Abd Add
 

جنوبی ایشیا

جنوبی ایشیا میں خواتین کی حالتِ زار

July 1, 2015 // 0 Comments

بھارت کے کنوارے وزیراعظم ہمیشہ مخالف جنس سے مقابلہ کرتے نظر آتے ہیں۔ پچھلے سال انتخابات میں فتح حاصل کرنے کے بعد اپنی والدہ کے گھر جا کر انہوں نے اپنے آپ کو ماں کی تعظیم کرتے ہوئے دکھانے کی کوشش کی، لیکن وہ انہیں حلف برداری کی انتہائی اہم تقریب میں نہ بلا سکے۔ وہ اکثر خواتین کی عزت و احترام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں، لیکن وہ ہمیشہ خواتین کو ایسے رشتوں سے مخاطب کرتے ہیں، جن سے مرد کا غلبہ یا پھر عورت کے تحفظ کے لیے مرد کے لازم ہونے کا تاثر ملتا ہے، جیسا کہ مائیں، بہنیں اور بیویاں۔ یہ باتیں ان کی ساکھ بہتر کرنے میں کوئی خاص مدد نہیں کر رہیں کیوں کہ وزیراعظم کے انتخاب [مزید پڑھیے]

جنوبی ایشیا میں چین کی پیش قدمی!

October 1, 2014 // 0 Comments

مالدیپ کے بعد شی جن پنگ سری لنکا گئے۔ وہاں ان کا شاندار خیرمقدم کیا گیا۔ ۱۶ ستمبر کو کولمبو میں اسکول کے ہزاروں طلبا و طالبات نے سڑک کے کنارے کھڑے ہوکر چینی صدر کو خوش آمدید کہا۔ چینی صدر کے استقبال کی تیاریوں کے وقت یہ بات ملحوظ رکھی گئی تھی کہ ہاتھی اُن کا پسندیدہ جانور ہے، اِس لیے ۴۰ ہاتھیوں کو سجاکر سڑکوں پر لایا گیا تھا۔

کبھی نہ بجھنے والی پیاس!

January 1, 2012 // 0 Comments

جنوبی ایشیا میں پینے کے صاف پانی کا حصول ایک بنیادی مسئلہ رہا ہے۔ اب بھی دریاؤں پر دباؤ غیر معمولی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں وولر جھیل میں پانی کی مقدار تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ اس کا رقبہ بھی ۲۱۷ مربع کلومیٹر سے گھٹ کر اب صرف ۸۴ مربع میل رہ گیا ہے۔ جنوبی ایشیا کے بیشتر علاقوں کے برعکس مقبوضہ کشمیر میں دریا، جھیلیں اور چشمے زیادہ ہیں اور انہیں استعمال کرنے والے کم مگر اس کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں بھی پینے کے صاف پانی کا حصول دشوار ہوتا جارہا ہے۔ اگر یقین نہیں آتا تو اس مقام کی طرف جائیے جہاں بگلیہار ڈیم بنایا جارہا ہے۔ آپ کو ایک سفید دیوار پورے علاقے کو باقی وادی سے الگ کرتی ہوئی [مزید پڑھیے]

جنوبی ایشیا میں آلودگی

September 16, 2006 // 0 Comments

راماناتھن کے بقول پانچ سے دس سال پہلے سائنسدانوں کا خیال تھا کہ آلودگی صرف شہری علاقوں کا مسئلہ ہے‘ لیکن اب ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آلودگی والے بادل تیزی سے سفر کرتے ہیں اور پورے سمندر کا احاطہ کر سکتے ہیں۔

بھارتی و امریکی دفاعی معاہدہ

August 1, 2005 // 0 Comments

بائیں بازو کی جماعتوں نے ابھی حال ہی میں یوپی اے حکومت کی خارجہ پالیسی پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ لیکن گزشتہ دنوں ’’ہندوستان اور امریکا کے درمیان دفاعی تعلقات کے لیے جس نئے فریم ورک‘‘ پر معاہدہ کیا گیا ہے وہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے تعلق سے ایک نئی تصویر پیش کرتا ہے۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے یو پی اے حکومت کی بعض معاشی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہوئے رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ تو کیا ہے۔ لیکن بھارت اور امریکا کے درمیان دفاعی تعاون کا جو ناقابل قیاس اور غیرمعمولی بے مثال معاہدہ کیا ہے اس پر ابھی تک کسی خاص ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔ تاہم سی پی آئی اور فارورڈ بلاک نے [مزید پڑھیے]

1 2