’’مراکش میں شاہ پسندانہ سیاست‘‘

مراکش کی سیاست میں ایک نئی سیاسی قوت ابھرتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ یہ روشن خیال تنظیم اپنے فرانسیسی تلفظ PAM سے پہچانی جاتی ہے اور غیر نظریاتی بنیادوں پر نئے لوگوں کو گزشتہ ایک سال سے جمع کر رہی ہے۔ یہاں تک کہ وہ عام انتخابات ۲۰۱۲ء میں اپنی کامیابی پر یقین رکھتی ہے۔ گزشتہ مہینہ PAM نے اپنے پہلے بلدیاتی انتخابات میں ۲۲ فیصد ووٹ حاصل کیے۔تاہم اس کی تمام تر کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے PAM کے سربراہ فود علی الھما کے وزیراعظم بننے کی پیشنگوئی کی جا چکی ہے۔

۲۰۰۷ء میں فود علی نے ڈپٹی وزارت داخلہ کی ذمہ داری سے استعفیٰ دے کر آنے والے عام انتخابات میں آزادانہ حصہ لینے کا ارادہ ظاہر کیا۔ ان چند لوگوں میں فود علی بھی ہیں کہ جو شاہی انداز سے دور ہوئے۔ یہ بادشاہ محمد IV کے بہت قریبی سیاسی مشیر رہے ہیں۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ملوکیت پسند تنظیمیں دوبارہ سے اکٹھا ہو رہی ہیں۔

فود علی نے ایک مسلم مخالف گروہ بھی تشکیل دیا ہے جس میں تمام جمہوریت پسند شامل ہیں جسے بعد میں انہوں نے PAM بنانے میں بھرپور استعمال کیا اور بڑی تعداد میں لوگوں کو بھرتی کیا۔انہوں نے معاشرے میں موجود سول سوسائٹی کے نوجوان لیڈروں سے بھی حمایت طلب کی۔ PAM نے اپنے کئی MPS اپنی حریف جماعتوں سے کھینچے جس پر یہ اعتراض بھی اٹھا کہ یہ سیاسی نمائندوں کی منتقلی کو فروغ دے رہے ہیں جو کہ غیر قانونی ہے درحقیقت انتخابی قانون میں اس چیز پر پابندی ہوتی ہے کہ منتخب نمائندے سرکاری عہدوں پر ہوتے ہوئے اپنی پارٹی تبدیل نہیں کر سکتے۔ لیکن یہ قانون شاذ و نادر ہی عمل میں آیا ہے۔

اسی وجہ سے ۲۹ مئی کو کہ جب بلدیاتی انتخابات شروع ہونے والے تھے، PAM نے وزیراعظم کی طرف سے پیش کردہ حمایت اور اتحاد سے علیحدگی اختیار کر لی۔ لیکن بادشاہ محمد نے اپنی حمایت کو وزیراعظم عباس الفسی کے لیے برقرار رکھا ہے۔ لہٰذا حکومت نہیں گرے گی جب تک کہ کوئی بے اعتمادی پیدا نہ ہو۔ لیکن جو حالات پیدا ہوتے نظر آ رہے ہیں وہ PAM کے زیر اثر ایک نئی حکومت آنے کا اعلان کر رہے ہیں۔ اس پارٹی کا عروج قدیم سیاسی انداز کو لپیٹ کر نئے اصلاح پسند انہ اور گرج دارانہ انداز سے ہوا ہے جو کہ ایک پائیدار قوت اور استحکام کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ غیر رسمی سیاسی اور معاشی گروہ بندی مراکش کی سیاست پر غالب آ رہی ہے۔

فود الھماء نے PAM کی سرکاری قیادت کو چھوڑ کر اسے محمد شیخ بیداللہ کے سپرد کر دیا ہے جو کہ ایک متنازع صوبہ مغربی سہارا کے سابق وزیر صحت رہے ہیں۔ فود علی اپنے آپ کو پس منظر میں کام کرنے میں زیادہ بہتر محسوس کر رہے ہیں۔ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ پریس الھماء کو ’’بادشاہ کے دوست‘‘ کے نام سے منسوب کررہا تھا۔ دوسرے تمام اہم مشیروں کی طرح یہ بھی بادشاہ محمد کے ہم جماعت رہے ہیں اور ان کی کامیابی کا زیادہ تر انحصار اسی بات پر ہے کہ یہ اہم شاہی راز دار سجھے جاتے ہیں۔

بہرحال ایسی حمایت اور فائدہ یقینی نہیں ہے۔ ایک شاہی راز دار کا کہنا ہے کہ ’’بادشاہ فود علی کو پسند کرتے ہیں لیکن وہ نہیں چاہتے کہ وہ دوسرا درِس بصری بن جائے‘‘۔ (درس بصری مرحوم ایک سابق وزیر داخلہ رہا ہے جس نے بری طرح سے حسن II کے حریفوں کو کچلا تھا) بعد ازاں بادشاہ محمد نے اپنے تخت نشین ہونے کے صرف تین ماہ میں اپنے باپ کے اس مصاحب خاص کو ملک بدر کر دیا۔ اگر فود علی بھی بہت عروج تک پہنچے تو شاید اپنے آپ کو کہیں اور پائیں۔

(بحوالہ: ’’اکنامسٹ‘‘۔ ۴ جولائی ۲۰۰۹ء۔ ترجمہ: فرقان انصاری)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*