Abd Add
 

وسط ایشیا

وسط ایشیا براعظم ایشیا کا ایک وسیع علاقہ ہے جس کی سرحدیں کسی سمندر سے نہیں لگتیں۔ وسط ایشیا کی تین طرح کی تعریفیں کی گئی ہیں پہلی سوویت روس نے تشکیل دی جبکہ دیگر عام جدید تعریف اور اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی کی گئی تعریف ہے۔
روسی تعریف کے مطابق اس خطے میں ازبکستان، ترکمانستان، تاجکستان اور کرغزستان شامل ہیں اور قازقستان نہیں جبکہ عمومی جدید تعریف میں قازقستان بھی شامل ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی تعریف کے مطابق اس میں منگولیا، مغربی چین بشمول تبت، جنوب مشرقی ایران، افغانستان، مغربی پاکستان وسط مشرق روس، ازبکستان، ترکمانستان، تاجکستان، کرغزستان، قازقستان کے ساتھ ساتھ شمالی پاکستان اور بھارتی پنجاب بھی شامل ہیں۔

شاہراہِ ریشم کا احیاء: امکانات اور خدشات

May 1, 2017 // 0 Comments

ستمبر ۲۰۱۳ء میں قزاقستان کے دورے میں چین کے صدر شی جن پنگ نے قدیم سلک روٹ (شاہراہِ ریشم) کے احیاء سے متعلق خواب اور جذبے کو بے نقاب کیا۔ یہ خواب پورے وسط ایشیا کو ایک لڑی میں پرونے سے متعلق ہے۔ انہوں نے خصوصی طور پر سلک روڈ اکنامک بیلٹ SREB کی بات کہی۔ یہ آئیڈیا وسط ایشیا کے ممالک کو ایک لڑی میں پروکر ایشیا و بحرالکاہل کے خطے اور یورپ میں ابھرنے والے غیر معمولی معاشی امکانات کو حقیقت کی شکل دینے کے لیے تھا۔ اکتوبر ۲۰۱۳ء میں صدر شی جن پنگ نے اپنے انڈونیشیا کے دورے میں میری ٹائم سلک روڈ آف دی ٹوئنٹی فرسٹ سینچر MSR کا آئیڈیا پیش کیا۔ بیلٹ اور روڈ دونوں کا آئیڈیا ایک ہوکر پورے [مزید پڑھیے]

وسطی ایشیا کا ’’گریٹ گیم‘‘

August 1, 2016 // 0 Comments

وسطی ایشیا کا سب سے زیادہ خود پسند حکمران تاجکستان میں ہے۔ ماضی میں دنیا کے سب سے اونچے اور اب ممکنہ طور پر دنیا کے سب سے بڑے جھنڈے پر امام علی رحمان لکھا ہوا ہے۔ ان کا دارالحکومت فخر کرتا ہے کہ جلد ہی اس کے پاس خطے کی سب سے بڑی مسجد ہوگی، جس کا زیادہ تر خرچہ قطر نے اٹھایا ہے۔ چین کے پیسوں سے بنا دنیا کا سب سے بڑا چائے خانہ بھی یہیں ہے جو عموماً ویران رہتا ہے؛ اور عظیم الشان قومی کتب خانہ بھی یہیں ہے جہاں کچھ لوگوں کے بقول کتابیں ہی نہیں۔ ترکمانستان کی حکومت چلانے والے دندان ساز قربان علی بردی محمدوف کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ وہ خود کو ’’محافظ‘‘ (Arkadag) [مزید پڑھیے]

وسط ایشیا و بحیرۂ خزر میں تزویراتی کشمکش

October 1, 2006 // 0 Comments

تاجکستان اور افغانستان کے صدر کے ساتھ بات چیت میں ایرانی صدر نے اگرچہ پوری توجہ اقتصادی پہلوؤں پر مرکوز رکھی مگر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس دورہ کا مقصد وسط ایشیا تک ایران کی رسائی اور فارسی اثر و رسوخ کو وسعت دینا اور جغرافیائی نقطہ نظر سے اہمیت کا حامل اس علاقہ پر اپنی گرفت مضبوط کرنا ہے۔ جسے گرفت میں لینے کے لیے امریکا‘ روس اور چین میں سے ہر کوئی ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہے۔