انسانوں پر ایٹمی تجربات کے بھیانک اثرات

ایٹمی تجربات کا سرد جنگ سے بڑا گہرا تعلق ہے۔ روس اور امریکا جب تک تخفیفِ اسلحہ کے سلسلے میں کسی معاہدے تک نہیں پہنچے تھے‘ اُس وقت تک ان ایٹمی تجربات کی وجہ سے ساری دنیا کا امن خطرے میں تھا۔ دنیا کے ترقی یافتہ اور بڑے ممالک ایک جانب ان ایٹمی تجربات کے خلاف تھی اور دوسری جانب وہ خود اس نوعیت کے تجربات کر رہے تھے۔

امریکا اور روس گزشتہ پچاس برس کے دوران اپنے اپنے علاقوں میں خفیہ اور ظاہری طور پر ایٹمی تجربات کرتے رہے ہیں‘ جبکہ فرانس اور بعض دیگر ممالک نے بھی اس نوعیت کے تجربات کیے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ ایٹمی تجربات تجربہ گاہوں میں حیوانات پر کیے جانے والے تجربات کی طرح انسانیت کی فلاح و بہبود سے کوئی تعلق نہیں رکھتے تھے بلکہ ان کا مقصد صرف انسانیت کی تباہی و بربادی اور دنیا پر اپنی بالادستی قائم کرنے سے تھا۔

جن علاقوں میں ایٹمی تجربات کیے جاتے رہے ہیں‘ وہاں اب بیماریوں کی فصل اُگ رہی ہے۔ نامکمل جسمانی اعضا والے بچے جنم لے رہے ہیں۔ یہاں مسخ چہروں والے بچے بھی پیدا ہو رہے ہیں اور ان بیماریوں کو کینسر کا نام دے کر بھیانک حقیقتوں کو چھپایا جارہا ہے۔

ہیروشیما‘ نواداکیلنی‘ مراروا‘ لوپ نور اور چرنوبل یہ وہ چند نام ہیں‘ جہاں کی سرزمین ایٹمی تجربات کی وجہ سے سب سے زیادہ آلودہ ہوئی ہے۔ سوویت یونین چالیس برس تک خفیہ طور پر قازقستان میں ایٹمی تجربات کرتا رہا ہے‘ جہاں تقریباً ساٹھ لاکھ افراد رہائش پذیر تھے۔ یہ قازقستان کا وسیع و عریض اور سرسبز و شاداب علاقہ تھا۔

قازقستان کا رقبہ تقریباً فرانس کے برابر ہے۔ اس علاقے میں اب بغیر بازوئوں اور بغیر ہڈیوں والے بچے پیدا ہو رہے ہیں اور کینسر کی شرح میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ اس علاقے کے لوگ انتہائی غریب ہیں اور اس نئی افتاد کی وجہ سے خودکشی پر مجبور ہو رہے ہیں۔ قازقستان کے لوگ ان ایٹمی تجربات سے بچائو کے لیے اس کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ وہ اپنے گھروں کے دروازے بند کر لیتے تھے۔

قازقستان وہ علاقہ ہے جہاں روسی فوجوں نے ۱۹۴۷ء میں ۷۱۴۲ مربع میل علاقے میں ایک زون قائم کیا تھا اور خفیہ ایٹمی تجربات کیے‘ یہاں ایک سیکرٹ کمانڈ سینٹر بنایا گیا تھا۔ اس سلسلے میں تجربات کے مقامات کی نشان دہی کے لیے کوئی نقشہ بھی نہیں بنایا گیا تھا۔

ہیروشیما پر صرف ایک بار بم باری کی گئی تھی۔ چرنوبل کے ایٹمی بجلی گھر کی تباہی کا واقعہ بھی تاریخ میں صرف ایک بار پیش آیا تھا۔ جبکہ سمیے پل کے علاقے کے عوام مسلسل چار دہائیوں تک ایٹمی تجربات کی بھینٹ چڑھتے رہے اور ان کے بچوں کا مستقبل تاریک رہا۔ سمیے کا علاقہ لندن سے کافی دور ہے۔ طیارے سے اس علاقے تک پہنچنے میں نو گھنٹے لگتے ہیں۔ طیارہ قازقستان کے سب سے بڑی شہر الماتے پہنچتا ہے۔ یہیں تائن سیشنی کا مشہور پہاڑی سلسلہ بھی واقع ہے جو وسط ایشیا کو چین سے علیحدہ کرتا ہے۔ اکیس گھنٹے کے ٹرین کے سفر اور یاک کی پیٹھ پر سفر کے بعد آپ اپنی منزلِ مقصود تک پہنچتے ہیں۔

اب یہ علاقہ سوویت یونین کے عہد کی طرح ممنوعہ فوجی علاقہ نہیں ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ غیرملکیوں کو اس علاقے میں جانے کی اجازت دے دیتی ہے مگر اس کے باوجود مغربی ملکوں سے بہت کم سیاح یہاں آتے ہیں۔ لوگوں کو اس علاقے کے بارے میں کافی معلومات حاصل ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ اس علاقے کا پانی اور خوراک زہر آلود ہو چکی ہے اگر انہیں اس بارے میں مزید معلومات فراہم کر دی جائیں تو ہزاروں افراد بیماریوں اور معذوری سے بچ سکتے ہیں۔

تلخیص و ترجمہ: سلیم باسط
(بحوالہ: سائنس و ٹیکنالوجی ڈاٹ کام)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.