Abd Add
 

افغان طالبان

طالبان کے ساتھ انٹرویو کے بعد خوف ختم ہو گیا!

August 16, 2021 // 0 Comments

’بیٹی کہاں ہو؟ جلدی گھر واپس آجاؤ، طالبان شہر میں داخل ہو گئے ہیں‘۔ یہ فقرے افغان خاتون صحافی بہشتہ ارغند کی والدہ کے ہیں، جو ۱۵؍اگست کی دوپہر کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد خوف زدہ ہو گئی تھیں اور انہیں بیٹی کی زندگی کے بارے میں فکر لاحق تھی۔ بہشتہ ارغند افغان ٹیلی وژن نیٹ ورک ’طلوع‘ کے ساتھ وابستہ ہیں اور گزشتہ کئی برسوں سے صحافت کے شعبے میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اتوار کو دارالحکومت کابل میں طالبان کے داخل ہونے کے وقت کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ کسی ذاتی کام کے سلسلے میں بازار گئی تھیں جب انہیں گھر سے کال موصول ہوئی۔ وائس آف امریکا سے بات کرتے ہوئے بہشتہ کا کہنا تھا [مزید پڑھیے]

افغانستان کا مستقبل اور مفادات کی جنگ

July 1, 2019 // 0 Comments

افغانستان۱۹۷۰ء کے بعد سے تباہ کن جنگوں کی لپیٹ میں رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ خطہ تباہی کا شکار ہے۔۱۹۱۹ء میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد یہاں مختلف نظامِ حکومت آزمائے جا چکے ہیں۔ ان میں کمیونسٹ حمایت یافتہ جمہوریت سے لے کر آمرانہ طرز کی اسلامی امارات اور پھر امریکا سے درآمد شدہ جمہوریت بھی شامل ہے۔لیکن کوئی بھی نظامِ حکومت داخلی لڑائی اور جنگوں کے بغیر معاشرتی،نسلی اور ثقافتی حوالے سے متنوع اس ملک کو چلانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اب جب کہ موجودہ افغان جنگ کے تمام فریق ملک میں قیام امن کے لیے رضامند دکھائی دیتے ہیں،تو انھیں ماضی کی غلطیوں سے بچنے کے لیے ایک پر امن اور پائیدار نظام حکومت کی منصوبہ بندی کرنی [مزید پڑھیے]

افغان مسائل اور حل

January 1, 2018 // 0 Comments

گلبدین حکمت یار نے ۱۹۷۴ء میں حزبِ اسلامی کی بنیاد رکھی۔ حزب طویل پابندیوں اور قیادت کی روپوشی کے باوجود آج بھی افغانستان کی ایک اہم اور توانا اسلامی، نظریاتی اور جمہوری جماعت ہے۔ پچھلے دنوں سلیم صافی نے اپنے ٹی وی پروگرام ’’جرگہ‘‘ کے لیے جناب حکمت یار کا انٹرویو لیا، جو ۹ اور ۱۰ دسمبر ۲۰۱۷ء کو ’’جیو نیوز‘‘ پر نشر ہوا۔[مزید پڑھیے]

1 2 3