شاہ سلمان اور ان کا خاندان

(FILES) A handout picture provided by the royal palace on June 19, 2017, shows Saudi King Salman bin Abdulaziz Al-Saud (photo by BANDAR AL-JALOUD/Saudi Royal Palace/AFP)

سعودی فرماں روا شاہ سلمان، جو جنوری ۲۰۱۵ء میں بادشاہت کے منصب پر فائز ہوئے، سات ’’سدیری‘‘ بھائیوں میں سے آخری ہیں جو اس منصب پر رہیں گے۔ اس وقت وہ قدامت پرست ریاست، جس کی آمدنی کا انحصار صرف تیل پر ہے، میں بڑے پیمانے پر اصلاحاتی پروگرام کی سربراہی کر رہے ہیں۔ اس اصلاحاتی پروگرام کے اصل روح رواں ۸۱ سالہ شاہ سلمان کے بیٹے محمد بن سلمان ہیں، جنھیں بدھ کو ولی عہد نامزد کیا گیا ہے۔ ۳۱ سالہ شہزادہ محمدبن سلمان ملک کی معیشت کو متنوع کرنے اور زیادہ سے زیادہ سعودیوں کو ملازمتیں فراہم کرنے کے لیے ترتیب دیے جانے والے اس پروگرام کے معمار ہیں۔ ان کی ولی عہد کے طور پر نامزدگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اب قیادت نئی نسل کو منتقل کی جا ئے گی، یعنی شاہ سلمان سعودی عرب کے بانی عبدالعزیز بن سعود کے آخری بیٹے ہوں گے جو بادشاہت کے منصب پر رہیں گے۔

۳۱ دسمبر ۱۹۳۵ء کو پیدا ہونے والے شاہ سلمان، عبدالعزیز بن سعود کے پچیسویں بیٹے جبکہ بادشاہت کے منصب پر رہنے والے چھٹے بیٹے ہیں۔

ان کا تعلق خاندان کی مضبوط شاخ سے ہے جو ’’سدیری‘‘ کہلاتی ہے۔ یہ سات بھائی ہیں جن کی والدہ کا نام حصہ بنت احمد الاسدیری تھا۔ شاہ سلمان صر ف بیس برس کے تھے جب انھیں مکہ کا گورنر مقرر کیا گیا، یہ تقرری شاہی خاندان کی اس روایت کے مطابق تھی کہ شاہی خاندان کے افراد کو ہی اہم صوبوں کا گورنر بنایا جاتا ہے۔

ریاض میں ہونے والی ترقی کا سہرا ان ہی کے سر ہے۔ انھوں نے ریاض میں بے شمار ترقیاتی کام کروائے اور اسے جدہ شہر کے مقابلے میں لاکھڑا کیا۔

طاقتور بیٹے:

لندن سے شائع ہونے والے ’’گلف اسٹیٹ نیوزلیٹر‘‘سے تعلق رکھنے والی Eleanor Gillespie کہتی ہیں کہ گورنر کے عہدے پر فائز ہونے سے خاندان میں شاہ سلمان کی نہ صرف عزت میں اضافہ ہوا بلکہ ان کو ایک شہر کی تعمیر کا تجربہ بھی حاصل ہو گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’بدعنوانی اور پیسے کے معاملہ میں ان کی شہرت بہت اچھی ہے، ان کا نام ایسے کسی معاملے میں کبھی نہیں آیا۔ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ بہت محنتی ہیں،صبح سات بجے دفتر پہنچ جاتے ہیں۔شاہ سلمان کو پہلی وزارت ۲۰۱۱ ء میں ملی جب ان کے بھائی شہزادہ سلطان کی موت واقع ہوئی ۔ان کی وفات کے بعد ان کو دفاع کی وزارت دی گئی۔ اس سے اگلے برس ہی اپنے بھائی نائف کی وفات کے بعد انھیں ولی عہد نامز کر دیا گیا۔اپنے سوتیلے بھائی عبداللہ کی وفات کے بعد شاہ سلمان نے بادشاہت سنبھالی۔

’’مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ فار اسٹرٹیجک اسٹڈیز‘‘کے سربراہ انور اشکی کا کہنا ہے کہ ’’شاہ سلمان بات چیت سے مسئلے کو حل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں‘‘۔

اپنی عمر کے باوجود شاہ سلمان کافی فعال رہتے ہیں۔ اگرچہ وہ لاٹھی کے سہارے چلتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ جنوری میں فضائیہ کی پاسنگ آؤٹ میں کافی دیر تک کھڑے رہے۔ فروری اور مارچ میں انھوں نے کئی ہفتوں پر مشتمل ایشیا کا دورہ کیا۔

شاہ سلمان نے تین شادیاں کیں ۔ان کے دس بیٹے تھے، جن میں سے دو کی وفات ہو چکی اور ایک بیٹی ہے۔

محمد بن سلمان کے علاوہ ان کے تین اور بیٹے بھی اہم حکومتی عہدوں پر فائز ہیں۔ابھی اپریل میں انھوں نے اپنے بیٹے خالد کو واشنگٹن میں سفیر مقرر کیا،جس کی عمر بھی تیس برس سے کم ہی بتائی جاتی ہے۔ اسی وقت شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کو وزیر کے عہدے پر ترقی دے کر توانائی کی وزارت ان کے سپرد کی۔ولی عہد محمد بن سلمان کے شہ سرخیوں میں آنے سے پہلے ان کے سب سے زیادہ مشہور بیٹے شہزادہ سلطان تھے،جو کہ پہلے سعودی ہیں جنھوں نے ۱۹۸۵ء میں امریکی ’’اسپیس شٹل ڈسکوری‘‘ سے خلا کا سفر کیا تھا۔ آج کل یہ سعودی کمیشن برائے سیاحت و نوادرات کے سربراہ ہیں۔

(ترجمہ:حافظ محمد نوید نون)

“Saudi King Salman presides over reform effort”. (“al-monitor.com”. June 21, 2017)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.