سعودی عرب: کونسل برائے سیاسی اور سلامتی امور کی تشکیلِ نو

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ایک شاہی فرمان کے ذریعے سعودی عرب کی سیاسی اور سلامتی امور کونسل کی تشکیلِ نو کا اعلان کیا ہے اور اس کے نئے ارکان کا تقرر کیا ہے۔

کونسل کے نئے ارکان کی فہرست حسبِ ذیل ہے:

۱۔ ولی عہد، نائب وزیراعظم اور وزیردفاع،سربراہ

۲۔ وزیر داخلہ،رکن

۳۔ شیخ صالح بن عبدالعزیز آل الشیخ،وزیر مملکت اور کابینہ کے رکن

۴۔ ڈاکٹر مساعد بن محمد العیبان، وزیر مملکت اور کابینہ کے رکن

۵۔ وزیر خارجہ

۶۔ خالد بن عبدالرحمان العیسیٰ، وزیر مملکت اور کابینہ کے رکن

۷۔ پروفیسر عادل بن احمد الجبیر وزیر مملکت برائے خارجہ امور اور کابینہ کے رکن۔

۸۔ وزیر اطلاعات، رکن

۹۔ جنرل انٹیلی جنس کے سربراہ

۱۰۔ سربراہ ریاستی سیکورٹی

۱۱۔ قومی سلامتی کے مشیر اس کونسل کے رکن ہونے کے علاوہ سیکرٹریٹ کے نگران ہوں گے

سعودی عرب: کابینہ میں رد وبدل

سعودی عرب میں جمعرات کے روز جاری شاہی فرمان کے ذریعے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان کی صدارت میں سعودی کابینہ کی از سر نوتشکیل عمل میں لائی گئی ہے۔

نئی تشکیل کے تحت عادل الجبیر کی جگہ ابراہیم العساف کو نیا وزیر خارجہ بنایا گیا ہے جب کہ عادل الجبیر اب وزیر مملکت برائے خارجہ امور ہوں گے۔

عبداللہ بن بندر بن عبد العزیز کو نیشنل گارڈز کا وزیر مقرر کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ ترکی الشبانہ وزیر اطلاعات اور حمد آل الشیخ وزیر تعلیم ہوں گے۔

عسیر کے گورنر فیصل بن خالد کو سبکدوش کر کے ان کی جگہ ترکی بن طلال کو نیا گورنر مقرر کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ سیاحت سے متعلق اتھارٹی کے سربراہ سلطان بن سلمان کو اُن کے عہدے سے سبکدوش کر کے مملکت میں اسپیس اتھارٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

شاہی فرمان کے تحت الجوف صوبے کے گورنر بندر بن سلطان کی جگہ فیصل بن نواف کو نیا گورنر بنایا گیا ہے۔

کابینہ کے وزیر مساعد العیبان کو قومی سلامتی کا مشیر مقرر کیا گیا ہے۔

ترکی آل الشیخ کو اسپورٹس اتھارٹی کی سربراہی سے ہٹا کر ان کی جگہ عبدالعزیز بن ترکی کو نیا سربراہ بنایا گیا ہے۔

شاہی فرمان میں ترکی آل الشیخ کو انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

جنرل خالد بن قرار الحربی کو مملکت کی جنرل سیکورٹی کا ڈائریکٹر بنایا گیا ہے۔

برطانیہ میں سعودی عرب کے سفیر محمد بن نواف بن عبدالعزیز بن سعود کو عہدے سے سبکدوش کردیا گیا ہے۔

وزیر خارجہ کا تعارف:

مملکت میں ۱۹۴۹ء میں پیدا ہونے والے ابراہیم العساف نے ۱۹۹۶ء سے ۲۰۱۶ء تک ۲۰ برس وزیر خزانہ کے عہدے پر کام کیا۔ انہیں ۳۱ ؍اکتوبر ۲۰۱۶ء کو شاہی فرمان کے ذریعے اس عہدے سے سبکدوش کر دیا گیا تھا۔

ابراہیم العساف نے ۱۹۸۱ء میں امریکا میں کولوراڈو ریاست کی یونیورسٹی سے اکنامکس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے ۱۹۷۱ء میں امریکا کی ڈینفر یونیورسٹی سے اکنامکس میں ماسٹرز مکمل کیا تھا۔ العساف نے ۱۹۶۸ء میں ریاض میں کنگ سعود یونیورسٹی سے اکنامکس اور پولیٹیکل سائنس میں گریجویشن کیا۔

ابراہیم العساف ۱۹۷۱ء سے اب تک مملکت میں متعدد اہم سرکاری عہدوں پر فرائض انجام دے چکے ہیں۔

انھیں سعودی عرب واپسی پر شاہ عبدالعزیز ملٹری کالج کے شعبہ انتظامی علوم کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔۱۹۸۶ء میں انھیں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سعودی عرب کا قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تھا۔ ۱۹۹۵ء میں انھیں سعودی عرب کی مانیٹری ایجنسی (ساما) کا ڈپٹی گورنر مقرر کیا گیا تھا۔ ۱۹۹۶ء میں شاہ فہد بن عبدالعزیز کے دورِ حکومت میں انھیں پہلی مرتبہ وزیر خزانہ مقرر کیا گیا تھا۔انھوں نے مالیاتی بحرانوں کے دوران غیر معمولی کردار ادا کیا تھا۔ اس کے پیش نظر انھیں بعد میں آنے والی سعودی حکومتوں نے وزیر خزانہ کی حیثیت سے برقرار رکھا تھا۔

یاد رہے العساف بھی ان افراد میں شامل تھے جنھیں بدعنوانی کے خلاف مہم میں ’’رٹز کارٹن ہوٹل‘‘ میں قید کیا گیا تھا اور پھر دو ماہ بعد بغیر کسی جرمانے کے رہا کر دیا گیا تھا۔

نیشنل گارڈز کے جواں سال سربراہ شہزادہ عبداللہ بن بندر بن عبدالعزیز کون ہیں؟

سعودی عرب کی حکومت نے کابینہ میں رد وبدل کرتے ہوئے جواں سال شہزادے عبداللہ بن بندر بن عبدالعزیز کو نیشنل گارڈز کا وزیر مقرر کیا ہے۔ نئی ذمہ داری سے قبل شہزادہ عبداللہ بن بندر بیک وقت مکہ مکرمہ کے نائب گورنر اور شاہ سلمان یوتھ سینٹر کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین کے طور پر خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔

شہزادہ عبداللہ بن بندر دو سال تک مکہ معظمہ کے ڈپٹی گورنر رہے اور حج امور کی فعال انداز میں براہ راست نگرانی کرتے رہے۔

شہزادہ عبداللہ بن بندر کا شمار سعودی عرب کے نوجوان شہزادوں میں ہوتا ہے۔ انہیں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ہمراہ کئی اہم تقریبات میں پیش پیش دیکھا گیا۔ سعودی عرب میں نیشنل گارڈز کی اہم ترین وزارت کا قلم دان سونپا جانا اس بات کا مظہر ہے کہ حکومت ان کی کارکردگی سے مطمئن ہے۔

سعودی عرب میں نیشنل گارڈز کی وزارت کو انتہائی اہمیت کا حامل خیال کیا جاتا ہے اور ریاست کی حساس نوعیت کی سیکورٹی کی ذمہ داری اسی ادارے کے کاندھوں پرہوتی ہے۔ سعودی عرب میں سرکاری سطح پر منائے جانے والے الجنادریہ ثقافتی میلے کی سیکورٹی کی ذمہ داری بھی نیشنل گارڈز کے پاس ہوتی ہے۔ قریباً ایک ماہ تک جاری رہنے والے اس میلے کو مملکت کا اہم ترین ثقافتی میلہ خیال کیا جاتا ہے۔

نئے سعودی وزیر اطلاعات ترکی بن عبداللہ الشبانہ کا تعارف

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے شاہی فرمان کے تحت کابینہ میں رد وبدل کرتے ہوئے ترکی بن عبداللہ الشبانہ کو نیا وزیر اطلاعات ونشریات مقرر کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عبداللہ بن شبانہ ابلاغی چینل اور پروگرام کے انتظامی امور میں گہری مہارت رکھتے ہیں۔ وہ ۱۹۹۰ء کے وسط میں ’’ایم بی سی‘‘ کے ساتھ کام کرنے کے علاوہ کئی دوسرے ابلاغی اور نشریاتی اداروں میں کلیدی ذمہ داریوں پر فائز رہے ہیں۔ کئی ریڈیو اور ٹی وی چینلز میں پیشہ وارانہ انتظامی امور کی انجام دہی کے بعد’’ روتانا گروپ‘‘ کے ساتھ وابستہ ہوئے۔

ترکی الشبانہ کا آبائی شہر الریاض ہے اور وہ ۴نومبر ۱۹۶۴ء کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے امریکا سے بزنس ایڈمنسٹریشن کے شعبے میں تعلیم حاصل کی۔ سعودی عرب میں وزیر اطلاعات مقرر ہونے سے پیشتر وہ ’’روتانا‘‘ میڈیا گروپ کے ساتھ وابستہ تھے اور ادارے کے چیف ایگزیکٹیو کے عہدے پر فائز رہے۔ انہیں سعودی عرب اور دنیا بھر کی موثر۵۰۰ ابلاغی شخصیات میں شامل کیا گیا۔

فلم پروڈکشن کے شعبے میں بھی الشبانہ نے گراں قدر خدمات انجام دیں اور عرب ممالک کے مختلف اداروں سے ایوارڈ بھی حاصل کیے۔ ترکی بن عبداللہ الشبانہ کو سعودی عرب میں وزیر اطلاعات مقرر کیے جانے پر سوشل میڈیا پر مثبت ردعمل ظاہر کیا گیا ہے۔

وزیر خارجہ ابراہیم العساف اور وزیر مملکت عادل الجبیر کے کیا کیا فرائض ہوں گے؟

سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے جمعرات کو ایک فرمان کے ذریعے کابینہ میں رد وبدل کیا ہے اور ماضی میں مختلف وزارتی عہدوں پر فائز رہنے والے ابراہیم العساف کو ملک کا نیا وزیر خارجہ مقرر کیا ہے۔ان کے پیش رو عادل الجبیر کو اب وزیر مملکت برائے امور خارجہ مقرر کیا گیا ہے اور وہ سفارتی امور انجام دیں گے۔

سعودی عرب کے سرکاری ذرائع کے مطابق وزارت خارجہ کی تنظیم ِ نو کی جارہی ہے۔اس کا مقصد ذمے داریوں کو دو وزراء پر تقسیم کرنا ہے اور اس سے ان دونوں وزراء کے کام سے مملکت کو فائدہ پہنچے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے انتظام کے تحت ابراہیم العساف کو وزارت ِ خارجہ کے مختلف شعبوں کی تشکیل نو کی ذمے داری سونپی گئی ہے اور عادل الجبیر سفارتی امور انجام دیں گے۔

(جمع و ترتیب: ادارہ)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*