چین کی سست رفتار معیشت

وہ دن گئے جب چین کی شرحِ نمو دہرے ہندسے میں ہوتی تھی۔ عہدے داروں کے اہداف ہمیشہ حد سے تجاوز کرجاتے تھے۔ بیجنگ میں پانچ مارچ کو ہوئے نیشنل پیپلز کانگریس کے افتتاحی اجلاس میں وزیراعظم لی کی چیانگ نے یہی پیغام دیا۔ انہوں نے اس سال کے لیے شرحِ نمو کی حد سات فی صد مقرر کی۔ چین کی حکومت نے گزشتہ برس شرح نمو کی حد سات اعشاریہ چار فی صد رکھی تھی جو پچیس برس کے دوران کم ترین تھی۔ لی کی چیانگ کا کہنا تھا کہ حکومت توقع رکھتی ہے کہ ترقی کی رفتار میں کمی لانے سے مستحکم اور مضبوط معیشت قائم ہوگی۔ لیکن یہ ایک مشکل عمل ہوگا۔

بیجنگ میں نیشنل پیپلز کانگریس کے لگ بھگ تین ہزار مندوبین سے خطاب میں وزیراعظم لی کی چیانگ نے واضح کیا کہ آنے والے دنوں میں معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا جو شاید دوہزار چودہ کے مقابلے میں زیادہ ہولناک ہوں۔ انہوں نے کہا معیشت پر دبائو بڑھ گیا ہے۔ ساتھ ہی وزیراعظم لی کی چیانگ نے وہ بات بھی کہہ ڈالی جو ان دنوں چین میں زبان زدِ عام ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ سست رفتار ترقی آگے بڑھنے کے لیے نیا معیار ہے۔ چین کی بیشتر صنعتوں کی بندش اور بے روزگاری کی شکایات کے باوجود وزیراعظم کے خطاب میں معاشی اصلاحات جاری رکھنے کا ذکر بھی تھا۔ لی کی چیانگ نے کئی بار حکومت کی طاقت اور دخل اندازی میں کمی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے قدیم چینی زبان کی بعض اصطلاحات کا بھی استعمال کیا اور بتایا کہ طاقت آجانے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ کوئی سخت جان بن جائے۔ یہ سن کر نیشنل پیپلز کانگریس کے شرکاء بے اختیار ہنس پڑے لیکن وزیراعظم لی کی چیانگ اس بارے میں سنجیدہ نظر آئے، اُن کا یہ بیان سرکاری اداروں کے سربراہوں اور دیگر عہدے داروں کے لیے انتباہ تھا کہ اصلاحات کے پروگرام میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔

بہت سوں کو یہ پیغام پہلے سے جاری تیز رفتار انسداد بدعنوانی مہم سے ہی مل گیا ہوگا۔ یہ مہم دو سال پہلے شروع کی گئی تھی اور اب تک اس میں کسی قسم کی کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ انسداد بدعنوانی مہم کے دوران انتالیس ارکان اسمبلی نے استعفیٰ دیا یا انہیں برطرف کردیا گیا۔ چین کے وزیراعظم کہتے ہیں کہ بدعنوانی کے خلاف ان کی حکومت کا سخت موقف برقرار رہے گا۔ چین کی فوج نے بھی دو مارچ کو چودہ جرنیلوں کے نام شائع کیے تھے جنہیں کرپشن پر سزا دی گئی یا ان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔ فوج میں بدعنوانی کی خبروں کے باوجود حکومت نے دفاعی اخراجات میں کٹوتی نہیں کی۔ وزیراعظم لی کی چیانگ نے اس سال کے لیے دفاعی بجٹ دس اعشاریہ ایک فی صد اضافے سے ایک سو چوالیس ارب ڈالر مختص کرنے کا اعلان کیا۔ دفاعی بجٹ کی مد میں گزشتہ برس بارہ اعشاریہ دو فی صد اضافی رقم رکھی گئی تھی۔

چین کے سرکاری میڈیا نے نیشنل پیپلز کانگریس سے وزیراعظم لی کی چیانگ کے خطاب کو امریکی صدر کے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کا ہم پلہ قرار دیا۔ لیکن دونوں کے مزاج ایک جیسے نہیں۔ چینی وزیراعظم کا خطاب قریب سو منٹ تک جاری رہا، اس کی زبان مبہم تھی اور اعداد و شمار بھی بہت زیادہ پیش کیے گئے۔ لی کی چیانگ نے خطاب کے دوران شرکا سے ہلکی پھلکی گفت گو بھی نہیں کی۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ سامنے بیٹھے تمام ہی ارکان اسمبلی کمیونسٹ پارٹی کے چُنے ہوئے تھے اور عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکر وہاں نہیں پہنچے تھے۔

وزیراعظم لی کی چیانگ نے بتایا کہ سرکاری اداروں میں اصلاحات متعارف کرانے کا عمل جاری رہے گا۔ حکومت دیگر غیرملکی اور نجی اداروں کو خدمات کے شعبے میں سرمایہ کاری کی اجازت دے گی۔ اس شعبے میں اب تک سرکاری اداروں کا حصہ زیادہ ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ سرکاری نرسنگ ہومز پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے جہاں بزرگوں کو جگہ حاصل کرنے کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے بزرگ افراد کے لیے مزید غیرسرکاری نرسنگ ہومز بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ وزیراعظم چیانگ نے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے حکومتی کوششوں کا اعادہ کیا۔ انہوں نے گزشتہ برس اپنے خطاب میں آلودگی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تھا۔ لیکن لوگوں کو اب بھی اس بارے میں بہت تشویش ہے۔ ماحولیات سے متعلق حال ہی میں سامنے آنے والی دستاویزی فلم نے انٹرنیٹ پر گرما گرم بحث چھیڑ رکھی ہے۔

دیہات میں قائم صنعتوں کے مالکان ہوں یا غیرملکی سرمایہ کار، سب کی توجہ معیشت سے متعلق اس سال کے لیے مقرر کیے گئے اہداف پر ہوگی۔ چین کی ترقی کے اہداف اس وقت غیر متعلق ہوجاتے ہیں جب معیشت آسانی سے انہیں پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔ لیکن جیسے جیسے معیشت پختہ اور سست رفتار ہورہی ہے، یہ اہداف نتائج کے حصول میں حکومت کے لیے اہم ثابت ہورہے ہیں۔ گزشتہ برس جب یہ خدشہ پیدا ہوا کہ جی ڈی پی مقررہ ہدف سے بہت کم رہے گی تو حکام نے پبلک سیکٹر میں اخراجات بڑھا دیے اور زری پالیسی میں نرمی کی۔ اس کے نتیجے میں شرحِ نمو مقررہ ہدف سات اعشاریہ پانچ کے قریب رہا۔

لی کی چیانگ کی حکومت نے موجودہ اقتصادی اہداف پچھلے سال کے مقابلے میں کم رکھے ہیں، جو اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ چین کی معیشت کو اس سال بھی مشکل حالات کا سامنا رہے گا۔ اس طرح حکومت ضروری اصلاحات نافذ کرنے کے لیے مزید کچھ رعایت حاصل کرلے گی۔ ان اصلاحات کا مقصد سرمایہ کاری اور قرضوں پر انحصار کم کرکے کھپت سے ترقی کے حصول پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔

حکومت کی جانب سے بلدیاتی اداروں اور کمپنیوں کو قرضے کی فراہمی پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے۔ چین میں بہت سے لوگوں کو امید ہے کہ مرکزی حکومت اخراجات کا مزید بوجھ برداشت کرکے انہیں سہارا دے سکتی ہے۔ اس وقت حکومت نے دوہزار پندرہ کے لیے مالی خسارہ جی ڈی پی کا دواعشاریہ تین فی صد مقرر کیا ہے جو گزشتہ برس کے ہدف دو اعشاریہ ایک فی صد سے تھوڑا بڑھ گیا ہے۔ اگر چین ترقی کی شرح کا مقرر ہدف سات فی صد حاصل کرنا چاہتا ہے تو مرکزی حکومت کو بڑے پیمانے پر رقم فراہم کرنا ہوگی۔

(مترجم: سیف اﷲ خان)

“The economy: Go slow”.
(“The Economist”. March 7, 2015)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*