کیڑوں سے پھیلنے والی بیماریوں پر تحقیق

امریکی محققین‘ ڈیئرٹک (Deer Tick) کی‘ جسے کالی ٹانگوں والی چیچڑی بھی کہا جاتا ہے‘ جینیاتی ساخت معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اس سے بیماروں کے جراثیم کی منتقلی‘ بیماریوں پر قابو پانے اور دنیا بھر میں خون پر پلنے والے دیگر جانداروں سے صحت عامہ کو خطرات کے بارے میں بہتر معلومات حاصل کی جاسکیں۔ اس تحقیق کے لیے رقوم امریکی حکومت فراہم کر رہی ہے اور کئی یونیورسٹیوں کے محققین ایک ٹیم چیچڑیوں کی جینیاتی ساخت پر تحقیق کر رہی ہے۔

اس منصوبے کی ایک مہم محقق پرڈو (Purdue) یونیورسٹی کی کیتھرین ہل نے کہا ’’یہ پہلا موقع ہو گا کہ محققین‘ چیچڑیوں کی جینیاتی ساخت کا گہرائی سے مشاہدہ کریں گے۔ یہ جاننا نہایت ضروری ہے کہ چیچڑیاں‘ بیماریاں کیسے پھیلاتی ہیں کیونکہ ان بیماریوں سے عالمی سطح پر صحت کو خطرات لاحق ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا ’’انسانی صحت کے لیے خطرات کے نکتہ نظر سے یہ بات واضح ہے کہ چیچڑیاں‘ کئی بیماریوں کے جراثیم منتقل کر سکتی ہیں جن کے بارے میں لوگوں کو بخوبی آگاہ کیا جاسکتا ہے۔

چیچڑیاں‘ خاری طفیلی جانداروں میں شامل ہیں‘ جنہیں آرتھروپوڈس (Arthoprods) کہا جاتا ہے۔ یہ جلد کی سوزش سمیت کئی بیماریوں کے جراثیم منتقل کرنے کا موجب بنتی ہیں۔ ان سے کاہلی‘ جوڑوں کی سوجن اور لقوے کے عارضے لاحق ہو سکتے ہیں۔ بعض علامات بڑھ کر جوڑوں کے درد کی دائمی تکلیف اور کئی اعصابی امراض کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔

عالمی سطح پر چیچڑیاں‘ انسانوں کو بیماریوں کے جراثیم کی منتقلی میں مچھروں کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں۔ یہ مویشیوں‘ پالتو اور رینگنے والے جانوروں اور پرندوں میں بیماریوں کے پھیلنے کا سب سے بڑا سبب ہے۔

قوی ادارۂ صحت اور الرجی اور متعدی امراض کا قومی ادارہ‘ پرڈو یونیورسٹی کے محققین اور یونیورسٹی آف کنٹیکٹ ہیلتھ سینٹر‘ یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم (Notre Dame) اور میسا چسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے تعلق رکھنے والے ان کے ساتھیوں کے اس تحقیقی کام میں ان کی مدد کر رہے ہیں۔ اس کام کے ایک محقق اعلیٰ اور یونیورسٹی آف کنٹیکٹ ہیلتھ سینٹر میں مائیکرو بائیل پیتھو جینیس (Microbial Pathogenesis) کے بارے میں مرکز کے ڈائریکٹر اسٹیفن وائکل (Stephen Wikel) نے بتایا کہ یہ منصوبہ گذشتہ مئی میں اس وقت شروع کیا گیا جب اس منصوبے اس کے اثرات اور چیچڑیوں کی تحقیق پر اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں بات چیت کے لیے امریکا‘ جرمنی‘ برطانیہ اور جاپان کے ۸۰ سائنسدانوں کا اجلاس ہوا۔

مائیکرو بائیل پیتھو جینیسس (Microbial Pathogenesis) کے بارے میں مرکز کے ڈائریکٹر اسٹیفن وائکل نے بتایا کہ دولتِ مشترکہ کی سائنسی اور صنعتی تحقیق کے بارے میں آسٹریلیا کی تنظیم کے سائنسدانوں نے بھی اس منصوبے میں تعاون کیا ہے۔

چیچڑیاں‘ ایک سے دوسرے متاثرہ جانور کا خون پی کر بیماریاں پھیلاتی ہیں۔

ڈیئر ٹِک چیچڑی کا‘ جس کی جینیاتی ساخت کا مشاہدہ کیا جارہا ہے‘ اس نوع کی اُن دوسری چیچڑیوں سے گہرا تعلق ہے جو یورپ‘ مشرقی یورپ‘ ایشیا‘ آسٹریلیا اور شمالی امریکا کے مغربی حصوں کے میں لوگوں کی صحت پر اثرانداز ہوتی ہیں۔

محققین معلوم کریں گے کہ چیچڑیاں‘ خون کی اپنی خوراک کے لیے جانوروں کا انتخاب کیسے کرتی ہیں‘ ان کے خوراک حاصل کرنے اور ہضم کرنے کے طریقے کیا ہیں؟ ان میں امراض کا سبب بننے والے جرثوموں کی نشوونما‘ چیچڑیوں کی افزائش اور متاثرہ جرثوموں کی منتقلی کیسے ہوتی ہے؟ اور ان سے پیدا ہونے والے امراض پر قابو پانے کے نئے طریقے کیا ہو سکتے ہیں؟ سائنسدان‘ ان کی ارتقائی حیاتیات کا بھی جائزہ لیں گے۔

وائکل نے کہا کہ چیچڑیوں سے پیدا ہونے والی کئی بیماریاں‘ مخصوص جرثوموں اور زہریلے اثرات کی روک تھام اور امراض پر قابو پانے کے بارے میں امریکی مرکز کی فہرست میں شامل ہیں۔ دنیا بھر میں ان سے پھیلنے والے امراض میں را کی کے پہاڑی علاقے کا بخار‘ تولاریمیا (Tularemia)‘ کانگو بخارا اور دماغی سوزش شامل ہیں۔

انہوں نے کہا: ’’اگر ان میں سے کسی ایک بیماری کو زندگی کے لیے خطرے کی علامت کے طور پر متعارف کرایا گیا تو یہ ایک فطری بات بن جائے گی اور ہم اس سے کبھی چھٹکارا حاصل نہیں کر سکیں گے۔ اس منصوبے کے باعث چیچڑیوں سے بیماریوں کی منتقلی کو روکنے کے لیے نئی حکمتِ عملی وضع کرنے اور ایسی دوا تیار کرنے میں مدد ملے گی جس سے بیماری کا سبب بننے والے جرثوموں کی منتقلی کو روکا جاسکے گا‘‘۔

انہوں نے کہا کہ جینیاتی ساخت کا مشاہدہ کرنے کے اس منصوبے سے حاصل ہونے والے تمام اعداد و شمار کے حصول پر کوئی پابندی نہیں ہو گی اور یہ دنیا بھر کے سائنسدانوں کو آزادانہ طور پر دستیاب ہوں گے۔ دلچسپی رکھنے والے تمام سائنسدانوں کو ان اعداد و شمار کے بارے میں تفصیلی آگاہ کیا جائے گا اور وہ اس سے استفادہ کر سکیں گے۔

(بشکریہ: ’’خبر و نظر‘‘۔ امریکی شعبۂ تعلقاتِ عامہ)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.