رُوپرٹ مرڈوخ کی صحافتی تجارت

رُوپرٹ مرڈوخ (Rupert Murdoch) کا وال اسٹریٹ جرنل پر قبضہ تجارت کی دنیا میں ایک حیرت انگیز بغاوت ہے۔ Murdoch ملک کے دو بہترین اخبارات میں سے ایک کے مالک بن بیٹھے ہیں۔ انھوں نے ’جرنل‘ کی مادر کمپنی Dow Jones کو سب سے زیادہ ڈالر ادا کیے ہیں۔ انھوں نے جرنل کو بجاطور سے سرمایہ اور مضبوط انتظامیہ کا آمیختہ فراہم کیا ہے جو اس کی ترقی کے لیے بہت ضروری تھا۔ سرمایہ دار دنیا میں اس کا ردِعمل غضبناک تھا یعنی حتمی نامنظوری کا۔ یہ ایسا ہی ہے گویا مسٹر Murdoch اونچے درجے کے کلب میں ایک تنگ ٹریک سوٹ اور ٹی شرٹ پہن کر زبردستی داخل ہو گئے ہوں جس پر لکھا ہو I Love Australi اور ہر کسی کو قیمتاً لے پالک بنا لینے کی پیشکش کی ہو۔ مسٹر Murdoch اپنے اختیار کردہ ملک میں تنازعہ کے حوالے سے کوئی نئے آدمی نہیں ہیں۔ میڈیا اسٹیبلشمنٹ کلیتاً انھیں غیرملکی خیال کرتا ہے۔ بائیں بازو کا گروہ Fox News سے نفرت کرتا ہے (ڈیمو کریٹک صدارتی امیدوار نے ان کو Fox کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے مباحثے میں بھی شرکت کرنے سے بھی انکار کر دیا)۔ لیکن اب تنقید کا یہ دائرہ ان کے ذریعہ خطِ نفس اور تفریح کے موضوعات پر زور دینے تک محدود رہا ہے۔ کوئی یہ توقع نہیں کرتا کہ نیویارک پوسٹ اور بیسویں صدی کا فوکس پبلک ٹرسٹ کے طور پر چلایا جائے گا۔ مسٹرنے Fox News & Murdoch کو بنیاد سے اٹھایا ہے۔ انھوں نے میڈیا کے بازار میں اس کے لیے مواقع کی نشاندہی کی اور اسے جوش و خروش عنایت کیا، ایک ایسی جگہ جہاں کی نصف آبادی اس خیال کی حامل تھی کہ ٹی وی نیوز کا بائیں بازو کی طرف جھکائو بہت زیادہ ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کچھ مختلف ہے۔ یہ بہت ہی اونچے درجے کے صحافتی معیار کا آئینہ دار ہے۔ جب سے مسٹر Murdoch نے ’جرنل‘ کو چلانا شروع کیا ہے، نیوز میڈیا اس کی بربریت کے حوالے سے اسٹوریاں لارہا ہے۔ یعنی کس طرح وہ وعدوں کو توڑنے کے عادی ہیں خصوصاً صحافتی معیارات کے تحفظ کے حوالے سے۔ اور یہ کہ وہ کس طرح میڈیا کی سلطنت کا استعمال اپنے تجارتی مفادات کو آگے بڑھانے اور ذاتی جھگڑوں کے لیے کرتے ہیں مزید یہ کہ کس طرح برطانوی تفریحی ذوق کی تسکین کے لیے نیم عریاں لڑکیوں اور گرما گرم شہہ سرخیوں کا استعمال کرتے ہیں اور کس طرح وہ چینی حکومت کے تئیں غیرمعمولی احترام و اطاعت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ پہلی بار ہے کہ اس آدمی پر امریکی تنقید برطانوی سطح پر پہنچ گئی ہے (واضح رہے کہ برطانوی میگزین Private eye نے اس آدمی کو Dirty Digger کا نام دیا ہے)۔ بائیں بازو کے لوگ اس کی مخالفت میں بلند آہنگ رہے ہیں۔ دی ہفنگٹن پوسٹ ویب سائٹ نے مسٹر مُرڈوخ کے ٹیبلوائڈز سے اول صفحہ کی مختلف اسٹوریاں ڈیل کی خبروں پر مبنی بتا کر نمایاں کیا ہے۔ یکم اگست کو moveon.org سے مظاہرین Dow Jone کے ہیڈ کوارٹر کے باہر جمع ہوئے اور پیروڈی ہیڈ لائنز تقسیم کیں تاکہ یہ بتایا جاسکے کہ Rupert Murdoch کے زیرِ انتظام ’جرنل‘ سے تاجر برادری ناقابلِ اعتبار اور جانبدارانہ خبروں کی ہی توقع کر سکتی ہے۔ ’جرنل‘ کے دفاع کے لیے بائیں بازو کے لوگوں کی سرگرمیوں کا نظارہ دلچسپ ہے لیکن مسٹر مُرڈوخ پر تنقید نامانوس حلقوں سے بھی ہوتی ہے۔ یعنی ان کے ساتھی قدامت پرستوں کی جانب سے قدامت پرست عرصہ دراز سے مسٹر مُردوچ کو یکساں جذبے کا حامل اور لُٹیرا تاجر کے طور پر جانتے ہیں لیکن بعض لوگوں کو تشویش ہے کہ ان کا ’جرنل‘ کے Op-ed صفحات کا حاصل کرنا جو کہ امریکی قدامت پرستوں کا بائبل ہے، تحریک پر اُسے بہت زیادہ برتری عطا کر دے گا۔ Paleocons اور Populists دو نوں ہی امیگریشن کے لیے اس کے جوش و جذبے کو، اورنوقدامت پرست،چین کے ساتھ اس کے تجارت کے شوق کو ناپسند کرتے ہیں اور سماجی قدامت پرست اس کے ٹیبلوائڈ داغ سے بے زار ہیں۔ وہ سبھی عملیت پسندی کے لیے جو اس کی کمزوری ہے، کے بارے میں پریشان ہیں۔ واشنگٹن ٹائمز نے ایسی اسٹوری چلائی کہ جس میں اسے ہیلری کلنٹن کے اعزاز میں چندہ وصول یابی پر مبنی ناشتے کے اہتمام پر ہدفِ ملامت بنایا۔ واضح رہے کہ ہیلری قدامت پرستوں کے لیے خوفناک ترین چڑیل ہے۔ ان فضول باتوں کے پیچھے صرف دو بھیڑیوں کا ہاتھ ہے یعنی Mogul اور Journal۔ ’جرنل‘ کو اس لیے اچھا سمجھا جاتا ہے کہ یہ صحافت کے اونچے معیار پر پورا اُترتا ہے اور یہ تین قومی روزناموں میں سے ایک ہے۔ مسٹر مُرڈوخ ٹیبلوائڈ (تفریحی صفحہ) کے بادشاہ ہیں۔ ان کی شہرت یہ ہے کہ جس چیز کی بھی مارکیٹ میں قیمت کم جارہی ہو، وہ اسے خرید لیتے ہیں۔ ’جرنل‘ تجارتی رپورٹنگ کا سنہرا معیار ہے اور اس تجارتی جنگل میں مسٹر مُرڈوخ سب سے بڑے بھیڑیا ہیں جو کمپنیاں اور کمپنیوں کے ملاپ (Merger) سے موثر نتائج حاصل کرنے کی تاک میں مستقل لگے رہتے ہیں۔ کیا کسی کھلاڑی کے لیے ایسا اسکور کارڈ خریدنا دشوار نہیں جسے ہر ایک استعمال کرتا ہو؟ ’جرنل‘ صرف ایک اخبار نہیں بلکہ ایک روزنامہ اور دوسرا بہت مضبوط خیال رکھنے والا قدامت پرست میگزین ہے۔ دونوں کے مابین خطِ فاصل کھینچنے میں اب تک یہ کامیاب رہا ہے۔ کیا مسٹر مُرڈوخ خود اپنے خیالات کو یہ اجازت دیتے ہوئے مزاحمت کریں گے کہ وہ اس خط کو دھندلا کریں؟ بہتوں کے نزدیک مسٹر مُرڈوخ پوری امریکی صحافتی روایت کے لیے ایک خطرہ ہیں۔ Jim Ottaway جو کہ Dow Jones کے ایک سابق نائب صدر ہیں، کا کہنا ہے کہ اینگلور آسٹریلیائی میڈیا ماڈل اور امریکی میڈیا ماڈل کی مالکیت میں بہت بڑا فرق ہے۔ اینگلو آسٹریلیائی مالکان کی عادت ہے کہ وہ اپنے تعصبات کو اپنے اخبارات اور ٹی وی چینلوں کے ذریعہ منعکس کرتے ہیں۔ امریکا کی صحافتی روایت یہ رہی ہے کہ صحافی سیاسی آرا و نظریات اور رپورٹنگ کے مابین سختی سے حدِ فاصل کھینچتے ہوئے سیاسی آرا کا اظہار پورے زور و شور سے ادارتی صفحات پر کرتے ہیں اور خبروں کی رپورٹنگ میں معروضی صداقت کو ہرممکن ملحوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسٹر مُرڈوخ ایک سخت گیر صحافتی دربان ہیں۔

چھاپہ خانوں کے مالکان کی سلطنت

ان سب باتوں میں کہاں تک سچائی ہے؟ عمدہ ترین امریکی اخبارات یقینی طور سے اپنے ہم پلّہ اینگلو آسٹریلیائی اخبارات کے مقابلے میں برتر ہیں اور یہ برتری گہرائی اور سنجیدگی کے حوالے سے ہے لیکن مالکیت سے زیادہ مارکیٹ کے سائز اور پیشے سے متعلق امریکی ذوق و شوق کو مدِنظر رکھتے ہوئے ابھی صحافت کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اگر مسٹر مُرڈوخ ’جرنل‘ کا معیار گھٹا دیتے ہیں تو وہ اخبار کی نیک نامی اور شہرت کو برباد کر دیں گے جس کے لیے وہ ایسی قیمت ادا کر رہے ہیں۔

Bancroft خاندان حقیقتاً اس کا ایک آئیڈیل نگہبان تھا، اس لیے کہ یہ ’جرنل‘ کی آزادی کا ضامن تھا لیکن کیا یہ بات تمام امریکی میڈیا خاندانوں پر صادق آتی ہے؟

واشنگٹن پوسٹ میں Grahams نے اور نیویارک ٹائمز میں Sulzbergers نے اخبار کے لہجے، کوریج اور اسٹاف کے تعین کے حوالے سے قابلِ ذکر حد تک اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کیا۔ مسٹر اوٹاوے قانون کے بجائے استثنیٰ بیان کر رہے ہیں۔ مسٹر مُرڈوخ امریکا کے اخبارات کے مالکان سے کہیں زیادہ ہم آہنگ ہیں جتنا کہ ان کے ناقدین تصور کرتے ہیں۔ چھاپہ خانہ کے مالک کی روشنائی ان کی رگوں میں گردش کر رہی ہے۔ وہ اخبارات کی تجارت میں اُس وقت سے سرمایہ لگا رہے ہیں جبکہ دوسرے لوگ پہاڑیوں کی جانب گامزن تھے اور نیوز یہ کارپوریشن کو خاندانی کمپنی کی طرح چلاتے ہیں یعنی خاندان کے لوگوں کو ووٹنگ کا حق دیتے ہوئے کہ وہ سہ ماہی آمدنی کے دبائو کی مزاحمت کر سکیں۔ امریکی پریس مالکان کے کلب میں شاید یہ نیا رکن بہرحال باہر کا آدمی نہیں ہے۔

(بشکریہ: ہفت روزہ ’’اکانومسٹ‘‘ لندن۔ شمارہ: ۴ ؍اگست ۲۰۰۷ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*