Abd Add
 

حامد کرزئی

افغانستان کا غیر یقینی مستقبل

February 16, 2014 // 0 Comments

افغانستان میں اب صدارتی انتخاب کو دو ماہ رہ گئے ہیں۔ آئین کی رُو سے حامد کرزئی اب اِس منصب پر مزید فائز نہیں رہ سکتے۔ ایسے میں اُنہوں نے اہل وطن کی نظر میں تھوڑا بہت احترام پانے کے لیے امریکا کو للکارنے کا راستہ اپنایا ہے۔ انہوں نے چند ہفتوں کے دوران امریکا کی ہر بات ماننے کی روش ترک کرکے چند ایک فیصلے اپنی مرضی سے کیے ہیں، جن کے نتیجے میں امریکا اور افغانستان کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہوچکے ہیں

افغانستان میں نیا بادشاہ گر

May 1, 2013 // 0 Comments

افغانستان میں بہت کچھ تبدیل ہو رہا ہے۔ ایک متوقع بادشاہ گر نے بہتوں کو قیاس آرائیوں کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ افغانستان میں کابل سے باہر کم ہی لوگ اتنے طاقتور ہیں جتنے بلخ کے گورنر ہیں۔ عطا محمد نور سے ملاقات کیجیے اور کچھ ہی دیر کی گفتگو میں آپ کو اچھی طرح اندازہ ہو جائے گا کہ ان کی پوزیشن اگر اس قدر مستحکم ہے تو کیوں ہے۔ وہ اپنے مہمانوں کا ایک بڑے ہال میں سنہرے تخت پر استقبال کرتے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت مزار شریف پر ان کی مکمل گرفت ہے اور ازبکستان سے ملنے والی سرحد کے علاقے ہیراتن پر بھی ان کا خاصا تصرف ہے۔ عطا محمد نور استاد رہ چکے ہیں، اس لیے انہیں استاد عطا کہا [مزید پڑھیے]

’’افغانستان کو چلانا ہماری ذمہ داری ہے!‘‘

January 16, 2010 // 0 Comments

جب تک افغان صدر حامد کرزئی اپنی حکومت کو (کرپٹ عناصر سے) پاک نہیں کریں گے اور اپنے عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے تب تلک افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی ممکن نہ ہوگی۔ نیوز ویک کے لیے للی ویمتھ نے افغان صدر سے انٹرویو کیا ہے جس کے اقتباسات یہاں پیش کیے جارہے ہیں۔ للی ویمتھ: ۲۰۱۰ء میں آپ اپنے ملک کو کیسا دیکھ رہے ہیں؟ حامد کرزئی: جو کچھ ہم نے اب تک حاصل کیا ہے اس سے زیادہ کی امید ہے۔ مجھے امید ہے کہ نئے سال میں افغانستان کے سرکاری اور سیاسی ادارے مستحکم ہوں گے اور مزید خوش حالی آئے گی۔ مجھے اس بات کا بھی یقین ہے کہ ۲۰۱۰ء کے دوران عالمی برادری افغانستان [مزید پڑھیے]

کرزئی کے لیے اب کوئی ہنی مون نہیں ہوگا!

December 1, 2009 // 0 Comments

امریکی صدر باراک اوباما اور برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے حالیہ متنازع افغان صدارتی انتخاب کے بعد دوبارہ صدر منتخب ہونے والے حامد کرزئی کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے انقلابی اقدامات کے ذریعے اپنی بدعنوان اور نا اہل انتظامیہ کو تبدیل نہ کیا تو بین الاقوامی امداد اور حمایت ختم بھی ہو سکتی ہے۔ حامد کرزئی کے سابق وزیر خزانہ اور انتخابی حریف اشرف غنی کے بارے میں یہ تصور عام ہے کہ وہی حامد کرزئی کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نمٹنے میں خاطر خواہ مدد دے سکتے ہیں۔ کابل میں اپنے گھر پر امریکی جریدے نیوز ویک کے رون مورو اور سمیع یوسف زئی سے ملاقات میں اشرف غنی نے افغانستان کی صورت حال پر اپنے خیالات پیش کیے [مزید پڑھیے]

ہمارا مقصد عراق پر حکومت کرنا نہیں ہے!

December 1, 2005 // 0 Comments

زلمے خلیل زاد امریکا کو درپیش بہت ہی اہم چیلنجز کے لیے راہِ حل نکالتے رہے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں سفیر برائے افغانستان کی حیثیت سے اپنی مدت ختم کی ہے جس کے دوران انہیں ان کی عظیم الشان سرکاری خدمات کے عوض امریکی وزارت ِدفاع کی جانب سے میڈل سے نوازا گیا۔ ۲۱ جون ۲۰۰۵ء سے وہ امریکی سفیر برائے افغانستان کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے نیوز ویک کے نمائندے مائیکل ہرش (Michael Hirsh) سے گفتگو کی ہے جس کا متن درج ذیل ہے: ہَرش: ہم پہلے آئین کے لیے ووٹنگ سے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہیں۔ اس حوالے سے آپ کا مشاہدہ کیا ہے؟ خیل زاد: آئین کو عظیم الشان حمایت حاصل ہوئی [مزید پڑھیے]

1 2