چند جدید مہلک بیماریوں نیز ہولوکاسٹ کا ممکنہ پس منظر

گیلان یونیورسٹی کے اپنے دورے کے موقع پر صدر محمود احمد نژاد کے مشیر محمد علی رامین نے رشت شہر میں طلبہ کے ایک گروہ سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ یہودیوں کے درمیان ہمیشہ سے ایسے لوگ رہے ہیںجنہوں نے اللہ کے نبیوں کو قتل کیا اور عدل و حق کی مخالفت پر کمر بستہ رہے۔اپنی پوری تاریخ میں اس مذہبی گروہ نے نسل انسانی کو عظیم ترین نقصان سے دوچار کیا ہے جبکہ یہودیوں کے بعض گروہ دوسری اقوام اور نسلی گروہوں کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے ہیں تاکہ انہیں اپنی بدنیتی‘ شرپسندی اور سفاکیت کے شکنجوں میں جکڑے رکھیں۔

تاریخی اعتبار سے یہودیوں کے خلاف بہتیرے الزامات ہیں ۔مثلاً یہ کہا جاتا ہے کہ یہ گروہ بعض مہلک بیماریوں کا ذریعہ رہا ہے مثلاً طاعون اورتیفوس (ایک قسم کا بخار جس میں جسم پر ارغوانی رنگ کے دانے نکل آتے ہیں)۔ ایسا اس لیے ہے کہ یہودی پست فطرت لوگ رہے ہیں۔ جناب رامین نے کہا کہ ایک وقت تک تو لوگ یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ یہودی عیسائیوں کے پانی کے کنویں میں زہر ملا دیا کرتے تھے اور یوں عیسائیوں کو قتل کیا کرتے تھے۔ جناب رامین نے کہا کہ طاقتور لوگ دنیا کے اطراف میں رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لیے کچھ دوسری قسم کے ہتھکنڈوں کا بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔ جب ایران میں اسلامی انقلاب کامیاب ہوا اور یہ دنیا کے بہت سارے لوگوں کو جس میں عیسائی بھی شامل تھے اپنی جانب متوجہ کرنے لگا تو ایڈز کا وبائی مرض سامنے آگیا اور اس کے خوف نے دُنیا کو ایک بار پھر اپنی ز د میں لے لیا۔ گیارہ ستمبر کے بعد کئی مہلک وبائی امراض پھوٹ پڑے اور جب امریکا نے افغانستان پر حملہ کردیا تو ان امراض کا خاتمہ ہوگیا۔عراق پر جارحیت سے قبل سارس (Severe Acute Respiratory Syndrome-SARS) کی وباء پھوٹ پڑی لیکن جارحیت کے بعد یہ غائب ہوگئی۔

کوئی یہ نہیں پوچھتا ہے کہ فلو کے مرض میں مبتلا پرندے آسٹریلیا سے سائبریا تک کیسے پرواز کرسکتے ہیں؟

جناب رامین نے یہ بھی کہا کہ برڈ فلو کی وباء ایک سازشی منصوبہ ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اسرائیل اور برطانیہ کی ناکامی کے سبب سامنے آیا ہے۔جناب رامین نے فرمایا کہ ان ممالک نے اپنی ناکامیوں کو چھپانے اور ان پر پردہ ڈالنے کے لیے برڈ فلوسے متعلق خبروں کی تشہیر کی ہے تاکہ رائے عامہ کو کوئی پانچ چھ ماہ کے لیے اس میں مصروف رکھتے ہوئے منحرف رکھا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی یہ نہیں پوچھتا ہے کہ کس طرح ایک پرندہ جو فلو کی زدمیں ہے آسٹریلیا سے سائبریا تک پرواز کرسکتا ہے۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حتی کہ ایرانی وزیر صحت نے بھی برڈ فلو کو ایرانی سرحدوں پر روک دینے کا دعویٰ کیا۔ جناب رامین نے دعویٰ کیا کہ برڈ فلو اور ہالوکاسٹ کی افواہیں ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ انہوںنے کہا کہ برڈ فلو کی افواہ کا مقصد کروڑوں مرغیوں کو ہلاک کرکے بازار میں مرغیوں کی قیمت و مقدار کو کنٹرول میں رکھنا تھا۔ جرمنوں کو ایسی صلاحیت سے محروم کرنے کے لیے جو ان کی طاقت میں اضافے کا سبب تھی‘امریکا اور برطانیہ جرمنوں کو انسانوں کو آگ میں جھونکنے والی قوم کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔

ان واقعات کے ماخذ سے اپنی لاعلمی کا اعتراف کرتے ہوئے جناب رامین نے کہا کہ میں صرف اتناجانتا ہوں کہ پوری تاریخ میں یہودیوں پر اس طرح کی سازشوں اور تخریب کاریوں کا الزام رہا ہے اور یہ کہ انہوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے ہولوکاسٹ سے متعلق صدر محمود احمدی نژاد کے دعوئوں کو دہراتے ہوئے ان کی حمایت میں چار نظریات پیش کیے: پہلا یہ کہ جرمنوں کو ان کی طاقت میں اضافہ و توسیع کی صلاحیت سے محروم کرنے کے لیے برطانویوں اور امریکیوں نے انہیں انسانوں کو آگ میں جھونکنے والی ایک قوم کے طو رپر پیش کیا۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ امریکیوں اور برطانیوں نے صیہونیوں کے ساتھ مل کر اس داستان کو خوب گھوٹا تاکہ عالمِ اسلام کے قلب میں اسرائیل کی ریاست کو معرض وجود میں لایا جائے اور اس طرح ہولو کاسٹ کے بہانے عالم اسلام پر اپناکنٹرول جمایا جائے اور یہودیوں سے یورپ کی جان چھڑالی جائے۔تیسرا مفروضہ عیسائیوں اور یہودیوں کے مابین روایتی دشمنی سے تعلق رکھتا ہے‘امریکا اور برطانیہ نے عیسائی رجحانات نیز یہودیوں کے ساتھ عیسائیوں کی دشمنی کے پیش نظر فرانس‘ روس اور جرمنی کی شراکت سے دوسری جنگ عظیم کے بعد ہولو کاسٹ کا نظریہ پیش کیا اوریہودیوں کو خوفزدہ کرتے ہوئے اُس جگہ پر جانے کے لیے مجبور کیا جسے اب اسرائیل کہا جاتا ہے‘تاکہ یورپ اور امریکا کو یہودیوں سے خالی کرایا جاسکے۔ جناب رامین نے مزید کہا کہ وہ تحریک جس کے نتیجے میں اسرائیل کا قیام عمل میںآیا وہ درحقیقت یہودیوں کے خلاف تھی۔چوتھا نظریہ امریکا اور برطانیہ کے جرائم پر پردہ ڈالنے کے حوالے سے ہے۔ جناب رامین نے دعویٰ کیا کہ برطانیہ نے گزشتہ تین سو سالوں میں کوئی دس کروڑ سرخ ہندیوں کو قتل کر ڈالا تھا اور امریکا نے ہیروشیما وناگاساکی کو مسمار کردیا تھا۔جناب رامین نے فرمایا کہ اصل ہولوکاسٹ تو یہ المناک واقعات ہیں۔

’’چنانچہ ہولوکاسٹ مسئلے کا حل اسرائیل کی تباہی سے مشروط ہے۔‘‘

(بحوالہ: ’’تہران ٹائمز‘‘)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*