ایک سازش کا احساس

بغداد پہلے ہی سے روز افزوں خودکش دھماکوں لب سڑک بم دھماکوں اور امریکی فوجی کیمپوں پر مارٹر حملوں کی تپش محسوس کر رہا تھا کہ اس پر یہ امریکی دبائو آن پڑا کہ ستمبر تک ترقی و پیشرفت کے معیارات کی تکمیل کی جائے۔ ان سب کے درمیان بغداد میں سازشی منصوبوں کی افواہیں بھی گشت کر رہی ہیں جسے وزیراعظم نورالمالکی نے اپنے سیاسی حریفوں کو موردِ الزام ٹھہرا کر اور گھمبیر بنا دیا ہے۔ بقول نورالمالکی کے معاونین کے سیاسی حریفوں سے اشارہ سابق عراقی وزیراعظم جناب ایاد علاوی کی طرف ہے جو مبینہ طور پر ’’بیرونِ ملک کی انٹیلی جنس‘‘ کی مدد سے حکومت کے خلاف ’’سازش‘‘ کر رہے ہیں (علاوی نے کسی سازشی منصوبے سے اپنے تعلق کی تردید کی ہے)۔ مالکی حکومت کے بعض لوگ وزیرِ خارجہ ہوشیار زیباری سے بھی زیادہ داخلی چیلنجز کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ ہوشیار زیباری کُرد ہیں اور جون ۲۰۰۴ء میں تشکیل پانے والی عبوری حکومت میں اُنھیں وزیرِ خارجہ کا قلمدان دیا گیا تھا اور اُس وقت سے آج تک وہ اس منصب پر برقرار چلے آرہے ہیں۔ ’’نیوزویک‘‘ کے نمائندے Melinda Liu اور Larry Kaplow نے زیباری سے گفتگو کی ہے جس کا متن درج ذیل ہے:


نیوزویک: واشنگٹن فوری طور سے پیش رفت دیکھنا چاہتا ہے۔ سینئر امریکی حکام اور مالکی کے مابین گفتگو کا لہجہ کیا ہے؟

زیباری: صدر بش اور امریکی حکومت کا پیغام بہت ہی واضح اور مستقل ہے۔ وہ ہمیں تیزی سے قدم بڑھانے کے لیے آمادہ کر رہے ہیں اور حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ اس شور شرابے کا کُل مقصد درحقیقت (سیاسی پیش رفت کے لیے) مہلت لینا ہے۔ امریکی انتخاب میں عراق ایک غالب مسئلہ ہے۔ جتنے بھی امریکیوں سے ہماری بات ہوئی، وہ یہی کہتے ہیں کہ ’’ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور آپ کی کامیابی کے لیے معاونت کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے بہت زیادہ خون اور سرمایہ دیا ہے۔ ہم نہ کمی کر رہے ہیں اور نہ بھاگ رہے ہیں لیکن یہ حکومت آپ کی ہے۔ بعض چیزیں ہم نہیں کر سکتے ہیں لہٰذا وہ آپ کریں‘‘۔

نیوزویک: آپ کے خیال میں ’’پیشرفت کی مہم‘‘ سے متعلق کانگریس کو رپورٹ کرتے ہوئے ستمبر میں جنرل David Petraeus کیا کہیں گے؟

زیباری: وہ یہی کہیں گے کہ ’’میں نے زیادہ تر مقاصد حاصل کر لیا ہے، لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ ہمیں ایک سنجیدہ سیاسی تحریک کی ضرورت ہے اور یہ میرا کام نہیں ہے۔ جہاں تک قومی ہم آہنگی کا سوال ہے وہ نہیں ہو سکا ہے‘‘۔ ہم لوگ جو عراقی حکومت میں ہیں، بعثیوں کے خاتمے اور عدالتی عمل کی جانب پیش رفت کا عزم کیا تھا۔ تیل اور ریونیو کی تقسیم کے دوسرے قوانین سے متعلق پیش رفت ہے۔ جہاں تک ملیشیا کا تعلق ہے یہ حکومت کی پالیسی ہے کہ ملیشیا کو شاہراہوں پر نہ لایا جائے۔ یہ تمام حکومتی اہداف اور معیارات ہیں جن سے متعلق عوام کسی پیش رفت اور حرکت کی توقع کرتے ہیں، اب بھی کچھ وقت ہے۔ لہٰذا ہم نے ہنوز انھیں ترک نہیں کیا ہے۔

نیوزویک: کیا آپ مالکی اور پیٹروس کے تعلقات پر روشنی ڈالیں گے؟

زیباری: تعلقات دشوار ہیں۔ کون انچارج ہے؟ فیصلے کون کرتا ہے؟ میری ہمدردی ہے، اس لیے کہ خطوط دھندلے ہیں۔ وزیراعظم اس اعتماد سے عاری ہیں کہ وہ فون اٹھا کر امریکی فوج کو حکم دیںاور امریکی فوج اسے بجا لانے کے لیے آمادہ ہو۔ مالکی کو مزید اختیار و قدرت کی ضرورت ہے۔

نیوزویک: کیا عراقی سیاستدانوں کو یہ معلوم ہے کہ امریکیوں کی قوتِ برداشت روز بروز کم ہوتی جارہی ہے؟

زیباری: میں نے بارہا پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ آپ کا طرزِ عمل یہ نہیں ہونا چاہیے کہ گویا یہ معمول کا کام ہو۔ نہیں! ایسا نہیں ہے۔ لوگ پیش رفت کی توقع کرتے ہیں۔

نیوزویک: وزیراعظم کے متعلق کیا خیال ہے؟

زیباری: وہ عجلت کی ضرورت تسلیم کرتے ہیں۔ بہرحال سیاسی زمینہ ادھر حال ہی میں تبدیل ہو گیا ہے جس نے ان کے کام کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ متحدہ شیعہ محاذ ٹوٹ چکا ہے۔ پارلیمنٹ صحیح طریقے سے کام نہیں کر رہی ہے۔

نیوزویک: مالکی بغاوت کی افواہوں کی بات کرتے ہیں جس سے ان کا اشارہ علاوی کی جانب ہوتا ہے اگرچہ وہ ان کا نام نہیں لیتے۔

زیباری: سازش کی بھنک تو ہے۔ علاوی خطے میں چاروں طرف گھوم رہے ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ کچھ گروہ ہیں جو حکومت کو نقصان پہنچانے کے در پے ہیں۔ انھوں نے اس کی شکایت واشنگٹن اور لندن سے بھی کی۔ انھوں نے ہمیشہ ہمیں جواب دیا کہ ’’ہم اس سازش کا حصہ نہیں ہیں۔ ہم آپ کی حمایت کرتے ہیں۔ آپ کی حکومت قانونی حکومت ہے‘‘۔ اگر کوئی ڈرامائی تبدیلی ہوتی ہے تو اس سے سیاسی عمل معطل ہو جائے گا۔ علاوی جس چیز کی اُمید کر رہے ہیں، وہ ممکن نہیں ہے۔ اس کا مطلب امریکا کی ناکامی ہے۔

نیوزویک: علاوی کی وہ کون سی روش تھی جس نے مالکی کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ وہ بغاوت کی سازش میں مصروف ہیں؟

زیباری: اس حکومت کے تشکیل پانے سے پہلے بہت بڑی سازش تھی جو حکومتی قیاسات کو غذا بہم پہنچاتی ہے۔ وہ چھ جمع دو گروپ کی متحدہ سازش ہے۔ ایک گروپ میں کویت، سعودی عربیہ، ترکی، متحدہ عرب امارات، مصر اور اُردن کے انٹیلی جنس سربراہان تھے اور دوسرے گروپ میں امریکا اور برطانیہ کے انٹیلی جنس سربراہان۔ ان کا یہ مقصد تھا کہ سنیوں کو عراقی انتخابات میں شرکت پر ابھارا جائے اور ایران کے اثر و رسوخ کو ختم کیا جائے۔ انھوں نے اس کام میں اپنی سراغ رسانی کی توانائی اور مالی قوت جھونک دی۔ اس اقدام کو وزیراعظم نے مثبت خیال نہیں کیا۔ لیکن ہم نے اس معاملے سے بغیر کسی شور شرابہ کے خاموشی سے نمٹ لیا۔ انتخاب کے بعد چھ جمع دو گروپ باقی رہا، بغیر عراق کی شمولیت کے۔ میں نے اُن سے شکایتاً کہا کہ ’’آپ لوگ عراق پر بحث کرتے ہیں اور ہم وہاں موجود نہیں ہوتے‘‘۔ اس نے ناگوار احساسات پیدا کیے۔ شیعہ اور دوسرے لوگوں نے بھی اسے شیعہ مخالف اقدام کے طور پر دیکھا۔ کردوں نے بھی محسوس کیاکہ ترکی کو اس میں کیونکر دلچسپی ہے، لہٰذا ضرور دال میں کچھ کالا ہے۔ وہ ہر دو یا تین ماہ پر ملتے ہیں۔ ہمارے بعض لوگوں نے یہ رپورٹ دی کہ علاوی نے چھ جمع دو سے (مئی میں) ملاقات کی ہے یا یہ کہ علاوی کے پاس ایک کمزور سا آدمی ہوتا ہے جو کرد ہے اور وہ سابق حکومت کے ساتھ اس کام کے لیے تعاون کیا کرتا ہے۔

نیوزویک: کمزور آدمی سے مراد ارشاد زیباری ہے؟

زیباری: وہ میرا کزن ہے۔ وہ صدام حکومت میں ریاستی وزیر تھا۔ علاوی کچھ چہروں کو سامنے لانا چاہتا تھا تاکہ وہ ظاہر کر سکے کہ اس کے نئے بلاک میںتمام عراقیوں کی نمائندگی ہے۔ لیکن حقیقت ہے کہ کرد رہنما مسعود برزانی، عراقی صدر جلال طالبانی اور مالکی واقعتا پریشان تھے۔ یہ بلاک ایسے عناصر کا حامل ہے جو واقعتا حکومت کے خلاف موثر ہیں۔ مگر ان کی علاوی کے خلاف تنقید علاوی کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے۔ میں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ امریکا اور برطانیہ سے اس کی تصدیق کرے کہ کہیں وہ تو اس کا حصہ نہیں۔ وہ دونوں راستوں پر گامزن نہیں رہ سکتے۔ یہ ممکن نہیں کہ وہ اس حکومت کی بھی حمایت کریں اور ان لوگوں کے ساتھ بھی کام کریں۔ میں نہیں سمجھتا ہوں کہ واشنگٹن علاوی کی حمایت کرے گا یا اس کی حوصلہ افزائی کرے گا۔

(بشکریہ: ’’نیوزویک‘‘۔ شمارہ: ۲ تا ۹ جولائی ۲۰۰۷ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*