Abd Add
 

آلودگی سے کراہتے سمندر

تیزی سے بڑھتی ہوئی آلودگی کسی ایک ملک یا خطے کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا نہیں جارہا۔ ترقی یافتہ ممالک نے مثالی نوعیت کے اقدامات کے ذریعے شہریوں کو پابند کیا ہے کہ خود بھی آلودگی سے بچیں اور ماحول کو بھی خراب ہونے سے بچائیں۔ ترقی پذیر دنیا میں اس حوالے سے شعور اجاگر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے مگر پس ماندہ ممالک میں اس حوالے سے اب تک کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ آلودگی کو پس ماندہ ممالک کے باشندے کوئی مسئلہ سمجھتے ہی نہیں۔ ان ممالک میں ہر طرح کی اور ہر سطح کی آلودگی پائی جاتی ہے۔ کھانا پکانے کے لیے لکڑیاں جلانے کا رواج اب تک دم نہیں توڑ رہا۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا دھواں دور تک پھیلتا ہے اور فضا کو خطرناک حد تک نقصان پہنچاتا ہے۔ صفائی کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ نکاسیٔ آب کا نظام ناقص ہو تو ماحول کی آلودگی خطرناک حد تک بڑھتی ہے۔ پس ماندہ ممالک میں چھوٹے بڑے کارخانے اور گھریلو صنعتی یونٹ بڑے پیمانے پر مُضِر مادّے خارج کرتے ہیں اور یہ صنعتی کچرا براہِ راست ندیوں اور دریاؤں کے ذریعے سمندروں میں جا گرتا ہے۔ اس حوالے سے غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ زمین کے ساتھ ساتھ سمندروں میں بھی حیاتیاتی تنوّع برقرار رکھا جاسکے۔


نالوں، ندیوں اوردریاؤں کے ذریعے ہر سال کروڑوں ٹن کچرا سمندر برد ہو رہا ہے۔ اس میں پلاسٹک کی بنی ہوئی اشیا پر مبنی کچرا ۲۷ لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ہے۔ اتنی بڑی مقدار میں سمندروں میں گرنے والا پلاسٹک کا کچرا آبی حیات کے لیے انتہائی نوعیت کے خطرات پیدا کر رہا ہے۔ شہری علاقوں سے نکلنے والی چھوٹی ندیاں زیادہ آلودہ ہیں کیونکہ اُن میں صنعتی کچرا بڑے پیمانے پر گرتا ہے۔ سمندروں میں گرنے والا ۸۰ فیصد پلاسٹک کچرا کم و بیش ایک ہزار چھوٹی بڑی ندیوں کے ذریعے آتا ہے۔ یہ دنیا بھر کی ندیوں کا صرف ایک فیصد ہے۔ باقی ۲۰ فیصد پلاسٹک کچرا ۳۰ فیصد ندی نالوں کے ذریعے سمندر میں گرتا ہے۔

ماحول میں پائی جانے والی آلودگی پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اوسطاً ہر منٹ ایک ٹرک جتنا پلاسٹک کچرا سمندروں میں گر رہا ہے۔ دوسرے بہت سے خطرناک کیمیکلز اور دھاتی اجزا بھی سمندروں اور آبی حیات کو بے حال کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ سمندوں میںگرنے والا پلاسٹک سڑتا گلتا نہیں یعنی جوں کا توں پڑا رہتا ہے اور سمندروں کی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ پلاسٹک، کیمیکلز اور دھاتوں کے باعث سمندروں کا درجۂ حرارت بھی متاثر ہو رہا ہے، اُن میں غذائیت بخش اجزا کی کمی واقع ہو رہی ہے اور اُن میں آکسیجن کی سطح بھی گرتی جارہی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ صرف بحرِ ہند میں برِصغیر پاک و ہند اور اِن سے ملحق ممالک سے ہر سال کروڑوں ٹن کیمیکلز، دھاتی اجزا اور دیگر مضر اشیا شامل ہوتی ہیں۔ بحرِ ہند سمیت تمام بڑے سمندر شدید نوعیت کی آلودگی سے کراہ رہے ہیں مگر اُن کی پکار کوئی نہیں سُن رہا۔ صنعتی کچرے اور دیگر مضر اشیا سے آبی حیات پر شدید منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ مچھلیاں اور دیگر آبی جاندار پلاسٹک اور دیگر مضر اشیا کو خوراک سمجھ کر نگل لیتے ہیں اور پھر اِن مضر اشیا سے اُن کی جان بھی چلی جاتی ہے۔ وھیل، کچھوے اور دیگر سمندری مخلوق شدید خطرات سے دوچار ہے۔

مختلف شواہد کی روشنی میں ماہرین اس بات کو اب ثابت کرچکے ہیں کہ پلاسٹک میں موجود کیمیکلز اور دیگر مضر دھاتی اجزا کھانے والے سمندری جاندار انسانی حیات پر بھی شدید منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں کیونکہ دنیا بھر میں تین ارب سے زائد افراد کم و بیش باقاعدگی سے مچھلی اور دیگر سمندری جانداروں کو خوراک کا حصہ بنائے ہوئے ہیں۔ ان جانداروں کے جسم میں داخل ہونے والے کیمیکلز اِنہیں کھانے والے انسانوں تک منتقل ہوتے ہیں۔ سمندروں میں بڑے حجم کے شکاری جانداروں میں مضر اجزا کا بڑھتا ہوا تناسب دنیا بھر میں تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ اس سے یہ بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے ماحول میں مضر کیمیکلز اور اُن سے جُڑے ہوئے اجزا کا تناسب پریشان کن حد تک بڑھتا جارہا ہے۔

سمندری امور سے متعلق تحقیق کرنے والے ماہرین کو حال ہی میں ناروے میں وھیل کے اندر انتہائی مضر اجزا ملے ہیں۔ ’’انوائرنمینٹل ٹاکسیکولوجی اینڈ کیمسٹری‘‘ جریدے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ہر آٹھ میں سے سات وھیلز کے جسم میں انتہائی خطرناک اور ممنوع کیمیکل پالیکلورائنیٹیڈ بائیفنائل نامی پایا گیا ہے۔ ماہرین کو کِلر وھیلز میں انسانی صحت کے لیے بھی انتہائی خطرناک قرار پانے والا کیمیائی مادہ ’’پرفلو اورو الکلائن سبسٹینس‘‘ (پی ایف اے ایس) ملا ہے۔ ابھی تک یہ بات تو حتمی طور پر معلوم نہیں کی جاسکی ہے کہ سمندروں کے ممالیہ جانداروں کو یہ کیمیائی اجزا کس حد تک نقصان پہنچاتے ہیں تاہم اِتنا ضرور ہے کہ آبی حیات کی صحت بُری طرح متاثر ہو رہی ہے اور اِس کا اثر اُنہیں خوراک کا حصہ بنانے والے انسانوں پر بھی مرتب ہو رہا ہے۔ کیمیائی اجزا والی اشیا نگلنے سے آبی جانداروں میں تولیدی صلاحیت بھی متاثر ہو رہی ہے اور اُن میں ہارمونز کا توازن بھی بگڑ رہا ہے۔ ماہرین کو کِلر وھیلز میں برامینیٹیڈ فلیم ریٹارڈنٹس بھی ملے ہیں جو اُن سے اُن کے بچوں میں بھی منتقل ہو رہے ہیں۔

اسپینش نیشنل ریسرچ کونسل سے وابستہ سائنس دان ایتھل اجارت کی سربراہی میں کی جانے والی ایک اسٹڈی کے ذریعے کچھوئوں کے پیٹ میں بھی شدید مضر اجزا کی موجودگی کا سراغ ملا ہے۔ ساحلوں پر مردہ پائے جانے والے درجنوں کچھوئوں کے جسم کا تجزیہ کرنے سے مضر اجزا کا پتا چلا۔ ماہرین کو پلاسٹک میں ایسے اُنیس اجزا ملے ہیں جو ہارمونز کا توازن برقرار رکھنے والے اینڈوکرائن سسٹم پر بُری طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔ کچھوے عام طور پر جیلی فش، اسکوائڈ اور سارڈن کھاتے ہیں مگر معلوم ہوا ہے کہ وہ پلاسٹک کی چھوٹی بوتلیں، بوتلوں کے ڈھکن اور پلاسٹک کے دیگر اجزا بھی نگل جاتے ہیں۔

آسٹریلیا میں شائع ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ۲۰۱۹ء میں ندی نالوں اور دریاؤں کے ذریعے ۱۳ کروڑ ٹن پلاسٹک کچرا سمندروں میں پہنچا۔ پلاسٹک کچرا سمندر تک پہنچانے میں چھوٹے اور درمیانے حجم کے دریاؤں کا کلیدی کردار ہے۔ ۲۰۱۷ء تک ایسے دریاؤں اور ندیوں کی تعداد دس سے بیس تھی مگر اب ان میں پریشان کن حد تک اضافہ ہوچکا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق سمندروں میں ۲۵ فیصد پلاسٹک کچرا ؍۴۵۴ چھوٹے دریاؤں اور ندیوں کے ذریعے پہنچتا ہے۔ ۳۶۰ چھوٹی ندیاں ۲۴ فیصد، درمیانے حجم کی ۱۶۲ندیاں ۲۲ فیصد، ۱۸ بڑی ندیاں ۲ فیصد اور مختلف حجم کی ندیاں ۲۶ فیصد پلاسٹک کچرا سمندر برد کرتی ہیں۔ فلپائن کی ۴۸۰۰ ندیوں کے ذریعے ہر سال ساڑھے تین لاکھ میٹرک ٹن پلاسٹک کچرا، چین کی ۱۳۰۰ ندیوں کے ذریعے ۷۰ ہزار میٹرک ٹن پلاسٹک کچرا، بھارت کے ۱۱۰۰ سے زائد دریاؤں اور ندیوں کے ذریعے سوا لاکھ ٹن پلاسٹک کچرا اورملائیشیا کی ۱۰۷۰دریاؤں اور ندیوں کے ذریعے ہر سال ۷۳ ہزار میٹرک پلاسٹک کچرا سمندر برد ہوتا ہے۔

ہمارے مجموعی ماحول اور آب و ہوا کے لیے سمندر غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ آب و ہوا کی تبدیلی اور درجۂ حرارت کے بڑھنے سے سمندروں کا توازن بگڑ رہا ہے اور اُن میں بار بار بڑے بڑے طوفان آرہے ہیں۔ دو تین برس کے دوران آنے والے بڑے سمندری طوفانوں کا اصل سبب درجۂ حرارت کے بلند ہونے کو قرار دیا جارہا ہے۔ ۲۰۱۸ء سے اب تک بحیرۂ عرب میں مون سُون سے قبل اور اُس کے دوران چھوٹے بڑے طوفان بنتے رہے ہیں۔ یہی حال دوسرے بہت سے سمندروں کا بھی ہے۔ درجۂ حرارت بڑھنے سے گلیشیئرز پگھل رہ ہیں۔ اس کے نتیجے میں سمندروں کی سطح بھی بلند ہوتی جارہی ہے۔ سمندر کی سطح کا بلند ہونا بہت سے مقامات کی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ سمندروں میں پلاسٹک اور دیگر مضر اشیا کے گرنے کا عمل روکا جائے تاکہ ماحول کو پہنچنے والا نقصان روکا جاسکے۔

(تحقیق و ترجمہ: محمد ابراہیم خان)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.