ہمیں یورپ کا ایک نیا تصور ایجاد کرنا ہو گا!

نئی لیبر حکمتِ عملی کے معمار Peter Mandelson ٹونی بلیئر کے بہت ہی قابلِ اعتماد مشیر رہے ہیں۔ اب جبکہ وہ یورپی یونین کے کمشنر برائے تجارت ہیں ان کی ساری توجہ اس امر پر مرکوز ہے کہ یورپ تجارتی مسابقت میں آگے رہے۔ گذشتہ ہفتے برسلز میں انہوں نے ’’ٹائم‘‘ کے نمائندے Leo Cendrowicz سے گفتگو کی۔ یہ گفتگو جاری تھی کہ ۱۰ ڈائوننگ اسٹریٹ سے ایک فون کال نے اس انٹرویو کے سلسلہ کو منقطع کر دیا:


س: یورپی یونین کو اعتماد کے بحران کا سامنا ہے۔ کس طرح یورپی یونین روز افزوں پیچیدہ صورتحال میں اپنے آپ کو حالات سے ہم آہنگ بنا سکتا ہے؟

ج: یہ سمت کا بحران ہے نہ کہ شناخت کا۔ اس سے دو باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ پہلی بات یہ کہ لوگ اس حقیقت کو مانتے ہیں کہ یورپی یونین نے دنیا کی معیشت میں سب سے بڑی جگہ پیدا کی۔ دوسری بات یہ کہ یہ اعتماد کی کمی کا بھی اظہار ہے۔ یورپ دبائو میں محسوس کرتا ہے اس لیے کہ یہ ابھی تک یقین کے ساتھ یہ فیصلہ نہیں کر پایا ہے کہ آیا اسے گلوبلائزیشن کے خلاف دیوار بننا چاہیے یا اسے فروغ دینے کے لیے وسیلہ کا کام کرنا چاہیے۔ یہ کنفیوژن یورپ کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لیکن اس کا یہ تذبذب ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب بائیں بازو میں عوامیت کے حامل (Populists) رائے عامہ کو بیرونی مسابقت اور مارکیٹ فورسز کے خلاف ہموار کر رہے ہیں اور دائیں بازو کے لوگ باہر سے آئے ہوئے مہاجرین کے خلاف دشمنی اور نفرت کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔

س: آپ نے برطانیہ میں لیبر پارٹی کو دوبارہ تازگی عطا کرنے کی کوشش کی۔ کیا یورپ کے لیے اس میں کوئی سبق ہے؟

ج: ہاں! لیبر پارٹی کے حوالے سے میں نے جلد ہی یہ ادراک کر لیا کہ اسے آپ صرف اسپرے مار کر نیا نہیں کر سکتے۔ اگر آپ کار کو دوبارہ رنگ کر دیں‘ پھر بھی یہ پرانی کار کہلائے گی۔ اس کے بجائے آپ کو نیا ماڈل پھر سے انجینئر کرنا ہو گا۔ اسے ازسرِ نو تعمیر کرنا ہو گا اور پھر سے سوچنا ہو گا کہ آیا یہ ماڈل وہی جسے عوام پسند کرتے ہیں اور کیا لوگ اسے ڈرائیو کرتے ہوئے آسانی محسوس کریں گے۔ ایک مفہوم میں مَیں نے ٹھیک یہی کام یورپ کے لیے کیا ہے۔

س: آپ نے یہ کام کیسے کیا؟ آپ نے یورپ کو حالات کے ہمدوش اور بامعنی کیسے بنایا؟

ج: یورپی پروجیکٹ بنیادی طور سے جنگ اور امن سے متعلق تھا۔ لیکن اب یہ بیشتر لوگوں کے لیے ملازمت اور ترقی سے متعلق ہے۔ ہمیں اس سلسلے میں جو کچھ کرنا پڑا ہے وہ یہ کہ یورپ کا ایک نیا خیال ایجاد کرنا پڑا۔ ہمیں یہ ظاہر کرنا ہے کہ ہماری مشترکہ معاشی قوت ہمیں وسائل فراہم کر سکتی ہے کہ ہم گلوبلائزیشن سے مفاہمت کرتے ہوئے اس سے مستفید ہو سکیں۔ ہم نے یورپ کی نئی تعبیر کی ہے‘ ان تبدیلیوں کے پس منظر میں جو عالمی معیشت میں ہو رہی ہیں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کیوں یورپی اتحاد و یکجہتی ہماری ایک بڑی مارکیٹ‘ ہماری ایک کرنسی ہمیں وہ قوت فراہم کرتی ہے جس سے ہم گلوبلائزیشن کو گلے لگا سکتے ہیں۔

س: ہم یورپ اور امریکا میں حفاظتی رجحانات کو ابھرتے ہوئے کیوں دیکھ رہے ہیں؟

ج: اس لیے کہ معیشت کے شعبے میں کامیابی کے ہمارے تمام یقینی اندازوں کو دھچکا لگا ہے۔ ایک دہائی کے عرصے میں چین اور بھارت ڈرامائی طور پر ہمارے ایک فعال Competitor کے طور پر ابھرے ہیں۔ یورپ اور امریکا میں یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ ہماری ملازمتوں اور ہمارے اقتصاد کو خطرہ درپیش ہے اس لیے کہ ہم نے آزاد تجارت کے نام پر بہت زیادہ دوسروں کو دے دیا ہے۔ یہ وضاحت کہ معاملہ ایسا نہیں ہے کی اہمیت میں مبالغہ سے کام لینا بھی مشکل ہے۔ ایک کشادہ تجارتی نظام کا معاملہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کے اعادہ کی بار بار ضرورت ہے۔ گذشتہ نصف صدی میں کوٹا اور ٹیرف کے جارحانہ خاتمہ نے ایک ایسی خوشحالی کو جنم دیا ہے جو انسانی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ بجائے اس کے کہ ہم کہیں کہ گلوبلائزیشن ایک حقیقت ہے‘ یہ ناگزیر ہے‘ ہمیں یہ بھی ظاہر کرنا چاہیے کہ ایسی حالت میں جبکہ عالمی معیشت کا واقعتاً باہم منحصر ہونا ایک حقیقت ہے‘ یہ ناقابلِ کنٹرول ہرگز نہیں ہے۔ یہ ہماری زندگیوں پر حکمراں ایسی کوئی قوت نہیں ہے‘ جس میں ہمارا کوئی اثر و رسوخ نہ ہو۔ بہرحال اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ڈبلیو ٹی او عالمی تجارت کو متفق علیہ قوانین کے نفاذ کے ذریعہ کنٹرول کرنے کے معاملے میں ایک غیرمعمولی بین الاقوامی کوشش ثابت نہ ہو سکی؟

س: آپ ماورائے اوقیانوس تعلقات کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

ج: اگر وائٹ ہائوس کے لیے میرا کوئی مشورہ ہو گا تو یہ ہو گا کہ جناب بش کو خود اپنا سفیر زیادہ ہونا چاہیے۔ وہ شخصیت‘ سوچ اور کشش کا مجموعہ ہیں‘ جو ایسی خصوصیات ہیں جو لوگوں کے غصے کو کم کرتی ہیں اور انہیں ترو تازہ کرتی ہیں۔

س: امریکیوں کے ساتھ خود آپ کے اپنے تعلقات کیسے ہیں؟ آپ نے JIBES کو مسترد کر دیا یعنی اپنے اسٹائل سے متعلق اس دعوے کو جو سابق امریکی تجارتی نمائندہ Robert Zoellick کی جانب سے بیان کیا گیا تھا لیکن اس سے آپ کو تکلیف تو ضرور پہنچی ہو گی؟

ج: میں اسے نہیں سمجھ سکا۔ پالیسی تنقید کے معاملے کو کیوں کردار کے حوالوں میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ امریکا یورپ تعلق روزانہ ایک بلین ڈالر کا ہے۔ ہمارے درمیان اختلاف کُل معاملات کا ایک انتہائی چھوٹا سا حصہ ہے اور اسے اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

س: آپ نے ابھی چین کے ساتھ ایک ڈیل کی ہے۔ برآمدات کو یورپی یونین تک محدود کرتے ہوئے یہاں تک ۲۰۰۸ء کا سال آجائے۔ کیا یہ رسک نہیں ہو گا کیونکہ بعض صنعتی شعبے سستے بیرونی درآمدات کی زد میں ہوں گے؟

ج: میں یہ واضح کر چکا ہوں کہ یہ عبوری انتظام ہے تاکہ معاشی دھچکوں کو ڈیل کیا جاسکے جو ٹیکسٹائل کے شعبے میں پامالیٔ تحفظ کے حوالے سے ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر آپ چین کو اپنا دشمن سمجھیں گے تو یہ دشمن ہی ثابت ہو گا۔ چین لبرلائزیشن کی مکمل تصویر ہے۔ میری ترجیح میں ایک پائیدار تعلق کی بنیاد ڈالنا ہے کیونکہ ہمارے مابین تعلقات کی اہمیت اس کی طالب ہیں۔ یہ مضبوط اشارے ملے ہیں کہ چین تجارت کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لیتا ہے اور یہ کہ یورپ چین کے اس حق کا احترام کر رہا ہے کہ وہ ٹریڈ لبرلائزیشن سے مستفید ہو سکے۔ ہمارا سامنا چین کے ساتھ کچھ مشکل مسائل پر ہو گا جن میں WTO کے اقرارناموں کا مکمل نفاز‘ مارکیٹ کھولنے کے حوالے سے ڈبلیو ٹی او کی ذمہ داری‘ تجارتی رکاوٹوں کا خاتمہ اور علمی ورثے سے متعلق قوانین کا احترام اور ان کا تحفظ۔ اس مسئلے پر یورپ اور امریکا کا ایجنڈ ایک ہے۔

س: کیا یورپی رہنمائوں کے درمیان کمزوری کا کوئی ادراک ہے؟

ج: یورپ کو ایک مضبوط قیادت کی ضرورت ہے‘ جس کا مطلب دور رس نگاہ کا حامل ہونا ہے۔ یہ مطلب نہیں ہے جو کچھ ہم نے تعمیر کیا ہے‘ اسے ضائع کر دیں اور نہ ہی یورپی اتحاد سے حاصل شدہ فوائد کو کم تر خیال کرنا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہم چیزوں کی مناسب وضاحت عوام کے سامنے کریں جو یا تو شاکی ہے یا مطمئن ہے۔ بجائے اس کے رہنما اعتماد کے ساتھ ان مسائل کا سامنا کریں وہ گریز کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ یوں تبدیلی کے عمل کا انتہا پسند قوتیں اپنے حق میں استحصال کر رہی ہیں۔

س: کیا آپ اسے صحیح خیال کرتے ہیں کہ مشرقی یورپ کے نئے غریب ارکان برطانوی ریبیٹ کی قیمت چکائیں؟

ج: اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس پیسے کو کس چیز پر خرچ کر رہے ہیں۔ ہم نے یورپ کے سمت کے حوالے سے دوبارہ غور کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمیں عوام کو مطمئن کرنا ہو گا‘ سمت درست ہے‘ پالیسی ٹھیک ہے۔ لہٰذا خرچ کی ترجیحات صحیح ہیں۔ اب جبکہ فوری سوال یہ درپیش ہے کہ کون بجٹ میں کتنا خرچ کر رہا ہے تو کسی کے نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ڈبیٹ ہونا ہے اور یورپ کی کارکردگی کے حوالے سے اتفاقِ رائے ہونا ہے۔ اتفاقِ رائے اس بات پر کہ کس طرح اس کے معاشرتی ماڈل کو باقی رکھا جاسکتا ہے اور یہ کہ ہم کس طریقے سے اس ماڈل کو ماڈرنائز کر سکتے ہیں کہ ہم عالمی معیشت میں کمپٹیشن کا مقابلہ کر سکیں۔

(بشکریہ: ’’ٹائم‘‘۔ ۲۷ جون ۲۰۰۵ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.