بنگلا دیش میں جنگی جرائم کے مقدمات کی تیاری

بنگلا دیش کی حکومت نے ۱۹۷۱ء میں ملک کے قیام کے وقت جنگی جرائم کی تفتیش کے لیے مارچ میں ٹربیونل قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ٹربیونل کے تحت ان درجنوں افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا جن پر چالیس سال قبل سنگین نوعیت کے جنگی اور انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہونے کا الزام عشروں سے عائد کیا جاتا رہا ہے۔ اس حوالے سے اب تک کسی پر باضابطہ فرد جرم عائد نہیں کی گئی۔ بنگلا دیشی حکومت اب اس امر کو عملاً تسلیم کر رہی ہے کہ انصاف سے متعلق اس کے تصورات میں خامیاں تھیں۔

جنگی جرائم کے ٹربیونل کے قیام کی حکومتی تیاریوں پر تنقید کرتے ہوئے بعض اپوزیشن رہنماؤں نے اسے سیاسی انتقام سے تعبیر کیا ہے۔ حکومت اعلان کرچکی ہے کہ وہ ان پاکستانیوں پر جنگی جرائم کامقدمہ نہیں چلائے گی جو ۱۹۷۱ء میں (مغربی) پاکستان کی جانب سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی پسند تحریک کے خلاف لڑ رہے تھے۔ نو ماہ کی خانہ جنگی میں لاکھوں افراد مارے گئے تھے۔ سرکاری اور غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس خانہ جنگی کی بھینٹ چڑھنے والوں کی تعداد ۳۰ لاکھ تھی۔ حکومت نے جنگی جرائم کے ٹریبونل میں صرف ان بنگالیوں کے خلاف مقدمات چلانے کا اعلان کیا ہے جنہوں نے مغربی پاکستان سے اشتراک عمل کیا تھا۔ حکومت جن اپوزیشن رہنماؤں پر مقدمات چلانا چاہتی ہے ان کی اکثریت کا تعلق ملک کی سب سے بڑی مذہبی جماعت اور متحدہ اپوزیشن کے اہم جز جماعت اسلامی سے ہے۔

اگست میں حکومت نے جنگی جرائم کی تفتیش میں رکاوٹیں ڈالنے کے الزام میں جماعت اسلامی کے پانچ رہنماؤں کو گرفتار کیا تھا۔ جماعت اسلامی نے ۱۹۷۱ء میں بنگلا دیش کے قیام (یا مشرقی پاکستان کی علیٰحدگی) کی تحریک میں مغربی پاکستان کا ساتھ دیا تھا۔ ۱۶؍ دسمبر کو حکومت نے بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی کے ایک لیڈر کو غیر متعلقہ قتل کے الزام میں گرفتار کیا۔ ان پر بھی جنگی جرائم میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔ اپوزیشن کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ حکومت جنگی جرائم سے متعلق مقدمات چلانے کے نام پر صرف انتقامی کارروائی کر رہی ہے اور انصاف سے کھلواڑ ہو رہی ہے۔ حکومت کے خلاف ان الزامات پر حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نیو یارک میں قائم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ بنگلا دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل ایکٹ ۱۹۷۳ء میں ترامیم ناگزیر ہیں۔ جنگی جرائم کے مقدمات اس ایکٹ کے تحت ہی چلائے جائیں گے۔ اس ایکٹ کے ناقدین کا کہنا ہے کہ شواہد جمع کرنے اور اپیل کے طریق کار کے حوالے سے ایکٹ میں بہت سے خامیاں ہیں۔

جنگی جرائم سے متعلق ٹریبونل کے خلاف اور متعلقہ ایکٹ میں ترمیم کے حق میں کم ہی بنگلا دیشی آواز بلند کریں گے۔ جس ملک میں عام طور پر لوگوں سے انصاف کے نام پر زیادتی روا رکھی جاتی ہو وہاں کوئی یہ کیوں چاہے گا کہ جنگی جرائم کے ملزمان سے کوئی رعایت کی جائے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بنگلا دیش کے قیام کی تحریک کے دوران مارے جانے والوں کے پس ماندگان کو اب تک انصاف نہیں ملا اور ان کی مسلسل حق تلفی ہو رہی ہے۔ جنگی جرائم کے مقدمات کے حق میں تحریک چلانے والے شہریار کبیر کا کہنا ہے کہ ’’مظالم بنگلا دیشیوں نے ڈھائے، نشانہ بنگلا دیشی بنے، مظالم بنگلا دیش کی سرزمین پر ڈھائے گئے۔ مقدمات بھی بنگلا دیش ہی میں چلائے جائیں گے۔ ایسے میں متعلقہ قواعد و ضوابط کا تعین بھی بنگلا دیش ہی کے لوگوں کو کرنا چاہیے‘‘۔ ۱۹۷۱ء میں شہریار کبیر کے ایک کزن کو جو دانشور تھے، اغوا کرکے قتل کردیا گیا تھا۔

بنگلا دیشی حکومت کا خیال ہے کہ جنگی جرائم کے مقدمے کے لیے اندرون ملک حمایت کم ہے۔ مقدمات کی باضابطہ سماعت شروع کرنے کے لیے ابھی کچھ اور انتظار کرنا ہوگا۔ وزیر قانون شفیق احمد نے تسلیم کیا ہے کہ ممکن ہے جنگی جرائم کے مقدمات کی سماعت ۲۰۱۴ء سے پہلے شروع نہ ہوسکے۔ تب تک موجودہ حکومت کی میعاد ختم ہوچکی ہوگی۔ بنگلا دیشی حکومت اب تک جنگی جرائم ٹریبونل ایکٹ پر تنقید کے خلاف شدید ردعمل ظاہر کرتی رہی ہے۔ اب نرمی اختیار کیے جانے کے آثار ہیں۔ جنگی جرائم کے ماہر امریکی سفارتکار اسٹیفن ریپ کو آئندہ ماہ بنگلا دیش آنے کی دعوت دی گئی ہے تاکہ وہ جنگی جرائم کے مقدمات کی تیاری کے عمل کا جائزہ لے کر تجاویز دے سکیں۔ حکومت نے ممکنہ طور پر اقوام متحدہ سے مدد مانگنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ یہ تھوڑا سا خطرناک ہے۔ حکومت پر بیرونی دباؤ کے آگے جھکنے کا الزام بھی عائد کیا جاسکتا ہے۔ مگر خیر انصاف کو اگر درست اور مبنی برحق دکھائی دینا ہے تو چند ایک خطرات مول لینے ہی پڑیں گے۔

(بشکریہ: ’’دی اکنامسٹ‘‘لندن۔ ۱۸؍دسمبر ۲۰۱۰ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*