تاریخ کے مختلف ادوار میں مسلمانوں کا ’’ہالوکاسٹ‘‘

مسلمانوں کو سب سے پہلے بڑے ہالوکاسٹ کا سامنا ۱۵ جولائی ۱۰۹۹ء بروز جمعہ بیت المقدس میں ہوا جو صلیبی جنگجوئوں کی طرف سے مسلط کردہ تھا۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ ۱۵ جولائی کو مسلم ہالو کاسٹ کے عالمی دن کے طور پر منائے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو بتائیں کہ ۱۵ جولائی کا دن ’’مسلم ہالوکاسٹ‘‘ کا دن ہے۔ اُمتِ مسلمہ کو چاہیے کہ وہ پوری دنیا کے لوگوں کو تاریخ میں اپنے اوپر ہونے والے مظالم سے آگاہ کریں۔ مسلمانوں کی نسل کشی اور اُن پر مسلط کردہ ہالو کاسٹ کے چند اہم واقعات:
۱) بیت المقدس پر قبضہ کرنے کے دوران اور اس کے بعد صلیبی جنگجوئوں نے ۵ لاکھ سے زائد مسلمانوں کو قتل کیا۔
۲) چنگیز خان اور اس کی فوج نے عراق اور اس کے ہمسایہ علاقوں پر قبضہ کے دوران دس لاکھ سے زائد مسلمانوں کو قتل کر دیا۔
۳) ہسپانوی صلیبیوں نے جنوبی امریکا میں لاکھوں مسلمانوں کو قتل کیا اور لاکھوں کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا۔
۴) سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف بغاوت کے دوران ۱۵ لاکھ سے زائد مسلمان ہسپانوی اور دیگر یورپی انتہا پسندوں کے ہاتھوں قتل اور اپنی جگہ سے بے دخل کر دیے گئے۔
۵) پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے بعد مسلم ممالک پر قبضہ کرتے ہوئے اور قبضہ مکمل کرنے کے بعد یورپ کی سامراجی طاقتوں نے ۳۰ لاکھ سے زائد مسلمانوں کو قتل اور اپنی جگہ سے بے دخل کر دیا۔
۶) روس کی زار سلطنت کے ہاتھوں ۵۰ لاکھ جبکہ اشتراکی حکومت کے ہاتھوں دس لاکھ سے زائد مسلمان قتل اور اپنی جگہ سے بے دخل کر دیے گئے۔
۷) دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے چین، کمبوڈیا، ویتنام اور مشرقِ بعید کے دیگر ممالک میں ۱۵ لاکھ سے زائد مسلمان قتل کر دیے گئے۔
۸) دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے برما میں ۵ لاکھ سے زائد مسلمان قتل اور اپنی جگہ سے بے دخل کر دیے گئے۔
۹) ۱۹۴۷ء کے بعد سے بھارت اور (مقبوضہ) کشمیر میں ۵ لاکھ سے زائد مسلمان موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔
۱۰) ۱۹۹۰ء کی دہائی کے اوائل میں سربوں اور کروٹوں کے ہاتھوں ۵ لاکھ سے زائد مسلمان قتل کیے گئے۔
۱۱) ۱۹۹۰ء کے وسط میں البانیا اور کوسوو میں ایک لاکھ سے زائد مسلمان قتل کر دیے گئے۔
۱۲) ۱۹۴۸ء کے بعد سے فلسطین میں ۵۰ لاکھ سے زائد مسلمان قتل اور اپنی جگہ سے بے دخل کر دیے گئے۔
۱۳) افغانستان پر روسی قبضہ کے نتیجے میں ۵۰ لاکھ سے زائد مسلمان قتل اور اپنی جگہ چھوڑنے پر مجبور کیے گئے۔
۱۴) ۱۹۹۰ء کی دہائی میں امریکا اور اقوامِ متحدہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کے دوران عراق میں ۱۰ لاکھ سے زائد بچے نامناسب غذا کے سبب ہلاک ہو گئے۔
۱۵) سامراجی طاقتوں سے آزادی حاصل کرنے کے بعد مسلم ممالک میں سیکولر حکومت جنہیں مغربی حکومتوں کی پشت پناہی حاصل تھی، کے ذریعے ہزارہا مسلمانوں کا قتل ہوا۔
۱۶) ابھی حال ہی میں یعنی ۲۰۰۲ء کے بعد سے امریکی افواج کے ہاتھوں عراق اور افغانستان میں ایک لاکھ سے زائد معصوم مسلمان شہریوں کا قتلِ عام ہوا۔
۱۷) مسلمانوں کے درمیان تازہ خانہ جنگیوں (فلسطین، لبنان اور عراق) کو ہوا دی گئی اور کئی مزید خانہ جنگیاں ابھی منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہیں۔ ان خانہ جنگیوں میں ہزارہا مسلمان قتل ہوئے اور کئی مسلم ملکوں کی معیشت تباہی سے دوچار ہوئی ہے۔

References:- (1) H.G. Wells, “A Short History of the World,” Penguin Books, 1949. (2) “Chambers Dictionary of the World History,” Chambers, 1994. (3) G.C. Kohn, “Dictionary of Wars,” Doubleday, 1987. (4) Erna Paris, “The End of the Days,” Lester Publishing, 1995. (5) David Brownstone and Irene Franck, “Timelines of the War,” Cittle, Brown and Company, 1994. (6) A. Hourani, “A History of the Arab People,” Harvard University Press, 1991. (7) Roland Oliver and J.D. Fage, “A Short History of Africa,” 1968. (8) J. Burne, Editor, “Chronicle of the World,” Longman, 1989. (9) N. Davies, “Europe, A History,” Pimilico, 1997. (10) P. Hitti, “History of the Arabs,” Mcmillan, 1990. (11) T. Pakenham, “The Scramble for Africa,” George Weidenfeld & Nicolson, 1997. (12) J.A. Hammerton, “The Outline History of the World,” The Amalgamated Press Ltd., 1993. (13) Cox, George, W, The Crusades (1886); Laffan, R.G.D. (ed. and trans.), Select Documents of European History 800 – 1492, (1929). Note: Anyone who will be able to prove that the above mentioned numbers of Muslim casualities are wrong, will be rewarded with $1000.00

{}{}{}

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*