مراکش: انتخابات کے راستے سیاسی تبدیلی

Moroccan Abdelaziz Ben Abdeslam, 87, casts his ballot at a polling station for the parliamentary elections, in Rabat, Morocco, Friday, Oct. 7

مغربی ذرائع ابلاغ کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق شمالی افریقا کے ایک اہم ملک مراکش میں ۶ اکتوبر ۲۰۱۶ء کو جو پارلیمانی انتخابات ہوئے تھے، اس میں حکمراں جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (پی جے ڈی) کو ایک بار پھر کامیابی ملی ہے۔ دستوری اصلاحات کے بعد ۲۰۱۱ء میں ہوئے پہلے پارلیمانی انتخابات کی طرح اس بار بھی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے، حالانکہ اس بار اسے پچھلی مرتبہ کے مقابلے میں زیادہ نشستیں حاصل ہوئی ہیں، تاہم وہ تنہا حکومت بنانے کی حالت میں نہیں۔ لہٰذا اسے اس مرتبہ بھی مخلوط حکومت ہی بنانی پڑے گی۔ بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا یہ کہنا ہے کہ مراکش کا موجودہ سیاسی نظام اس طرح وضع کیا گیا ہے کہ اس میں کسی ایک سیاسی جماعت کے لیے حکومت سازی کی گنجائش نہیں ہے، یعنی یہ کہ وہ سادہ اکثریت حاصل کرنے کی حالت میں نہیں پہنچ سکتی، شاید ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ اقتدار پر شاہ کی گرفت مضبوط رہے۔ واضح رہے کہ ۱۹۵۶ء میں مراکش کے نام سے ایک علیحدہ ملک کے وجود میں آنے کے بعد یہاں بھی شخصی حکومت ہی رہی ہے۔

گزشتہ دنوں عرب دنیا میں تبدیلی کی جو لہر چلی اور جس نے دیکھتے ہی دیکھتے متعدد تخت ہائے سلطنتوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا، مراکش میں بھی اس کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کا ثبوت یہ ہے کہ وہاں کے حاکمِ مطلق شاہ محمد ثانی نے ’اقتدار میں شرکت‘ اور نظامِ مملکت کو ’جمہوریت نما‘ بنانے کا اعلان کیا، بتایا جاتا ہے کہ اس فارمولے کے تحت انہوں نے اپنے کچھ اختیارات عوام کے نمائندوں یعنی پارلیمان کو منتقل کردیے، مگر اس طرح کہ اس کی نکیل ان کے ہاتھ میں رہے۔ اس نئے انتظام کے تحت ۲۰۱۱ء میں پہلے پارلیمانی انتخابات ہوئے تھے، اب اس نئے انتظام کو دستوری بادشاہت کا خوبصورت نام دیا گیا ہے۔

مذکورہ دستوری اصلاحات کے تحت عوامی نمائندگی کو اقتدار کا جز بنانے کا فیصلہ کیا گیا اور شخصی اقتدار کو قدرے ’محدود‘ کرنے یا ’تحلیل‘ کرنے کا ایک ایسا فارمولہ تیار کیا گیا جو فی الواقع یعنی حقیقت نفس امری کے اعتبار سے نمائشی مگر خوشنما تھا، یعنی فیصلہ سازی یا قانون سازی میں یا بہ الفاظِ دیگر اقتدار میں ان لوگوں کی شرکت کا اصول تسلیم کرلیا گیا، جو ایک نظریے کے مطابق قوت و اقتدار کا اصل سرچشمہ ہیں یعنی عوام یا جمہور، عوامی نمائندگی کے اصول کے تحت ایک مجلسِ عمل یعنی پارلیمان بنائی گئی جو دو ایوانوں مجلس النواب (اسمبلی آف ری پریزنٹیٹیو) اور مجلس المستشعرین (اسمبلی آف کونسلرز) پر مشتمل تھی، اس کو بھی تین قسموں میں بانٹ دیا گیا۔ ایک قسم ۳۰۵ افراد پر مشتمل تھی دوسری ۶۰ پر اور تیسری ۳۰ پر، ۳۰۵ نمائندے ملک بھر سے براہ راست منتخب ہو کر آتے ہیں، ۶۰ نشستیں خواتین کے لیے مخصوص رکھی گئی ہیں جبکہ ۳۰ نشستیں نوجوانوں کے لیے ہیں۔ اس مرتبہ انتخابات میں ویسے تو دو درجن سے بھی زیادہ سیاسی جماعتیں میدان میں تھیں لیکن جہاں تک ایوان میں نمائندگی حاصل کرنے والی جماعتوں کا سوال ہے تو ایک درجن جماعتوں کو ہی اس میں کامیابی مل سکی، ان میں صرف آٹھ سیاسی جماعتیں ہی ایسی ہیں جن کے دس یا دس سے زیادہ امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ سب سے بڑی پارٹی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (پی جے ڈی) کو ۱۲۵ نشستیں ملی ہیں، دوسرے نمبر پر پی اے ایم ہے جس کو ۱۰۲ نشستیں ملی ہیں، تیسری پوزیشن استقلال پارٹی نے حاصل کی ہے، جس کے ۴۶ امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ چوتھے نمبر پر آر این آئی ہے، جس کے منتخب ہونے والے امیدواروں کی تعداد ۳۷ ہے۔ پانچویں پوزیشن پر پاپولر موومنٹ ہے جس کے ۲۷ امیدوار ہیں۔ چھٹی پوزیشن یو ایس ایف پی کی ہے جس کے ۲۰ ممبر ہیں۔ ساتویں نمبر پر کانسٹی ٹیوشنل یونین ہے جس کے ۱۹ امیدوار منتخب ہوئے ہیں۔ آٹھویں نمبر پر پروگریس اینڈ سوشل موومنٹ ہے جس کو صرف تین نشستیں حاصل ہوئی ہیں، دسویں پر ایف ڈی جی ہے جس کے دو ممبر ہیں اور گیارہویں اور بارہویں نمبر پر آنے والی پارٹیوں پی یو ڈی اور پی جی وی کو ایک ایک نشست ملی ہے۔

اس طرح دیکھا جائے تو ایوان میں جگہ پانے والی اہم جماعتیں صرف چھ ہیں۔ اہم اس معنی میں کہ حکومت سازی میں ان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، چونکہ تنہا کوئی بھی جماعت حکومت بنانے کی حالت میں نہیں، اسی لیے یہ بات تو طے ہے کہ مخلوط حکومت بنے گی۔ یہاں یہ الجھن نہیں ہے کہ ایسی صورت میں غالب عنصر کون ہوگا، یعنی ایسا نہیں ہے کہ کئی چھوٹی پارٹیاں مل کر حکومت بنا سکتی ہیں، اس لیے کہ یہ طے ہے کہ وزیراعظم سب سے بڑی جماعت کا ہوگا۔ سلطان اسی کو وزارت عظمیٰ کا قلم دان سونپے گا اور حکومت بنانے کی دعوت دے گا، اس لیے باگ ڈور تو پی جے ڈی کے ہاتھ میں ہی رہے گی۔ ہاں ان کی کابینہ میں دوسری جماعتوں کے افراد بھی رہیں گے۔ جہاں تک پچھلے انتخابات سے موازنے کا سوال ہے تو اس بار فائدے میں صرف دو جماعتیں یعنی حکمراں پی جے ڈی اور پی اے ایم رہی ہیں، باقی چاروں بڑی جماعتوں کو اس بار نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ۲۰۱۱ء میں پی جے ڈی کو جہاں ۱۰۷ نشستیں ملی تھیں، اس بار اسے ۱۲۵ ملی ہیں۔ جبکہ پی اے ایم کو صرف ۴۷ سیٹیں ہی ملی تھیں، جو اس بار ۱۰۲ ہوگئی ہیں۔ پچھلی مرتبہ یہ تیسری پوزیشن پر تھی مگر اس بار دوسرے نمبر پر آگئی ہے۔ پچھلی مرتبہ دوسرے نمبر پر رہنے والی جماعت استقلال پارٹی اس بار کھسک کر تیسرے نمبر پر آگئی ہے، پچھلی مرتبہ اس کی سیٹوں کی تعداد ۶۰ تھی جو گھٹ کر اس بار ۴۶ ہوگئی ہے۔ دوسری تینوں جماعتوں کو بھی اس بار خسارہ برداشت کرنا پڑا ہے۔ اس بار ووٹروں کا تناسب پچھلی مرتبہ سے زیادہ تھا۔ پچھلی مرتبہ ۴۵ فیصد ووٹ پڑے تھے مگر اس بار تقریباً ۵۲ فیصد ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ ۳۰۵ امیدوار تو ملک کے ۹۲ انتخابی حلقوں سے منتخب ہو کر آتے ہیں۔ لیکن چالیس سال سے کم عمر کی ۶۰ خواتین اور ۳۰ نوجوانوں کو ملک گیر سطح پر منتخب کیا گیا ہے، یعنی ان کے لیے پورا ملک ایک انتخابی حلقہ تھا۔

اس انتخابی معرکے اور نتائج کے سلسلے میں مغربی پریس اور مغربی سیاسی حلقوں میں الگ الگ رائے پائی جاتی ہے، ان پر ان کے تبصرے بھی جدا جدا ہیں۔ البتہ ان میں قدرے مشترک یہ ہے کہ اسلام پسند ایک بار پھر برسراقتدار آگئے، جو ان کے نزدیک ایک تشویشناک امر ہے، ایک بڑے حلقے کو اس پر گہری تشویش ہے کہ لبرل طبقہ مات کھا گیا، اس کے باوجود کہ انہوں نے کافی زور مارا اور قدامت پسندوں کو پیچھے چھوڑ دیا، لیکن حکومت سازی کی حالت میں نہیں پہنچ سکے۔ واضح رہے کہ استقلال پارٹی کو ایک قدامت پسند پارٹی خیال کیا جاتا ہے جو پچھلی مرتبہ دوسری پوزیشن پر تھی اور پی اے ایم کو ’روشن خیال‘ جماعت تصور کیا جاتا ہے جو ۲۰۱۱ء کے انتخابات میں تیسرے نمبر پر تھی، دوسری تشویش یہ ہے کہ اسلام پسند جماعت کی طاقت و قوت میں اضافہ ہوگیا ہے، یعنی یہ کہ پچھلی مرتبہ جہاں ایوان میں اس کی عددی قوت ۱۰۷ تھی تو اس بار وہ ۱۲۵ تک پہنچ گئی ہے، مگر ایک دوسرا حلقہ اپنوں کو یہ تسلی دے رہا ہے اور تھپکی دے رہا ہے کہ چلو اسلام پسند ایک بار پھر آگئے تو کیا ہوا، اطمینان کی بات یہ ہے کہ یہ وہ اسلام پسند نہیں ہیں جن کو ’خوں خوار‘ سمجھا جاتا ہے، ان کے بارے میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یہ اسلام پسندوں کا ’’موڈریٹ‘‘ صلح پسند طبقہ ہے، گویا دوسرے الفاظ میں اس طبقے کے ساتھ معاملات کیے جاسکتے ہیں، اطمینان کی دوسری بات یہ ہے کہ یہ جمہوریت ایک نمائشی جمہوریت ہے، اس لیے اصل اقتدار تو شاہ کے ہاتھ میں ہے اور بادشاہ سلامت کیا ہیں، انہیں اچھی طرح معلوم ہے۔ فکرمندی کی اصل بات یہ ہے کہ ان موڈریٹ اسلام پسندوں کو بھی عوام کی نظروں میں رُسوا کیسے کیا جاسکتا ہے، تاکہ آئندہ ان سے بھی چھٹکارا مل سکے، اس کا سیدھا فارمولا یہ ہے کہ حکومت کو ایک ناکام حکومت باور کرایا جائے اور اس کی ساری ناکامی موڈریٹ اسلام پسندوں کی جھولی میں ڈال دی جائے۔

(بشکریہ: سہ روزہ ’’دعوت‘‘ دہلی۔ ۱۳ اکتوبر ۲۰۱۶ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*