امریکا اور صومالیہ: اب کیا کرنا چاہیے؟

ایسا لگتا ہے کہ امریکیوں کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ صومالیہ کے جہادیوں سے کس طور نمٹا جائے! کیا اس بات کی کوئی اہمیت ہے کہ صومالیہ تیزی سے جہادیوں کا گڑھ بنتا جارہا ہے؟ امریکی محکمہ دفاع کے اعلیٰ افسران کا کہنا ہے کہ جب تک صومالیہ سے امریکی سرزمین یا امریکیوں پر کوئی بڑا حملہ نہیں ہوتا تب تک اس معاملے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ امریکا کو یاد ہو کہ ۱۹۹۳ء میں صومالیہ کو تسخیر کرنے کی کوشش خاصی مہنگی پڑی تھی اور فرح عدید کے چھاپہ ماروں نے امریکی فوجیوں کی لاشوں کو سڑکوں پر گھسیٹا تھا۔ اگر ایسا ہے تو امریکی پالیسی ساز یقیناً نہیں چاہیں گے کہ صومالیہ میں کوئی نیا ایڈوینچر کیا جائے۔ مگر ظاہر ہے کہ جہادیوں کی جانب سے ابھرنے والے خطرے سے آنکھیں بھی بند نہیں کی جاسکتیں۔ ایسے میں جہادیوں سے بالواسطہ طور پر نمٹنے کی حکمت عملی کیا ہوسکتی ہے؟

صومالیہ میں سب سے بڑی اسلامی ملیشیا کا نام شباب ہے جو جنوبی اور وسطیٰ صومالیہ پر متصرف ہے۔ یہ ملیشیا بین الاقوامی سطح پر تسلیم کی جانے والی عبوری حکومت کو سمندر میں دھکیلنے کے لیے بے تاب ہے۔ شدید لڑائی جاری رہتی ہے۔ سال رواں کے دوران دارالحکومت موغادیشو سے فرار ہونے یا نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ ہے۔ ہزاروں افراد ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔ افریقی اتحاد سے تعلق رکھنے والے ۶ ہزار امن فوجی عبوری حکومت کی حفاظت پر مامور ہیں۔ شباب نے اب تک چھاپہ مار گروپوں کا طریق کار اپنایا ہے۔ اس کے دو خود کش بمبار یونٹ بھی کام کر رہے ہیں۔

۱۱؍ جولائی ۲۰۱۰ء کو لڑائی صومالیہ سے باہر گئی۔ یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا کے نواح میں ایک ریسٹورنٹ پر خود کش حملے میں ایک امریکی سمیت ۷۶ افراد مارے گئے۔ یہ لوگ فٹبال ورلڈ کپ کا فائنل دیکھنے جمع ہوئے تھے۔ شباب نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یوگنڈا کے عام باشندے اس بات کے حقدار تھے کہ ہلاک کردیئے جائیں کیونکہ صومالیہ میں تعینات افریقی اتحاد کے فوجیوں میں یوگنڈا سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت ہے۔ شباب نے یہ بھی کہا کہ یوگنڈا نے صومالیہ سے اپنے فوجی واپس نہ بلائے تو مزید خود کش حملے کیے جائیں گے۔ شباب نے رمضان المبارک کے دوران بھی صومالیہ میں کئی حملے کیے۔

خود کش حملوں سے اس بات کا ضرور امکان ہے کہ امریکی صومالیہ کی عبوری حکومت کے لیے حمایت میں کمی محسوس کرتے جائیں گے۔ عبوری حکومت کے سربراہ شریف احمد نے اب تک شرعی قوانین کے نفاذ پر زور دیا ہے۔ ان کے اثرات کا دائرہ دن بہ دن سکڑتا جارہا ہے۔ موغادیشو کے چند علاقوں تک ان کی حکومت محدود ہے۔

یہ اندازہ لگانا خاصا مشکل ہے کہ شباب کے ارکان یا حامیوں کی تعداد کتنی ہے۔ یہ تو طے ہے کہ یہ لوگ ہزاروں میں ہیں۔ انہوں نے ٹرکوں پر اینٹی ایئر کرافٹ گن لگا رکھی ہیں۔ طالبان کی نقالی کرتے ہوئے انہوں نے بھی داڑھی رکھنے پر زور دیا ہے، غیر اخلاقی حرکات پر سنگسار کرنے کی سزا سناتے ہیں اور موسیقی کو حرام قرار دیتے ہیں۔ نظریات اور طریق کار میں اختلاف البتہ موجود ہے۔ شباب کے بعض گروپ صومالی روایات کے علمبردار ہیں جبکہ دوسرے بہت سے گروپ چاہتے ہیں کہ القاعدہ کی طرز پر عالمگیر اسلامی بھائی چارے کی بنیاد پر کام کیا جائے۔ تمام شباب کمانڈر چاہتے ہیں کہ افریقی اتحاد کے فوجیوں کو نکال دیا جائے۔ بین الاقوامی افواج کا کردار وہ صرف امدادی سرگرمیوں کی نگرانی تک محدود کرنا چاہتے ہیں۔ نوجوانوں کو لڑائی پر مجبور کیا جاتا ہے۔ جو گھرانے لڑائی کے لیے ایک جوان بیٹا نہیں دیتے انہیں ٹیکس دینا پڑتا ہے۔

امریکا نے صومالیہ کے معاملے میں قدرے محتاط رویہ اپنایا ہے۔ صومالیہ میں القاعدہ کے ایجنٹ اب القاعدہ سے زیادہ شباب کے ٹریننگ کیمپس پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ صومالیہ کے ساحل کے نزدیک لنگر انداز امریکی جنگی جہازوں پر موجود حکام اور ایجنٹ بھی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہیں اندازہ ہے کہ صومالیہ کے معاملے میں احتیاط ہی بہتر ہے۔

امریکی سرزمین پر صومالی گروپوں کے لیے حمایت موجود ہے۔ ۱۴ امریکیوں پر شباب اور دیگر صومالی گروپوں کی حمایت کا الزام عائد کیا جاچکا ہے۔ گزشتہ ہفتے موغادیشو ایئر پورٹ پر مارا جانے والا شباب کا ایک رکن امریکی شہری نکلا۔ شباب کا ایک کمانڈر سفید فام (نو مسلم) امریکی ہے جس کا نام عمر حمّامی ہے۔ وہ البامہ میں پیدا ہوا اور اسلام قبول کرنے سے قبل اُس نے انجیل کی تعلیم دینے والے ادارے سے بھی تعلیم پائی تھی۔ امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر کا کہنا ہے کہ جو لوگ عمر حمّامی کے نقش قدم پر چلنا چاہتے ہیں انہیں اپنے ملک میں سزا اور بیرون ملک موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکا، برطانیہ، سوئٹزر لینڈ، اٹلی اور کینیڈا میں صومالی باشندے بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ یہ اپنے اہل خانہ سے ملاقات اور کاروبار کے سلسلے میں صومالیہ جاتے رہتے ہیں۔ ان حکومتوں کے لیے یہ اندازہ لگانا بہت مشکل ہے کہ ان میں سے کون جہادیوں کے لیے کام کرسکتا ہے یا جہادی ہوسکتا ہے۔ کینیا میں ڈھائی لاکھ صومالی رہتے ہیں۔ ان سب کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا اور جہادیوں کو شناخت کرکے گرفتار کرنا یا موت کے گھاٹ اتارنا کینیا کی انٹیلی جنس کے لیے ممکن نہیں۔ کینیا یا دارالحکومت نیروبی یا خطے میں کہیں اور جہادیوںکی تربیت کے کیمپ کا قائم ہونا انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے۔

(بشکریہ: ’’دی اکنامسٹ‘‘ لندن۔ ۱۸؍ ستمبر ۲۰۱۰ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*