Abd Add
 

بھارت اور چین کے درمیان سخت کشیدگی، تیار رہا جائے

Indian soldiers walk along a road near Zojila mountain pass, bordering China, on February 28, 2021. Tauseef Mustafa/AFP via Getty Images

گزشتہ سال خاصہ ہنگامہ خیز رہا، بھارت اور چین کے درمیان سرحد پر چار دہائیوں کی سب سے خونی جھڑپ ہوئی،رواں برس کے آغاز میں دونوں ممالک نے لداخ کے علاقے سے فوجیں پیچھے ہٹانے پر اتفاق کیا۔ اس معاہدے سے مسلح تصاد م کا فوری خطرہ کم ہوگیا، لیکن تناؤ برقرار ہے اور کسی بھی وقت تنازع پھر سر اٹھا سکتا ہے۔ جیسا کہ بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے ۲۰۲۰ء میں چین اور بھارت کے تعلقات کو انتہائی پریشان کن قرار دیا۔ ۲۰۱۵ء میں ہنگامی منصوبہ بندی میمورنڈم (سی پی ایم) نے امریکی سیکورٹی مفادات کے حوالے سے چین اور بھارت کے درمیان فوجی تصادم کے خطرے کو اجاگر کیا تھا۔ یہ خطرہ ابھی تک باقی ہے اور اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن کو بھارت کے ساتھ اپنی بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک شراکت داری کے پیش نظر جنوبی ایشیا میں کشیدگی میں کمی کو بہتری کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ تاکہ چین کے ساتھ سرحد پر ممکنہ تنازعات کے خطرے کو کم کیا جاسکے۔ ۲۰۱۵ء میں سی پی ایم نے اندازہ لگایا کہ چین اور بھارت کے تعلقات کافی حد تک مستحکم ہیں اور دونوں کے درمیان بظاہر فوجی تصادم کا امکان نہیں ہے۔ دونوں فریقوں نے تجارت اور سرمایہ کاری کے بڑھتے تعلقات پر سرحدی تنازع کا کوئی اثر پڑنے نہیں دیا اور سرحدی معاملات کو بروقت بہتر انداز میں حل کرلیا۔ اس کے باوجود سی پی ایم نے پایا کہ غیر حل شدہ تنازعات بیجنگ اور نئی دہلی کے درمیان قائم امن کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔ کسی بھی ایک جگہ تنازع کے نتیجے میں دونوں ممالک کے سیاسی اور اسٹریٹجک مفادات داؤ پر لگیں گے اور پھر بحران کے دوران انٹیلی جنس اکٹھا کرنا، فیصلہ سازی کرنااور تشدد سے بچنے کے لیے اقدامات کرنا انتہائی پیچیدہ ہوجائے گا۔ گزشتہ ۱۸ برس سے دونوں ممالک کے درمیان سرحدوں پر غیر مسلح جھڑپیں، جارحانہ گشت اور اشتعال انگیز فوجی تعمیرات کا سلسلہ جاری تھا، جس کے نتیجے میں ۲۰۲۰ء میں چین اور بھارت میں خونی تصادم کی فضا مکمل طور پر سازگار ہوچکی تھی۔ ۲۰۱۹ء کے ابتدا میں بھارت اور پاکستان تعلقات میں کشیدگی کا اثر بھی بیجنگ اور نئی دہلی تعلقات پر پڑا۔ کیوں کہ پاکستان چین کا قریب ترین شراکت دار ہے۔

اگست ۲۰۱۹ء میں بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت کی اچانک تبدیلی نے چین اور پاکستان کے ساتھ علاقائی تناؤ کو بڑھاوا دیا تھا۔ جس کے نتیجے میں بھارت کی دفاعی ضروریات میں اضافہ ہوگیا۔ ۲۰۲۰ء میں چین سے پھیلنے والے کورونا وائرس کی وبائی بیماری نے بھارتی معیشت کو سخت نقصان پہنچایا۔ جس کی وجہ سے باہمی تصادم میں اضافہ ہوا اور چین بھارت تجارتی اور سفارتی تعلقات کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے۔ مستقبل میں چین اور بھارت کے درمیان تناؤ برقرار رہنے بلکہ تنازع مزید بڑھنے کا امکان زیادہ ہے۔ اپنی زمینی سرحدوں پر دونوں ممالک فوجی حکمت عملی کے تحت ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے اور پچھلے ناکام معاہدے اور کشیدگی کم کرنے کے موجودہ معاہدے پر عمل پیرا رہیں گے۔ چین اور بھارت کے فوجی عزائم میں کمی آنے کا کوئی امکان نہیں، جو دونوں ملکوں کی مسلح افواج کو تصادم کے قریب لے جائے گا۔ ۲۰۲۰ء میں شدیدکشیدگی کے دوران شمالی بھارت کی سرحد پر دونوں جانب سے ہزاروں فوجیوں کو تعینات کیا گیا تھا۔ بھارت نے رواں برس کے آغاز میں چینی خطرے کے پیش نظر پاکستانی سرحد پر تعینات اسٹرائیک کور کی تنظیم نو کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے چین کے حوالے سے بھارت کے مستقبل کے رویے کا پتا چلتا ہے۔ رواں برس کے آغاز میں پاکستان اور بھارت نے ایل او سی پر جنگ بندی کا اعلان بھی کیا، لیکن اس کے باوجود نئی دہلی چین اور پاکستان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت کے پیش نظر محتاط رہے گا۔ گزشتہ برس پاکستان اور بھارت کے درمیان ۲۰۰۲ء کے بعد ایل او سی پر شدید ترین شیلنگ کا تبادلہ ہوا۔ دونوں جانب سے اعلیٰ فوجی افسران کے مفاہمتی بیانات کے بعد جنگ بندی عمل میں آئی، لیکن مستقبل میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی تنازع کے نتیجے میں اس میں چین کے ملوث ہونے کا بہت زیادہ امکان موجود ہے۔

افغانستان، کشمیر اور پاکستان کے موجودہ حالات میں مستقبل میں جیش محمد جیسے پاکستانی گروپوں کے بھارت کے خلاف اشتعال انگیز دہشت گرد حملے کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ ۲۰۱۹ء میں بھارت پر آخری دہشت گرد حملے کے نتیجے میں دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر فضائی حملے کیے گئے۔ بھارت کی جانب سے ۱۹۷۱ء کے بعد پہلی بار سرحد پار حملے کیے گئے۔ پاکستان کی جانب سے جوابی فضائی حملے اور بھارتی پائلٹ کی گرفتاری پر اعلیٰ بھارتی اہلکار نے ایٹمی صلاحیت کے حامل میزائل استعمال کرنے کی دھمکی دی۔ اگرچہ دونوں ممالک نے کسی طرح اس کشیدگی پر قابو پالیا، لیکن اس واقعہ سے واضح ہوگیا کہ مستقبل میں کسی تنازع کے نتیجے میں دونوں جانب سے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے مزید طاقت کے استعمال کا خطرہ بڑھا ہے۔

حالیہ برسوں میں چین اور پاکستان کے بڑھتے اسٹریٹجک تعلقات کے پیش نظر مستقبل میں دہلی اور اسلام آباد کے تنازع میں بیجنگ کی شمولیت کا امکان ہے۔ چین پاک اقتصادی راہداری پر چین کی جانب سے اربوں ڈالر سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ سی پیک منصوبے پاکستان کے متنازع علاقوں میں جاری ہیں۔ بیجنگ نے ۲۰۱۹ء کے بحران میں پاکستان اور بھارت کو اشتعال انگیزی سے روکنے کے بجائے اسلام آباد کا موقف تسلیم کر لیا کہ بھارت کو مستقبل کی جارحیت سے روکنے کے لیے کشیدگی میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ پاکستان کی طرح چین بھی بھارتی کشمیر کے کچھ حصوں پر دعویٰ کرتا ہے اور اسی لیے اگست ۲۰۱۹ء میں کشمیر کے خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام پر تنقید کرچکا ہے۔ اگر بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہتر کرنے کی کوششیں ناکام ہوجاتی ہیں، جیسے ماضی میں ہوتی رہی ہیں تو ایک اور بحران چین اور پاکستان کو بیک وقت بھارت کے خلاف کھڑا کرسکتا ہے۔ بحران کی پیچیدگی میں مزید اضافہ کرتے ہوئے چین اور بھارت نے ۲۰۲۰ء میں سرحدی کشیدگی کو دوطرفہ تعلقات کے دیگر شعبوں تک بڑھا دیا۔ اس اقدام کا مقصد اپنے عزائم کا اظہار تھا۔

بھارت نے جون ۲۰۲۰ء میں جنوبی بحیرہ چین میں جنگی جہاز تعینات کیے، جس پر چین کی جانب سے فوری اعتراض کیا گیا، اس کے ساتھ بھارت نے وی چیٹ اور ٹک ٹاک جیسی چینی ایپلی کیشنز پر پابندی لگائی اور چینی کمپنیوں کی بھارت میں حساس منصوبوں میں شرکت کو محدود کردیا۔ جس کے جواب میں چینی ہیکروں نے اکتوبر ۲۰۲۰ء میں ممبئی کے الیکٹرسٹی نظام پر سائبر حملہ کر کے شہر میں بلیک آؤٹ کردیا۔ اگرچہ دونوں جانب سے اس طرح کے اقدام کا مقصد سرحدی پر مزید فوجی تصادم سے بچنا تھا، لیکن اس سے پتا لگتا ہے کہ مستقبل کے بحران کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دیگر شعبوں میں بھی کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا، یعنی دونوں جانب سے تحمل کے مظاہرے کا امکان کم ہے۔ مثال کے طور پر مستقبل میں بھار ت کی حساس تنصیبات پر چینی سائبر حملہ بھارتی رہنماؤں پر شدید عوامی دباؤ ڈالے گا، لیکن یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ مستقبل میں دونوں ممالک کشیدگی میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں یاامن کو ترجیح دیں گے۔ اسی طرح اگر بھارت چینی تجارت اور سرمایہ کاری میں نئی رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے توچین اس کا سخت جواب دے سکتا ہے، جیسے بھارت کی دواؤں کی صنعت کواہم خام مال کی فراہمی روکنا۔ ۲۰۱۵ء میں سی پی ایم نے چین اور بھارت کے درمیان دیگر تنازعات کی نشاندہی کی، جو کسی سرحدی تنازع کے ساتھ ہی بیک وقت بھڑک سکتے ہیں۔

جس میں دونوں ممالک کی بحریہ کا ایک دوسرے کے سامنے آجانا اور تبت میں دلائی لامہ کے حوالے سے کوئی ڈرامائی پیش رفت شا مل ہے۔ بحران کی صورتحال میں بھارت اورچین کے لیے اپنا ردعمل اپنے سیاسی اور تزویراتی مقاصد کے حصول تک محدود رکھنا مشکل ہوجائے گا۔ ۲۰۲۰ء کی سرحدی جھڑپ تنازع کے پرامن حل میں ناکامی کی ایک مثال ہے۔ کوئی فریق بھی اعتماد نہیں کرسکتا کہ دوسرا فریق تنازع کو کس حد تک بڑھاوا دے گا، اسی لیے بھارت اور چین کے تعلقات ایک غیریقینی دور میں داخل ہوچکے ہیں۔ امریکی انتظامیہ طاقتور چین کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلسل واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان اسٹریٹجک شرکت داری کو فروغ دینے کی کوشش کررہی ہے۔ صدر بائیڈن نے امریکا اورچین کے درمیان تعلقات کوانتہائی مسابقانہ قرار دیا ہے۔ اس پس منظر میں امریکا اور بھارت کے قریبی تعلقات کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ لیکن خطرہ بھی مزید بڑھ جاتا ہے، خاص کرچین اور بھارت کے درمیان مسلح تصادم کی صورت میں صورتحال انتہائی خراب ہوسکتی ہے۔ چین اور بھارت کے درمیان تصادم کے نتیجے میں امریکا بھی اس کا حصہ بن سکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں عالمی معیشت درہم برہم ہوجائے گی اور علاقائی ترقی کو نقصان پہنچے گا، اس کے ساتھ ہی انسانیت پر اس کے شدید اثرات مرتب ہوں گے۔

اگر تصادم کے بعد بھارت عسکری اور معاشی طور پر کمزور ہوجائے گا تو نئی دہلی کی چین کا مقابلہ کرنے صلاحیت پر فرق پڑے گا اورخاص کر چین کو روکنے کے امریکی وسیع تر مقصد کا حصول انتہائی مشکل ہوجائے گا۔ ان وجوہات کی بنا پرواشنگٹن کی بھارت سے اسٹریٹجک تعلقات قائم کرنے کی بے چینی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خطرے کا درست اندازہ لگانا ہوگا، کہ کس طرح امریکی رویہ بھارت اور چین کے تعلقات پراثرانداز ہورہا ہے۔ امریکا کے اسٹریٹجک وعدوں اور بھارت کے ساتھ تعاون کے معاملات کو احتیاط سے اس انداز میں جانچنا چاہیے جس سے دو لازمی تقاضوں کو پورا کیا جاسکے۔

ایک تو واشنگٹن کی جانب سے نئی دہلی کو کرائی جانے والی یقین دہانیاں اور مدد کا مقصد بھارت کو چینی جارحیت کے مقابلے کے لیے طاقتور بنانا ہونا چاہیے۔ اسی طرح امریکا کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ حالات کیسے بھی ہوں امریکا بھارت کے ساتھ اپنے وعدے پورے کرے گا چاہے چین سے براہ راست تصادم کا خطرہ بھی موجود ہو، کیوں کہ اپنے وعدے پورے نہ کرنے کے نتیجے میں بھارت اور امریکا کے تعلقات کو سخت دھچکا لگے گا۔

دوسری جانب بھارت کو بھی امریکی حمایت کو اپنے اسٹریٹجک مقاصد کو پورا کرنے اور امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ یہ تشویش کوئی فرضی بات نہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں بھارتی حکومت کی کشمیر پالیسی اور چین اور پاکستان کے ساتھ فوجی کشیدگی میں اضافہ خطرات سے کھیلنے کی غیرمعمولی کوشش ہے۔ بھارت کے جارحانہ رویہ کی حمایت کے نتیجے میں چین زمینی سرحد کے ساتھ فوج کی تعیناتی میں اضافہ کرتا جائے گا۔ اس طرح کی صورتحال چین اور بھارت کی سرحدپر تنازع کے خطرے کو بڑھا دے گی۔ جس کے نتیجے میں بھارت اپنے زیادہ وسائل بحریہ کے بجائے زمینی سرحد کے دفاع پر خرچ کرنے پر مجبور ہوگا۔ حالانکہ بحرہند بھارت کو زبردست جغرافیائی برتری فراہم کرتا ہے۔ امریکا کو چینی جارحیت کے خلاف بھارت کے آزادانہ دفاع کی صلاحیت کو بڑھانا ہے، تاکہ مستقبل میں بھارت زیادہ مضبوط انداز میں چین کا سامنا کرسکے۔ اس کے لیے متنازع زمینی علاقوں میں بیجنگ کی فوجی برتری کو کم کرنا ہوگا اور چینی سابئر حملے اور معاشی دباؤ کے مقابلے کے لیے بھارت کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی امریکی سفارتکاروں کوتنازعات کے دوران بھارت سمیت خطے میں تحمل کے فروغ اور عدم تشدد کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی۔ امریکا کو کسی بھی بحران کے دوران بروقت اور کارآمد ردعمل دینے کی پالیسی کی صلاحیت پیدا کرنی ہوگی تاکہ چین اور بھارت کے درمیان ایک بار پھر انتہائی خطرناک صورتحال سے بچا جاسکے۔ امریکی حکمت عملی امریکی ترجیحات کا درست امتزاج ہونی چاہیے۔ جس کے ذریعے ناصرف بھارت اور امریکا کی شراکت داری میں بہتری آئے بلکہ بھارت اور چین کے درمیان تعلقات بھی خراب نہیں ہوں۔ سب سے پہلے تو امریکا کو بھارت کی جارحانہ صلاحیت کے بجائے دفاعی صلاحیت کو بہتر بنانا ہوگا، تاکہ چینی فوجی اقدام کا بروقت اندازہ کرکے ردعمل دیا جاسکے۔ بھارت کو چین کے ساتھ ایک لمبی اور مشکل سرحد پر انٹیلی جنس جمع کرنے اور معلومات کا بروقت تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے فائدہ ہوگا۔ امریکا پہلے ہی اس حوالے سے اقدامات کرتا رہا ہے۔ مثال کے طور پر ۲۰۲۰ء کے موسم سرما میں بھارت کو دو ایم کیو۹بی ڈرون فراہم کیے، مزید ڈرون بھی فراہم کیے جانے چاہییں۔ تاہم بعض اطلاعات کے مطابق امریکا اور بھارت کے درمیان مزید ۳۰ ڈرون کی فروخت پر کام ہورہا ہے،لیکن اب تک حتمی معاہدہ ہو نہیں پایا۔ سرحد پر چین کی جانب سے کسی تجاوز کی بروقت اطلاع کے لیے بھارت کو امریکا کے بغیر پائلٹ نگرانی کے طیارے اور دیگر حساس ٹیکنالوجی فراہم کی جانی چاہیے۔ چین اور بھارت کی سرحد پر مشکل پہاڑی علاقوں پر نظر رکھنے کے لیے خصوصی سنسر کی تیاری میں امریکا اور بھارت کے فوجی انجینئروں کو آپس میں تعاون کرنا چاہیے۔ امریکا اور بھارت کے درمیان انٹیلی جنس کے تبادلے کے حوالے سے بنیادی معاہدے پر پہلے ہی بات چیت ہوچکی ہے۔ لیکن معلومات جمع کرنے والے امریکی پلیٹ فارم تک بھارت کی محفوظ رسائی حساس معلومات کی بروقت فراہمی کو بہتر بناسکتی ہے۔ واشنگٹن کو اس حوالے سے کام کو آسان بنانے کے لیے اقدامات کرنے چاہییں۔ امریکا کو بھار ت کے ساتھ سائبر بات چیت کے دوران چینی سائبر حملے سے نمٹنے کے لیے بھارت کی مدد کرنی چاہیے۔ چین کی جانب سے اکتوبر ۲۰۲۰ء میں ممبئی کے الیکٹرک گرڈ پر حملہ محض ایک انتباہ تھا۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ چینی ہیکرز پہلے ہی بھارت کی حساس تنصیبات کے اندر سرایت کرچکے ہیں۔ جو بھارت کے لیے بڑے خطرے کی علامت ہے۔ اس یقینی خطرے کے خلاف بھارتی صلاحیتوں کو بڑھایا جاسکتا ہے، اس حوالے سے امریکا کو تکنیکی مہارت فراہم کرنی چاہیے، خاص کر دونوں ممالک کی داخلی سلامتی کے ذمہ دار اداروں کو اشتراک کرنا چاہیے۔ چین کی جانب سے ممکنہ معاشی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے بھی بھارتی صلاحیت کو بڑھانا ہوگا۔ اس لیے امریکا کو بھارت اور دیگر ہم خیال ریاستوں خاص کر کواڈ کے شراکت دار آسٹریلیا اور جاپان کے ساتھ مل کر کثیر الجہتی حکمت عملی بنانی ہوگی۔ جاپان اور آسٹریلیا دونوں ہی چینی پالیسیوں کا نقصان اٹھا چکے ہیں، جس نے ان کی مخصوص صنعتوں کو نشانہ بنایا۔ چین نے جاپان کو نایاب خام مال کی فراہمی روک دی جبکہ آسٹریلیا سے درآمد ہونے والی شراب پر بھاری ٹیکس عائد کردیا۔ لہٰذا وہ بیجنگ کی جانب سے نئی دہلی کو درپیش معاشی خطرے سے زیادہ واقف ہیں۔ دونوں ممالک کو مل کر ٹیکنالوجی، تجارت، منڈیوں تک رسائی اور پابندیوں کے حوالے سے چین کی مخصوص کمزوریوں کی نشاندہی کرنی چاہیے۔ انہیں مل کر اس طرح منصوبہ بندی کرنی چاہیے کہ کسی بھی ایک ریاست کے خلاف اقدام کی قیمت چین کو معاشی طور پر بھاری پڑے۔ لیکن چین کے خلاف قدم تاخیر سے اٹھانا چاہیے، تاکہ بیجنگ کو یکطرفہ اقدام کے ردعمل سے متنبہ کیا جاسکے اور کشیدگی میں اضافے سے بچا سکے۔ جہاں تک ممکن ہوسکے کواڈ ممالک کو چین کے معاشی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے بھارت کی صلاحیت کو بہتر بنانے کا متبادل منصوبہ بھی بنانا چاہیے۔ مثال کے طور پر اہم صنعتوں کے لیے حساس خام مال کی مختصر مدت میں فراہمی کا انتظام کیا جاسکے۔

امریکا کو چین، بھارت اور پاکستان کے درمیان تحمل کے فروغ اور تنازعات کے پرامن حل میں رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے سفارت کاری کا استعمال کرنا چاہیے۔ امریکا اور چین کے سرد تعلقات کی وجہ سے مستقبل میں امریکا، بھارت اور چین کے درمیان سہ فریقی بات چیت کا امکان نہیں ہے، پھر بھی واشنگٹن کو بیجنگ کے سامنے چین اور بھارت کے درمیان بحران کی صورت میں پیدا خطرات کے حوالے سے اپنے خدشات کا کھل کر اظہار کرنا چاہیے اور واضح کردینا چاہیے کہ نئی دہلی کے لیے امریکی مدد دفاع مضبوط کرنے کے لیے ہوگی۔ سفارتی بات چیت اور جنوبی ایشیا کے حوالے سے امریکی اور چینی ماہرین کے درمیان گفتگو کے ذریعے واشنگٹن کو جنوبی ایشیا کے حوالے سے مخصوص چینی مقاصد اور تحفظات کو سمجھنا ہوگا، تاکہ نئی دہلی کی پالیسی پر چین کے ردعمل اور پاک بھارت تعلقات میں پیش رفت کا بہتر اندازہ لگایا جاسکے۔

گزشتہ ۱۵ برس کے دوران پاکستان کے لیے امریکی امداد میں کمی کے نتیجے میں اسلام آباد پر واشنگٹن کا اثرو رسوخ کم ہو چکا ہے۔ لیکن پھر بھی پاکستان کی کمزور معیشت اور اس کی مغرب سے بہتر تعلقات کی خواہش کا فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ امریکا پاکستان کو حالیہ جنگ بندی پر قائم رہنے اور اپنے ملک میں موجود دہشت گردوں پر کڑی پابندی عائد رکھنے کی ترغیب دے سکتا ہے۔ اس کے لیے بائیڈن انتظامیہ کو ایف اے ٹی ایف کے ذریعے پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کا خطرہ برقرار رکھنا ہوگا، جس کے ذریعے پاکستان پر مالی پابندیاں عائد کی جاسکیں۔ اس کے ساتھ ہی واشنگٹن کو شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے نئے اقدامات پر بات چیت کی اسلام آباد کی پیشکش کو قبول کرلینا چاہیے۔ بھارت کے ساتھ دوطرفہ بات چیت میں امریکا کو قریبی اسٹریٹجک تعلقات قائم کرنے پر زور دینا چاہیے، تاہم یہ بھی واضح کردینا چاہیے کہ چین اور بھارت کے فوجی تصادم کے نتیجے میں واشنگٹن کے نئی دہلی سے تعلقات کے مقاصد کو شدید نقصان پہنچے گا۔ امریکا کو چین کے خلاف بھارت کی دفاعی مدد کرنے کے حوالے سے عوامی سطح پر بیانات دینے میں احتیاط کرنی چاہیے۔ جبکہ بند کمرے میں مذاکرات میں امریکی سفارتکاروں کو بھارت کی پالیسیوں پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اگست ۲۰۱۹ء جیسے کشمیر کی آئینی حیثیت میں تبدیلی کرنے کے حیران کن اقدامات سے باز رہنے کا پیغام دینا چاہیے، جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ امریکا کو اپنے پالیسی سازوں کو اگلے موسم بہار یا موسم گرما میں چین اور بھارت کے درمیان نئے بحران کے لیے بھی تیار رکھنا ہوگا۔ بائیڈن انتظامیہ کو سینئر افسران کو انٹیلی جنس بریفنگ کے ذریعے بھارت چین سرحد پر نظر رکھنے اور بھارت اور اسلام آبادکے درمیان کشیدگی کی نگرانی کرنے کا عادی بنانا ہوگا، اس حوالے سے سمندری کشیدگی، معاشی اور سفارتی جنگ اور سابئر حملے پر بھی نظر رکھنی ہوگی۔ بھارتی ہم منصبوں سے بات چیت کے ساتھ ہی بائیڈن انتظامیہ کو ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے اہم افراد سے بھی قریبی مشاورت کرنی چاہیے، تاکہ ۲۰۲۰ء میں چین اور بھارت کے درمیان جھڑپ اور ۲۰۱۹ء میں بھارت اور پاکستان کے درمیان تصادم کی صورتحال کا درست اندازہ لگایا جاسکے۔ ا س مشاورت کے نتیجے میں ایسی حکمت عملی تیار کی جانی چاہیے، جو مستقبل کے بھارت اور چین بحران میں کارآمد ہوسکے۔ جس میں امریکا کی جانب سے فوجی اور انٹیلی جنس اقدامات کے ساتھ بھارت کی سفارتی مدد بھی شامل ہو، تاکہ چینی دباؤ کا مقابلہ کیا جاسکے اور تحمل کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے بروقت کشیدگی میں کمی کا راستہ کھولا جاسکے۔

(ترجمہ: سید طالوت اختر)

“Preparing for heightened tensions between China and India”. (“cfr.org”. April 19, 2021)




Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.