Abd Add
 

گیارہ ستمبر

کیا خودکش حملے مذہبی جنون کی پیداوار ہیں؟

May 16, 2010 // 0 Comments

امریکیوں کی اکثریت اب یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ دہشت گردی ان کے گھروں تک آ پہنچی ہے اور اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی میں توازن نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شرکت سے ہزاروں ارب ڈالر ضائع ہوئے ہیں اور ہوم لینڈ سیکوریٹی کے نام پر بھی سیکڑوں ارب ڈالر ٹھکانے لگائے گئے ہیں۔ قومی سلامتی یقینی بنانے کے نام پر لوگوں سے ان کی آزادی تک چھین لی گئی ہے۔ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد سے جہادی عناصر کو ایسے عفریت کے روپ میں پیش کیا جاتا رہا ہے جو شہری آزادی اور جمہوریت کا مخالف ہے۔ اس تاثر کو پروان چڑھایا گیا ہے کہ امریکا نے غیر معمولی جدوجہد اور سماجی انقلاب کے ذریعے جو [مزید پڑھیے]

طالبان کو بلینک چیک؟

March 1, 2010 // 0 Comments

مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات سے اندازہ ہوتا ہے کہ افغانستان کی تحریک طالبان نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکا کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کرنے سے روکا تھا۔ امریکا میں ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ ملا محمد عمر مجاہد نے ۱۹۹۸ء سے القاعدہ کے سربراہ کو اس بات کا پابند کیا تھا کہ وہ پیشگی اجازت کے بغیر میڈیا سے بات نہیں کریں گے اور امریکا کے خلاف کسی بھی نوعیت کے حملوں کی منصوبہ بندی نہیں کریں گے۔ امریکا کی ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات سے ملنے والے شواہد اوباما انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کے اس دعوے سے متصادم ہیں جو انہوں نے ۱۱ ؍ستمبر ۲۰۰۱ء کے حملوں میں طالبان کے ملوث ہونے کے حوالے سے [مزید پڑھیے]

مغربی بنگال کے مثالی مدارس

February 1, 2010 // 0 Comments

گیارہ ستمبر ۲۰۰۹ء کے واقعات کے بعد سے دنیا بھر میں جنوبی ایشیا کے اسلامی مدارس کو شدت پسندوں اور عسکریت پسندوں کی تربیت گاہ اور محفوظ ٹھکانوں کی حیثیت سے بدنام کیا جاتا رہا ہے۔ مغربی دنیا میں لوگ مدرسہ لفظ سنتے ہی خاصے محتاط دکھائی دینے لگتے ہیں۔ ان کے ذہنوں میں یہ بات میڈیا کے ذریعے ٹھونس دی گئی ہے کہ اسلامی مدارس میں صرف شدت پسندی اور انتہا پسندی سکھائی جاتی ہے اور یہ کہ ان مدارس میں تعلیم پانے والے زندگی کے بنیادی تقاضوں کو نبھانے کے قابل نہیں رہتے۔ بھارت کی ریاست مغربی بنگال نے اس حوالے سی غیرمعمولی استثنا کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ اس ریاست کے طول و عرض میں ایسے اسلامی مدارس موجود ہیں جن [مزید پڑھیے]

امریکی صدر کا ’’افپاک‘‘ پالیسی خطاب

December 16, 2009 // 0 Comments

میں نے ایک ہدف مقرر کیا جس کی محدود وضاحت ان الفاظ میں میں کی گئی تھی کہ ہمارا مقصد القاعدہ اور اس کے انتہا پسند اتحادیوں کو درہم برہم کرنا، اسے منتشر کرنا اور شکست دینا ہے۔ میں نے امریکا کی فوجی اور سویلین کارروائیوں کو بہتر طریقے سے مربوط کرنے کا عہد کیا۔ اس کے بعد سے اب تک، ہم نے بعض اہم مقاصد کے حصول میں پیش رفت کی ہے۔ القاعدہ اور طالبان کے اعلیٰ سطح کے لیڈر ہلاک کر دیے گئے ہیں اور ہم نے ساری دنیا میں القاعدہ پر دبائو بڑھا دیا ہے۔ پاکستان میں، اس ملک کی فوج نے، برسوں کے بعد اتنی بڑی کارروائی کی ہے۔ افغانستان میں ہم نے اور ہمارے اتحادیوں نے طالبان کی صدارتی انتخاب [مزید پڑھیے]

سیاحت و ثقافت ایک دوسرے سے باہم مربوط ہیں!

January 1, 2005 // 0 Comments

گیارہ ستمبر کے بعد سے خاصی کمی واقع ہونے کے باوجود بین الاقوامی سیاحت کے لیے لوگوں کی آمد و رفت بڑے پیمانے پر رہی ہے۔ پروفیسر شنجی یماشیتا ماہرِ ثقافتِ بشری نے روایتی ثقافتوں پر سیاحت کے اثرات پر ’’ایشیا پیسیفک‘‘ کی ہساشی کونڈو سے گفتگو فرمائی ہے: س: ثقافتِ بشری اور سیاحت بالکل ہی ایک دوسرے کی ضد معلوم ہوتی ہیں اور آپ کی دلچسپی کا موضوع مبدائے سیاحت ہے۔ ان میں کیا ربط ہے؟ ج: پہلے مجھے یہ وضاحت کرنے دیجیے کہ سیاحت سے میرا اپنا سامنا کس طرح ہوا۔ میں نے ماہرِ ثقافتِ بشری کی حیثیت سے اپنا فیلڈ ورک شروع کیا جو کہ انڈونیشیا میں سلاویسی جزیرہ کا ایک پہاڑی علاقہ ہے۔ میرا اپنا تصور یہ تھا کہ میں توراجا [مزید پڑھیے]

1 2