Abd Add
 

امریکی مفادات

چین سے متعلق امریکی فوجی حکمتِ عملی

July 1, 2012 // 0 Comments

امریکا کے لیے سب سے بڑا مسئلہ چین کے بڑھتے ہوئے اثرات کو روکنا ہے۔ اس سیلاب کے سامنے بند باندھنے کی کوششیں اب تک ملے جلے اثرات کی حامل رہی ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے چین کے خلاف بحری و فضائی جنگ کی سوچ اپنائی ہے مگر ناقدین نے اس میں خامیاں تلاش کی ہیں۔ گزشتہ عشرے کے بیشتر حصے میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات نے امریکا میں صنعتی سطح پر مقبولیت حاصل کی اور اس کے نتیجے میں اسٹریٹجک سوچ رکھنے والے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ مگر اب دفاعی امور میں ایک نئے فیشن کی آمد ہوئی ہے۔ گزشتہ ماہ سنگاپور میں شنگریلا ڈائیلاگ کے لیے جمع ہونے والے ایشیائی وزرائے دفاع کے سامنے امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے ایک [مزید پڑھیے]

باب وڈ ورڈ کے انکشافات

October 16, 2010 // 0 Comments

معروف امریکی صحافی باب وڈ ورڈ نے افغانستان میں امریکی صدر بارک اوباما کی حکمت عملی سے متعلق اپنی نئی کتاب ’’اوباماز وار‘‘ میں کئی چونکادینے والی باتیں بیان کی ہیں۔ زیر نظر مضمون اس کتاب کے اقتباسات پر مشتمل ہے۔ امریکا میں اب کسی کو بھی افغانستان میں جاری جنگ میں فتح کا یقین نہیں۔ سیاسی اور عسکری حلقوں میں مایوسی بڑھتی جارہی ہے۔ پاکستانی فوج کو بھارت سے توجہ ہٹاکر افغانستان پر توجہ دینے پر مجبور نہ کیا جاسکا۔ امریکی صدر بھی اب افغان حکمت عملی کے حوالے سے مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔ سی آئی اے کے ڈائریکٹر لیون پینے ٹا اور قومی سلامتی کے امور میں امریکی صدر کے مشیر جیمز جونز نے گزشتہ سال پاکستان کے دورے میں صدر [مزید پڑھیے]

چین میں امریکا مخالف جذبات

March 1, 2010 // 0 Comments

تیزی سے ابھرتی ہوئی معاشی قوت ہونے کی بنیاد پر چین اب امریکا کے لیے ایک بڑے اور مستقل دردِ سر کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ چینیوں نے دنیا بھر میں سرمایہ کاری کی ہے اور بڑے پیمانے پر پیداوار کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ سستی چینی مصنوعات کی بھرمار نے کئی ترقی پذیر ممالک کے صنعتی ڈھانچے کو ختم کر دیا ہے۔ یورپ بھی چین کے پنپتے ہوئے عروج سے لرزہ براندام ہے۔ اور کیوں نہ ہو کہ اس کی معاشی قوت بھی زَد میں ہے۔ امریکا کی بدحواسی میں اس لیے اضافہ ہو رہا ہے کہ چین کے طاقتور ہونے سے سب سے زیادہ وہی متاثر ہو رہا ہے اسے یہ خوف بھی لاحق ہے کہ چین کوئی علاقائی اتحاد قائم نہ [مزید پڑھیے]

جان نیگرو پونٹے سے دس سوالات

May 16, 2006 // 0 Comments

جان نیگرو پونٹے کو ایک سال پہلے بغداد سے بلالیا گیا جہاں وہ امریکی سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے تاکہ انہیں امریکا کا Spymaster بنایا جاسکے۔ امریکا کی اس وسیع الاطراف خفیہ سراغ رساں برادری جس کے لیے بجٹ میں ۴۴ بلین ڈالر کی رقم مختص ہوتی ہے کا چلانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔خاص طور سے ایسی حالت میں جبکہ اس کے اختیارات مختلف پہلوں سے اس کی ذمہ داریوں کے مقابلے میں کم ہوں۔ ۶۶ سالہ نیگرو پونٹے اپنے ناقدین کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ یہ کام روز افزوں ہے۔ امریکی نیشنل انٹیلی جنس کے پہلے ڈائریکٹر واشنگٹن میں‘ ترقی کا جائزہ کے حوالے سے ’’ٹائم‘‘ کے Michael Duffy اور Timothy J.Burger کے ساتھ گفتگو کی ہے۔ [مزید پڑھیے]

منافقت یا جمہوریت

March 16, 2005 // 0 Comments

کم ہی سلطنتیں ایسی رہی ہیں جنہوں نے محکوم عوام کو غلام بنانے اور ان کا استحصال کرنے کی خاطر اس طرح کی اصطلاحات کا سہارا لیا ہے۔ رومی سلطنت نے امن و قانون کے الفاظ کا سہارا لے کر اپنی استعماریت کے لیے جواز پیدا کیا۔ برطانیہ نے لبرلزم اور ترقی کا سہارا لیا۔ روس نے کمیونزم اور سوشلزم کو بہانہ بنایا اور اب امریکی جمہوریت اور آزادی کا نام استعمال کر رہے ہیں۔ حقیقت یقینا مختلف ہے۔ لاطینی امریکا‘ مشرقِ وسطیٰ اور دوسرے علاقوں میں فروغِ جمہوریت کے امریکی دعوئوں سے لوگ بخوبی آگاہ ہیں۔ ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد سے جمہوریت پر امریکا کی تازہ تاکید امریکی نصیحت کا وہ پہلو ہے جس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ اگرچہ امریکی تجزیہ نگاروں [مزید پڑھیے]

پاکستان میں کوئی غیرملکی جنگجو موجود نہیں!

October 16, 2004 // 0 Comments

جب انٹیلی جینس ایجنسیز نے ایک دہشت گردانہ سازش کے انکشاف کا دعوی کیا جس کا مقصد اسلام آباد اور اس کی اطراف میں واقع متعدد حکومتی تنصیبات کو تباہ کرنا تھا تو پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے کوہاٹ سے رکن قومی اسمبلی جاوید احمد پراچہ کا نام اس موقع پر اہم کردار کے طور پر سامنے آیا۔ پراچہ کوہاٹ میں اسی وقت سے گرفتار ہیں۔ ان پر یہ الزام ہے کہ ۲۰۰۱ء میں جب امریکا نے تورا بورا پہاڑی کا محاصرہ کیا تو وہاں سے فرار ہو کر سرحد آنے والے متعدد عرب و دیگر جنگجوئوں کا پراچہ نے دفاع کیا تھا۔ پراچہ نے ۱۹۷۷ء میں سیاست میں قدم رکھا تھا۔ ان کی سیاسی زندگی کا بیشتر دورانیہ غیرنمایاں رہا ہے۔ ان کے غیرمعروف [مزید پڑھیے]

1 2