نوزائیدہ جنوبی سوڈان کی تعمیرِ نو

جنوبی سوڈان عالمی برادری کا حصہ بننے والا تازہ ترین ملک ہے۔ خانہ جنگی نے اس خطے کو تباہی سے دوچار کیا۔ تیل سے مالا مال اس خطے میں اب تعمیرِ نو کا عمل بھرپور رفتار سے جاری ہے۔

گرد و غبار سے اٹے ہوئے علاقے میں دکانیں اور پتھارے بوتلوں میں بند مشروبات سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ واحد معیاری چیز ہے جو دستیاب ہے۔ جھونپڑیوں کی طرف جانے والی واحد سڑک دھول اور کیچڑ سے عبارت ہے۔ دو سال قبل اس خطے کو آزادی ملی تھی۔ اس نامہ نگار نے تب بھی اس علاقے کا دورہ کیا تھا۔ یہ گاؤں لریا (Liriya) ان دو برسوں میں کم ہی بدلا ہے۔ جو چند تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، وہ یہ ہیں کہ پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کے لیے بورنگ کی گئی ہے۔ خاصی بلندی پر ایک ٹینک تعمیر کیا گیا ہے جس میں پمپ کے ذریعے پانی بھرا جاتا ہے اور پھر یہ پانی پائپ لائن کے ذریعے گھروں تک پہنچایا جاتا ہے۔

مقامی پادری چارلس سیبٹ کا کہنا ہے جو تھوڑی بہت تبدیلیاں دکھائی دے رہی ہیں وہ در حقیقت اور بھی کم ہیں۔ جب موسم خراب ہوتا ہے اور شمسی توانائی کا حصول ممکن نہیں ہوتا، تب پانی کو پمپ کرنے کے لیے جنریٹر چلانا پڑتا ہے مگر گاؤں والوں کے پاس جنریٹر کو چلانے کے لیے پیٹرول خریدنے کے پیسے نہیں۔ گاؤں والے اسکول کی فیس بھی ادا نہیں کرسکتے اور سچ یہ ہے کہ اساتذہ کی تنخواہیں فیس سے حاصل ہونے والی رقم ہی سے ادا کی جاتی ہیں۔ والدین افلاس کے ستائے ہوئے ہیں۔ وہ بیٹوں کو کھیتوں میں بھیج دیتے ہیں یا پھر شادی کردیتے ہیں تاکہ جہیز میں اچھی خاصی رقم یا سامان ملے اور زندگی اچھی گزرے۔ اسکولوں میں کبھی حاضری مکمل نہیں ہوتی۔ ویسے بھی کم ہی لوگ بچوں کو اسکول میں داخل کراتے ہیں۔

جولائی ۲۰۱۱ء میں جنوبی سوڈان کے لوگوں نے جس ولولے سے آزادی کو خوش آمدید کہا تھا، وہ اب ہوا ہوچکا ہے۔ لوگ جیسی تبدیلیاں چاہتے تھے، ویسی کوئی بڑی تبدیلی اب تک رونما نہیں ہوئی۔ نوزائیدہ مملکت کی حکومت نے ایک کروڑ بیس لاکھ کی آبادی کو بہتر زندگی کے وسائل فراہم کرنے کا وعدہ اور عزم کیا تھا مگر اب تک کوئی واضح تبدیلی دکھائی نہیں دی۔ تین چوتھائی آبادی ناخواندہ ہے۔ جنوبی سوڈان رقبے میں فرانس سے بڑا ہے مگر اس کا بنیادی ڈھانچا نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک فیصد سے کچھ زائد آبادی کی بجلی تک رسائی ہے۔ ہزاروں غیر ملکی بھی جنوبی سوڈان کی تعمیر و ترقی میں جُتے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اِس نوزائیدہ مملکت کے حالات ایسے ہیں کہ افغانستان ترقی یافتہ دکھائی دیتا ہے! تین چوتھائی آبادی کو صحتِ عامہ کی سہولتیں غیر ملکی اداروں کے قائم کردہ طبی مراکز پر فراہم کی جاتی ہیں۔ غیر ملکی امداد اور معاونت کے بغیر جنوبی سوڈان مکمل ناکام ریاست میں تبدیل ہوجائے گا۔ سوال یہ ہے کہ یہ خطہ کتنا آزاد اور خود مختار ہے؟

پُرامید حکام اور نوزائیدہ ملک کی مدد کرنے کے لیے بے تاب تارکینِ وطن کا کہنا ہے کہ کوئی بھی تبدیلی رونما ہونے میں کچھ وقت لگتا ہے اور تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ نوزائیدہ بچوں میں شرح اموات ۱۰۲ فی ہزار تھی، جو اَب ۷۶ فی ہزار رہ گئی ہے۔ یہ شرح اموات بھی خطرناک ہے مگر خیر تھوڑی بہت بہتری تو آئی ہے۔ زچگی کے دوران خواتین کی شرح اموات اب بھی ۲۰۵۴ فی لاکھ ہے جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ ملک کی پہلی بڑی سڑک دارالحکومت جیوبا سے یوگنڈا کی سرحد پر واقع علاقے نیمول تک گزشتہ برس تعمیر کی گئی۔ ملک کی ساٹھ فیصد آبادی اب بھی برسات کے دنوں میں سیلاب کے باعث باقی علاقوں سے کٹ کر رہ جاتی ہے۔ جنوبی سوڈان کی دس ریاستوں (صوبوں) کے اہم شہروں کو آپس میں ملانے پر کم و بیش سات ارب ڈالر صرف ہوں گے۔ اس وقت تمام شہروں تک رسائی کے لیے صرف اقوام متحدہ کے ہیلی کاپٹروں پر انحصار کیا جاسکتا ہے۔

ان تمام حقائق کے باوجود یہ نہیں کہا جاسکتا کہ نئی ریاست میں کچھ کر دکھانے اور حالات بہتر بنانے کا دم خم نہیں۔ تیل کی دولت کے ساتھ ساتھ آبادی سے کہیں زیادہ مویشی، لکڑی اور وسیع قابل کاشت اراضی ہے۔ معدنیات بھی وافر مقدار میں پائی جاتی ہیں۔ مگر جب تک سڑکیں نہیں ہیں، سرمایہ کار کسی بھی طور آگے نہیں بڑھیں گے۔

کیا حکومت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتی تھی؟ مسئلہ جزوی طور پر سسٹم سے تعلق رکھتا ہے۔ انتظامی مشینری کو نئے سِرے سے معرض وجود میں لانا ہوگا۔ اب تک دو لاکھ سول سرونٹس کی لسٹنگ ہوچکی ہے۔ ان میں نصف یکسر ناکارہ ہیں اور ان سے کوئی بھی خدمت نہیں لی جاسکتی۔ یہ سابق جنگجو ہیں جنہیں محض اس لیے انتظامی مشینری کا حصہ بنایا گیا ہے کہ امن قائم رہے۔ بجٹ کا ایک چوتھائی تو تنخواہوں کی ادائیگی ہی پر صرف ہو جاتا ہے۔ ہر کامیاب تحریکِ آزادی کو جنگجو عناصر سے نجات پاکر کام کے شہری پیدا کرنے چاہئیں۔ اس راہ پر جنوبی سوڈان کو ابھی خاصا طویل سفر کرنا ہے۔

ایک طرف تو انتظامی مشینری کی خامیاں ہیں اور دوسری طرف حکومت نے گزشتہ برس تیل کی پیداوار بند کرکے مسائل کو مزید سنگین کردیا۔ ملک کی واحد آئل ایکسپورٹ پائپ لائن سوڈان کے کنٹرول میں ہے۔ سوڈانی حکومت ٹرانزٹ کی مد میں اچھی خاصی رقم چارج کرتی ہے۔ جنوبی سوڈان کو یقین ہے کہ تیل سے آمدنی میں کمی واقع ہوتی دیکھ کر شمال (سوڈان) پہلے جھکنے پر مجبور ہوگا۔

جنوبی سوڈان کی معیشت کا بہت برا حال ہے۔ گزشتہ برس اس کی خام قومی پیداوار میں ۵۳ فیصد کمی واقع ہوئی۔ ملک کی آمدنی کا ۹۸ فیصد مدار تیل کی برآمد پر ہے۔ گزشتہ برس یہ آمدنی ایسی گھٹی کہ حکومت کے مالیات نے خسارے کو گلے لگالیا۔ سیاسی رہنماؤں نے شمال (سوڈان) سے تنازعات پر بھرپور توجہ دی اور باقی سب کچھ بھلادیا۔ قومی تعمیرِ نو کا معاملہ سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔ عوام بپھر گئے۔ مشاورت کی کمی اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کے باعث بعض بیرونی امدادی اداروں اور حکومتوں نے ہاتھ کھینچ لیا۔

غیر معمولی مشکلات کے باوجود جنوبی سوڈان کی حکومت کام کرتی رہی۔ خدماتِ عامہ کا دائرہ کچھ سُکڑ گیا۔ تیل کے خریداروں نے پیشگی ادائیگی کرکے مدد کی اور پچھلے بجٹ میں کچھ بچت ہوئی تھی جو اِس سال کام آئی۔ کرنسی کا مکمل زوال قریب تھا مگر کسی نہ کسی طرح حکومت نے اس منحوس گھڑی کو ٹال دیا۔ دیہی علاقوں میں مال کے بدلے مال کا روایتی طریقہ رائج رہا۔ دارالحکومت جیوبا میں تعمیراتی صنعت تیزی سے فروغ پارہی ہے۔ مگر سب کچھ پرائیویٹ فنڈنگ سے ہو رہا ہے۔ لوگ تیزی سے جیوبا کا رخ کر رہے ہیں۔ دو برسوں میں شہر کی آبادی دگنی ہوکر تقریباً بارہ لاکھ ہوچکی ہے۔ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا معاملہ خاصا تسلی بخش ہوچکا ہے۔

دور سے یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے شمال میں (خرطوم) حکومت نے اب جنوبی سوڈان کی آزادی کو قبول کرلیا ہے۔ تیل کی راہداری کے لیے فی بیرل دس ڈالر اور اِس کے علاوہ سالانہ ایک ارب ڈالر خرطوم حکومت وصول کرتی ہے۔ جنوبی سوڈان نے ۷؍اپریل کو تیل کی پیداوار دوبارہ شروع کردی۔ سیاست دان اب بحران سے باہر آگئے ہیں۔ انہوں نے تیل کی پیداوار کی بندش سے پیدا ہونے والی صورت حال کو مالیاتی پالیسی مزید سخت بنانے کے لیے عمدگی سے استعمال کیا۔ نئے محصولات نافذ کیے گئے۔ کسٹم ڈیوٹی کے ذریعے حاصل ہونے والی رقوم تگنی ہوگئیں۔ دوسری طرف سوڈانی حکومت نے بھی جنوبی سوڈان کے سیاست دانوں کو احترام کی نظر سے دیکھنا اور نوزائیدہ ریاست کو قبول کرنا شروع کردیا۔ سوڈان کے صدر عمر البشیر نے اندازہ لگالیا کہ نئی ریاست ناکام بھی نہیں ہوگی اور غیر ضروری طور پر جھکے گی بھی نہیں۔ گزشتہ ماہ انہوں نے پہلی بار جیوبا کا دورہ کیا۔

مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ کوئی بحران یا مناقشہ پایا ہی نہیں جاتا۔ سرحدی علاقوں میں غیر معمولی کشیدگی برقرار ہے۔ سوڈان کے صوبے جنوبی کاردوفان میں جنوبی سوڈان کی طرف جھکاؤ رکھنے والے باغی اب بھی سوڈانی فوج سے لڑ رہے ہیں۔ سرحد پر واقع آئل فیلڈ ابئی پر سوڈان اور جنوبی سوڈان دونوں کا دعویٰ ہے۔ اس تنازع کو حل کرنا آسان نہ ہوگا۔ بحران چونکہ سنگین ہوتا جارہا ہے اس لیے اقوام متحدہ کی امن فوج اس علاقے میں تعینات کرنی ہی پڑے گی۔ سوڈانی حکومت ابئی کے علاقے کو ’’ہمارا کشمیر‘‘ قرار دیتی آئی ہے۔ سرحد پر مزید پانچ علاقے متنازع ہیں جن پر دونوں ممالک کا دعویٰ ہے۔ فریقن افریقی یونین کے ایک پینل کی طرف سے رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔ اگر ضروری ہوا تو فریقین بین الاقوامی ثالثی کا آپشن اختیار کریں گے۔

حال ہی میں ہونے والی سرحدی جھڑپوں کو مکمل جنگ میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ جنوبی سوڈان کی اندرونی سلامتی کا معاملہ اور بھی پریشان کن ہے۔ پوری کمیونٹیز عشروں تک ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار رہی ہیں اس لیے شدید صدمات سے دوچار ہیں اور ایک دوسرے پر بھروسا کرنے کو تیار نہیں۔ افلاس اور پس ماندگی سے نسلی بنیاد پر تعصب کو مزید ہوا ملتی ہے۔ حکومت نے حال ہی میں چند بشپس کو قبائل اور برادریوں کے درمیان مصالحت کرانے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ جونگلی صوبے میں نسلی بنیاد پر ہونے والی جھڑپیں مکمل جنگ کی شکل اختیار کرتی دکھائی دی ہیں۔ جنوری سے اب تک ایک ہزار سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں اور ایک لاکھ سے زائد نے گھر بار چھوڑ کر جنگلات میں پناہ لی ہے۔ ایک غیر ملکی مانیٹر کا کہنا ہے کہ یہ سب چلتا رہے تو سب کچھ داؤ پر لگ جائے گا۔ اقوام متحدہ کے سات ہزار امن فوجیوں کو فوری طور پر تعینات کردیا جانا چاہیے۔

شمال کے خلاف عشروں کی لڑائی کے دوران جو بری عادتیں پنپ گئی ہیں، وہ آسانی سے جان نہیں چھوڑ رہیں۔ ہر سطح پر حکام ضرورت سے زیادہ اختیارات اپنی مٹھی میں لے کر معاملات خراب کر رہے ہیں۔ وہ عوام کی خدمت کرنے کے بجائے مخالفین کو نیچا دکھانے کی کوشش میں جُتے رہتے ہیں۔ آئے دن صحافیوں کو بے بنیاد الزامات کے تحت گرفتار کرکے فوری سماعت کی عدالت میں کیس چلایا جاتا ہے اور سزائیں سناکر ذلیل کیا جاتا ہے۔ کئی صحافیوں کو انتباہ کے طور پر گولیاں بھی بھیجی گئی ہیں۔

جنوب کے دو مرکزی قبائل ڈِنکا اور نوئر کے درمیان عشروں کی رقابت نے پورے خطے کو شدید عدم استحکام سے دوچار کر رکھا ہے۔ چند ہفتوں کے دوران ڈِنکا قبیلے سے تعلق رکھنے والے صدر سلوا کائر اور نوئر قبیلے سے تعلق رکھنے والے ان کے نائب ریک میکر کے تعلقات میں کشیدگی در آئی ہے۔

سبب خواہ کچھ ہو، جنوبی سوڈان کو آزادی دلانے والی پیپلز لبریشن موومنٹ کے جنگجوؤں کو قومی حکومت کی تشکیل کے قابل بنانے میں اب تک ناکامی کا سامنا ہے۔ بہت سے جنگجو یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ انہوں نے خانہ جنگی میں کامیابی حاصل کی اور ملک لے لیا، اس لیے اب وہ جو چاہیں کرتے پھریں، کسی کو ان پر تنقید یا محاسبے کا کوئی حق نہیں۔ صدارتی محل کے باہر تعینات پولیس افسران اور اہلکار کھلم کھلا رشوت طلب کرتے ہیں۔ گزشتہ برس صدر کائر نے ۷۵ حکام کو ایک خط بھیجا جس میں انہوں نے لکھا: ’’آپ لوگوں نے ایک سال کے دوران چار ارب ڈالر سے زائد کا غبن کیا ہے۔ ہم نے آزادی، انصاف اور مساوات کے لیے مسلح جدوجہد کی تھی۔ جیسے ہی آزادی ملی ہم سب کچھ بھول کر عوام کے خرچ پر اپنی جیبیں بھرنے میں لگ گئے‘‘۔

(“South Sudan: A New Country Rises from the Ruins”… “The Economist”. May 4, 2013)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*