Abd Add
 

ترکی اور یورپی یونین

ترکی اور یورپی یونین۔ برف پگھل رہی ہے؟

March 16, 2013 // 0 Comments

یورپی یونین کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے ترکی نے بہت پاپڑ بیلے ہیں۔ یہ کوئی آسان کام نہیں۔ یورپی یونین کسی ایسے ملک کو قبول کرنے کے لیے بظاہر تیار نہیں جو مسلم اکثریت کا حامل بھی ہے اور بہت حد تک اسلامی مزاج بھی رکھتا ہے۔ بہت سے ترک اب یورپی یونین کی رکنیت کے حوالے سے مایوس ہوچکے ہیں، مگر مبصرین کہتے ہیں کہ ہمت اور امید ہارنے کی ضرورت نہیں۔ اب بھی کسی نہ کسی طرح پیش رفت ہو رہی ہے۔ تقریباً تیس ماہ تک یورپی یونین میں ترکی کی رکنیت کا معاملہ سرد خانے میں پڑے رہنے کے بعد اب ایک بار پھر کچھ گرمی حاصل کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ برف پگھل رہی ہے۔ نکولس سرکوزی کی صدارت میں [مزید پڑھیے]

ترک خارجہ پالیسی : پڑوسیوں کے ساتھ مسائل

February 16, 2012 // 0 Comments

متحرک خارجہ پالیسی اپنے لیے مسائل پیدا کرتی ہے۔ ترکی کے معاملے میں بھی یہی ثابت ہوا ہے۔ حال ہی میں کانفرنس کے لیے بلجیم کے دارالحکومت برسلز جاتے ہوئے ترک وزیر خارجہ احمد داؤتوغلو نے میڈیا کو بتایا کہ ایک رات گہری نیند سے اچانک بیدار ہوئے۔ انہوں نے لیبیا سے متعلق ایک ڈراؤنا خواب دیکھا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ بحران شام میں تھا۔ ترکی چاہتا ہے کہ تمام پڑوسیوں سے اس کے تعلقات اس قدر بہتر ہو جائیں کہ کوئی پیچیدگی باقی نہ رہے۔ یہ پالیسی احمد داؤتوغلو کی تیار کردہ ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ شام میں حالات دن بدن ابتر ہوتے جارہے ہیں۔ قتل عام بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے۔ جنوری میں فرانس کی سینیٹ میں ایک بل [مزید پڑھیے]

کیا ترکی مغرب سے منہ موڑ رہا ہے؟

December 16, 2010 // 0 Comments

مغربی میڈیا میں یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ ترکی نے اب مغرب سے منہ موڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس تاثر میں کس حد تک حقیقت ہے، اس کا جائزہ لینے والے کہتے ہیں کہ ترکی منہ نہیں موڑ رہا ہے لیکن اگر امریکا اور یورپ نے ترکی کی کامیابی کو ہضم نہ کیا اور اسے دیوار سے لگانے کے عمل میں مصروف رہے تو ترک قیادت بھی مغرب سے منہ موڑنے پر مجبور ہو جائے گی۔ ترکی کا محل وقوع ایسا ہے کہ اس کی اہمیت میں کبھی کمی نہیں آئی۔ ایک طرف وہ مشرق وسطیٰ اور روس کے درمیان پل کا درجہ رکھتا ہے اور دوسری طرف ایشیا اور یورپ کے درمیان رابطے کا کام دیتا ہے۔ ایک عشرے کے دوران ترکی [مزید پڑھیے]

ترکی: صحافت پر پابندی۔۔۔ یورپی یونین کی تنقید

December 16, 2010 // 0 Comments

یورپی یونین کی سالانہ رپورٹ میں ترک پریس پر عائد پابندیوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔ یہ محض اتفاق تھا کہ ۹؍نومبر کو جب ترک صدر عبداللہ گل نے برطانیہ کی ملکہ سے کیتھم ہاؤس پرائز حاصل کیا تو اس کے چند ہی گھنٹوں کے بعد یورپی یونین نے ترکی کے معاملے پر اپنی پروگریس رپورٹ شائع کی۔ رپورٹ میں ترکی پر زور دیا گیا کہ یونانی قبرصیوں کے لیے ترک بندر گاہیں اور ایئر پورٹس کھولے جائیں۔ عبداللہ گل نے یک طرفہ رعایت دینے سے انکار کردیا۔ انہوں نے اس حوالے سے بیلجیم کی تنقید بھی مسترد کردی۔ عبداللہ گل نے یاد دلایا کہ یورپی یونین نے ترک قبرصیوں پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا وعدہ ۲۰۰۴ء میں کیا تھا مگر اب تک اس [مزید پڑھیے]

1 2