Abd Add
 

عرب بہار

اسلام پسندوں کا اقتدار، مغرب اور عرب حلقے

May 1, 2013 // 0 Comments

عرب ممالک میں استبداد، کرپشن اور نظام حکومت کے سقوط کے بعد جو کچھ ہو رہا ہے وہ عجیب و غریب اور مشکوک و مشتبہ ہے۔ دو برس قبل ’’عرب بَہار‘‘ نے تیونس سے لے کر مصر، لیبیا، یمن اور شام کو اپنی لپیٹ میں لیا، ان میں سے بیشتر ممالک نے جمہوری راستے کے واضح شعارات (پارلیمانی و صدارتی انتخابات سے لے کر دستوری ترمیمات کے استصواب تک) کو اپنایا، لیکن اس کا اثر نہ سیاسی استحکام پر دکھائی دیا، نہ اقتصادی خوشحالی پر۔ اگر ہم شام کو چھوڑ دیں جہاں پُرامن عوامی انقلاب گھمسان کی جنگ میں بدل چکا ہے، تو باقی ممالک تیونس سے لے کر مصر، لیبیا اور یمن تک میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کیوں ہو رہا ہے؟ [مزید پڑھیے]

فلسطین کی آزادی اور حماس کا وژن

April 16, 2013 // 0 Comments

الزیتونہ سینٹر فار اسٹڈیز اینڈ کنسلٹیشنز نے حماس کے سیاسی بازو کے سربراہ خالد مشعل کے ایک مقالے پر مبنی دستاویز شائع کی ہے جس سے عرب دنیا میں عوامی بیداری کی لہر کے تناظر میں حماس کے سیاسی فکر کی از سرِ نو تشکیل کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ بیروت میں ۲۸ اور ۲۹ نومبر ۲۰۱۲ء کو الزیتونہ سینٹر کے زیراہتمام عرب دنیا میں عوامی بیداری کی لہر کے تناظر میں ’’اسلامی تحاریک اور فلسطینی کاز‘‘ کے زیر عنوان ایک کانفرنس ہوئی، جس میں خالد مشعل نے مقالہ پیش کیا۔ کانفرنس کے بعد خالد مشعل نے خود اس مقالے کی نئے سِرے سے تدوین کی اور اشاعت کے لیے الزیتونہ سینٹر کو بھیجا۔ اس مقالے کو حماس کے سیاسی فکر کے حوالے سے ایک [مزید پڑھیے]

ایئرمارشل حافظ الاسد سے ڈاکٹر بشارالاسد تک

March 16, 2013 // 0 Comments

حافظ الاسد نے ۱۹۴۶ء میں (مسیحی رہنما مائیکل ایفلاک کی قائم کردہ) بعث پارٹی میں بطور طالبعلم لیڈر، شمولیت اختیار کی۔ ۵۵۔۱۹۵۰ء: میڈیکل کی تعلیم مہنگی ہونے کے سبب، حافظ الاسد نے حُمص ملٹری اکیڈمی میں داخلہ لیا اور فضائیہ کے پائلٹ کی تعلیم مکمل کی۔ ۶۱۔۱۹۵۸ء: جب مصر، شام اور یمن نے یونائیٹڈ عرب ریپبلک (UAR) کی شکل میں باہم اِدغام کیا تو شام کے بعض بعثی افسروں نے، جو مصر میں جِلاوطنی کی کیفیت سے دوچار تھے، ایک ’’ملٹری کمیٹی‘‘ بنائی جس میں حافظ الاسد بھی شامل تھے۔ اس عمل کا مقصد بالآخر شام میں حکومت پر قبضہ کرنا تھا۔ ۸ مارچ ۱۹۶۳ء: اسی ’’ملٹری کمیٹی‘‘ نے ۷ مارچ ۱۹۶۳ء کو شام کی حکومت سے بغاوت کرکے اقتدار پر قبضہ کا منصوبہ بنایا، [مزید پڑھیے]

’’اخوان المسلمون عوام کے دِلوں پر راج کرتی ہے!‘‘

March 1, 2013 // 0 Comments

کائنات عرب بیدار ہو رہی ہے، اور عالم اسلام تو ایک طرف، دنیا بھر کی نظریں عرب بہار اور اس کے ثمرات پر مرکوز ہیں، حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں، کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اگر تبدیلیاں عوامی امنگوں کے مطابق رہیں تو یہ نہ صرف اس ملک کی بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے بھی نشاۃ ثانیہ ثابت ہوں گی۔ مصر میں آنے والی تبدیلی نے مغرب، خصوصاً اسرائیل اور امریکا کے پالیسی سازوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ اپنے تاریخی پس منظر اور محلِ وقوع کی اہمیت کی وجہ سے مصر میں ہونے والی معمولی تبدیلی کے جھٹکے بھی دنیا بھر میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ اور خصوصاً جب معاملہ اسلام پسندوں کی کامیابی کا [مزید پڑھیے]

صومالیہ: نئے صدر کو درپیش چیلنج

December 1, 2012 // 0 Comments

صومالی سیاستدان حسن الشیخ محمود اپنے ملک کی سیاست کے موجیں مارتے سمندر میں علم و ادب اور شہری سرگرمی کے باب سے داخل ہوئے، لیکن بعض لوگ (خاص طورسے اسلام پسندوں کے اقتدار کی دہلیز تک پہنچنے کی وجہ سے) ان کو عرب بہار کی تجلیات میں سے ایک تجلی گردانتے ہیں۔ وہ خانہ جنگی سے تباہ و برباد ملک میں اخوان المسلمون سے قریب، اسلام پسندوں کے ایک نشان ہیں۔ ۱۹۶۰ء میں آزادی کے بعد سے وہ صومالیہ کے آٹھویں صدر ہیں۔ آزادانہ انتخاب رائے کے عمل کے سائے میں وہ پہلے منتخب صدر ہیں، جنہوں نے عبوری حکومت کی جگہ لی ہے۔ ۱۹۹۱ء کے بعد لڑائی جھگڑوں سے مرکزی حکومت کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹنے کے بعد اور ۲۰۰۰ء میں تعمیرنو کا [مزید پڑھیے]

مصر کو نظرانداز کر کے خطے میں حقیقی امن و استحکام ممکن نہیں!

October 1, 2012 // 0 Comments

کسی بھی مملکت کے سربراہ سے انٹرویو آسان نہیں ہوتا اور خاص طور پر ایسے سربراہِ مملکت سے جسے منصب سنبھالے ہوئے زیادہ مدت نہ گزری ہو۔ مصر کے صدر محمد مرسی کا معاملہ تھوڑا سا مختلف تھا۔ وہ انگریزی اچھی جانتے اور بولتے ہیں۔ کسی سوال کو سمجھنا ان کے لیے مشکل نہ تھا۔ بعض مواقع پر ان کے ترجمان نے جواب دیے جیسا کہ مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں میں عام بات ہے۔ تھوڑا سا انتظار کرنا پڑا مگر خیر، صدر مرسی نے ہمیں ۹۰ منٹ دیے جو کھل کر گفتگو کے لیے اچھا خاصا وقت تھا۔ پہلا سرکاری مترجم خاصا محتاط تھا اور بہت سے معاملات میں ہچکچاہٹ کے ساتھ بات کرتا تھا۔ بعد میں صدر نے ایک اور مترجم بلایا جو [مزید پڑھیے]

عرب بَہار اور اخوان المسلمون

March 16, 2012 // 0 Comments

اخوان انقلاب کے بجائے ارتقاء پر یقین رکھتی ہے یعنی ہر تبدیلی کو مرحلہ وار آنا چاہیے۔ اخوان اور اس کے ہم خیال گروپوں کو اسلامی معاشروں کی شناخت درست کرنے اور اقدار کو مستحکم کرنے سے زیادہ دلچسپی ہے۔ وہ اللہ کا نظام ہر حال میں اور ہر قیمت پر نافذ کرنے کے معاملے میں عجلت پسندی کا شکار ہیں نہ جذباتیت کا۔

1 2