’’جنوبی سوڈان‘‘ ملک بن کر زندہ رہ سکے گا؟

ممکن ہے کہ آئندہ سال افریقا کو ایک اور ملک مل جائے۔ اس ملک کو جنوبی سوڈان کہا جائے گا۔ بیس سال سے تو اس کا یہی نام ہے۔ مگر یہ بات بھی یقینی ہے کہ یہ نیا ملک خاصا کمزور ہوگا۔ ۹؍ جنوری ۲۰۱۱ء یا اس کے آس پاس جنوبی سوڈان میں ریفرینڈم ہوگا جس میں وہاں کی عیسائی اکثریت کو شمالی سوڈان کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کے بارے میں رائے دینی ہے۔ اگر انہوں نے شمالی سوڈان کے ساتھ نہ رہنے کو ترجیح دی (جس کا واضح امکان ہے) تو ۲۰۱۱ء کے وسط تک جنوبی سوڈان ایک نئے ملک میں تبدیل ہو جائے گا۔

سوڈان پیپلز لبریشن موومنٹ (ایس پی ایل ایم) نصف صدی کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ سوڈان میں پچاس برسوں کے دوران قائم ہونے والی حکومتوں نے اسلامی قوانین اورکلچر کو جنوبی سوڈان کے عیسائیوں پر تھوپنے کی کوشش کی۔ کئی عشروں تک جاری رہنے والی خانہ جنگی ۲۰۰۵ء میں رکی۔ اس میں پچیس لاکھ افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ ۵۰ لاکھ سے زائد بے گھر ہوئے۔ خانہ جنگی رکنے تک پورا خطہ زبردست تباہی سے دوچار ہوچکا تھا۔ جامع امن معاہدے کے تحت جنوبی سوڈان کو خود مختار خطے کی حیثیت سے ایس پی ایل ایم کے حوالے کردیا گیا اور خرطوم کی قومی اتحاد کی حکومت میں ایس پی ایل ایم کو شامل کرنے کا صدر عمر البشیر کو پابند کیا گیا۔ فریقین کو مل کر وفاقی حکومت کے استحکام کے لیے کام کرنا تھا تاہم ایس پی ایل ایم کو ساتھ ہی ساتھ ریفرینڈم کا حق بھی مل گیا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ جامع امن معاہدے کے تحت ملک کے استحکام کو یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا گیا تھا تاہم جنوبی سوڈان کا سب سے بڑا شہر اور دارالحکومت جبا نئے موڈ میں دکھائی دے رہا ہے۔ خطے کی ۸۰ لاکھ کی آبادی میں شاید ہی کوئی ہوگا جو ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنا پسند نہیں کرے گا۔ یہ خطہ ایک ملک کی حیثیت سے اور جبا دارالحکومت کی حیثیت سے افریقا کے نقشے پر ابھرنے کے لیے بے تاب ہے۔ شہر کے وسطی حصے میں وزرا کے لیے نئے بلاکس تعمیر کیے گئے ہیں اور نو آبادیاتی دور کی ایک عمارت کو تزئین و آرائش کے بعد جدید رنگ دے کر ایوان صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ جنوبی کوریا کے ماہرین نے انٹیریئر ڈیزائننگ کی ہے۔ دروازوں کے فریم چین سے اور فلور ماربل یوگنڈا سے درآمد کیا گیا ہے۔ سوئمنگ پول اور جمنازیم بھی ایوان صدر کا حصہ ہے۔ ایک جدید ترین حمام بھی تعمیر کیا جارہا ہے جس میں گرم چٹانوں پر پانی گراکر بھاپ پیدا کی جاتی ہے۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل سکے گا، اس کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ خرطوم میں مرکزی حکومت ریفرنڈم کو بر وقت ہونے دے گی، اس کے آثار کم ہیں۔ وہ نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش بھی کرے گی۔ اور پھر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جبا تک تو معاملات درست ہیں، باقی پورا خطہ شدید افلاس کی لپیٹ میں ہے۔ لوگوں کیلیے دو وقت کی روٹی کا اہتمام کرنا دشوار ہوگیا ہے۔ سوڈان میں کم لوگ ہیں جو ملک کے جنوبی حصے کو الگ ملک کی حیثیت سے دیکھنا پسند کریں گے۔ حکومت کہتی رہی ہے کہ اگر جنوبی سوڈان نے ملک سے الگ ہونا چاہا تو اسے حتمی فیصلے سے روکا نہیں جائے گا مگر عملی دنیا میں کچھ اور دکھائی دے رہا ہے۔ ریفرنڈم کو بھی قومی وحدت میں اضافے کے آلے کے طور پر دیکھا رہا ہے۔ اس بات کو حلق سے اتارنے کے لیے کوئی تیار نہیں کہ ایک سال سے بھی کم مدت میں ملک دو حصوں میں تقسیم ہوسکتا ہے۔ جنوبی سوڈان کے سوا ملک بھر میں یہ خیال عام ہے کہ اگر ریفرینڈم میں علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا گیا تو ایک نئی جنگ چھڑ جائے گی۔

سوڈانی حکومت نے ریفرنڈم کی تجویز مغرب کے شدید دباؤ پر قبول کی۔ سوڈانیوں کی اکثریت کا خیال یہ ہے کہ ملک کے دو ٹکڑے کرنا ایک عجیب تصور ہے۔ ملک کی وحدت برقرار رہنے ہی کی صورت میں سب ترقی کرسکتے ہیں۔ صدر عمر البشیر کی نیشنل کانگریس پارٹی میں علیحدگی کی حمایت کرنے والے برائے نام بھی نہیں۔ انہیں یقین ہے کہ ریفرینڈم میں لوگ ملک کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیں گے۔ انہیں اس کا اس حد تک یقین ہے کہ میڈیا پر اس کے لیے زیادہ خرچ کرنے کے موڈ میں بھی نہیں۔ مگر جنوب میں اس خیال کی تائید کرنے والے خال خال ہی ملیں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ جنوبی سوڈان میں علیحدگی پسند رجحانات کو پروان چڑھانے میں خود سوڈانی حکومت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ جامع امن معاہدہ ۲۰۰۵ء میں ہوا تھا اور جنوبی سوڈان میں سڑکوں کی تعمیر کے فنڈز کی منظوری اب دی گئی ہے۔ خرطوم کے ساتھ رہنے کا فائدہ جب جنوبی سوڈان کے لوگوں کو اس قدر تاخیر سے ملے گا تو ان میں ملک کے ساتھ رہنے کا جذبہ کیونکر پیدا ہوگا؟ سوڈانی حکومت نے اب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا کہ جنوبی سوڈان میں حقیقی ترقیاتی کام کرائے بغیر وہاں رائے عامہ کو تبدیل کرنا ممکن نہیں۔ اگر علیحدگی پسند رجحانات کو ختم کرنا ہے تو پس ماندگی کی دلدل میں پھنسے ہوئے لوگوں کے حالات بہتر بنانے پر توجہ دینی ہوگی۔ جنوبی سوڈان میں علیحدگی پسند رجحانات کو کچلنے کے لیے کئی عشروں تک کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ یوگنڈا میں قائم ہونے والی لارڈز ریزسٹنس آرمی نے جنوبی سوڈان میں ایس پی ایل ایم کو غیر متوازن کرنے کے لیے ہمیشہ بھرپور کوششیں کیں۔ جنوبی سوڈان کے بیشتر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت ان کے خلاف انتخابی دھاندلیاں کرتی رہی ہے اور اب پھر ایسا ہی ہونے والا ہے۔ انہیں یقین ہے کہ مرکزی حکومت جنوبی سوڈان میں ہونے والے ریفرینڈم کو سبوتاژ کرنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔ ایک طرف تو بیلٹ باکس کی سطح پر دھاندلی کی جائے گی اور دوسری طرف لوگوں کو خوفزدہ بھی کیا جائے گا تاکہ وہ گھروں ہی سے نہ نکلیں۔ سوڈانی حکومت پر ای پی ایل ایم کے منحرف رہنماؤں کو اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرنے کا الزام بھی عائد کیا جاتا رہا ہے۔

بہتوں کا خیال یہ ہے کہ جنوبی سوڈان میں کمزور ریفرنڈم سے لوگوں کا اعتماد متزلزل ہوگا اور اگر انہوں نے آزادی حاصل کر بھی لی تو دوبارہ سوڈان سے الحاق پر مجبور ہو جائیں گے۔ آزاد ملک کی حیثیت سے زندہ رہنا ان کے لیے آسان نہ ہوگا۔ جنوبی سوڈان کے بہت سے رہنما جان بوجھ کر اپنے خطے کے حالات خراب کر رہے ہیں۔ مرکزی حکومت پر الزام ہے کہ اس نے ان رہنماؤں کی وفاداری خرید کر انہیں انہی کے لوگوں کے خلاف کھڑا کردیا ہے۔ خطے میں ترقیاتی کاموں کا نہ ہونا اسی صورت حال کا نتیجہ ہے۔ ایسے میں ریفرینڈم حالات کو مزید خراب کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے جنوبی سوڈان کے خراب حالات کی طرف اعداد و شمار کے ذریعے توجہ دلانے کی کوشش کی ہے۔ اس خطے کی نصف آبادی بیرونی امداد پر جی رہی ہے۔ فصل خراب ہونے سے قحط پیدا ہو جانا عام بات ہے۔ صحت عامہ کا معیار پست ہے۔ نوزائیدہ بچوں میں اموات کی شرح انتہائی بلند ہے۔ ناخواندہ افراد کا تناسب ۸۵ فیصد ہے۔ حالات کو خراب کرنے میں خود ایس پی ایل ایم کا بھی ہاتھ ہے۔ مرکزی حکومت سے معاہدے کے تحت ایس پی ایل ایم نے پانچ برسوں میں ۶ ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔ مگر اس سے عمومی معیار زندگی بلند نہیں ہوا۔ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ یہ رقم کہاں خرچ کی گئی ہے، یہ بتایا جائے۔ ساٹھ فیصد رقم تو فوج پر خرچ ہو جاتی ہے۔ جنوبی سوڈان میں غیرمعمولی کرپشن بھی ہے۔ عوام کو کچھ نہیں مل پا رہا۔ مرکزی حکومت سے کشیدگی کے باعث جنوبی سوڈان کی ملیشیا کو زیادہ سے زیادہ ہتھیار اور گولہ بارود فراہم کیا جا رہا ہے جس سے صورت حال بگڑتی ہی جارہی ہے۔

بور نام کا قصبہ کبھی خوش حالی کی علامت تھا، اب ویرانی میں ڈوب چکا ہے۔ اس قصبے میں ایک یونیورسٹی بھی ہے تاہم اس میں صرف۱۰۰ طلبا ہیں۔ ای پی ایل ایم سے اسے تیس لاکھ ڈالر ملے ضرور ہیں مگر یہ واضح نہیں کہ اس رقم کو خرچ کہاں کیا گیا ہے۔ یہی حال خطے کے دوسرے قصبوں اور شہروں کا ہے۔ لاکھ کوششوں پر بھی اندازہ نہیں ہو پاتا کہ آخر فنڈز جاتے کہاں ہیں۔ کرپشن کا یہ حال ہے کہ لوگوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے پر بھی توجہ نہیں دی جارہی۔ خانہ جنگی کے دوران بیرون ملک چلے جانے والے بہت سے لوگ اب واپس آرہے ہیں جس سے بور میں حالات کچھ بہتری کی جانب مائل بھی ہو رہے ہیں۔ مگر یہ عمل سست ہے۔ آبادی میں چند برسوں کے دوران ستر فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ اس تناسب سے وسائل میں اضافہ نہیں کیا گیا جس کے باعث خرابی دور کرنے میں بھی ناکامی کا سامنا ہے۔

جنوبی سوڈان کے بہت سے علاقوں میں ڈکیتیاں عام ہیں۔ لوگ دن کے وقت بھی شاہراہ پر سفر کرنے سے ڈرتے ہیں۔ کئی علاقوں میں غربت اس قدر ہے کہ لوگوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا اہتمام مشکل ہوگیا ہے۔ سابق جنگجو لیڈروں کو انتظامی امور سونپ دیے گئے ہیں اور اسی لیے کرپشن عام ہے۔ جن لوگوں نے ساری زندگی تباہی و بربادی کا اہتمام کیا ہے وہ اب ایک خطے کو چلانے کے ذمہ دار بنائے گئے ہیں۔ ان میں مثبت سوچ اب تک پنپ نہیں سکی۔ یہی لوگ جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ ایسے میں اگر ریفرنڈم میں لوگوں نے ملک سے الگ ہونے کے حق میں ووٹ دے بھی دیا تو حالات کہاں سے بہتر ہو جائیں گے؟ جو لوگ اس وقت جنوبی سوڈان کے انتظامی امور سنبھالے ہوئے ہیں وہی تو آزاد ریاست کے بھی حکمران ہوں گے۔ ایسے میں ان سے کسی بھی بہتری کی توقع کیسے رکھی جاسکتی ہے؟

(بشکریہ: ’’دی اکنامسٹ‘‘ لندن۔ ۲۵ ستمبر ۲۰۱۰ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*