سیرت نبوی ﷺ قرآن مجید کے آئینے میں

دعوتِ دین کے لیے دل سوزی

قوم کی ضلالت و گمراہی ، اخلاقی بگاڑ و پستی، ہٹ دھرمی اور عناد اور اصلاح کی ہر جدو جہد کے مقابلے میں مزاحمت کی بنا پر آپؐ کے شب و روز بڑی دل گداز و جاں گسل کیفیت میں گذرا کرتے تھے ، آپ کا قلب مبارک لوگوں کی بد بختی اور محرومی کے غم سے بے حد دل گیر ہو رہاتھا، قرآن میں اس صورت حال کا ذکر بارہا کیا گیا ہے
تو شاید آپؐ ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھو دینے والے ہیں اگر یہ اس تعلیم پر ایمان نہ لائے۔(الکہف:۶)

شاید آپ اس غم میں جان کھو دیں گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔(الشعراء:۳)

واقعہ یہ ہے کہ ’’ جو چیز آپ کو اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی وہ یہ کہ آپ اپنی قوم کو گمراہی اور اخلاقی پستی سے نکالنا چاہتے تھے اور وہ کسی طرح نکلنے پر آمادہ نہیں ہوتی تھی، آپ کو یقین تھا کہ اس گمراہی کا نتیجہ تباہی اور عذابِ الہیٰ ہے ، آپ ان کو اس سے بچانے کے لیے اپنے دن اور راتیں ایک کیے دے رہے تھے، مگر انہیں اصرار تھا کہ وہ خدا کے عذاب میں مبتلا ہو کر ہی رہیں گے ۔ اس آیت میں بظاہر تو بات اتنی ہی فرمائی گئی ہے کہ شاید تم ان کے پیچھے اپنی جان کھو دو گے ، مگر اسی میں ایک لطیف انداز سے آپ کو تسلی بھی دی گئی کہ ان کے ایمان نہ لانے کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے اس لیے تم کیوں اپنے آپ کو رنج و غم میں گھلائے دیتے ہو؟ تمہارا کام صرف بشارت و انذار ہے ، لوگوں کو مومن بنا دینا تمہارا کام نہیں ہے لہذا تم بس اپنا فریضۂ تبلیغ ادا کیے جائو، جو مان لے اسے بشارت دے دو، جو نہ مانے اسے برے انجام سے متنبہ کر دو۔‘‘

قرآن میں جگہ جگہ یہ بتایا گیا ہے کہ اصل ذمہ داری تبلیغ ہے ، مومن بنا دینا نہیں ہے ، فرمایا گیا

حقیقت یہ ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہِ راست دکھا دیتا ہے ، پس خواہ مخواہ آپ کی جان ان لوگوں کی خاطر غم و افسوس میں نہ گھلے۔ (الفاطر:۸)

آپ نصیحت کیجئے ، آپ بس نصیحت ہی کرنے والے ہیں، ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں۔ (الغاشیۃ:۲۱۔۲۲)

دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے ، صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے۔ (البقرۃ:۲۵۶)

اگر انہوں نے منہ موڑا تو آپ پر صرف پیغام پہنچانے کی ذمہ داری تھی ۔ آپؐ اپنے چچا ابو طالب کے ایمان کے بے حد مشتاق تھے مگر وہ ایمان نہ لائے ، اللہ نے قرآن میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے ۔

اے نبی : جسے آپ چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے، مگر اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے والے ہیں۔ (القصص:۵۶)

مولانا آزاد نے انبیاء کی دل سوزی کا تذکرہ یوں کیا ہے۔ ’’انبیائے کرام ہدایت و اصلاح کے صرف طالب ہی نہیں ہوتے ، عاشق ہوتے ہیں، انسان کی گمراہی ان کے دلوں کا ناسور ہوتی ہے ، اور انسان کی ہدایت کا جوش ان کے دل کے ایک ایک ریشے کا عشق، اس سے بڑھ کر ان کے لیے کوئی غمگینی نہیں ہو سکتی کہ ایک انسان سچائی سے منہ موڑ لے ، اس سے بڑھ کر ان کے لیے کوئی شادمانی نہیں ہو سکتی کہ ایک گمراہ قدم راہ راست پر آجا ئے۔ قرآن میں اس صورت کی جا بجا شہادتیں ملتی ہیں۔

صبر و استقامت کی خدائی تعلیم

کفار کی نا فرمانیوں، ایذائوں اور بدکاریوں سے آپؐ بے حد ملول رہا کرتے تھے، ان کے طعنوں اور پھبتیوں سے آپ کو قلبی رنج ہوتا تھا، ان کے بیجا مطالبات آپ کا غم بڑھاتے تھے ، وہ بار بار آپ سے کہتے کہ اگر تم سچے اور ہم جھوٹے ہیں تو عذاب لے آئو چنانچہ کبھی کبھی آپ کے دل میں یہ داعیہ پیدا ہوتا تھا اور کبھی آپ دعا بھی کر دیتے تھے کہ خدایا: معاملہ آرپار کر دے، یا تو ان کو ہدایت دے یا کام تمام کر دے ۔

ان تمام مرحلوں پر آپ کو صبر، ثابت قدمی، تحمل، استقامت، پامردی، استقلال، جلد بازی نہ کرنے اور عزیمت کا مظاہرہ کرنے اور کافروں کا معاملہ اللہ پر چھوڑنے کا خدائی حکم ہوتا تھا جس کا ذکر قرآن میں جا بجا ملتا ہے ۔ آپ اولوا العزم پیغمبروں کی طرح صبر کیجئے اور کافروں کے معاملہ میں جلدی نہ کیجئے (الاحقاف: ۳۵) ایک جگہ آپ کو حضرت یونس علیہ السلام کی طرح جلد بازی کے فیصلہ سے روکا گیا۔

آپ اپنے رب کا فیصلہ صادر ہونے تک صبر کیجئے اور مچھلی والے (حضرت یونس ) کی طرح نہ ہو جایے۔(القلم: ۴۸)

یہ کافر کچھ چالیں چل رہے ہیں اور میں بھی ایک تدبیر کر رہا ہوں ، تو آپ کافروں کو کچھ دنوں یوں ہی رہنے دیجئے۔ (الطارق:۱۵۔۱۷)

معاندین کی شرارتوں پر آپ کو تسلی دی گئی آپ ان سے رخ پھیر لیجئے اور آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ (الذاریات:۵۴)

آپ اپنے پروردگار کی تجویز پر صبر کیے رہئے، آپ تو خاص ہماری نگہداشت میں ہیں۔(الطور: ۴۸)

اللہ آپ کو تسلی دیتا ہے۔

اے نبی: ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ بناتے ہیں ان سے آپ کو رنج ہوتا ہے ، لیکن یہ لوگ تمہیں نہیں جھٹلاتے ، بلکہ یہ ظالم در اصل اللہ کی آیات کے منکر ہیں۔(الانعام: ۳۳)

ان ظالموں کے مقابلہ میں اللہ نے اپنی مدد کے کافی ہونے کا اعلان یوں کیا ہے۔

تمہاری طرف سے ہم ان مذاق اڑانے والوں کے لیے کافی ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو بھی خدا ٹھہراتے ہیں، عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا۔(الحجر: ۹۵۔۹۶)

پھر اگر یہ یہود و نصاریٰ اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو یہ راہ یاب ہیں، اور اگر اس سے منہ پھیر لیں تو کھلی بات ہے کہ وہ ہٹ دھرمی میں پڑ گئے ہیں، لہذا اطمینان رکھو کہ ان کے مقابلے میں اللہ تمہاری حمایت کے لیے کافی ہے وہ سب کچھ سنتا ہے اور جانتا ہے۔(البقرۃ: ۱۳۷)

دشمنوں کی باتوں سے دل گرفتہ ، ملول و رنجور نہ ہو یے بلکہ اس کا علاج قرآن بتاتا ہے ۔

ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ آپ پر بناتے ہیں ان سے آپ کے دل کو سخت کوفت ہوتی ہے ، ( اس کا علاج یہ ہے کہ) اپنے رب کی تسبیح و تحمید کیجیے۔ اس کی جناب میں سجدہ بجا لائیے اور موت کے آنے تک اپنے رب کی بندگی کرتے رہیے۔(الحجر: ۹۷۔ ۹۹)

امام رازی کے بقول ’’ان مشاغلِ ذکرو عبادت میں لگ جانے سے عالم قدس کے انوار کا فیضان شروع ہو جاتا ہے اور اس سے دنیا بالکل حقیر و ہیچ نظر آنے لگتی ہے ، اور اس لیے غم و الم کی طرف سے بھی طبیعت ہلکی و بے فکر ہو جاتی ہے۔‘‘

خاتم الانبیاءﷺ

آپ آخری نبی تھے ، آپ پر نبوت کا سلسلہ تمام ہو چکا، قرآن نے اس کا ذکر کیا ہے ۔

محمدﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیںَ مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے ۔(الاحزاب: ۴۰)

رحمت عالمﷺ

آپ کی نبوت اپنے زمانی رقبہ کے لحاظ سے قیامت تک کے لیے ہے اور مکانی رقبہ کے لحاظ سے ہر علاقہ و خطہ کے لیے ہے ، قرآن کریم میں قرآن اور حاملِ قرآن دونوں کی آفاقیت اور عا لمیت کا ذکر جگہ جگہ آیا ہے ۔

بڑی عالیشان ہے وہ ذات جس نے یہ قرآن اپنے بندہ پر نازل کیا تاکہ وہ سارے جہان والوں کے لیے خبر دار کر دینے والا ہو۔(الفرقان: ۱)

آپ فرما دیجئے اے انسانو! میں تم سب کی طرف خدا کا پیغمبر ہوں۔(الاعراف: ۱۵۸)

ہم نے آپ کو تمام ہی انسانوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیںَ (سبا: ۲۸)

یہ قرآن تو ایک عام نصیحت ہے تمام دنیا والوں کے لیے۔(الانعام:۹۰)

ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے ۔(الانبیاء: ۱۰۷)

حتیٰ کہ آپؐ کے غزوات اور قتال بھی دنیا کے حق میں سر تا سر رحمت ثابت ہوئے، بہ قول اقبال

لطف و قہر او سراپا رحمتے
آن بہ یاراں ایں بہ اعدا رحمتے

ختم نبوت کا اصل راز یہ ہے کہ نبوت محمدی پورے عالم کے لیے تا قیامت ہے اور انس و جن سب کے لیے ہے ، کسی اور نبی کی ضرورت ہی نہیں ہے ، یہ آپؐ کی رحمت عامہ ہی کا مظہر ہے کہ آپ نے دنیا میں عقیدہ توحید خالص، وحدت انسانی کا تصور، احترامِ انسانیت کا جذبہ، نا امیدی اور قنوطیت کے بجائے رجائیت اور عالی حوصلگی ، دین و دنیا کی وحدت کا تصور اور اصلی مقصود و مطلوب کی طرف کامل التفات کا جذبہ بیدار کر دیا، یہ انقلاب آپ کا عظیم معجزہ اور آپ کی ’’رحمتہ للعالمینی‘‘ کا کرشمہ ہے ۔

بعثت رسولﷺ کے مقاصد و فرائض

قرآن میں آپؐ کے مقاصد و فرائض کا بارہا تذکرہ آیا ہے، جن میں
٭ لوگوں کو قرآن کے الفاظ و کلمات کی تعلیم
٭ معانی و مفاہیم ِقرآن کی تعلیم، تکمیل دین۔
٭ تزکیہ ، اصلاح اخلاق وتمدن ، قیام تہذیب ِ صالح
٭ حکمت (سنت ِرسولؐ) کی تعلیم
٭ صالحین کو اچھے بدلے کی خوشخبری (تبشیر)
٭ نافرمانوں کو برے بدلے سے ڈرانا دھمکانا (انذار)
٭ امر بالمعروف (بھلائی کا حکم)
٭ نہی عن المنکر (بدی سے روکنا)
٭ حرام و حلال کی حدو د قائم کرنا، دعوت الی اللہ، اللہ کے دن کے اشاعت ، عدل کو عام کرنا، دین حق کی ہر شعبہ زندگی میں تنفیذ، مادی و روحانی ہر گندی اور تمام ٖغلط جاہلی رسم و رواج کے بندھن توڑنا اور ختم کرنا اور اللہ کے پیغام کی تبلیغ و غیرہ سر فہرست ہیں۔

اطاعت رسولﷺ

قرآن میں رسولﷺ کو سراج منیر (روشن چراغ) نور (روشنی ) شاہد (قیامت کے روز امت کے لیے شہادت دینے والا) قرار دیا گیا ہے اور جگہ جگہ آپ کی اطاعت و پیروی کا اللہ کی اطاعت کے ساتھ ذکر آیا ہے ۔ ایک جگہ فرمایا گیا ہے کہ

بلاشبہ نبی اہل ایمان کے لیے ان کی ذات پر مقد م ہیں۔(الاحزاب:۶)

سورۃ توبہ میں واضح فرمایا گیا ہے کہ اگر والدین و اولاد، بھائی بہن ، اہل و عیال ، اعزہ و اقارب، تجارت و کاروبار اور مال و دولت ، اللہ و رسول اور جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو عذاب کا انتظار کیا جائے۔ ( آیت :۲۴)

سورۃ الحشر میں فرمایا گیا:

رسول تم کو جودیں وہ لے لو اور جس سے روک دیں اس سے رک جائو،(الحشر:۷)

جس نے رسول کی اطاعت کی ، اس نے دراصل خدا کی اطاعت کی۔ (النساء)

آپ فرما دیجئے کہ اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطائوں سے در گزر فرمائے گا وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے ، ان سے کہو کہ اللہ اور رسول کی اطاعت قبول کرو، پھر اگر وہ تمہاری دعوت قبول نہ کریں تو یقینا یہ ممکن نہیں کہ اللہ ایسے لوگوں سے محبت کرے جو اس کی اور اس کے رسول کی اطاعت سے منکر ہوں۔ (آل عمران: ۳۱۔۳۲)

اسوہ رسول اکرمﷺ

قرآن کریم اہل ایمان کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔

درحقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ ہے ، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے۔(الاحزاب: ۲۱)
عقائد ، عبادات، معاملات ،ا خلاق اور معاشرت تمام شعبوں میں سیرت رسول اسوہ حسنہ ہے اس موضوع کی وضاحت کا حق علامہ سید سلیمان ندوی کے الفاظ سے بڑھ کر کسی اور طرح ادا نہیں کیا جا سکتا ، لکھتے ہیں۔

’’ایک ایسی شخصی زندگی جو ہر طائفہ انسانی اور ہر حالات انسانی کے مختلف مظاہر اور ہر قسم کے صحیح جذبات اور کامل اخلاق کا مجموعہ ہو، صرف محمدﷺ کی سیرت ہے اگر تم دولت مند ہو تومکہ کے تاجر اور بحرین کے خزینہ دار کی تقلید کرو، اگر تم غریب ہو تو شعب ابی طالب کے قیدی اور مدینہ کے مہان کی کیفیت سنو ،اگر تم بادشاہ ہو توسلطان عرب کا حال پڑھو، اگر تم رعایا ہو تو قریش کے محکوم کو ایک نظر دیکھو،اگر تم فاتح ہو تو بدر وحنین کے سپہ سالار پر نگاہ دوڑائو، اگر تم نے شکست کھائی ہے تو معرکہ احد سے عبرت حاصل کرو، اگر تم استاد اور معلم ہو تو صفہ کی در سگاہ کے معلم قدس کو دیکھو اگر شاگرد ہوتو روح الامین کے سامنے بیٹھنے والے پر نظر جمائو ، اگر تم واعظ و ناصح ہو تو مسجد مدینہ کے منبر پر کھڑے ہونے والے کی باتیں سنو، اگر تنہائی اور بے کسی کے عالم میں حق کے منادی کا فرض انجام دینا چاہتے ہو تو مکہ کے بے یارو مدد گار نبی کا اسوہ حسنہ تمہارے سامنے ہے ، اگر تم حق کی نصرت کے بعد اپنے دشمنوں کو زیر اور اپنے مخالفوں کو کمزور بنا چکے ہو تو فاتح مکہ کا نظارہ دیکھو، اگر تم اپنے کاروبار اور دنیاوی جدوجہد کا نظم و نسق درست کرنا چاہتے ہو تو نبی نضیر ، خیبر اورفدک کی زمینوں کے مالک کے کاروبار اور نظم و نسق کو دیکھو ،اگر یتیم ہو تو عبداللہ اور آمنہ کے جگر گوشہ کو نہ بھولو، اگر بچہ ہو تو حلیمہ سعدیہ کے لاڈ لے کو دیکھو، اگر تم جوان ہو تو مکہ کے ایک چرواہے کی سیرت پڑھو ، اگر تم سفری کاروبار میں ہو تو بصریٰ کے کاروان سالار کی مثالیں ڈھونڈو، اگر تم عدالت کے قاضی ہواور پنچایتوں کے ثالث ہو تو کعبہ میں نور آفتاب سے پہلے داخل ہونے والے ثالث کو دیکھو جو حجر اسود کو کعبہ کے ایک گوشہ میں کھڑا کر رہا ہے ۔ مدینہ کی کچی مسجد کے صحن میں بیٹھنے والے منصف کو دیکھو جس کی نظر انصاف میں شاہ و گدا اور امیر و غریب سب برابر تھے ، اگر تم بیویوں کے شوہر ہو تو خدیجہ اور عائشہ کے مقدس شوہر کی حیات پاک کا مطالعہ کرو، اگر تم اولاد والے ہو تو فاطمہ کے باپ اور حسن ؓ حسینؓ کے نانا کا حال پوچھو، غرض تم جو کچھ بھی ہو اور کسی حال میں بھی ہو تمہاری زندگی کے لیے نمونہ اور تمہاری سیرت کی درستگی و اصلاح کے لیے سامان ، تمہارے ظلمت خانے کے لیے ہدایت کا چراغ اور رہنمائی کا نور محمدﷺ کی جامعیت کبریٰ کے خزانے میں ہر وقت اور ہمہ دم مل سکتاہے ، اس لیے طبقہ انسانی کے ہر طالب علم اور نور ایمانی کے ہر متلاشی کے لیے صرف محمدﷺ کی سیرت ہدایت کا نمونہ اور نجات کا ذریعہ ہے جس کی نگاہ کے سامنے محمدﷺ کی سیرت ہے اس کے سامنے نوح و ابراہیم ، ایوب، و یونس، موسیٰ ، اور عیسیٰ علیہم السلام سب کی سیرتیں موجود ہیں گویا تمام دوسرے انبیاء کرام کی سیرتیں ،ایک ہی جنس کی اشیاء کی دکانیں ہیں اور محمدﷺ کی سیرت ، اخلاق و اعمال کی دنیا کا سب سے بڑا بازار ہے جہاں ہر جنس کے خریدار اور ہر شئی کے طلب گار کے لیے بہترین سامان موجود ہے ۔

(کتاب ’’سیرت نبویؐ۔ قرآن مجید کے آئینے میں‘‘ سے انتخاب)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.