’’تعمیرِ نو ہماری بنیادی ذمہ داری ہے!‘‘

جنرل ڈیوڈ پیٹریاس عراق میں امریکی افواج کے کمانڈر رہ چکے ہیں۔ ان کے دور میں عراق کے لیے امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا جس سے صورت حال بہتر ہوئی۔ اب یہ تجربہ افغانستان میں کیا جارہا ہے۔ ڈیوڈ پیٹریاس اب امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ بارک اوباما کی بحیثیت صدر کامیابیوں کا مدار بہت حد تک جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کی کارکردگی پر بھی ہے۔

نیوز ویک انٹر نیشنل کے ایڈیٹر فرید زکریا نے جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کا انٹرویو کیا ہے۔ یہاں ہم اس کے اقتباسات پیش کر رہے ہیں۔


فرید زکریا: ۲۰۰۳ء میں سقوط بغداد کے بعد آپ کو شمالی عراق میں موصل کے مقام پر تعینات کیا گیا تھا اور تب آپ نے طے کیا تھا کہ یہ جنگ مختلف طریقے سے لڑنی چاہیے۔

ڈیوڈ پیٹریاس: ابتدا ہی سے یہ بات واضح تھی کہ ہم، فوج، عراق میں تعمیر نو کے لیے جارہے تھے۔ میں نے دوسروں پر بھی یہ بات واضح کردی تھی کہ عراق میں ہمارا اصل کام صرف تشدد پر قابو پانا نہ تھا بلکہ تعمیر نو بھی تھا۔ اس پر لوگوں کو تھوڑی حیرت بھی ہوئی تھی۔

فرید زکریا: کیا اس ماحول میں تعمیر نو جیسے الفاظ استعمال کرنا عجیب نہیں تھا۔ صدر جارج بش جونیئر نے عراق میں تعمیر نو کا حوالہ نہیں دیا تھا۔ ایک موقع پر اس وقت کی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے بھی کہا تھا کہ امریکی افواج کا کام بچوں کو اسکول جانے میں مدد دینا نہیں۔

ڈیوڈ پیٹریاس: میں نے پہلے بھی اس نوعیت کی خدمات انجام دی ہیں۔ ہیٹی میں میرا کام اقوام متحدہ کے مشن کے سربراہ کی حیثیت سے یہی تھا کہ میں تعمیر نو میں مدد دوں۔ بوسنیا میں بھی میرا یہی ریکارڈ رہا۔ افغانستان میں بھی ہمیں دوسرے بہت سے کاموں کے ساتھ ساتھ تعمیر نو پر توجہ دینی ہی تھی۔ میرے خیال میں بہتر طریقہ تو یہ تھا کہ ہم یہ اعلان کرتے کہ ہم افغانستان کو سوئٹزر لینڈ یا جدید ترین مغربی ملک نہیں بنانا چاہتے بلکہ اسے بنیادی ڈھانچا دینا چاہتے ہیں۔ صدر بش نے جس بات پر زور دیا وہ یہ تھی کہ ہماری خواہشوں کی ایک حد ہے۔ ہمیں اتنا ہی کرنا چاہیے جتنا کرسکتے ہیں۔ اس معاملے میں سکت کو بھی دیکھنا چاہیے۔ صدر بش کی پالیسی کارگر ثابت ہوئی۔ ہمیں اندازہ ہوگیا کہ کیا کیا جاسکتا ہے اور کیا کرنا چاہیے۔

فرید زکریا: میں نے صدر اوباما سے بات کی اور انہیں بتایا کہ جو کچھ وہ کرنا چاہتے ہیں وہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کے طریق کار سے مختلف ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ تعمیر نو کے حوالے سے جنرل پیٹریاس ہی سے بات کی جاسکتی ہے۔

ڈیوڈ پیٹریاس: جو کچھ صدر اوباما کے ذہن میں ہے میں اسے مکمل طور پر درست سمجھتا ہوں اور سپورٹ کرنے کے لیے تیار ہوں۔ میں نے صدر کے ساتھ دس گھنٹے سے زیادہ مشاورت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ افغانستان کے حوالے سے ہمارے مقاصد اور سکت کی ایک حد ہے۔ عراق میں ہمیں ابتدا میں چند اچھے افسران ملے جو عبوری اتھارٹی سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی اہلیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس وقت میری کمان میں ۲۵ ہزار فوجی تھے۔ ان میں چار انجینئرنگ بٹالین، دو سگنل بٹالین اور دو شہری امور کی بٹالین شامل تھیں۔

فرید زکریا: آپ نے تعمیر نو کی بات کی ہے۔ مگر عراق میں تو معاملہ اس سے کہیں بڑھ کر دکھائی دیتا ہے۔ وہاں تو مصنوعی سماجی تبدیلی (سوشل انجینئرنگ) ہوئی۔ سُنّیوں کو حکومت سے الگ کردیا گیا جبکہ وہ فوج اور بیورو کریسی چلا رہے تھے اور سرکاری اداروں کا نظم و نسق بھی ان کے پاس تھا۔ نئے عراق میں سُنّیوں کے لیے کچھ زیادہ نہیں۔

ڈیوڈ پیٹریاس: یہ محض تاثر نہیں، حقیقت ہے۔ بعث پارٹی کے اثرات زائل کرنے کی کوشش میں سنیوں کو بھی الگ تھلگ کردیا گیا۔ سنی علاقوں میں یہ عمل زیادہ نمایاں دکھائی دیا۔ ہم چاہتے تھے کہ بعث پارٹی میں صدام پرست عناصر کو الگ کردیا جاتا مگر اس کے بجائے نچلی سطح پر بھی بیشتر سُنّیوں کو دیوار سے لگادیا گیا۔ بد قسمتی سے بیشتر سُنّیوں کو حکومتی امور سے الگ کردیا گیا جبکہ ان کی اکثریت مغرب سے تعلیم حاصل کرکے آئی تھی‘ وہ جانتے تھے کہ ملک کیسے چلایا جاتا ہے۔ ان تک اپنی بات پہنچانا بھی مشکل نہ تھا کیونکہ وہ انگریزی بولنے والے تھے۔ ان کی اکثریت سیکولر تھی۔ نئے عراق میں انہیں کچھ دیے بغیر حمایت کی توقع فضول تھی۔

فرید زکریا: افغانستان میں بھی تو ایسا ہی کیا گیا ہے۔ پشتونوں کو الگ تھلگ کردیا گیا ہے۔ شمالی اتحاد کو حکومت چلانے کا پورا موقع دیا گیا ہے۔ افغان آرمی بھی دراصل شمالی اتحاد کی آرمی ہے۔ صدر حامد کرزئی پشتون ہیں تاہم یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پشتون صدر مقرر کرکے آنکھوں میں دھول جھونکی جارہی ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے یہی الزام عائد کیا ہے کہ پشتونوں کو نظر انداز کرکے شمالی اتحاد کو اولیت دی گئی ہے۔

ڈیوڈ پیٹریاس: اس پورے معاملے کو جوں کا توں قبول نہیں کیا جاسکتا۔ ایسا نہیں ہے کہ پشتونوں کو دیوار سے لگادیا گیا ہے۔ کسی ایک نکتے کی بنیاد پر تمام مطلوبہ نتائج اخذ کرنے کی کوشش حماقت کہلائے گی۔ نیوز ویک نے ایک کور اسٹوری شائع کی تھی کہ کس طرح اتحادی افواج نے طالبان کو غیر موثر کیا، ان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر ختم کیا۔ بعد میں طالبان نے بازاروں اور مساجد میں ملنے ملانے کا سلسلہ جاری رکھا اور دو سال میں وہ اس قدر مضبوط ہوگئے کہ پھر کمر کس کر میدان میں آگئے۔ یہ سب افغان حکومت اور آرمی کی کمزوری کے باعث ہوا۔ آج افغانستان کے ۳۴ میں سے ۳۳ صوبوں میں طالبان کے متوازی گورنر موجود ہیں۔

فرید زکریا: عراق کی طرح افغانستان میں شورش پر قابو پانا کیونکر ممکن نہیں ہوسکا ہے؟

ڈیوڈ پیٹریاس: عراق میں امریکی افواج پوری تیاری سے گئی تھیں۔ افغانستان کے حوالے سے انٹیلی جنس کی کمی محسوس کی گئی۔ مصالحت کے لیے بصیرت اور تصورات کی ضرورت ہوتی ہے۔ افغانستان میں اس حوالے سے کچھ کمی رہ گئی۔ اگر پالیسی معقول ہو تو وسائل کا بہتر استعمال یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

فرید زکریا: عراق میں امریکا اور دیگر اتحادیوں نے سنیوں سے ڈیل کی۔ افغانستان میں ایسا کیوں ممکن نہیں؟

ڈیوڈ پیٹریاس: چند ایک کوششیں ہوئی ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ حامد کرزئی کے بھائی نے سعودی عرب میں ملا عمر یا ان کے قریبی ساتھیوں سے ملاقات کی ہے۔

فرید زکریا: کیا اس کام کے لیے یہ موزوں سطح ہے؟

ڈیوڈ پیٹریاس: میرے خیال میں یہ سب کچھ قبل از وقت ہے۔ جو فریق یہ سمجھ رہا ہو کہ وہ جیت رہا ہے اس سے مصالحت کی بات نہیں کی جانی چاہیے۔ اور اگر مصالحت کی جانی ہے تو درمیانی اور نچلی سطح پر ہو۔ طالبان سے رابطوں کے لیے یہی سطح بہتر ہے۔

فرید زکریا: کیا درمیانی اور نچلی سطح پر رابطے ہو رہے ہیں؟

ڈیوڈ پیٹریاس: جی ہاں۔

فرید زکریا: نیو یارک ٹائمز میں یہ رپورٹ شائع ہوئی ہے کہ آپ افغان فوج میں قبائلی جنگجوؤں کو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں؟

ڈیوڈ پیٹریاس: ہم اس معاملے میں بہت محتاط ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ فوج میں وہ لوگ شامل ہوں جو مقامی سطح پر سیکیورٹی کے ذمہ دار ہیں۔

فرید زکریا: قبائلی ملیشیا کو فوج میں شامل کرنے میں کیا ہرج ہے، اگر اس سے مرکزیت ختم کرنے میں مدد ملتی ہو؟ اختیارات کو مقامی سطح تک پہنچانے سے مشکلات کم ہوں گی۔ لوگ کہتے ہیں کہ افغانستان میں بڑی فوج خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ ایسے میں مقامی جنگجو سرداروں کو مضبوط کرنے میں کوئی نقصان دکھائی نہیں دیتا۔

ڈیوڈ پیٹریاس: چند معاملات میں ہم نے روایتی سماجی ڈھانچے کو بحال کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد مضبوط مرکز کی تیاری نہیں۔ افغانستان مضبوط مرکز کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ہم ضلع سے نچلی سطح پر بھی اختیارات منتقل کرنا چاہتے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر لوگ ضلعی یا صوبائی سطح پر رابطے کریں۔ اور اگر شدید ضرورت محسوس ہو تو مرکزی یا قومی سطح پر حکومت سے رابطہ کیا جائے۔ افغانستان کی آبادی خاصی منقسم ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان میں ایسا سیٹ اپ قائم ہو جو لوگوں کے مسائل حل کرے، نہ کہ انہیں شکار ہونے دے۔

فرید زکریا: کہتے ہیں کہ آپ تصوراتی دنیا میں نہیں رہتے، حقیقت پسند ہیں۔ امریکا جو کچھ افغانستان میں کرسکتا ہے اس کے بارے میں آپ نے بھی توقعات کی روشنی میں رائے دی ہے۔ کیا اسے ہم خواہشات پر مبنی سوچ نہیں کہیں گے؟

ڈیوڈ پیٹریاس: میں نے عراق میں ملٹی نیشنل سیکیورٹی ٹرانزیشن کمانڈ کی سربراہی کی تھی۔ اس دوران ہر ہفتے کانگریس کے دو یا تین وفود مجھ سے ملنے آیا کرتے تھے۔ کانگریس کے ارکان مجھ سے پوچھتے تھے کہ کیا آپ امید پرست ہیں؟ میں نے کھل کر بیان کیا کہ میں امید پرست ہوں اور اس حوالے سے میں نے جواز پر مبنی نکات بھی بیان کیے۔ پھر جب عراق میں خرابیاں پیدا ہوئیں تو کہا گیا کہ ڈیوڈ پیٹریاس تو بہت پرامید رہا کرتے تھے۔ اب میں یہ سمجھتا ہوں کہ زیادہ پرامید رہنے سے کہیں بہتر یہ ہے کہ انسان حقیقت پسند ہو اور حقائق کی روشنی میں کام کرتا ہو۔ اس صورت میں توقعات کا زیادہ بوجھ سر پر سوار نہیں ہوتا۔ افغانستان ایک مشکل ملک ہے۔ یہاں ہمیں بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ ساتھ ہی میں جنرل میک کرسٹل کے الفاظ یاد رکھتا ہوں۔ ان کا کہنا ہے ’’افغانستان میں مشکل صورت حال کا سامنا ہے تاہم ہم اپنا مشن ضرور مکمل کرسکتے ہیں۔‘‘ اب میں اپنا ہر کام حقائق کی روشنی میں کرتا ہوں۔

فرید زکریا: چند برس قبل ایک بریفنگ کے دوران جب آپ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ عراق میں شورش پر قابو پانے سے امریکا میں سلامتی کو یقینی بنایا جاچکا ہے تو آپ نے کہا تھا کہ یہ آپ کا کام نہیں۔ اس کی وضاحت کیجیے۔

ڈیوڈ پیٹریاس: بات یہ ہے کہ میری ذمہ داری فوجی نوعیت ہے۔ جو کچھ میرے ذمے ہے وہ میں کرتا ہوں۔ قومی سلامتی کے بارے میں درست اندازہ قائم کرنا قومی سلامتی کے مشیروں کا کام ہے۔ وہی بتا سکتے ہیں کہ ملک اب کس حالت میں ہے۔ ہر شخص کو اپنے کام پر توجہ دینی چاہیے۔ یہی کام کرنے کا بہتر طریقہ ہے۔

فرید زکریا: افغانستان میں ایک لاکھ اور عراق میں ایک لاکھ بیس ہزار امریکی فوجیوں کی تعیناتی۔ کیا اتنے بڑے پیمانے پر فوجیوں کی تعیناتی، غیر معمولی نقصان اور خاصا بڑا مالی نقصان۔ کیا یہ سب ہمارے قومی مفاد میں ہیں؟ کیا یہ سب کچھ ناگزیر ہے؟

ڈیوڈ پیٹریاس: اگر مجھے بہتری کا یقین نہ ہوتا تو اضافی افواج کی تعیناتی کی سفارش کبھی نہ کرتا۔

(بشکریہ: ہفت روزہ ’’نیوز ویک‘‘۔ ۴ جنوری ۲۰۱۰ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.