ایٹمی ٹیکنالوجی کے معاملے میں منافقت

ایٹمی ٹیکنالوجی کی بات چلے تو ساری توجہ شمالی کوریا اور ایران پر مرکوز ہو جایا کرتی ہے۔ شمالی کوریا نے ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) سے علیٰحدگی اختیار کی اور دو ایٹمی تجربات کرلیے۔ ایران کا معاملہ یہ ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کے پروگرام سے انکار کرتا ہے مگر سچ یہ ہے کہ وہ اس راہ پر گامزن ہے۔ شام اور میانمار (برما) بھی ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کے خواہش مند دکھائی دیتے ہیں۔ اور انہیں ممکنہ طور پر شمالی کوریا ایٹمی ہتھیار فراہم کرے گا۔ اسرائیل بھی دباؤ میں ہے۔ اس سے کہا جارہا ہے کہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں شریک ہو جائے۔ اس حوالے سے اس پر مصر کی جانب سے دباؤ بڑھایا جارہا ہے۔ مصر نے گزشتہ ماہ این پی ٹی کے جائزے کے لیے یہی شرط رکھی تھی۔

اسرائیل کو ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر عمل کے حوالے سے جس دباؤ کا سامنا ہے اس سے پاکستان اور بھارت کے ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق خاموشی اور منافقت مزید سنگین ہو جاتی ہے۔ اسرائیل کی طرح ان دونوں ممالک نے این پی ٹی میں شمولیت اختیار نہیں کی اور اس اعتبار سے ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی ان کی صلاحیت اس معاہدے کے قوانین کی خلاف ورزی نہیں۔ ان کی باہمی رقابت سے ایٹمی ہتھیاروں میں استعمال ہونے والے پلوٹونیم اور یورینیم کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ چین کی جانب سے پاکستان کو مزید دو ایٹمی ری ایکٹرز دینے کا فیصلہ ایک اور امتیازی فیصلہ ہے۔ شمالی کوریا اور چین کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے باز رکھنے کے معاملے میں تو بیشتر ممالک نے آپس میں تعاون کیا ہے تاہم پاکستان اور بھارت کو ایٹمی ٹیکنالوجی دینے کے معاملے میں مقابلہ جاری ہے۔

چین کی جانب سے پاکستان کو ایٹمی ری ایکٹرز دینے کے فیصلے نے بھارت کو پریشان کیا ہے اور خطے کے دوسرے ممالک بھی چوکنّے ہوگئے ہیں۔ یہ سودا نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے اصولوں کی خلاف ورزی پر مشتمل ہوگا جس کے چین اور امریکا رکن ہیں۔ چین اس معاملے میں پاکستان کی حمایت اور مدد کر رہا ہے جبکہ بھارت کو امریکا کی پشت پناہی حاصل ہے۔ نیوکلیئر سپلائرز گروپ اپنی ایٹمی تنصیبات کے بین الاقوامی معائنے سے انکار کرنے والے ممالک مثلاً بھارت، پاکستان اور اسرائیل کو ایٹمی ٹیکنالوجی کے تبادلے کے معاملے سے دور رکھنے کے لیے تسلیم شدہ قواعد کا حامل ہے۔ اب تک نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی جانب سے چین پر کم ہی دباؤ پڑا ہے۔ پاکستان کو ایٹمی ری ایکٹرز دینے سے باز رہنے کے لیے اگر چین پر خاطر خواہ دباؤ نہ ڈالا جاسکا تو اس کی ذمہ داری خود بھارت پر بھی عائد ہوگی۔

۲۰۰۸ء میں بھارت کو امریکا کی جانب سے غیر معمولی حمایت ملی جب اسے، نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، امریکا نے استثنیٰ دیا۔ بھارت میں یورینیم کی شدید قلت پیدا ہوچلی تھی۔ اس کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کے ساتھ ساتھ ایٹمی توانائی کے پروگرام کے لیے بھی مشکلات بڑھتی جارہی تھیں۔ بھارت کو فرانس، روس، برطانیہ، جنوبی کوریا اور نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے دیگر ارکان کے ساتھ ڈیل کا موقع ملا۔ اس گروپ نے بھارت پر جو پابندیاں عائد کر رکھی تھیں وہ اٹھالی گئیں۔ اب بھارت اپنے یورینیم کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال کرنے کے معاملے میں زیادہ آزاد ہے۔

جارج واکر بش نے بھارت کے ساتھ سول ایٹمی تعاون کا جو معاہدہ کیا تھا اس سے بارک اوباما متفق نہیں۔ وہ دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک دیکھنے کے متمنی ہیں اور اس حوالے سے ان کی کوششیں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ بارک اوباما نے بھارت سے کی جانے والی نیوکلیئر ڈیل کے جواب میں پاکستان کو نوازنے کی کوشش نہیں کی۔ نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ پاکستان کو چین کی جانب متوجہ ہونا پڑا۔

امریکا اور بھارت کے درمیان سول ایٹمی ٹیکنالوجی کے معاہدے کے خلاف بھی بہت آوازیں اٹھی تھیں۔ اب چین اور پاکستان کے درمیان ری ایکٹرز کے معاملے کو ’’اینٹ کا جواب پتھر‘‘ قرار دیکر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس صورت میں تو ایٹمی عدم پھیلاؤ کے کاز کو پہنچنے والا نقصان دگنا ہو جائے گا۔

این پی ٹی اور نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں شمولیت اختیار کرنے سے قبل چین کا ایٹمی تعاون کا ریکارڈ خاصا مشکوک تھا۔ اس نے چین کو ایٹمی ری ایکٹرز کے حصول میں مدد دی اور ممکنہ طور پر ایک ایٹمی ہتھیار کا ڈیزائن بھی دیا جو پاکستان نے بعد میں مبینہ طور پر لیبیا اور ایران کو دیا۔ چین کو اپنے غیر ذمہ دارانہ ماضی کے بارے میں بات کرنے سے نفرت ہے۔ اگر اسے بتایا جائے کہ وہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے تب بھی وہ بدک جائے گا۔ مگر اس گروپ کے دیگر ۴۵ ارکان کو صورت حال کا نوٹس لیتے ہوئے چین سے جواب طلب کرنا چاہیے۔ ایٹمی ٹیکنالوجی سے متعلق دیگر اقوام کو جس نوعیت کی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے چین بھی اسی کا حقدار ہے۔

(بشکریہ: ’’دی اکنامسٹ‘‘۔ ۲۶ جون ۲۰۱۰ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*