فلسطین کی داخلی محاذ آرائی

بیسم عید (Bassem Eid) نے بہت کوشش کی ہے کہ معروضیت، مصنوعی غیرجانبداری اور قانون کی حکمرانی کی حوصلہ افزائی کے پردے میں فلسطینی مزاحمت سے اپنی عدم دلچسپی اور اسرائیلی غاصبانہ تسلط پر اپنی عدم تشویش کو عیاں نہ ہونے دیں لیکن اس میں وہ کامیاب نہیں ہو پائے ہیں۔صیہونی حکومت اپنے وجود کے اول روز سے بے گناہ فلسطینیوں کے خلاف حقوقِ انسانی کی پامالی جس بڑے پیمانے پر اور جس بہیمانہ انداز میں کر رہی ہے اس کے آگے فلسطینی مزاحمتی گروہوں کی باہمی آویزش میں ہونے والی حقوق انسانی کی خلاف ورزی کی کچھ بھی حیثیت نہیں ہے ۔ لگتا ہے کہ اس انٹرویو کے ذریعہ عید نے مزاحمتی تحریک سے مایوسی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ مزاحمتی تحریک کے تمام تر مسائل کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ اسرائیل نے اس سے پہلے اپنی پوری تاریخ میں کبھی اتنی مشکل محسوس نہیں کی جتنی کہ آج محسوس کر رہا ہے۔ یہ صورتِ حال مزاحمتی تحریک کی اہمیت کا خود منہ بولتا ثبوت ہے۔ البتہ اس انٹرویو سے ہمیں مزاحمتی تحریک کی کچھ مشکلات کا بھی اندازہ ہوتا ہے جس کے پیشِ نظر ہم اس کا متن نذرِ قارئین کر رہے ہیں۔ (ادارہ)


معروف فلسطینی صحافی Bassem Eid ایک عرصہ دراز سے اپنے واشگاف اور جرأت مندانہ خیالات کے لیے مشہور ہیں۔ وہ بیک وقت فلسطین پر اسرائیلی تسلط کی بھی مذمت کرتے ہیں اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے فلسطینی انتظامیہ کے زیرِ انتظام علاقوں میں لاپروائی کو بھی ہدفِ تنقید بناتے ہیں۔ عید نے ’القدس‘ اور ’النہار‘ نامی اخبارات کے لیے بھی کام کیا ہے اور یہ بین الاقوامی شہرت کے حامل اخبارات و جرائد مثلاً ’نیویارک ٹائمز‘، ’گارجین‘ اور ’واشنگٹن پوسٹ‘ میں بکثرت چَھپتے رہے ہیں۔ انھوں نے حقوقِ انسانی کی تنظیم B’Tselem کے ساتھ بھی کام کیا ہے جو فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کے ذریعہ حقوقِ انسانی کی پامالی کے واقعات کو ریکارڈ کرتی ہے۔ بہرحال فلسطینی انتظامیہ کے قیام کے بعد عید نے حقوقِ انسانی کی ان پامالیوں کی نشاندہی کرنا شروع کر دی جن کا ارتکاب فلسطینیوں کے ہاتھوں ہوا ہو۔ یہ ایک ایسا اقدام تھا جس کی وجہ سے انہیں فلسطینی قید خانے میں ایک مدت گزارنی پڑی۔ انتظامیہ نے انہیں اسرائیلی ایجنٹ ہونے کا الزام دیا۔ عید نے B’Tselem چھوڑ دیا اور اس کے بعد بعض دوسرے فلسطینی دانشوروں کے ساتھ مل کر Palestinian human rights monitoring group (PHRMG) کی بنیاد رکھی۔ اس گروپ نے فلسطینی سرزمین میں فلسطینیوں کے ذریعہ حقوقِ انسانی کی خلاف ورزی کے واقعات کو بڑی محنتوں سے ریکارڈ کیا۔ مثلاً انتظامیہ، اس کے مخالف گروپ حماس و اسلامی جہاد حتیٰ کہ افراد کی طرف سے کی گئی خلاف ورزیوں کو ریکارڈ کیا تاکہ قانون کی حکمرانی کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔

PHRMG نے خاص طور سے چھوٹے اسلحوں کے خطرناک پھیلائو فلسطینیوں کا فلسطینیوں کے ہاتھوں قتل میں روز افزوں شدت کی نشاندہی کی۔ موخرالذکر رجحان کا مشاہدہ سرزمینِ فلسطین میں گذشتہ پانچ سالوں سے کیاجارہا ہے۔ ۲۰۰۴ء میں حارِذ میں لکھتے ہوئے عید نے کہا تھا کہ فلسطینی اپنی سرزمین میں سکیورٹی کے مسائل سے نمٹنے کے اہل نہیں ہیں۔ ’’ہم سب جانتے ہیں متعدد بندوق بردار ایسے ہیں جو فلسطینیوں کے درمیان خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں۔ اس نے لکھا کہ نابلس پر دو ناخواندہ غنڈوں کی حکمرانی ہے۔ لیکن فلسطینیوں پر ان کی دیانتدارانہ تنقید سے آپ گمان نہ کر بیٹھیں کہ یہ اسرائیل کی حمایت کی ایک چال ہے۔ وہ کوئی امریکا و اسرائیل کی گود کا کتّا نہیں ہیں۔ وہ اسرائیل پر برافروختہ رہے ہیں اور ببانگِ دہل اپنے اس خیال کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ غزہ پٹی اور مغربی کنارہ کو فلسطینیوں کے کنٹرول میں ہونا چاہیے۔ علاوہ ازیں عید کو فلسطینی معاشرہ میں جمہوری روایات کے فروغ کی کوشش کے عوض مختلف انعامات موصول ہوئے ہیں جن میں Emil Grunsweig Human Rights Award، McGill/InterAmicus Robert S.Litvak Memorial Award اور Gleitsman Foundation’s International Activist Award شامل ہیں۔ حال ہی میں ترکی میں منعقد ہونے والی پیس کانفرنس کے موقع پر اور ۶ روزہ جنگ کی چالیسویں برسی کے موقع پر جو جون میں وارد ہو گی Bassem Eid نے Aditi Bhaduri کے ساتھ ایک انٹرویو میں فلسطینی سرزمین میں اسلحوں کی تباہ کاری اور وہاں موجود طوائف الملوکی سے متعلق گفتگو کی ہے جس کا متن درج ذیل ہے: (نیوز لائن)

س: PHRMG کب سے چھوٹے اسلحوں کے پھیلائو کی نشاندہی کر رہا ہے؟

ج: گذشتہ ۳ برسوں سے PHRMG چھوٹے اسلحوں کے پھیلائو کے مسئلے پر فعال ہے اور وہ اس مسئلے سے تعرض مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں موجود چھوٹے اسلحوں کے نیٹ ورک کے ذریعہ کر رہا ہے۔

س: فلسطینی سرزمین میں چھوٹے اسلحوں کے پھیلائو کا مسئلہ کس حد تک شدید ہے؟

ج: ناجائز چھوٹے اسلحے کا مسئلہ فلسطینی عوام کے دوش پر ایک بارِ گراں ہو کر رہ گیا ہے۔ ثقافت اورتاریخ کی اصطلاح میں مشرقِ وسطیٰ ایک ایسا خطہ ہے جہاں چھوٹے اسلحے سکیورٹی کی روایتی ضرورت ہیں جس کی حمایت ثقافتی ضرورتوں کے پیشِ نظر ہے۔ اسلحے مردانگی کی علامت ہیں۔ اس طرح کی ثقافت میںاسلحے لیے پھرنا قابلِ قبول ہے۔ لیکن اگر اس کے لیے مناسب قوانین نہ ہوں تو اس کے نتائج انتہائی خونریز ہو سکتے ہیں۔ ہم اسی چیز کو دیکھیں کہ اس سال کے آغاز سے ہی غزہ میں کیا ہوا؟ ۳۵ فلسطینیوں کا قتل خود فلسطینیوں کے ہاتھوں ہوا جبکہ اسرائیلیوں نے ۱۳ فلسطینی مارے۔ مزید برآں انتفاضہ کے آغاز سے اب تک ۶۵۰ فلسطینی اپنے فلسطینی بھائیوں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ ایک داخلی کشمکش نے آج اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی جگہ لے لی ہے۔ اگر آپ کو فلسطین کے مقامی اخبارات کو پڑھنے کا موقع ملے تو قتل، اغوا، لوٹ مار، گولیوں کا تبادلہ اور انتقام جیسی سرخیوں کو پڑھ کر بڑا دکھ ہو گا۔ گویا کہ فلسطینی پہلے ہی سے دو مختلف صورتِ حال سے دوچار ہیں۔ ایک صورتِ حال غزہ میں حماس کے زیرِ کنٹرول ہے اور دوسری مغربی کنارہ میںالفتح کے زیرِ کنٹرول ہے۔

س: یہ فلسطینی معاشرہ کے لیے بہت ہی نقصان دہ ہے۔۔۔

ج: یہ مستقبل کی کسی بھی فلسطینی ریاست کے لیے خطرناک ہے۔ ہمیں قانون کی حکمرانی اور ثقافت کی ضرورت ہے۔ جب کوئی حکومت طاقت کے استعمال پر کسی اجارہ داری کا مظاہرہ کرتی ہے تو شہری پھر سیاسی شمولیت اور سیاسی تدابیر کے ذریعہ پالیسی پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب غیرجمہوری تنظیمیں تشدد کے ذریعہ پالیسی پر اثرانداز ہوتی ہیں تو وہ یقینا شہریوں کی اکثریت کو طاقت سے محروم کر دیتی ہیں جو معاشرے پر قدرے پُرامن اور مہذب انداز میں اثرانداز ہونا چاہتی ہے۔ یقینا موجودہ حالات میں اس صورتِ حال نے اسرائیل کے خلاف مزاحمت کو بھی کمزور کیا ہے۔ فلسطینی اپنے فلسطینی بھائیوں کا قتل کر رہے ہیں۔

س: کیا آپ کہیں گے کہ یہ صورتِ حال اوسلو عمل کے ساتھ شروع ہوئی؟

ج: اسرائیلیوں نے فلسطینیوں کو اسلحہ دینا شروع کیا بالخصوص عرفات کی سکیورٹی فورسز کو۔ فلسطینی سرزمین اسلحے کی خرید و فروخت کا بڑا بازار بن گئی اور بعض فلسطینیوں کے لیے کمائی کاذریعہ بھی، خاص طور سے ان لوگوں کے لیے جن کا تعلق فتح تحریک سے تھا۔

س: کیا یاسر عرفات اس سے باخبر تھے؟

ج: عرفات نے خود ہی لوگوں کی اس کام میں حوصلہ افزائی کی حتیٰ کہ اسلحے کی چوری میں بھی۔ یہ اضافی آمدنی کا اچھا ذریعہ تھا۔

س: توکیا اسی وجہ سے عرفات کے خلاف یہ اسرائیلی الزامات ہیں کہ عرفات ایک تقریر انگریزی میں کرتے تھے (جس میں تشدد روکنے پر زور دیتے تھے) اور ایک بالکل مختلف تقریر عربی میں کرتے تھے (جس میں انتفاضہ کو جاری رکھنے کا حکم دیتے تھے)۔

ج: جیسا کہ میں نے کہا کہ عرفات نے اس غیرقانونی تجارت کی حوصلہ افزائی کی۔

س: کیوں؟

ج: ہاں! میں مرحوم کے متعلق گفتگو نہیں کرناچاہتا ،ہمیں زندوں کے متعلق گفتگو کرنی چاہیے۔ حتیٰ کہ محمود عباس نے بھی تشدد کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ موجودہ فلسطینی قیادت کچھ اس طرح کے طرزِ عمل کا اظہار کر رہی ہے گویا داخلی تصادم کسی دوسری جگہ ہو رہا ہے۔ موجودہ انتفاضہ اپنے آپ کو عوامی مزاحمت بنانے میں ناکام اور یہ خانہ جنگی میں تبدیل ہو گیا ہے۔ دنیا اس انتفاضہ کو فلسطینی تشدد سے زیادہ کچھ نہیں سمجھ رہی ہے جو بعض اوقات دوسرے فلسطینیوں کے خلاف ہے اور بعض اوقات اسرائیل کے خلاف ہے۔

س: لہٰذا موجودہ قیادت اس خطرے کے تدارک کے لیے کچھ نہیں کر رہی ہے؟

ج: جنوری ۲۰۰۵ء میں فلسطینی قومی انتظامیہ (PNA) کے صدر جب محمود عباس بنے تو اس کے بعد انھوں نے امریکی میڈیا سے کہا تھا کہ وہ فلسطین میں تشدد کی ثقافت کے خلاف جنگ کرنے کو تیار ہیں۔ لیکن اس کے بجائے انھوں نے اس ثقافت کو فروغ دیا جب وہ قومی امور کو چلانے میں ناکام ہو گئے۔ ان کی تمام پالیسیاں مسخ شدہ ہیں۔ الفتح ہنوز اس لائق نہیں ہو پائی کہ بدعنوانی کی صورت میں اپنے دیرینہ مرض پر قابو پاسکے۔ الفتح کی اصل مشکل اس کی بدعنوانی ہے اور فلسطینیوں کو حقیقی قیادت اور سمت فراہم کرنے میں اس کی نااہلی ہے۔ قومی مفاد کیا ہے، اس حوالے سے قائدین کا احساس مفلوج ہو چکا ہے۔ ہر شخص اپنے ذاتی مفادات کے پیچھے ہے۔ علاوہ ازیں حماس نے اپنی اصلاح اور تبدیلی کی پالیسی کو نافذ نہیں کیا۔ چنانچہ آج فلسطینی عوام قیادت اور سمت کے بغیر لاوارث ہیں، وہ تذبذب اور اضطراب کی کیفیت سے دوچار ہیں، اس طرح کہ بھائی بھائی کا قتل کر رہا ہے۔

س: آپ اس کے لیے سب سے زیادہ کس کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں؟

ج: تصادم میں ملوث تمام فریقوں کو، حماس، الفتح اور اسرائیل کو۔ مغربی کنارہ میں زیادہ تر اسلحے کا ذریعہ اسرائیلی سپاہی ہیں جن کو منشیات اور دیگر چیزوں کے لیے پیسوں کی ضرورت ہے اور بعض دوسرے اسرائیلی ہیں مثلاً آبادکار حتیٰ کہ اسرائیلی حکومت ہے جس نے فلسطینی مخبروں کی حوصلہ افزائی کی۔ بدقسمتی سے اسرائیل نے اس عمل کو شروع کیا۔ ان کے سپاہی مسلح ہیں، ان کے آبادکار مسلح ہیں اور یہ اپنے اسلحوں کا آزادانہ استعمال فلسطینیوں پر کرتے ہیں جبکہ بے چارے فلسطینیوں کے پاس اپنے دفاع کے لیے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ لہٰذا وہ اپنے آپ کو مسلح کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

س: کیا آپ کے پاس کوئی اعداد و شمار ہیں کہ آج غزہ اور مغربی کنارہ میں ناجائز اسلحہ کتنا ہے؟

ج: ۵۰ ہزار سے زیادہ چھوٹے اسلحے ہیں جن میں بیشتر M16s اور Patrols ہیں۔

س: ان اسلحوں کی سپلائی کے اہم ذرائع کون سے ہیں؟

ج: مغربی کنارہ کے لیے اہم ذریعہ اسرائیل ہے جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ اسرائیلی سپاہی اضافی آمدنی کے لیے ناجائز طور سے اسلحہ فروخت کرتے ہیں۔ اس میں وہ اسلحہ بھی شامل ہے جو اسرائیل نے سرکاری طور پر فلسطینی انتظامیہ کو دیا ہے اور وہ بھی جو مصر سے اسمگل ہو کر آیا ہے ۔ غزہ میں تو ہر ایک جانتا ہے کہ اسلحہ یہاں زیرِ زمین سرنگوں کے ذریعہ مصر سے اسمگل ہو کر آتا ہے۔ حماس غزہ سے اسرائیلی پسپائی کی بنیاد پر رقصاں ہے، مصر سے اپنی مطلوبہ تعداد میں اسلحے اسمگل کرتے ہوئے۔ اسرائیل کے انخلا کے بعد غزہ میں جو حالات ہیں وہ اس امر کے غماز ہیں کہ فلسطینی اپنے امورو معاملات چلانے کے اہل نہیں ہیں۔ ایک بھی گرین ہائوس کا اضافہ نہیں ہوا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ فلسطینیوں نے اس کو بھی برباد کر دیا ہے جو اسرائیل نے چھوڑا تھا۔

س: اس اسلحے کو خریدنے کے لیے رقوم کہاں سے آتی ہیں؟

ج: زیادہ تر رقوم ایران سے آتی ہیں، شام سے بھی آتی ہیں، حماس کے حامیوں سے آتی ہیں۔ آپ Karine جہاز کا واقعہ یاد کریں۔ یہ ایران سے تھا۔ ہر دھڑہ اپنا ذریعہ رکھتا ہے۔ فتح کے لیے یہ ہتھیار فلسطینی انتظامیہ سے آتے ہیں۔ س: لہٰذا جہاز کے متعلق جو کچھ اسرائیل نے کہا تھا، وہ سچ ہے؟

ج: بالکل

س: اور زیرِ زمین سرنگوں کے متعلق بھی؟

ج: ہاں! ان زیرِ زمین سرنگوں کے ذریعہ ہی غزہ میں حماس اور اسلامی جہاد کے لیے اسلحے اسمگل کیے جاتے ہیں۔

س: جنوبی اشیا کے ہم زیادہ تر لوگ جو فلسطینی کاز کی حمایت کرتے ہیں، اس داخلی جنگ کا ادراک کرنے سے قاصر ہیں جس کا مشاہدہ آج ہم فلسطینی سرزمین میں کر رہے ہیں۔

ج: یہی وہ چیز ہے جس سے صورتِ حال آج ایسی پیچیدہ اور المناک ہو گئی ہے۔ لوگ زیادہ تر اسلحے کے نظریہ کے پاسدار ہیں نہ کہ خاندانوں اور قبائل کے۔ فلسطینی معاشرہ نہ صرف سکیورٹی کے پریشان کن مسئلے سے دوچار ہے بلکہ وہ اخلاقی اضطراب کا بھی شکار ہے جس کی طرف کوئی بھی توجہ دینے کی جرأت نہیں کر رہا ہے۔ ڈکیتی، نقب زنی اور اس سے بھی بدتر جرائم فلسطینی معاشرے میں ہماری زندگی کے لیے روز مرہ کا معمول بن گئے۔ اس سے ہمیں مستقبل قریب میں خطرات لاحق ہیں اور یہ تمام باتیں اسلحے کے پھیلائو کا نتیجہ ہیں جو کہ اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کا نتیجہ ہے۔

س: اس برائی سے نمٹنے کے لیے PHRMG کون سے قدم اٹھا رہا ہے؟

ج: ہم اعداد و شمار جمع کرتے ہیں، تجزیہ کرتے ہیں اور فلسطینی انتظامیہ میںگن فائر کے مسئلے پر ڈاٹا کی تشہیر کرتے ہیں۔ میدان سے مثالیں لاتے ہیں اور فلسطینی انتظامیہ کو سفارشات پیش کرتے ہیں کہ وہ مسلح گروپوں اور افراد کو اپنے فلسطینی بھائیوں کے خلاف حملے روکنے کے لیے مناسب قدم اٹھائے۔ ہم ورکشاپس کا اہتمام کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو فلسطینی معاشرے میں اور مستقبل کی فلسطینی ریاست میں چھوٹے اسلحے کے پھیلائو کے مضر اثرات سے باخبر کیا جاسکے۔ بالعموم ہم خود فلسطینیوں کے ہاتھوں جو حقوقِ انسانی کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور جس کا ارتکاب فلسطینی سرزمین میں کیا جارہا ہے، ان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اسی طرح کی بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ ہماری نیٹ ورکنگ ہے۔ ہمارا حتمی مقصدیہ ہے کہ ہم فلسطینی معاشرے کے تمام افراد کی حوصلہ افزائی اس بات کے لیے کریں کہ وہ اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل ایک شفاف اور کھلے سیاسی عمل کے ذریعہ کریں۔

(بشکریہ: ماہنامہ ’’نیوز لائن‘‘ کراچی۔ شمارہ: مئی ۲۰۰۷ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*