونے کے لیے تیار ہے جو مصر میں منعقد ہونے والا ہے؟

جواب: عراق میں امریکا کا مسئلہ خود امریکا ہی ہے خطے کے معاملات کے بارے میں ان کا نقطہ نظر غلط ہے اس لیے کہ امریکی حکام کا خیال ہے کہ وہ فوجی طاقت اور میزائلوں کے زور پر مسائل حل کر سکتے ہیں۔ امریکا اپنا رویہ تبدیل کر لے تو مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

سوال: حملے کی صورت میں ایران کا رد عمل کیا ہوگا؟

جواب: دوسرے ملکوں کو بموں اور میزائلوں سے ڈرانے کا زمانہ گزر چکا ہے۔ خاص طور پر جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دھمکیوں کی زبان استعمال کر کے ایران پر دبائو ڈالا جاسکتاہے۔ وہ غلطی پر ہیں۔ مجھے ا س بات میں شک ہے کہ امریکا(ایران پر) حملے کی حماقت کرے گا۔ تاہم ایران بہر صورت اپنے حقوق کا دفاع کرے گا۔ ایک آزاد قوم کی حیثیت سے ہم اپنی سالمیت کا تحفظ کر سکتے ہیں۔ قدرتی بات ہے کہ جب ایک قوم پر حملہ کر دیا جاتا ہے تو وہ اس کا جواب مناسب اقدامات کے ذریعے سے دیتی ہے اور کسی بھی دوسرے ملک کی طرح ہمارے پاس بھی جواب دینے کے مختلف طریقے موجود ہیں۔ ایران کسی ملک پر حملہ آور نہیں ہوگا لیکن اگر ہم پر حملہ کیا گیا تو پوری قوت سے جواب دیں گے ۔

سوال: میںاپنا سوال دہرائوں گا، کیا ایران عراق کے ہمسایہ ممالک کے اجلاس میں شرکت کرے گا؟

جواب: ہم اس پر غور کر رہے ہیں۔ ہم اس ایشو پر اپنے عراقی دوستوں سے بات چیت کر رہے ہیں۔

سوال: کیا ایران اقوام متحدہ کی ان پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے جو اسے مزید تنہا کرنے کا سبب بنیں گی؟ کیا آپ کے خیال میں ان سے ایرانی قوم پر اقتصادی بوجھ بڑھ نہیں جائے گا؟

جواب: آج پابندیاں بے معنی ہیں۔ اب قومیں اس طرح کے دبائو میں نہیںآتیں۔ تنہا ہونا غیر متعلق بات ہے۔ہماری قوم کا راستہ واضح ہے، ہمیں یقین ہے کہ جو ہمیں تنہا کرنا چاہتے ہیں وہ (پابندیاں لگا کر ) خود تنہا ہو جائیں گے۔

سوال: کیا کوئی ایسی ممکنہ تجاویز بھی ہیں جن کے تحت ایران تھوڑے سے عرصے کے لیے اپنی جوہری سرگرمیاں معطل کر دے؟

جواب: معطلی کا ایشو اتنا اہم کیوں ہے اور اس کے لیے اتنا دبائو کیوں ڈالا جا رہا ہے، انہیں ہر صورت میںمعطلی سے خواہ وہ قلیل مدت کے لیے ہی کیوںنہ ہو کیا فائدہ ملے گا… قانونی سرگرمیوں کی معطلی کی گنجائش کسی بھی بین الاقوامی قانون میں نہیں ہے۔ اس مطالبے کے پیچھے سیاسی مضمرات کار فرما ہیں۔ ہمیں مغرب کے ارادوں پرشک ہے۔ بہترین تجویز یہ ہے کہ ایرانی قوم کے حقوق کو تسلیم کر لیا جائے۔ ہم جب یہ کہتے ہیں کہ ہمارا جوہری کام پر امن مقاصد کے لیے ہے تو ہم سچ کہہ رہے ہوتے ہیں اور جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم اسے جاری رکھیں گے تو ہم اس بارے میں سنجیدہ ہوتے ہیں۔

سوال: آخر ایران امریکاسے چاہتا کیاہے؟امریکا تہران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے کیا کر سکتا ہے؟

جواب: وہ ایک قوم کے خلاف دھمکی آمیز زبان استعمال کر سکتے ہیں اور نہ ہی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے ہمیں جوہری سرگرمیاں ترک کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔

انہیں دیانتداری سے کام لینا چاہیے۔ اس صورت میں ایران کو (براہ راست مذاکرات) کرنے میں کوئی دقت نہیںہوگی لیکن یہ بین الاقوامی میڈیا کی موجودگی میں ہونے چاہئیں۔

(بشکریہ: ’’ڈیلی ٹائمز‘‘لاہور۔ شمارہ: ۲۵ اپریل ۲۰۰۷ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.