طالبان کو مرکزی دھارے میں لانا

سوال یہ ہے کہ جب طالبان اتحادی اور بالخصوص امریکی افواج سے انتقام لینے پر تلے ہوئے ہیں تو کیا انہیں مرکزی دھارے میں لایا جاسکتا ہے؟ برطانیہ کے میجر جنرل رچرڈ بیرنز کی رائے یہ ہے کہ افغانستان کے حالات درست کرنے کے لیے طالبان کو پولیس اور فوج میں بھرتی کرنا پڑے گا اور طالبان رہنمائوں کو حکومت کا حصہ بنانا پڑے گا۔ ہوسکتا ہے کہ مستقبل قریب میں طالبان رہنما بھی کرزئی کابینہ میں دکھائی دیں۔

میجر جنرل رچرڈ بیرنز نیٹو کی اس ٹاسک فورس کے سربراہ ہیں جسے طالبان کو مرکزی دھارے میں لانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ شمالی آئر لینڈ، بوسنیا اور عراق کے تجربے کو افغانستان میں کسی خوف کے بغیر اپنانا چاہیے۔ ان کا استدلال ہے کہ دنیا بھر میں جنگجوئوں کو مقامی سطح پر پولیس اور قومی سطح پر فوج کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ مگر کیا افغانستان میں بھی یہ تجربہ کامیاب ہوسکے گا؟ اس حوالے سے اتحادی افواج کے اعلیٰ افسران اور کرزئی حکومت کے بڑے منصب داروں میں اختلافات اور شبہات پائے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان کو پولیس اور فوج میں بھرتی کیا گیا تو ان اداروں کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔ بھرتی کی صورت میں طالبان قیادت خود کش بمباروں کو تیزی سے ان اداروں کا حصہ بنا سکے گی۔ سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ پولیس اور فوج میں بھرتی ہونے والے بیشتر طالبان کہیں ڈبل ایجنٹ کا کردار ادا نہ کرنے لگیں۔

رچرڈ بیرنز کا کہنا ہے کہ جب بھی باغیوں کو مرکزی دھارے میں لایا جاتا ہے چند خدشات ضرور سر اٹھاتے ہیں۔ طالبان کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ چند خطرات تو مول لینے ہی پڑیں گے۔ طالبان میں سے بہت سے ایسے ہیں جولڑائی ترک کرکے نارمل زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں اور انہیں اس کا موقع دیا جانا چاہیے۔ بہت سے طالبان کسی نظریے کے تحت نہیں بلکہ کرپشن، غربت، بیروزگاری، ذاتی رنجش کے ہاتھوں ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوئے۔ اب وہ اپنی زندگی کا رخ تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

۳ نومبر کو ہلمند صوبے میں نادِ علی کے مقام پر ایک افغان سپاہی نے گشت کے بعد آرام کرنے والے اپنے پانچ برطانوی ٹرینرز کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔ اس کے بعد امریکیوں پر حملے ہوئے۔ ان واقعات نے افغان پولیس اور فوج میں طالبان کی بھرتی سے متعلق معاملات کو سرد خانے میں ڈال دیا ہے۔

جنرل بیرنز کہتے ہیں کہ افغانستان کی آبادی میں پشتون بڑی تعداد میں ہیں جنہیں کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہیں سیاسی دھارے میں لانا ہوگا تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں بہتر طور پر ادا کرسکیں۔ انہیں حکومتی سیٹ اپ سے الگ رکھ کر کچھ بھی درست نہیں کیا جاسکتا۔ ۲۰۰۱ء کے بعد سے افغانستان کو شدید ترین لڑائی اور امریکیوں کو ریکارڈ جانی نقصان ۲۰۰۹ء میں دیکھنا پڑا۔ مگر اس کے باوجود جنرل بیرنز کا استدلال ہے کہ طالبان کے کئی جونیئر کمانڈر ہتھیار پھینکنا چاہتے ہیں۔ اضافی امریکی فوجیوں کی تعیناتی سے طالبان کو مزید شدت سے یہ احساس ہوگا کہ اس جنگ کو جیتنا ان کے لیے ممکن نہیں۔

طالبان کو مرکزی دھارے میں لانے کی کوششیں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں۔ نیشنل کمیشن آف پیس اسی لیے قائم کیا گیا تھا۔ کمیشن کی کوششوں سے ۵۰۰,۴ طالبان نے ہتھیار ڈالے تاہم اس سے لڑائی کی شدت میں خاص کمی واقع نہیں ہوئی۔ کمیشن کے تحت قبائلی زعما سے کہا گیا کہ طالبان کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کریں‘ ان کی کوششوں سے کچھ لوگوں کا ذہن تبدیل ہوا تاہم بھرپور کامیابی کی منزل ابھی دور ہے۔ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جن افسران کی کرپشن سے تنگ آکر لوگ طالبان کا ساتھ دیتے ہیں، ان سے لاتعلقی اختیار کرنے پر بھی انہیں وہی کرپٹ افسران نشانہ بنانے لگتے ہیں۔ طالبان سے الگ ہونے والوں کی سلامتی کا کوئی خاص بندوبست ہے اور نہ انہیں بہتر معاشی امکانات دکھائی دیتے ہیں۔ حکومت انہیں دوبارہ نارمل زندگی گزارنے کی طرف بلاتی ضرور ہے تاہم اس عمل میں ان کی بھرپور مدد نہیں کرتی۔ طالبان اپنی صفوں میں لڑنے والوں کو یومیہ دس امریکی ڈالر کے نرخ سے ادائیگی کر رہے ہیں۔ جو ان سے الگ ہوکر حالات کا مقابلہ کرنا چاہے گا اس کی مالی امداد ناگزیر ہے۔ اگر مالی ترغیب نہ ہو تو کون ’’لگی بندھی آمدنی‘‘ دائو پر لگانا پسند کرے گا؟ ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ طالبان کی صفوں سے جو لوگ نکلنا چاہتے ہیں ان کے ساتھ اتحادی افواج بات چیت نہیں کرسکتیں کیونکہ افغان حکومت بھی کنارہ کش دکھائی دیتی ہے۔

(بحوالہ: ’’سنڈے ٹیلی گراف‘‘ لندن۔ ۳ جنوری ۲۰۱۰ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*