Abd Add
 

جنگ

حقیقی عالمگیریت کی طرف

October 1, 2021 // 0 Comments

ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم مہاتر محمد کا شمار اُن سیاست دانوں میں ہوتا ہے جو حکمرانی کے ساتھ ساتھ فکر و نظر کے حوالے سے بھی اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔ زیر نظر صفحات اُن کی کتاب ’’اچیونگ ٹرو گلوبلائزیشن‘‘ سے اقتباسات پر مشتمل ہیں۔ ۲۰۰۳ء میں عراق پر امریکا اور اتحادیوں کے حملے کے بعد شائع ہونے والی یہ کتاب ڈاکٹر کوہائی ہاشی موتو نے مہاتر محمد سے دس گھنٹے کی طوالت پر مبنی گفتگو کی مدد سے ترتیب دی تھی۔[مزید پڑھیے]

کیا دشمن فوج کا عزم و حوصلہ جانچنا ممکن ہے۔۔۔

October 1, 2020 // 0 Comments

جون ۲۰۱۴ء میں داعش کے تقریباً ڈیڑھ ہزار جنگجو ؤں نے عراقی شہر موصل پر حملہ کردیا۔شہر کی حفاظت پر مامور سرکاری فوجیوں کی تعداد ان جنگجوؤ ں سے پندرہ گنا زیادہ تھی۔ لڑائی کا نتیجہ شرمناک پسپائی کی صورت میں نکلا۔ لیکن یہ پسپائی داعش کے جنگجوؤں کی نہیں بلکہ سرکاری فوجیوں کی تھی۔اس پسپائی نے یہ بات ظاہر کردی کہ امریکا اس لڑائی کے نتیجے کی پیش بینی میں ناکام رہا۔امریکا کے ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس کا کہنا ہے کہ کسی فوج میں موجود لڑنے کے جذبے (Will to Fight) کی پیش گوئی کرنانا ممکن ہے۔ دنیا کی عسکری تاریخ، افواج میں موجود لڑائی کے جذبے سے متعلق غلط قیاسات سے بھری پڑی ہے۔مثال کے طور پر ساٹھ اور ستّر کی دہائی [مزید پڑھیے]

ذہنی جنگ کا زمانہ

August 1, 2010 // 0 Comments

جوناتھن مورینو کا شمار امریکا کے ان سرکردہ افراد میں ہوتا ہے جو جراثیمی ہتھیاروں کے ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے انسانیت سوز استعمال کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کئی ہم خیال افراد کے ساتھ مل کر اس سلسلے میں موثر طور پر آواز بلند کی ہے۔ امریکی اسلحہ خانے میں نت نئے ہتھیاروں کا اضافہ ہو رہا ہے۔ سیاسی رہنما اپنے مقاصد کے لیے ان کے استعمال کی اجازت دینے سے گریز نہیں کرتے۔ جوناتھن مورینو اور ان کے ساتھی چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا میکینزم قائم ہو جو جدید ترین ہتھیاروں کے غیر ضروری اور غیر اخلاقی استعمال کی راہ میں مزاحم ہو۔ ذیل میں جوناتھن ڈی مورینو کی کتاب مائنڈ وارز سے اقتباس پیشِ خدمت ہے۔ دنیا بھر میں جدید [مزید پڑھیے]

1 2