Abd Add
 

امریکی صدر براک اوباما

نائن الیون، القاعدہ اور امریکی پروپیگنڈا مشینری

September 1, 2010 // 0 Comments

نیو یارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر جس مقام پر تعمیر کیا گیا تھا اس کے نزدیک مسجد تعمیر کرنے کے منصوبے کی مخالفت امریکا بھر میں تجزیاتی فیشن کا درجہ اختیار کرگیا ہے۔ جو لوگ اظہار رائے کی آزادی کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور ہر وقت اس کی وکالت میں رطب اللسان رہتے ہیں وہ بھی گراؤنڈ زیرو مسجد کے خلاف میدان میں نکل آئے ہیں۔ مرکزی میڈیا میں اس قدر پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ ساتھ ہی ساتھ یہ ڈھول بھی پیٹا جارہا ہے کہ القاعدہ ایک بار پھر منظم ہوچکی ہے اور نائن الیون جیسا ایک اور واقعہ کسی بھی وقت رونما ہوسکتا ہے۔ جارج واکر بش، ڈک چینی اور ان کے رفقا نے نو [مزید پڑھیے]

میک کرسٹل کے بعد

July 16, 2010 // 0 Comments

افغانستان میں امریکا کے سابق فوجی کمانڈر جنرل اسٹینلے میک کرسٹل اور ان کے ساتھیوں کا کہنا تھا کہ واحد سپر پاور کا مشیر برائے قومی سلامتی مسخرہ ہے، نائب صدر کچھ بھی نہیں اور صدر کا حال یہ ہے کہ وہ معاملات سے مطمئن نہیں اور خوفزدہ ہے۔ اس رائے کا نتیجہ یہ نکلا کہ امریکی صدر بارک اوباما نے قدرے بے خوفی کے ساتھ جنرل میک کرسٹل کو برطرف کرکے ان کا کیریئر ختم کردیا۔ ریاستی امور میں سویلین سیٹ اپ کی برتری ثابت کرنے کے لیے یہ اقدام ناگزیر تھا۔ میک کرسٹل اور ان کے ساتھیوں کی رائے سے امریکی خارجہ پالیسی پر وہی زد پڑ رہی تھی جو طالبان کے کسی بڑے حملے سے امریکی فوج پر پڑتی ہے۔ جنرل میک [مزید پڑھیے]

پاکستانی میڈیا میں نقب لگانے کا امریکی فیصلہ

March 16, 2010 // 0 Comments

ایک ایسے مرحلے پر کہ جب نظریہ سازش پوری آب و تاب کے ساتھ بیشتر معاملات میں کارفرما ہے ، امریکی صدر بارک اوباما نے افغانستان اور پاکستان میں دہشت گردی سے بہتر طور پر نمٹنے کے لیے ’’میسیج مشین‘‘ کی اوور ہالنگ کا فیصلہ کیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں طالبان اور القاعدہ کو اس اعتبار سے بالا دستی حاصل رہی ہے کہ وہ امریکا کے خلاف پروپیگنڈا کسی رکاوٹ اور تاخیر کے بغیر کرتے رہے ہیں۔ دوسری جانب امریکی حکام کو اپنا ہر پیغام پہلے واشنگٹن سے کلیئر کرانا پڑتا ہے۔ امریکی حکام دہشت گردوں کے خلاف اپنا پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے ایس ایم ایس، معاشرتی روابط اور دیگر غیر روایتی میڈیا سے استفادے کا سوچ [مزید پڑھیے]

امریکا کی اسرائیل پالیسی میں تبدیلی کا وقت آگیا؟

March 16, 2010 // 0 Comments

امریکی صدر ہیری ٹرومین نے ۱۹۴۸ء میں اسرائیل کو اس کے قیام کے صرف گیارہ منٹ بعد تسلیم کرلیا تھا۔ تب سے اب تک اسرائیل کے لیے امریکی حمایت اسرائیل کی بقاء اور امریکی خارجہ پالیسی کے لیے ناگزیر رہی ہے۔ اب امریکی حکومت اپنی پالیسیاں تبدیل کر رہی ہے۔ صدر بارک اوباما عرب دنیا کو رجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسی صورت حال میں اسرائیل کی غیر مشروط اور بھرپور حمایت جاری رکھنا امریکی قومی مفادات سے مطابقت رکھتا ہے؟ کیا امریکا کو اسرائیل سے اپنا خصوصی تعلق ختم کردینا چاہیے؟ اس حوالے سے حال ہی میں نیو یارک یونیورسٹی میں ’’انٹیلی جنس اسکوائرڈ یو ایس‘‘ کے زیر عنوان مباحثہ ہوا۔ نیو یارک ٹائم کے سابق فارن ایڈیٹر [مزید پڑھیے]

اتحادیوں کے بعد کا افغانستان

March 1, 2010 // 0 Comments

ہلمند میں امریکی، نیٹو اور افغان افواج نے بھرپور آپریشن شروع کردیا ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ مشترکہ آپریشن میں بھی امریکیوں نے اپنی شناخت برقرار رکھی ہے۔ ہلمند کے قصبے مرجہ اور ناد علی میں طالبان اور امریکی میرینز کی جھڑپیں ہوئی ہیں۔ ان جھڑپوں میں اب تک کچھ خاص جانی نقصان تو نہیں ہوا تاہم فریقین کی کوشش یہ رہی ہے کہ فریق ثانی کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا جائے۔ طالبان نے واضح کردیا ہے کہ مزاحمت کسی بھی سطح پر ترک نہیں کی جائے گی اور غیر ملکی افواج کے انخلا کی صورت ہی میں ہتھیار رکھے جائیں گے۔ ان کا یہ اعلان اس امر کا غماز ہے کہ وہ دشمنوں سے مقابلے کے دوران کسی بھی مرحلے پر [مزید پڑھیے]

افغانستان میں مزید نقصان اٹھانا پڑے گا!

March 1, 2010 // 0 Comments

افغانستان کے صوبے ہلمند میں غیر معمولی آپریشن جاری ہے۔ لڑائی شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ابتدائی مرحلے میں ہمیں شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ مگر یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ افغانستان میں نئے آپریشنز کا سلسلہ بارہ سے اٹھارہ ماہ تک چلے گا۔ صورت حال کو اسی تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ جنرل میک کرسٹل اور ان کے ساتھیوں نے ڈیڑھ سال تک صورت حال کا جائزہ لے کر جو منصوبہ بندی کی ہے اسی کے مطابق کارروائی کی جارہی ہے۔ سول ملٹری سیٹ اپ کے لیے بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں۔ امریکا چاہتا ہے کہ افغان حکومت کو تمام امور جلد از جلد سونپ دیے جائیں۔ مگر اس کے لیے لیڈر شپ کی ضرورت ہے [مزید پڑھیے]

’’تعمیرِ نو ہماری بنیادی ذمہ داری ہے!‘‘

January 16, 2010 // 0 Comments

جنرل ڈیوڈ پیٹریاس عراق میں امریکی افواج کے کمانڈر رہ چکے ہیں۔ ان کے دور میں عراق کے لیے امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا جس سے صورت حال بہتر ہوئی۔ اب یہ تجربہ افغانستان میں کیا جارہا ہے۔ ڈیوڈ پیٹریاس اب امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ بارک اوباما کی بحیثیت صدر کامیابیوں کا مدار بہت حد تک جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کی کارکردگی پر بھی ہے۔ نیوز ویک انٹر نیشنل کے ایڈیٹر فرید زکریا نے جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کا انٹرویو کیا ہے۔ یہاں ہم اس کے اقتباسات پیش کر رہے ہیں۔ فرید زکریا: ۲۰۰۳ء میں سقوط بغداد کے بعد آپ کو شمالی عراق میں موصل کے مقام پر تعینات کیا گیا تھا اور تب آپ نے طے کیا [مزید پڑھیے]

’’افغانستان کو چلانا ہماری ذمہ داری ہے!‘‘

January 16, 2010 // 0 Comments

جب تک افغان صدر حامد کرزئی اپنی حکومت کو (کرپٹ عناصر سے) پاک نہیں کریں گے اور اپنے عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے تب تلک افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی ممکن نہ ہوگی۔ نیوز ویک کے لیے للی ویمتھ نے افغان صدر سے انٹرویو کیا ہے جس کے اقتباسات یہاں پیش کیے جارہے ہیں۔ للی ویمتھ: ۲۰۱۰ء میں آپ اپنے ملک کو کیسا دیکھ رہے ہیں؟ حامد کرزئی: جو کچھ ہم نے اب تک حاصل کیا ہے اس سے زیادہ کی امید ہے۔ مجھے امید ہے کہ نئے سال میں افغانستان کے سرکاری اور سیاسی ادارے مستحکم ہوں گے اور مزید خوش حالی آئے گی۔ مجھے اس بات کا بھی یقین ہے کہ ۲۰۱۰ء کے دوران عالمی برادری افغانستان [مزید پڑھیے]

1 2 3 4 5