امریکا کی جانب سے افغانستان کو حفظانِ صحت کے لیے ’’بولتی کتابوں‘‘ کی فراہمی

افغانستان میں علاج معالجے اور حفظانِ صحت کے حالات نہایت مخدوش ہیں۔ ۱۶ فیصد بچے پیدائش کے وقت مر جاتے ہیں اور ہر چار بچوں میں سے ایک پانچ سال کی عمر سے پہلے مر جاتا ہے۔ بچے کی پیدائش کے دوران ہلاک ہونے والی خواتین کی شرح ہر ایک لاکھ پر سولہ سو ہے۔ اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے امریکی محکمۂ صحت نے افغانستان کے لیے ایک ’’بولتی کتاب‘‘ شائع کی ہے جو خاص طور پر دیہی خواتین کو صحت اور غذائیت کے بارے میں مفید معلومات فراہم کرے گی۔ کتاب میں تحریری مواد اور تصاویر شامل ہیں جن کے ذریعے بنیادی صحت کے بارے میں ہدایات دی گئی ہیں۔ تصویروں کے بارے میں صوتی معلومات حاصل کرنے کے لیے ایک قلم نما چھڑی استعمال کی جاتی ہے تحریری مواد اور صوتی ریکارڈنگ افغانستان کی دنوں بڑی زبانوں‘ دری اور پشتو میں ہے۔

امریکا کے وزیرِ صحت تھامپسن نے تین اگست کو واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس میں اس کتاب کا تعارف کرایا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یہ کتاب صحت کے بارے میں جدید ترین معلومات اور رہنمائی فراہم کرتی ہے جس سے صحت کے بہت سے مسائل حل کیے جاسکتے ہیں۔ یہ کتاب چھ بڑے حصوں پر مشتمل ہے اور اس میں صحت کے ۱۹ موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ہر صفحے پر حفظانِ صحت اور علاج کے لیے ۳۵۰ سے زیادہ ہدایات دی گئی ہیں‘ جن میں حفاظتی ٹیکوں اور حفاظتی دوا کا استعمال‘ عام بیماریوں سے بچائو کے طریقے‘ صفائی ستھرائی‘ حاملہ خواتین اور زچہ و بچہ کی نگہداشت‘ بچے کے لیے ماں کے دودھ کی افادیت اور بچے کی غذا جیسے موضوعات شامل ہیں۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ صرف ۲۰ فیصد افغان خواتین پڑھنا لکھنا جانتی ہیں‘ بولتی کتاب تیار کی گئی ہے تاکہ خواندگی کا خلا پُر کیا جاسکے اور بچوں کی پیدائش‘ نشوونما اور خاندان کی صحت کے لیے بنیادی اصول بتائے جاسکیں۔

عالمی امور کی نائب وزیرِ خارجہ پائولا ڈوبر یانسکی نے اس موقع پر کہا کہ یہ کتاب خاص طور پر دیہی علاقوں میں بہت مفید ثابت ہو گی‘ جہاں بدامنی اور آمد و رفت کے مسائل کی وجہ سے علاج کی سہولتیں فراہم کرنا بہت مشکل ہے۔

کیلیفورنیا کی کمپنی Leap Frog Enterprises نے یہ کتاب امریکی صحت عامہ اور افغانستان کی امور خواتین اور امور صحت کی وزارتوں کے اشتراک سے تیار کی ہے۔ یہ کمپنی ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیمی مواد کی تیاری میں خصوصی مہارت رکھتی ہے اور اس طرح کا تعلیمی مواد امریکی اسکولوں اور کئی غیرملکی اسکولوں کے لیے تیار کر چکی ہے۔ کمپنی کے سربراہ نے بتایا ہے کہ ہم نے افغان ڈاکٹروں اور اساتذہ کے ساتھ مل کر افغانستان کے لیے یہ کتاب تیار کی ہے تاکہ یہ کتاب موضوع کے علاوہ تصویروں‘ الفاظ اور موسیقی کے لحاظ سے بھی افغان ثقافت سے ہم آہنگ ہو۔

امریکی محکمۂ صحت اس کتاب کی ۲۰۰۰۰ جلدیں افغانستان بھیج رہا ہے۔ ان میں سے ۱۰۰۰۰ دری زبان میں اور ۱۰۰۰۰ پشتو میں ہوں گی۔ محکمہ صحت نے ان کتابوں کی تیاری اور اشاعت کے لیے ۲ لاکھ ڈالر مختص کیے ہیں۔ وزیرِ خارجہ تھامپسن کے بقول ’’یہ بولتی کتابیں اُس بڑی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد افغانستان کے لوگوں کو صحت و تندرستی اور روشن مستقبل سے ہمکنار کرنا ہے‘‘۔

(بحوالہ: پندرہ روزہ ’’خبر و نظر‘‘ امریکی شعبۂ تعلقاتِ عامہ)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*