’’ مصنوعی ذہانت ‘‘ کی ُصبح

اسٹیفن ہاکنگ متنبہ کرتے ہیں کہ ’’مکمل مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)کی تعمیر انسانی نسل کے خاتمے کا موجب ہو سکتی ہے۔‘‘ ایلن مَسک کو خوف ہے کہ مصنوعی ذہانت بنی نوع انسان کو لاحق سب سے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ بل گیٹس لوگوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ ان خطرات سے خبردار رہیں۔

یہ خوف کہ جو مکروہ مشینی آلے لوگ تخلیق کرتے ہیں، وہ ان کے آقا یا قاتل بن جائیں گے، ہر گز نیا نہیں۔ لیکن ایک مشہور ماہرِ علمِ کائنات، سلی کون ویلی (Silicon Valley) کی ایک جدت پسند کاروباری شخصیت اور مائیکرو سوفٹ کے بانی کی طرف سے ان خدشات کا اظہار اور گوگل اور مائیکرو سوفٹ جیسی بڑی کمپنیوں کی جانب سے مصنوعی ذہانت میں ہونے والی وسیع سرمایہ کاری کی مخالفت، ان خدشات کو نئے سرے سے تقویت دیتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں عام طور سے جدید ترقی کے مخالفین میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ ہر جیب میں ایک سُپر کمپیوٹر اور ہر میدانِ جنگ کی اوپر سے نگرانی کرنے کے لیے روبوٹس کی موجودگی کو صرف سائنس فکشن قرار دے کر رَد کر دینا، خود فریبی کے مترادف ہے۔ سوال یہ ہے کہ سمجھدار طریقے سے پریشان کیسے ہوا جائے۔

سب سے پہلے تو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ فی الوقت کمپیوٹر کیا کر سکتے ہیں اور مستقبل میں ان کو کیا کچھ صلاحیتیں حاصل ہو جانے کا امکان ہے۔ کام کرنے کی طاقت (Processing power) میں تیزی اور برقی حالت میں دستیاب معلومات کی بڑھتی ہوئی کثرت کی بدولت مصنوعی ذہانت میں زبردست عروج آیا ہے۔ آج کے ’’گہرے سیکھنے کے نظام‘‘ (Deep learning systems) انسانی دماغ کے خلیوں کی تہہ بہ تہہ ترتیب کو نقل کر کے اور وسیع تعداد میں ڈیٹا کو استعمال کرکے ترتیب پہچاننے (Pattern recognition) سے لے کر ترجمے تک کچھ کام خود ہی سیکھ کر کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں، اتنے ہی بہتر انداز میں جتنا ایک انسان کر سکتا ہے۔ نتیجے کے طور پر وہ چیزیں جو کبھی انسانی دماغ کے کرنے کی تھیں، یعنی تصویروں کی تشریح کرنے سے لے کر ویڈیو گیم ’’فروگر‘‘ کھیلنے تک، اب وہ کمپیوٹر پروگرامات کے دائرے میں آچکی ہیں۔ ڈیپ فیس (Deep face) جو ۲۰۱۴ء میں فیس بک کی جانب سے منظرِ عام پر لایا جانے والا ایک کمپیوٹر پروگرام ہے، مفرد انسانی چہروں کو ۹۷ فیصد تک بالکل صحیح شناخت کر سکتا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ صلاحیت ابھی محدود اور مخصوص نوعیت کی ہے۔ آج کی مصنوعی ذہانت انسانی ذہانت سے ملتی جلتی صلاحیتیں پیدا کر رہی ہے مگر یہ بڑے پیمانے پر ہندسوں اور اعداد کو استعمال کرنے کی طاقت کے بَل پر ہو رہا ہے۔ درحقیقت انسانی دماغ کس طرح انسان کو خودمختاری، مفادات اور خواہشات سے مسلّح کرتا ہے، اس کو سمجھنے میں آج کی مصنوعی ذہانت کو کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔ کمپیوٹر ابھی تک نتیجہ نکالنے، جانچنے اور فیصلہ کرنے کی اُس وسیع اور رَواں صلاحیت کو ذرا بھی نہیں پہنچ پائے ہیں جو دراصل انسان کی روایتی ذہانت کے ساتھ منسلک ہے۔

اس کے باوجود مصنوعی ذہانت انسان کی زندگی میں ایک ڈرامائی فرق لانے کے قابل ہو چکی ہے۔ جو کچھ لوگ کر سکتے ہیں، اس کی تکمیل کرکے یہ انسانی صلاحیت میں اضافہ کرنے کے قابل ہے۔ شطرنج کی مثال لیجیے جو اَب کمپیوٹر کسی بھی انسان سے بہتر کھیلتے ہیں۔ تاہم دنیا میں بہترین کھلاڑی ابھی بھی صرف مشینیں نہیں ہیں بلکہ مشینوں اور انسانوں کے اشتراک سے بننے والی ٹیمیں ہیں، جنہیں شطرنج کے ایک ماہر گیری کا سپاروف ’’دو نسلی مخلوق‘‘ کہتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں مشینوں اور انسانوں کا یہ اشتراک ہر میدان میں ایک عام قاعدہ بن جائے گا۔ مصنوعی ذہانت کی مددسے معالجین کے پاس طبی تصاویر میں سرطان کی نشاندہی کرنے کی بہت بہتر صلاحیت موجود ہوگی۔ اسمارٹ فونز میں موجود آواز و الفاظ کو شناخت کرنے کے قابل کمپیوٹر پروگرامز ترقی پذیر ممالک کے لاکھوں ناخواندہ لوگوں کے لیے انٹرنیٹ کو قابلِ استعمال بنا دیں گے۔ برقی معاونت علمی تحقیق کے لیے سیر حاصل موضوعات تجویز کرے گی۔ تصاویر کو اقسام میں بانٹنے کے اہل کمپیوٹر پروگرامات ویئرایبل (Wearable) کمپیوٹر کو اس قابل کردیں گے کہ وہ کارآمد معلومات کو استعمال کر کے حقیقی دنیا کے بارے میں لوگوں کے تصورات ترتیب دیں۔

یہاں تک کہ مختصر مدت میں بھی مصنوعی ذہانت کے تمام تر اثرات مثبت نہیں ہوں گے۔ مثال کے طور پر اس طاقت پر غور کیجیے جو مصنوعی ذہانت کی وجہ سے جمہوری اور غیر جمہوری دونوں طرح کے ملکوں میں ریاستی سیکورٹی کے نظام کو حاصل ہو جاتی ہے۔ لاکھوں لوگوں کی بات چیت پر نظر رکھنے اور مجمع میں موجود ہر شخص کو اس کی آواز یا چہرے سے شناخت کر لینے کی صلاحیت شخصی آزادی کے لیے ایک سنگین خطرے کو جنم دیتی ہے۔ اور اگر معاشرے کو اس سے وسیع فوائد حاصل ہوں گے بھی، تو کئی افراد کے لیے یہ مشکل کا باعث بنے گی۔ پرانے زمانے میں ’’کمپیوٹر‘‘ دراصل خدمت گار ہوتے تھے، جن میں کثیر تعداد خواتین کی ہوتی تھی، جو اپنے سے اوپر موجود لوگوں کو لامتناہی حساب کتاب کر کے دیتے رہتے تھے۔ جس طرح اب یہ کام کمپیوٹر میں لگے ٹرانسسٹرز (Transistors) انجام دیتے ہیں، اسی طرح امکان ہے کہ مصنوعی ذہانت وائٹ کالر نوکریوں کی ایک پوری کھیپ کا صفایا کر دے گی۔ تعلیم اور فنی تربیت میں مصنوعی ذہانت کارآمد ثابت ہوگی اور اس کی مدد سے جو سرمایہ پیدا ہوگا، بے شک وہ نئی راہوں کی تلاش میں صَرف ہوگا اور اس سے نئی نوکریاں بھی نکلیں گی مگر اس کے ساتھ ہی کام کرنے والوں کو بے وطن ہونے کی مشکل برداشت کرنا پڑے گی۔

تاہم جاسوسی اور بے وطنی وہ پریشانیاں نہیں ہیں، جنہوں نے میسرز، ہاکنگ، مَسک اور گیٹس کو فکر مند کیے رکھا ہے، نہ ہی یہ وہ خدشات ہیں جن سے متاثر ہو کر ہالی ووڈ نے سینما اسکرینوں پر مستقبل کی منظر کشی کرتی مصنوعی ذہانت فلموں کی بھرمار کر دی ہے۔ ان کی تشویش مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے دُور رس اور زیادہ قیامت خیز خطرے پر مبنی ہے، یعنی ایسی خودمختار مشینوں کے قیام کا خطرہ جو انسان سے بالاتر تفہیم کی صلاحیت رکھتی ہوں اور ان کے مفادات انسانی نسل کے مفادات سے ٹکراتے ہوں۔

ایسی مصنوعی ذہانت کی حامل مخلوق کا قیام البتہ ابھی بہت دور ہے، بلکہ ممکن ہے کہ ایسی کوئی مخلوق کبھی بھی معرضِ وجود میں نہ آسکے۔ انسانی دماغ کو کھوجنے اور ٹٹولنے کی ایک صدی پر محیط کوششوں کے باوجود، نفسیات دان، ماہرینِ دماغ، ماہرینِ سماجیات اور فلسفی اس بات کو سمجھنے سے بہت دور ہیں کہ انسانی دماغ کیسے کام کرتا ہے یا انسانی دماغ دراصل ہے کیا۔ یہاں تک کہ عام قسم کی محدود ذہانت کا تصور بھی، وہ قسم جو مفادات اور خواہشات رکھتی ہو، بالکل واضح نہیں ہے۔ ایک ایسی کار کا قیام تو ممکن ہے جو اپنے مالک سے بہتر اپنے آپ کو چلا سکتی ہو لیکن ایک ایسی کار کی تخلیق جس کے ’’کہاں جانا ہے‘‘ کے بارے میں اپنے خیالات ہوں، ممکن دکھائی نہیں دیتی۔

لیکن اگر اس کا قیام جسے مسٹر ہاکنگ ’’مکمل‘‘ مصنوعی ذہانت کہتے ہیں، ابھی بہت دور ہے، تب بھی عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ معاشرے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے حکمتِ عملی طے کریں۔ یہ کام اُس سے زیادہ آسان ہے جتنا دکھائی دیتا ہے۔ کیونکہ انسان کچھ عرصے سے ایسے خودمختار نظام بناتے آرہے ہیں جن کی انسان سے بالاتر صلاحیتیں اور غیر جانب دار مفادات ہیں۔ حکومتی بیورو کریسی، مارکیٹیں اور فوجیں ان نظاموں کی چند مثالیں ہیں۔ یہ سب نظام وہ کچھ کرنے کے قابل ہیں جو غیرمنظم، دوسروں کی مدد سے محروم انسان نہیں کرسکتے۔ ان سب کو کام کرنے کے لیے خودمختاری درکار ہوتی ہے، یہ سب نظام اپنی زندگی خود جیتے ہیں اور یہ تمام عظیم نقصان پہنچا سکتے ہیں، اگر انہیں درست انداز میں منظم نہ کیا جائے اور قوانین اور ضابطوں کے تحت نہ چلایا جائے۔

یہ تشبیہات مصنوعی ذہانت سے خوفزدہ لوگوں کے لیے تسلی کا سامان ہونا چاہئیں۔ مصنوعی ذہانت کا محفوظ استعمال کیسے ممکن بنایا جائے، یہ اُس کے لیے ٹھوس راہیں بھی متعین کرتی ہیں۔ جس طرح فوجوں کو سویلین نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے، بازاروں کو اصول و ضوابط کے تحت چلایا جاتا ہے اور بیورو کریسی کو شفاف اور جواب دہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، اسی طرح مصنوعی ذہانت کے نظاموں کو جانچ پڑتال کے لیے کھلا ہونا چاہیے۔ چونکہ ان نظاموں کو تیار کرنے والے مستقبل میں پیش آنے والے ہر طرح کے حالات کو تصور میں نہیں لاسکتے، لہٰذا اِن نظاموں کو بند کر نے کے لیے ایک کھٹکا ہمیشہ موجود ہونا چاہیے۔ یہ اقدامات مصنوعی ذہانت میں ہونے والی پیش رفت پر سمجھوتا کیے بغیر بآسانی عمل میں لائے جا سکتے ہیں۔ ایٹم بم سے لے کر ٹریفک کے قوانین تک، بنی نوع انسان نے تکنیکی مہارت اور قانونی بندشوں کو استعمال کرکے طاقتور ایجادات کو قابو میں کر رکھا ہے۔

بالآخر ایک خودمختار غیر انسانی ذہانت کی تخلیق کا خوف اتنا غیر معمولی ہے کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق بحث میں دیگر پہلوؤں کے نظر انداز ہونے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ ہاں، خطرات یقیناً موجود ہیں، لیکن ان خطرات کے سبب اُن عظیم فوائد کو دھندلانا نہیں چاہیے، جو مصنوعی ذہانت کے آغاز کی بدولت حاصل ہوئے ہیں۔

(مترجم: طاہرہ فردوس)

“Clever computers: The dawn of artificial intelligence”. (“Economist”. May 16, 2015)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*