جان نیگرو پونٹے سے دس سوالات

جان نیگرو پونٹے کو ایک سال پہلے بغداد سے بلالیا گیا جہاں وہ امریکی سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے تاکہ انہیں امریکا کا Spymaster بنایا جاسکے۔ امریکا کی اس وسیع الاطراف خفیہ سراغ رساں برادری جس کے لیے بجٹ میں ۴۴ بلین ڈالر کی رقم مختص ہوتی ہے کا چلانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔خاص طور سے ایسی حالت میں جبکہ اس کے اختیارات مختلف پہلوں سے اس کی ذمہ داریوں کے مقابلے میں کم ہوں۔ ۶۶ سالہ نیگرو پونٹے اپنے ناقدین کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ یہ کام روز افزوں ہے۔ امریکی نیشنل انٹیلی جنس کے پہلے ڈائریکٹر واشنگٹن میں‘ ترقی کا جائزہ کے حوالے سے ’’ٹائم‘‘ کے Michael Duffy اور Timothy J.Burger کے ساتھ گفتگو کی ہے۔


س: کیا انٹیلی جنس میں روز کوئی نہ کوئی بہتری پاتے ہیں ایک سال پہلے کی صورتحال کے مقابلے میں؟

ج: پہلی بات تو یہ کہ میں اسے اچھا خیال کرتا ہوں اور دوسری بات یہ کہ ہم نے بہتری لانے کے لیے سخت محنت کی ہے خاص طور سے تجزیہ کے شعبے میں۔ ہم اپنے وسائل کو قانونی بنانے نیز اپنے پیشے کو بھی بہتر بنانے کی بہت کوشش کررہے ہیں۔ صدر نے حکم دیا ہے کہ ہمیں آئندہ پانچ سالوں میں اپنی ہیومن انٹیلی جنس اور تجزیاتی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے او رہم ایک ایسے پروگرام پر عمل پیرا ہیں جس سے یہ مقصد حاصل ہوسکے۔ لہٰذا میرا تو خیال ہے کہ یہ بہتر ہورہا ہے اور ہم اسے مزید بہتر بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

س: کیا ایران پر ہماری خفیہ معلومات عراق پر جو ہماری خفیہ معلومات تھی اُس سے بہتر ہے؟

ج: یہ اچھی ہے‘ یہ ٹھوس ہے اور میرا خیال ہے کہ عام تباہی کے اسلحے سے متعلق معلومات کی ناکامی کے بعد سے ہم جو کچھ کررہے ہیں اُ س سے حفاظتی حصار تعمیر ہورہا ہے۔ آپ کو دوہری چیکنگ کے مختلف طریقے دریافت کرنے ہوں گے ۔ آپ وہاں ایک ایسی ٹیم روانہ کرنے میں کامیاب ہوگئے جو متبادل مفروضے پر کام کرنے کی اہلیت رکھتی ہے اور حقائق کے اسی مجموعہ سے اُسے ثابت کرنے کی کوشش کرے گی۔

س: آپ کے خیال میں ایران کب تک بم بناسکتا ہے اور کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ اسے کہاںتیار کررہا ہے؟

ج: اندازہ ہے کہ آئندہ دہائی کے اوائل میں ۲۰۱۰ء سے ۲۰۱۵ء کے درمیان حاصل کرنے کے قابل ہوجائے گا۔ بہرحال یہ اندازہ ہی ہے جو کچھ ایران سے خفیہ معلومات حاصل ہوئی ہیں اُس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسے تصور پر کام کر رہے ہیں جس کے تحت اپنے کسی میزائل کو جوہری اسلحہ میں حسب خواہش تبدیل کرسکیں یہ تشویش کا باعث ہے۔

یقینی طور سے ہم جانتے ہیں کہ ان کی کلیدی جوہری تنصیبات کیا ہیں ہماری نظر میں یہ وہی ہیں جو IAEA کے معائنے میں ہیں یعنی نتانز اور اصفہان کی تنصیبات۔ جہاں تک سوال ہے کہ کیا دیگر تنصیبات بھی ہیں تو اس کے متعلق ہمیں بالکل کوئی علم نہیں ہے۔ آپ جو نہیں جانتے ہیں وہ نہیں جانتے ہیں۔

س: تو آپ کا کام کیا ہے؟

ج: میں اسے ایک جملے میں بتانے کی کوشش کرتا ہوں۔ جو میں سوچتا ہوں میرا کام اس سے متعلق ہے اور جو کہتا ہوں وہ یہ کہ ہمارا کام خارجہ‘ عسکری اور داخلی شعبوں میں خفیہ معلومات کو اپنے مادر وطن کے دفاع اور بیرون ملک امریکی مفادات کے حق میں مربوط کرنا ہے۔

س: کیا وہ ایجنسیاں جو گیارہ ستمبر سے پہلے معلومات کا تبادلہ نہیں کررہی تھیں اب کررہی ہیں؟

ج: ہر شخص ہوشیار اور مصروف ہے اور میرے خیال میں نطام کچھ اس طرح اب تشکیل دے دیا گیا ہے کہ امریکی عوام کو دوبارہ یہ باور کرایا جاسکتا ہے کوئی نہ کوئی ہمیشہ نگرانی کررہا ہے۔ کوئی بھی معلومات جو داخلی امور کے لیے خطرہ یا دھمکی کے حوالے سے ہے اور جو وزیرستان اور بغداد میں حاصل ہوئی ہے تو آپ کو مطمئن ہونا چاہیے کہ وہ لوگ جو ملکی دفاع کے ذمہ دارہیں اُن کو بھی اس کی خبر ہونی چاہیے ۔بہت زیادہ تیزی سے ایک ایسا راستہ دریافت ہونے جارہا ہے جس کے ساتھ وہ بہت تیزی کے ساتھ مانوس ہوجائیں گے۔

س: صدر بش کو مزید انسانی جاسوسوں کی تلاش ہے تو یہ کہاں تک ممکن ہوپارہا ہے؟

ج: اُن مقامات پر ہم اپنا کام تیز کررہے ہیں جہاں ہم موجود نہیں تھے۔ ہم نے سرد جنگ ک خاتمے کے بعد لاطینی امریکا اور افریقا میں معاملات پر گرفت کو کمزور ہونے دیا۔

س: ہم سمجھتے ہیں کہ آپ امریکی انٹیلی جنس کے تمام اثاثوں کی کیٹ لوگ تیار کررہے ہیں کیا آپ اسٹیشن سربراہان کا انتخاب کررہے ہوں گے۔ اسٹیشن سربراہان کو منتخب کرنا پورٹر گوس (سابق سی آئی اے چیف) کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں آپریشنز کی ہدایت کاری سے کوئی دلچسپی نہیں ہے‘ میں فیلڈ کمانڈوز رکھنے میں بھی کوئی دلچسپی نہیں رکھتا ہوں۔ یہ انفرادی ایجنسی کے سربراہوں کا کام ہے۔ یہ سوال کہ کیا میری دلچسپی ان کاموں میں ہے جو وہ لوگ کررہے ہیں تو آپ بالکل درست ہیں کہ میری دلچسپی ان میں ہے ۔

س: کانگریس نے جب آپ کا شعبہ کھولا تو پینٹاگون کو اس سے بہت زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ کیا اس رویے میں تبدیلی آئی ہے؟

ج: یہ تعریفاً ایک مشترک کوشش ہے میرا خیال ہے کہ یہ بہت اچھے طریقے سے کام کررہا ہے میری نظر اس پر نہیں ہے کہ تعلقات کس طرح بہتر بنائے جائیں بلکہ میرے خیال میں تقسیم کار کا بہت ہی واضح فہم موجود ہے۔

س: تین درجن گرانقدر قیدیوں کا انجام کیا ہوگا؟

ج: حقیقتاً میں اس معاملے میں بالکل پڑنے نہیں جارہا ہوں‘ ان لوگوں کو قید میں رکھا گیا ہے او ریہ خراب کام کرنے والے لوگ ہیں۔ جب تک دہشت گردی کے خلاف جنگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے میں یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ ان کا حتمی ٹھکانا کیا ہوگا۔

س: کیا یہ کام کسی ملک کو درست حالت پر واپس لانے سے زیادہ مشکل ہے؟

ج: یہ بہت مختلف کام ہے ۔ ایک کام بیرونی سفارتکاری کا ہے آپ بیرونی ثقافت اورقومی تعمیر دونوں سے تعرض کررہے ہیں۔ یہ کام ہمیں اپنی حکومت کی تنظیم کے ساتھ کرنا ہے اور مختلف ایجنسیوں کی حامل فضا میں کرنا ہے۔ ہم نے فیلڈ ورک اور ہوم ورک بھی کیا ہے اور یہ ہوم ورک ہے۔

(بشکریہ: ’’ٹائم میگزین‘‘۔ شمارہ۔ ۲۴ اپریل ۲۰۰۶ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*