Abd Add
 

افغانستان سے انخلا

کیا افغان فورسز طالبان سے نمٹ سکیں گی؟

June 1, 2021 // 0 Comments

آج کی افغان فوج سابق سوویت یونین کی شکست و ریخت کے وقت کی افغان فوج کے مقابلے میں خاصی کمزور ہے۔ مگر خیر، مزاحمت کرنے والے جنگجو بھی کچھ زیادہ طاقتور نہیں۔ افغانستان سے امریکا کے حتمی انخلا کا مرحلہ شروع ہوئے ایک ماہ ہوچکا ہے اور اب یہ عمل تیز ہوتا جارہا ہے۔ امریکی صدر جوزف بائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان سے تمام امریکی فوجی ستمبر تک نکال لیے جائیں گے۔ ایسے میں یہ بات بعید از قیاس لگتی ہے کہ وہ جولائی تک جاچکے ہوں گے۔ امریکی جرنیلوں نے پیکنگ کرلی ہے اور معاملات افغان حکومت اور فوج کے حوالے کرنے کا عمل نصف کی حد تک مکمل ہوچکا ہے۔ طالبان کی قیادت میں برپا کی جانے والی شورش کے [مزید پڑھیے]

پہلے امریکی افواج کا انخلا، سوال بعد میں!

August 1, 2020 // 1 Comment

امریکی افواج افغان سرزمین تیزی سے چھوڑ رہی ہیں۔ امریکا رخصت تو ہو رہا ہے مگر افغانستان کے مستقبل پر پہلے سے بھی بڑا سوالیہ نشان لگا ہوا ہے کیونکہ کسی ایک معاملے میں بھی پورے یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ فائزہ ابراہیمی کو کچھ زیادہ یاد نہیں۔ تب وہ بہت چھوٹی تھی، جب افغانستان پر طالبان کی حکومت تھی۔ فائزہ کے والدین جب اُسے بتاتے ہیں کہ افغانستان پر کئی سال تک طالبان کی حکومت رہی جو شریعت کے طے کردہ قوانین کے مطابق تھی تو اُسے یقین ہی نہیں آتا۔ فائزہ مغربی شہر ہرات میں ریڈیوپریزنٹر ہے۔ فائزہ کو یقین ہی نہیں آتا جب اسے بتایا جاتا ہے کہ دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے اور مدارس میں تعلیم پانے والے نوجوان کسی [مزید پڑھیے]

افغانستان: وعدے اور عالمی امداد

August 1, 2012 // 0 Comments

عالمی برادری نے افغانستان کے لیے مزید امداد کا اعلان کیا ہے۔ مگر کیا امداد سے افغانستان کے تمام مسائل عمدگی سے حل ہو جائیں گے؟ یقینا نہیں۔ ۸ جولائی کو ٹوکیو میں افغانستان پر کانفرنس منعقد ہوئی جس میں عالمی برادری نے عہد کیا کہ وہ جنگ سے تباہ حال اس ملک کو چار برسوں میں مزید ۱۶؍ ارب ڈالر دے گی۔ افغان فوج اور پولیس کو سیکورٹی کی ذمہ داری مکمل طور پر سنبھالنے کے قابل بنانے کے لیے جو کچھ دیا اور کیا جائے گا وہ اس کے علاوہ ہے۔ امریکا میں یہ صدارتی انتخاب کا سال ہے۔ چند ایک اعلانات خاصے مبہم ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ امریکا نے جو رقم دینے کا اعلان کیا ہے وہ ساری کی ساری نئی نہ [مزید پڑھیے]

افغانستان سے انخلا کے لیے نیٹو کا پُرخطر منصوبہ

June 1, 2012 // 0 Comments

افغانستان پر امریکا کی سربراہی میں لشکر کشی ہر مرحلے پر متنازع اور قابل تنقید رہی ہے۔ یورپ نے بہت جلد اندازہ لگالیا تھا کہ امریکا نے اسے اپنے ساتھ دلدل میں کھینچ لیا ہے۔ فرانس، برطانیہ، جرمنی اور دیگر یورپی ممالک نے افغانستان سے انخلا کے لیے دباؤ بڑھایا تو امریکا کو ڈیڈ لائن کا اعلان کرنا پڑا۔ مگر اب ایسا لگتا ہے کہ انخلا کے معاملے میں عجلت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے اور جامع منصوبہ بندی سے اب تک گریز کیا جارہا ہے۔ کسی بھی سربراہ کانفرنس میں ایجنڈے پر کئی نکات ہوسکتے ہیں مگر کسی ایک نکتے ہی پر غیر معمولی توجہ کا ارتکاز ممکن ہے۔ حال ہی میں شکاگو میں منعقدہ نیٹو سربراہ کانفرنس کا ایک ہی ایجنڈا تھا کہ [مزید پڑھیے]

افغانستان سے انخلا میں امریکی عجلت!

February 16, 2012 // 0 Comments

امریکا نے دس سال سے بھی زائد مدت سے افغانستان میں مخالفین کے سر جھکانے کی بھرپور کوشش کی ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ اب اس کی ہمت جواب دے گئی ہے اور وہ کسی نہ کسی طور افغان سرزمین سے پنڈ چھڑانا چاہتا ہے۔ یکم فروری کو بلجیم کے دارالحکومت برسلز میں نیٹو کے وزارتی اجلاس سے قبل امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے ایک ایسا بیان داغا جس نے بم ہی گرادیا۔ پنیٹا نے کہا کہ امریکا نے افغانستان سے انخلا کی جو حتمی تاریخ مقرر کی ہے اس میں ڈیڑھ سال کی کمی کی جارہی ہے یعنی اب امریکی افواج کو افغانستان سے ۲۰۱۴ء کے آخر کے بجائے ۲۰۱۳ء کے وسط تک نکال لیا جائے گا۔ سابق ڈیڈ لائن پرتگال کے [مزید پڑھیے]

کسی بھی قیمت پر!

October 16, 2011 // 0 Comments

پاک آرمی کی گیارہویں کور (پشاور) کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل آصف یاسین ملک سے ’’نیوز ویک‘‘ کے نذر الاسلام نے راولپنڈی میں انٹرویو کیا جو ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ ٭ ریاست ہائے متحدہ امریکا کی سربراہی میں لڑی جانے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج کا کیا کردار ہے؟ آصف یاسین ملک: پاکستانی فوج اور نیم فوجی ادارے دہشت گردی کے خلاف طویل مدت سے لڑ رہے ہیں۔ یہ لڑائی ۱۱ ستمبر ۲۰۱۱ء سے بھی پہلے سے جاری ہے۔ نائن الیون کے بعد تو ہمیں بس حالات کے مطابق خود کو بدلنا تھا۔ پہلے ہم جنگ کے روایتی طریقوں کو اپنائے ہوئے تھے۔ اب ہم کہیں بھی قانون نافذ کرنے سے متعلق کارروائی کی اہلیت رکھتے ہیں۔ [مزید پڑھیے]

1 2 3 4