ہولوکاسٹ: صہیونیوں کے لیے سونے کا انڈا دینے والی مرغی

صہیونی زدہ مغربی ممالک کی تمام ثقافتی اور سماجی پالیسیاں یہودیوں کی مظلومیت کے زیرِ اثر رہتی ہیں۔ جس طرح مسلمانوں کے پاس شہیدوں کی داستانیں ہیں جن سے وہ معنوی طاقت حاصل کرتے ہیں، اسی طرح صہیونیوں نے ہولوکاسٹ کا دعویٰ کر رکھا ہے اورمبینہ ہولو کاسٹ کے موقع پر ہونے والے مظالم کی صرف شدت بڑھانے کے لیے ۶۰ لاکھ سے زیادہ یہودیوں کے قتلِ عام کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہیں نازی جرمنی (ہٹلر) کے حکم سے بھٹیوں میں جلا دیا گیا اور گیس چیمبرز میں لے جاکر قتل کر دیا گیا۔ صہیونی خونخوار ان خود ساختہ اذیتوں کا ذکر کر کے دنیا کی ہمدردی حاصل کرتے ہیں اور سچ بیان کرنے سے منع کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایسے قوانین بھی بنائے گئے ہیں کہ ہولو کاسٹ یا یہودیوں کے قتل عام کی مخالفت میں لب کشائی نہ ہو سکے۔ اس واقعے کے اچھالنے پر پولینڈ کے ایک معروف یہودی مصنف ’’کرٹس‘‘ کو ۲۰۰۲ء میں ادب کا نوبل انعام دے دیا گیا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ بڑی طاقتوں کے سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے نوبل انعام دنیا کے مخصوص لوگوں کو ہی ملتا ہے۔ مثلاً ۱۹۹۲ء میں ادب کا نوبل انعام بھی اس یہودی کو ملا تھا جس نے لکھ دیا تھا کہ ’’بیسویں صدی کا سب سے اہم واقعہ یہودیوں کا قتلِ عام تھا (یعنی ہولوکاسٹ) لیکن ہم لوگوں نے اس سے کوئی سبق نہیں سیکھا کیونکہ بعض دفعہ اس سے انکار بھی کر دیا جاتا ہے‘‘۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ایسے لکھنے والے کو جسے خود پولینڈ میں کوئی نہیں جانتا، راتوں رات ادب کا نوبل انعام کیوں عطا کر دیا جاتا ہے؟ اس کے جواب کے لیے پولینڈ کے دو اور افراد کی کہانی سننے کے قابل ہے: ۱۔ لوئی شلکواور ۲۔ ایلی ویزل۔

پہلے مارشلکو کا تذکرہ جس نے ہولو کاسٹ کو فرضی قصہ قرار دیا تو اسے گوشۂ گمنامی میں دھکیل دیا گیا۔ جب کہ ایلی ویزل نے اپنی پوری طاقت سے ہولو کاسٹ کی تبلیغ کی، جس کے نتیجے میں اسے زمین سے اٹھا کر آسمان پر پہنچا دیا گیا۔ مارشلکو، پولینڈ کا عیسائی محقق ہے اس نے ۱۹۵۸ء میں ایک کتاب پولش زبان میں لکھی جس کا بعد میں انگریزی میں ترجمہ ہوا جسے کرسچین بکس کلب نے یورپ میں شائع کیا۔ اس کتاب سے چند باتیں ملاحظہ فرمایئے۔

۱۔ سیاسی طور سے معاشرے پر حکومتی اداروں کی حکومت ہوتی ہے۔ لیکن معاشی یا اقتصادی طور پر یہ لگام ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے جنہیں دولت و ثروت کے اعتبار سے اہم مقام حاصل ہوتا ہے۔ ان افراد کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چھوٹے موٹے ممالک کی حکومت، صدر، وزیراعظم حتیٰ کہ پارلیمنٹ بھی ان افراد کا حکم ماننے پر مجبور ہوتی ہے۔ یہودیوں کو یہ راز پرانے زمانے سے معلوم ہے کہ ان اہم افراد کو اپنے اختیار میں کس طرح رکھیں، ان سے کیسے فائدہ اٹھائیں اور دنیا کی سیاسی قوتوں کو کن طریقوں سے قابو میں لائیں یا پردے کے پیچھے سے کس طرح حکومتوں اور عوام کی تقدیر کا فیصلہ کریں۔

مارشلکو دوسری جنگِ عظیم کے بعد کے امریکی حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتا ہے کہ ’’امریکا کے ۴۴۰ امیر ترین غیر یہودی خاندانوں کے پاس ۲۵ ارب ڈالر کی دولت تھی جب کہ مٹھی بھر یہودی خاندانوں کے پاس موجود دولت کا اندازہ ۵۰۰ ارب ڈالر لگایا گیا تھا۔

۲۔ صہیونیوں نے یہودیوں کے قتلِ عام کا پروپیگنڈا کر کے متعدد مادی، سیاسی اور معاشی فوائد اٹھائے۔ عالمی تجارت پر قبضہ جمایا اور دنیا کو اپنے پنجے میں جکڑنے کی پالیسی جاری رکھی۔

یہاں پر مارشلکو نے دلچسپ اعداد و شمار سے یہ ثابت کیا ہے کہ ۵۰ لاکھ یا ۶۰ لاکھ یہودیوں کا قتلِ عام محض ڈرامہ اور فریب ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہٹلر اور اس کے ساتھیوں کی زد میں زیادہ سے زیادہ ۵ لاکھ یہودی تھے یعنی پورے جرمنی اور پولینڈ اور اس کے پڑوسی ممالک میں یہودیوں کی مجموعی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ نہ تھی۔ اب اگر نازیوں نے تمام یہودیوں کو بھی مار دیا ہو (جو کہ نہیں ہوا) تو بھی مرنے والے یہودیوں کی تعداد ۵ لاکھ سے آگے نہیں بڑھتی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں عیسائی دنیا کا کتنا نقصان کیا تھا نازیوں نے؟ اس کو نہ عیسائی دنیا یاد کرتی ہے نہ پروپیگنڈا کرتی ہے نہ رونا روتی ہے۔

صرف پولینڈ کی اس وقت کی کل آبادی آج کل کے تمام یہودیوں سے زیادہ نہیں تھی۔ پولینڈ نے اس دوسری جنگ عظیم میں جو قربانیاں دی ہیں وہ بھی دس لاکھ سے زیادہ نہیں ہیں۔ پولینڈ کا ذکر اسی لیے اہمیت کا حامل ہے کہ جنگ وہیں سے شروع ہوئی تھی۔

چرچل کہتا ہے کہ جھوٹ کی دو اقسام ہوتی ہیںایک وہ جھوٹ جو بے شرمی سے بولا جائے اور دوسرا وہ جھوٹ جو اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں سیاسی اور معاشی رنگ میں پیش کیا جائے۔ صہیونیوں نے اپنے نقصان کے ازالے کے لیے یورپی ممالک سے اب تک کھربوں ڈالر وصول کر لیے ہیں اور سیاسی طورپر اسرائیل کا وجود حاصل کیا اور اب اپنی مظلومیت اور خطرے میں ہونے کی صورت بیان کر کے واویلا کیا ہوا ہے۔

۳۔ مارشلکو گیس چیمبر اور انسانوں کو جلانے والی بھٹی کے حوالے سے بھی ثبوت پیش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ فرانس کے ایک زیر زمین خفیہ صہیونی روزنامہ ’’شم‘‘ کے ۸ جنوری ۱۹۴۴ء کے شمارے میں جرمنی میں قید یہودیوں کے ۹ کیمپوں کا حال لکھا ہوا ہے۔ اس کی مکمل تفصیل پڑھ کر بھی یہ نہیں پتہ چلتا کہ یہودیوں کے ساتھ انسانیت سوز مظالم ہوئے ہوں۔ اس رپورٹ میں کسی گیس چیمبر، موت کے کمروں یا بچہ کشی کا ذکر بھی نہیں ہے بلکہ اس یہودی اخبار نے لکھا ہے کہ جرمنوں نے ۷ سال تک کے یہودی بچوں کو جرمنی کے مختلف اسپتالوں میں بہتر نگہداشت کے لیے بھیج دیا تھا۔

اس رپورٹ میں مارشلکو نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ۱۹۴۵ء کے اواخر میں صہیونیوں نے کس طرح ایک باغ کو اجاڑ کر ویران کیا۔ اس کی تفصیل یوں ہے کہ کسی بھی قیدیوں کے کیمپ کو اجاڑ اور ویران دکھانے کے لیے اس کا حلیہ بدل دیا جاتا تھا کیونکہ فلم بنانے والے یہودیوں کو یہ بات فلم بینوں کو نہیں دکھانی تھی کہ یہودیوں پر خوبصورت باغوں میں تشدد ہوتا تھا اور انہیں ہاسٹل کے صاف ستھرے کمرے رہائش کے لیے ملے ہوئے تھے۔ فلم ساز ادارے ماحول کو خوفناک اور ہولناک بنانے کے لیے ویسا ہی بنا دیتے تھے۔ اسی لیے ایک ایسا خصوصی حوض بنایا گیا جس میں ایک نکاسی کا پائپ باہر کی طرف نکلا ہوا تھا تاکہ اس طرح ظاہر کیا جائے کہ یہودیوں کا خون بہا کر اس پائپ کے ذریعہ باہر نکال دیا جاتا تھا۔ یہ ایک دلخراش منظر تھا۔ اسی طرح قیدیوں کے کیمپ میں داخل ہونے کا منظر، قیدیوں کو مار مار کر کپڑے بدلوانے کا منظر، حمام میں قیدیوں کو بھر کر تالا لگانا اور پھر نلکوں سے پانی کے بجائے زہریلی گیس کا نکلنا ان تمام باتوں کے ایجاد کرنے والے خود یہودی تھے کیونکہ وہ اپنے اوپر ہونے والے مظالم کو سچائی کا رنگ دینا چاہتے تھے۔

سیاسی طور پر ہولو کاسٹ کو منوانے کے لیے صہیونی ہمیشہ کمربستہ رہتے ہیں۔ اسی لیے جب کبھی کوئی بڑا انعام (جیسے نوبل انعام) ملتا ہے تو صہیونی سوچ رکھنے والوں اور ان کی خدمت کرنے والوں کو ہی ملتا ہے خاص طور پر ہولو کاسٹ کے حوالے سے۔

مارشلکو آخر میں کہتا ہے کہ ۶۰ لاکھ چوہوں کا مارنا بھی مضحکہ خیز ہے انسانوں کی تو بات ہی الگ ہے اور پھر مارنے کے آسان، سستے اور فوری طریقے چھوڑ کر مشکل، مہنگے اور طولانی طریقوں سے یہودیوں کو مارنا بھی فضول اور لغویات ہے۔

اب آیئے دوسرے مصنف کی طرف جس کا نام ’’ایلی ویزل‘‘ ہے۔ یہ ۱۹۲۸ء میں پیدا ہوا۔ جب گیارہ سال کا ہوا تو دوسری جنگِ عظیم چھڑ گئی۔ جنگ کے خاتمہ پر اس کا گھرانہ فرانس ہجرت کر گیا۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد فرانس کے صہیونی اخبار سے منسلک ہو گیا اور لکھنے میں ملکہ حاصل کیا۔ پھر بہت کچھ لکھ ڈالا مگر سب کچھ صہیونی نظریات کے پرچار کے لیے۔ پانچ چھ سال کے اندر ۳۰ سے زیادہ کتابیں لکھ ڈالیں۔ ۱۹۸۶ء میں ۵۸ سال کی عمر میں اس کو امریکا میں نوبل انعام سے نوازا گیا کیونکہ صہیونیوں کے مقصد کی خدمت کی تھی۔ اس سارے معاملے کو سمجھنے کے لیے یہ پڑھ لیجیے کہ نوبل انعام دینے کا فیصلہ کرنے والی جیوری کے افراد اس مصنف کی کس کارکردگی پر انعام دے رہے ہیں۔

ایلی ویزل کو نوبل انعام اس لیے دیا جا رہا ہے کہ وہ خود کو ہولو کاسٹ کے نظریے کا سچا محافظ سمجھتا ہے۔ پوری زندگی اس کی کوشش یہی رہی ہے کہ اس واقعہ کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ تمام دنیا میں ہونے والے قتلِ عام پر افسوس کا اظہار کرتا ہے۔

اس عبارت کا اصل مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جب کبھی اور کہیں بھی ظلم کی مثال دی جائے تو یہودیوں کے قتلِ عام کو مثال بنایا جائے۔ مثلاً سرائیوو اور بوسنیا کے واقعات کا تذکرہ کرنا ہے تو کہتا ہے کہ اسے دیکھ کر ہولو کاسٹ کی یاد تازہ ہو جاتی ہے جب یہودیوں کو بے قصور اجتماعی طور پر قتل کر دیا گیا تھا اسی لیے ان واقعات کی بھی مذمت کی جانی چاہیے۔

’’ایلی ویزل‘‘ ہولو کاسٹ کے بارے میں لکھتا ہے کہ چونکہ یہ قتلِ عام انسان سے متعلق ہے لہٰذا اسے تاریخ کا حصہ نہیں بننا چاہیے بلکہ تاریخ سے ماوراء یا تاریخ سے بالاتر مقام دیا جانا چاہیے تاکہ ہمیشہ زندہ رہے۔ یہ اتنا نادر واقعہ ہے کہ کسی بھی ظلم کو ہولو کاسٹ کی مثال دینا دراصل تاریخ کو قتل کرنا ہے لہٰذا کسی بھی بڑے سے بڑے ظلم کی بھی مثال ہولو کاسٹ نہیں دی جا سکتی ہے۔

ملاحظہ فرمایا؟ ایلی ویزل کے خیال میں پہلی جنگِ عظیم کے واقعات، دوسری جنگِ عظیم کے بے شمار مظالم، ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم کا حملہ، بوسنیا، سرائیوو اور دنیا کے دوسرے تمام قتلِ عام کے واقعات اس قابل نہیں ہیں کہ ان کا تذکرہ اہمیت کے ساتھ کیا جائے کیونکہ ان واقعات میں کوئی یہودی شامل نہیں ہے۔

ایلی ویزل پولینڈ کا یہودی ہے وہ اپنے ناول ’’شب‘‘ میں دوسری جنگِ عظیم کے آخر میں پولینڈ میں رہنے والے یہودیوں کی زندگی کی منظر کشی کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ انسانوں کو زندہ جلانے کے واقعات کو زندہ کر کے پیش کر دے۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ تمام انسان یہودی تھے۔ جس زمانے میں وہ یہ ناول لکھ رہا تھا اس وقت وہ جوان تھا لہٰذا یہودیوں پر ہونے والے مظالم کی جذباتی تصویر کھینچتے ہوئے وہ مضحکہ خیز مثالیں دے گیا۔ یہاں تک کہ گیس چیمبر کا تذکرہ کرنا بھی بھول گیا کیونکہ وہ گیس چیمبر حقیقت میں تو کہیں تھا ہی نہیں لہٰذا اس کو بھول جانا ایک قدرتی امر ہے۔ پھر دو تہائی ناول میں عجیب و غریب طریقوں سے یہودیوں کو اذیتیں دینے کا ذکر کرتا ہے۔ اس نے دو بڑے گڑھوں کا ذکر کیا ہے جن میں سے ایک میں بوڑھے ڈالے جاتے تھے اور دوسرے میں جوان اور بچے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان گڑھوںکا ذکر اس کے ناول کے علاوہ کہیں نہیں ملتا ہے۔ ایک جگہ لکھتا ہے کہ:

’’جہاں ہم قید تھے اس کے نزدیک ایک گڑھا تھا۔ گڑھے میں کیا تھا وہ ہمیں نظر نہیں آتا تھا بس آسمان تک شعلے جاتے تھے اس کے بعد ایک ٹرک آتا اور جو کچھ اس میں ہوتا وہ گڑھے میں ڈال دیا جاتا تھا۔ یہ لڑکے اور بچے ہوتے تھے۔ جی ہاں میں نے خود دیکھا ننھے ننھے بچے جلا دیئے جاتے تھے۔ میں نے اپنی ان دو آنکھوں سے معصوم بچوں کو آگ میں جلتے ہوئے دیکھا ہے۔ کافی عرصے تک میں نہ دن میں سو سکا نہ رات میں۔ اس گڑھے سے آگے ایک ذرا بڑا گڑھا تھا جس میں بڑے اور بوڑھے جلائے جاتے تھے۔ ہم لوگ اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے‘‘۔

یہ اور اس قسم کی مضحکہ خیز باتیں پورے ناول میں بھری پڑی ہیں۔ ۶۰ لاکھ چوہے بھی اس طرح نہیں مارے جا سکتے تو بھلا انسان کیسے مارا جاتا۔ یہ سب یہودیوں کے ذہن کی اختراع ہے۔ ہاں جنگ تھی، دونوں طرف سے کشت و خون کا بازار گرم تھا۔ لیکن صرف یہودیوں کی اس طرح سے مظلومیت نمائی کرنا انتہائی مضحکہ خیز ہے۔

نوبل انعام یافتہ افراد اپنے آپ کو دنیا کے عظیم انسانوں میں شامل سمجھتے ہیں۔ ایلی ویزل بھی ان میں سے ایک ہے۔ یہ لوگ شعوری کوشش کرتے ہیں کہ لوگوں کے ذہنوں سے مذاہب کے تقدس اور احترام کو کم کر دیا جائے تاکہ بین الاقوامی طور پر دنیا کے ممالک اور دنیا کے عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے بڑی طاقتوں کی طرف ہی دیکھا کریں جن پر یہودیوں کا قبضہ ہے۔

ایلی ویزل نے ۱۸ جنوری سے ۲۰ جنوری ۱۹۶۸ء کو فرانس میں پہلی مرتبہ تمام نوبل انعام پانے والوں کو ایک کانفرنس میں جمع کیا۔ اس کے لیے اس نے فرانسیسی صدر فرانسواں متراں سے درخواست کی جس نے اس کانفرنس کا اہتمام کروایا۔ اس کانفرنس میں ۱۴ ممالک سے ۷۵ مہمان آئے تھے اور بند کمرے میں یہ کانفرنس منعقد کی گئی۔

ایلی ویزل نے اس وقت کے امریکی صدر رونالڈ ریگن کا نازیوں کے قبرستان جانے کا مضحکہ اڑایا۔ اس متعصب یہودی نے فرانسیسی صدر متراں سے انٹرویو کے بہانے ان کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ یعنی ایلی ویزل فرانس کی طرف سے اسرائیل کی حمایت اور طرفداری سے پوری طرح مطمئن نہیں تھا بلکہ مزید تقاضے کر رہا تھا۔ متراں ایک جہاندیدہ اور تجربہ کار سیاستدان رہے ہیں انہوں نے بڑے محتاط طریقے سے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ دریائے اردن کے اطراف میں فلسطینیوں کو بھی آباد رہنے کا حق حاصل ہے۔ یہ سنتے ہی ویزل بھڑک اٹھا اور اس نے انتہائی چبھتے ہوئے سوالات فرانسواں متراں سے کرنے شروع کر دیئے کہ ایک اطلاع کے مطابق آپ کے اور نازیوں کے درمیان خفیہ تعلقات ہیں۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ صہیونی ہر اُس سربراہِ مملکت کو بھی ذلیل کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں جو فلسطینیوں کے حقوق کا بھی قائل ہو۔ بہرصورت صدر متراں نے جواب دینے سے پہلے یہ کہا کہ میں اس سوال کا جواب اس لیے دے رہا ہوں کہ سوال پوچھنے والے تم ہو ورنہ میں ان لوگوں کا جواب دہ نہیں ہوں جن کو بغیر کسی دلیل کے جج کی کرسی پر بٹھا دیا جاتا ہے۔ متراں کا یہ جملہ ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا کی سیاست پر صہیونیوں کا اقتدار کتنا مضبوط ہے۔ بلا شبہ ایلی ویزل کو یہ طاقت اس لیے ملی ہے کہ وہ اسرائیل کا سچا خیر خواہ ہے۔ ایلی ویزل خود کو اور اسرائیل کو ایک ہی سمجھتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ مخالفین ہمارے دل سے اسرائیل کو نکال دینا چاہتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہو گا۔

صہیونیوں نے جرمنی، آسٹریا، پولینڈ، سوئٹزرلینڈ کے علاوہ بھی جہاں سے ممکن ہوا اپنے اوپر ہونے والے مظالم کے ازالے کے لیے اربوں ڈالرز جمع کیے ہیں۔

نیویارک یونیورسٹی کے ایک یہودی پروفیسر نارمن فینکل اسٹائن نے ایک دلچسپ کتاب ’’ہولو کاسٹ کا کاروبار‘‘ کے نام سے لکھی ہے جس میں انہوں نے صہیونیوں کے پیسے جمع کرنے کے طریقوں پر روشنی ڈالی ہے یعنی ہولو کاسٹ آج بھی ان کے لیے سونے کا انڈا دینے والی مرغی ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ جو بھی ہولو کاسٹ کا مخالف ہے وہ اسرائیل دشمن ہے۔ چنانچہ ایلی ویزل ڈیلی ٹیلی گراف اسی نارمن فینکل اسٹائن کے بارے میں واضح طور پر کہتا ہے کہ وہ ہولو کاسٹ کی مخالفت کر کے اسرائیل کو کمزور کرنا چاہ رہا ہے۔

مشہور فرانسوی رائٹر (ژاک لانزمن) نے ۱۹۴۴ء میں واضح طور پر ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اسرائیل ہر چیز سے پہلے ۶۰ لاکھ یہودیوں کا ملک ہے جنہیں نازیوں نے دھواں بنا دیا۔ ہر زندہ اسرائیلی کے پیچھے دو مردہ یہودی موجود ہیں جو اسے پوری دنیا کے مقابلے میں ثابت قدم رکھے ہوئے ہیں۔ خدا کا شکر (!) کہ ابھی فلسطینیوں کی تعداد اتنی نہیں ہوئی۔ چنانچہ اگر انتفاضہ کے دوران مارے جانے والے تمام فلسطینیوں کو جمع کیا جائے تو مجموعی طور پر تین یا چار ۷۴۷ ہوائی جہازوں سے زیادہ نہیں بھر پائیں گے۔ درحقیقت فلسطینی رہنمائوں نے تین یا چار ہوائی جہازوں کے گرنے پر پوری دنیا کو سر پر اٹھایا ہوا ہے(!)

(بشکریہ: ماہنامہ ’’طاہرہ‘‘ کراچی ۔شمارہ: ستمبر ۲۰۰۸)

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*