’’آئرش حل‘‘ مسئلہ کشمیر کا حتمی حل نہیں ہو سکتا

مقبوضہ کشمیر کی کرنٹ نیوز سروس (CNS)کے چیف ایڈیٹر جناب رشید راہی صاحب نے پچھلے دنوں حزب المجاہدین کے امیر اور متحدہ جہاد کو نسل کے چیئر مین سید صلاح الدین احمد سے موجودہ صورتحال کے پیش نظر ایک تفصیلی انٹرویو لیا۔جو ’’کشمیر الیوم‘‘ شائع کیا گیا۔اس انٹرویو سے قارئین کرام اور عوم الناس جہادی قیادت کے موقف اور اصل صورتحال سے آگاہی حاصل کر سکیں گے ۔


س: بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے کے حوالے سے آپ مسئلہ کشمیر کو کس مرحلے میں دیکھتے ہیں؟

ج: اس میں شک نہیں کہ تحریکِ آزادی ٔکشمیر ایک صبر آزما مرحلے میں داخل ہو چکی ہے ۔ بظاہر یہی لگتا ہے کہ 9/11 کے بعد عالمی سطح پر جو حالات بن گئے ہیں اور بھارت نے حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سر زمین جموں و کشمیر پر جن قیامت خیزیوں اور قہر مانیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اس سے جموں و کشمیر کے عوام کا حوصلہ اس وقت دائو پر لگا ہوا ہے لیکن مجھے امید ہے کہ جس تحریک کی آبیاری میں زائد از ۵ لاکھ فرزندان وطن کا خون اور ہزاروں لٹی ہوئی عصمتیں کام آ چکی ہوں اس تحریک کے ساتھ انشاء اللہ وطن عزیز کا عوام آخری دم تک وفاداری ہی نبھائے گا۔ میں سمجھتا ہوں ان حالات میں صبر و استقامت اور اپنی صفوں میںاتحاد کی ضرورت ہے۔ یہ حالات انشاء اللہ ہماری تحریک کی پیش رفت پر اثر انداز نہیں ہو سکتے ہیں اور تاریخ گواہ ہے، یہ نوشتۂ دیوار ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کو اپنی قربانیوں سے سینچی ہوئی تحریک کا پھل یعنی حق خودارادیت ضرور ملے گا۔ تحریکوں میں نشیب وفراز آتے رہتے ہیں۔ ان سے تحریک پر فرق نہیں پڑ سکتا ہے نہ نصب العین کے ساتھ کمپر و مائز ہو سکتاہے ۔

س: عسکری اور سیاسی عمل میں آج کے ماحول میں کس کی زیادہ اہمیت ہے ؟

ج: میں سمجھتا ہوں اگرچہ ۱۱/۹ کے بعد عالمی منظر نامے (Scenario) میں اب عسکریت کے لیے دہشت گردی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے لیکن کشمیر کی موومنٹ اس وقت بھی ایک قانونی ، اخلاقی، جائز اور مبنی بر حق جدو جہد سمجھی جاتی ہے اور یہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق ہے ۔ UNO چارٹر یہ حق دیتا ہے ہر اس قوم اور جماعت کو جسے اس کے بنیادی حق یعنی حقِ خودارادیت سے محروم کیا گیاہو، اس حوالے سے جموں و کشمیر کی تحریکِ آزادی چاہے وہ سیاسی ہو، سفارتی ہو یا عسکری یہ Legitimate اورجائز ہے ، Internationl Standard کے لحاظ سے بھی اور قانونی و اخلاقی لحاظ سے بھی ۔ آج تک اس تحریک کو انٹر نیشنل سطح پر نہ دہشت گرد قرار دیا گیا ہے نہ بھارتی منفی پروپیگنڈہ کو اس بارے میں قبول کیا گیا ہے ۔ اللہ کا احسان ہے یہ ایک عوامی تحریک ہے اور اس میں مقامی عوام شامل ہے اور جذبات بھی شامل ہیں۔ اس وقت ایک مربوط و منظم اتحاد کی ضرورت ہے ۔ بھارت کو قوت سے ہی ٹیبل پر لایا جا سکتاہے۔ البتہ ہم سیاسی پلیٹ فارم کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کر سکتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر جو طاق نسیاں میں پڑا ہوا تھا اس کو اجاگر کرنے میں مسلح جدو جہد نے ایک کردار ادا کیا اس لیے فیصلہ کن مرحلے پر لانے کے لیے مسلح جدو جہد کا کردار رہے گا اور اس کے بغیر کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے ۔

س: آپ نے سیاسی جدو جہد کو خارج نہیں کیا ہے ۔ یہاں جو سیاسی سطح پر لیڈ شپ ہے وہ کافی انتشار کا شکار ہے اور اس سے یہاں کی جاری جدو جہد پر کس قسم کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟ اور اگر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہو تو آپ اس کا تدارک کس طرح کریںگے؟

ج: اس وقت ہماری تحریک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے ۔ عالمی سطح پر اور اندرونی سطح پر اس تحریک کو اپنی منزل سے محروم کرنے کی سازشیں پنپ رہی ہیں۔ اس وقت پہلے سے زیادہ ہر محاذ پر باہمی ہم آہنگی کی ضرورت ہے ۔ اتفاق و اتحاد کی ضرورت ہے یہ جو سیاسی انتشار در انتشار ہے اور ہر ایک طاقت آزمائی کی کوششوں میں مصروف ہے اپنی اپنی لائن اختیار کر کے ، اس سے بے شک حریت پسند عوم مایوس ہو چکی ہے ۔ ہم پہلے بھی سیاسی قائدین کو اپیل کر چکے ہیں کہ وہ اپنی انانیت ترک کر کے قربانیوں کو پیش نظر رکھ کر اور ستم رسیدہ قوم کے وسیع تر مفاد میں بنیادی نصب العین کے حصول کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں ، اپنا اپنا دائرہ کار ہو سکتا ہے اپنی اپنی تنظیمیں ہو سکتی ہیں۔ لیکن ایک اعلیٰ کاز کے لیے منظم اور مربوط جدو جہد بھی ہو سکتی ہے اور وہ وقت کی اہم ترین ضرور ت ہے ۔

س: اس کا مطلب یہ ہے کہ آج کل جو اکائیاں ہیں میرواعظ ان کو جمع کر رہے ہیں۔ حال ہی میں شیخ عبدالعزیز گیلانی صاحب سے نکل کر میر واعظ حریت میں جا پہنچے ہیں اور دوسری خواتین تنظیم سے بھی کئی میر واعظ جوئن کر چکے ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اگر میر واعظ حریت کانفرنس ایک سیاسی پلیٹ فارم بن جائے تو آپ ان کو اپنا اعتماد دیں گے ؟ گیلانی صاحب کو ہم یہاں ایک سخت گیر موقف اور میر واعظ کو Modrate گروپ تصور کرتے ہیں کیا آپ Modrate گروپ کو اپنی حمایت دیں گے؟

ج: میں اپنی جہادی قیادت اور مجاہدین کی ترجمانی کرتے ہوئے یہ کہنے میں جھجک محسوس نہیں کروں گا کہ اس وقت تک مجاہدین اور جہادی قیادت محترم گیلانی صاحب کو اپنا ترجمان سمجھتے ہیں۔ کیونکہ وہ مجاہدین اور شہداء کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ہمیں کسی کی ذات سے دشمنی نہیں ہم تو اپنے کاز کے ساتھ ہیں۔ جو اس کاز کی ترجمانی کرے جس کے لیے ہزاروں قربانیاں دی گئی ہیں۔ اتنی عصمتیں لٹ چکی ہیںہم نصب العین کے لحاظ سے گیلانی صاحب کو صحیح ٹریک پر سمجھتے ہیں۔ میر واعظ صاحب نے خود یہ فرمایا اور لندن کانفرنس میں بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ ہم نے جو مسئلہ کشمیر پر Break through کرنے کی لچک دکھائی اور پاکستان نے روایتی موقف سے ہٹ کر جو لچک دکھائی تھی، جو اعتماد افزاء اقدامات کیے تھے بھارت کی طرف سے کوئی Response نہیں ملا اور میر واعظ صاحب کے یہ الفاظ ہیں کہ بھارت نہ مخلص ہے اور نہ سنجیدہ ہے ۔ ہمارے نقطہ نظر سے جس تحریک کی پشت پر لاکھوں قربانیاں موجود ہوں وہاں ہمیں سامراجی طاقت اور ظالم سے مذاکرات کی بھیک نہیں مانگنی چاہیے بلکہ ہمیں گردن اوپر اٹھا کر اس خون کے تقدس کو قائم رکھتے ہوئے بات دو اور دو چار کی طرح کرنی چاہیے۔ اگر گیلانی صاحب، شبیر شاہ، یاسین ملک، میر واعظ صاحب جو قابل ذکر رہنما ہیں وہ مل بیٹھتے ہیں اور قوم کے ساٹھ سالہ موقف یعنی حق خوداریت کے حصول پر متفق ہو جاتے ہیں تو قوم کے لیے یہ سب سے بڑی خوشخبری ہو گی اور یہ کامیابی کا پہلا قدم ہو گا۔ رہی بات کہیں سے نکلنا اور کہیں جانا؟ کہیں سے کٹنا اور کہیں سے جڑنا یہ سیاسی تحریکوں کا پرانا کردار رہاہے اس لیے کوئی قابل اعتبار چیز نہیں۔ اصل چیز ہے صبر اور استقامت اور نصب العین کے ساتھ چمٹے رہنا۔

س: گیلانی صاحب سہ فریقی مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں اور میر واعظ صاحب تکونی مذاکرات پر۔ ان کے درمیان کس طرح اتحاد قائم ہو سکتا ہے ؟

ج: تکونی اور سہ فریقی میں آسمان و زمین کافرق ہے بنیادی طور پر ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ مسئلہ کشمیر نہ کوئی سیکورٹی مسئلہ ہے نہ اندرونی مسئلہ ۔ نہ یہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان کوئی Border Disputeہے ۔ یہ آرپار تقریباً ۱۳ ملین جموں و کشمیر کے عوام کے سیاسی مستقبل کے تعین کا مسئلہ ہے ۔

اور اس وقت اسی حیثیت سے اس نے عالمی برادری کو Stand by کیا ہے۔ اب بھی ہمارا موقف یہی ہے کہ مسئلہ کشمیر عالمی مسئلہ ہے اور اس کی عالمیہیئت اور Status ہے، جب ہم براہ راست انڈیا سے بات چیت کریں گے تو یہ دو فریقی مسئلہ یا Internal Issueبنتا ہے ، جب پاکستان اور انڈیا بات کرتا ہے تو یہ ایک سرحدی تنازعہ بنتا ہے جب کہ یہ جموں و کشمیر کے مستقبل کا مسئلہ ہے جس کو عوام کی مرضی کے مطابق حل کرنا ہے اور اس کے لیے راستے تلاش کرنے ہیں۔ یہ ساٹھ سالہ موقف ہے، دو فریقی مذاکرات سے مسئلہ کشمیر کو بہت نقصان پہنچا ہے ۔ دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی براہ راست عمل درآمد ،اقوام متحدہ کی سر براہی میں ہو جائے اگر اس میں کوئی مسئلہعالمی برادری محسوس کرتی ہے تو کم سے کم جو تین بنیادی فریق ہیں پاکستان ، بھارت اور کشمیر، یہ مل بیٹھیں۔ ۳/۱ حصہ زمینی رقبہ پاکستان کے زیر کنٹرول ہے اور ساڑھے پچپن لاکھ کشمیر الاصل اور کشمیر الانسل پاکستان میں رہ رہے ہیں۔ اتنے بڑے حصے اور قوت کو نظر انداز کر کے محض دو طرفہ مذاکرات سے معاملہ حل نہیں ہو گا۔

س: آپ نے مسئلہ کشمیر کے تین فریق قرار دیے ، پاکستان، بھارت اور کشمیر جب کہ پاکستان نے یک طرفہ لچک دکھائی ہے آپ اس کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ یہ لچک جنرل مشرف کے چار نکاتی فارمولے میں دکھائی دے رہی ہے ۔ اس حوالے جو ہم یہاں Tough Stand لے رہے ہیں جب کہ بنیادی فریق لچک دکھا رہا ہے تو آپ اس کو کیسے Counter کریںگے ؟

ج: میں آپ سے جزوی اتفاق کرتا ہوں۔ آزادی پاکستان کا نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کا مسئلہ ہے، لچک پاکستانی عوام نے نہیں دکھائی بلکہ گورنمنٹ آف پاکستان نے دکھائی۔ ایک نہیں بیسیوں بار یہاں کے جنرل نے کہا کہ میں نے مسئلہ پر لچک Break through کے لیے دکھائی ۔ بھارت نے اسے کوئی Response نہیں دیا، نہ خاطر میں لایا۔ وہ Repeatedly کہہ رہا ہے کہ یہ ہمارا اٹوٹ انگ ہے ۔ وہ Status Quo چاہتا ہے ۔ یہ پاکستان کے ۱۶ کروڑ عوام کا موقف نہیں ہے وہ آج بھی مسئلہ کشمیر کو اپنا مسئلہ سمجھتے ہیں وہ آج بھی اس پر Stand ہیں۔ خدانخواستہ اگر پاکستان اپنے موقف سے پسپائی اختیار کر لیتا ہے تو پھر بھی یہ ہمارے مقدر کی بات ہے ۔ ۲۷ اکتوبر ۱۹۴۷ء سے لے کر آج تک پانچ لاکھ لوگ جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔ ان کا خون کس کھاتے میں جائے گا۔

س: عسکری جدوجہد پرکافی دبائو ہے اس کا مقابلہ آپ کس طرح کریں گے؟

ج: گوریلا جہاد میں ۶۰ سال کوئی بڑی مدت نہیں، اس میں Hit and Run ہوتا ہے ۔ یہ کوئی Conventional جنگ نہیں ہوتی ہے۔ اس میں جان بوجھ کر کبھی پیچھے ہٹا جاتا ہے ، کبھی آگے بڑھاجاتا ہے ۔ یہ اعصاب کی جنگ ہوتی ہے۔ یہ صدیوں جاری رہ سکتی ہے ۔ میں اس لحاظ سے عرض کروں گا بر بنائے علم ، بربنائے زمینی حقائق انشاء اللہ ہماری کارروائیاں پہلے سے زیادہ تیر بہ ہدف ہیں، منظم اور مربوط ہیں۔

س: بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت Derail ہو چکی ہے اور لگتاہے الیکشن کے بعد یہ عمل دوبارہ شروع ہو گا ، دوسری بات یہاں کے لیڈر جو Main Stream کے ہیں وہ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ جنگجوئوں کو خاص کر حزب المجاہدین کو بات چیت میں شامل کیا جائے اگر آپ سے اپیل کی جاتی ہے تو اس بارے میں آپ کا کیا موقف ہے ؟

ج: ہم نے ایک بار نہیں بلکہ متعدد بار واضح کیا ہے کہ اگر جموں و کشمیر کے عوام کا مسئلہ عوام کی خواہش کے مطابق حل ہو جائے ہمیں جو بھی قربانی دینی پڑے ہم دینے کے لیے تیا ر ہیں۔ ۱۳۰ دفعہ مذاکرات ہو چکے ہیں حاصل صفر ہم نے پیشن گوئی کی تھی کہ بھارت پاکستان بات چیت ایک نا کام کوشش ہے۔ یہ وقت اورتوانائی کا ضیاع ہے۔ آج یا کل جب بھی بھارت جموں وکشمیر کے عوام کی خواہش کو مد نظر رکھ کر مسئلہ متنازع تسلیم کرے گا اور اس بنیادی مسئلے کی سہ فریقی حیثیت کو تسلیم کرے گا تو جہاد ی قیادت مدد کے لیے تیار ہے۔

س:عسکری کارروائیوں میں کمی آچکی ہے کیا یہ پاکستان کے دبائو کے زیر اثر ہے ؟

ج: میں دل کی بات کہوں گا جب ۱۱/۹ سے پہلے کوئی پابندی نہیں تھی آپ دیکھیں اس وقت کتنی کارروائیاں ہوتی تھیں اور جب سے ہندو پاک مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا تب سے آج تک دیکھیں کتنی تیر بہ ہدف کارروائیاں ہوئیں جن میں دشمن کا اچھا خاصا نقصان ہو اہے ۔ ہم گوریلا جنگ لڑ رہے ہیں، ہم اچھی طرح دیکھ رہے ہیں مسئلہ ہمارا طویل ہو چکاہے اور ہم طویل جنگ کی حکمت عملی تیار کر چکے ہیں اس میں ہم اپنی مرضی کے مطابق جو جہادی قیادت کی اپنی حکمت عملی ہے ۔ اس کے مطابق کارروائیاں بھی ہوں گی اور نہیں بھی ہوں گی ۔ کب ہوں گی ، کس طرح ہوں گی۔ یہ وقت وقت پر ثابت ہوگا۔ البتہ میں آپ کو بتائوں گا کہ یہ بھارت کے بس کی بات نہیں، اگر وہ مزید سات لاکھ فوج لا کر کشمیر میں کھڑی کر دے، وہ مسلح جدو جہد کا خاتمہ نہیں کر سکتا ہے ، یہ پنجاب کی نہیں، مقبوضہ کشمیر کی سر زمین ہے جو گوریلا جنگ کے لیے سو فی صد موزوں بھی ہے اور مناسب بھی۔ اللہ کی مدد شامل حال ہو ہمیں باہر سے کسی مدد کی ضرور ت نہیں ہے ۔ ۱۸ سال سے لڑ رہے ہیں ساڑھے سات لاکھ فوج کے خلاف اور اللہ کی مدد سے خود کفالت بھی حاصل کر چکے ہیں۔ بھارتی فوجی خود کشی کرتے ہیں سال میں ۷۰۰ سے زیادہ خود کشی کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ جونیئر سینئر پر گولی چلاتا ہے کوئی کیمپ سے بھاگ جاتا ہے اور وہ Yoga کرتے ہیں اپنے آپ کو Motivate کرنے کے لیے۔ ہمارے بھی بہت سے ساتھی گرفتار ہوتے ہیں۔ یہ تحریکوں کا حصہ ہے ۔ شہید ہونا ، غازی بن جانا، یہ اس راستے کے نشان ہیں۔ بھارتی جنرل VP Malikاپنی حسرت پوری کر کے چلے گئے کہ Militancy ختم ہو چکی ہے ۔ جنرل پدمنا بھن بھی یہی کہہ چکے ہیں لیکن ساتھ ہی کہتے ہیں کہ فوجی قوت میں کمی کرنے کی کوئی گنجائش نہیں، جنرل کپور مزید فوج مانگتے ہیں۔ ان کے متضاد بیانات اس بات کے لیے کافی ہیں کہ مجاہدین پوری قوت کے ساتھ میدان میں موجود ہیں۔

س: کیا آپ اتنے خود کفیل ہو چکے ہیں کہ پاکستان کے منفی دبائو کا اثر آپ پر مرتب نہیں ہوگا؟

ج: میرے سارے بیانات گواہ ہیں ،ہم نے کبھی بھی کسی کا دبائو قبول نہیں کیا ہے ۔ پاکستان ایک فریق کی حیثیت سے مسئلہ کشمیر کوسیاسی ،سفارتی طور پر اگر مدد کرتا ہے یا بہ فرض محل نہیں کرتا ہے تب بھی اللہ کے فضل سے یہ تحریک جاری رہے گی ۔ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی ۔ انشاء اللہ

س: اگر بھارت چار نکاتی فارمولے کے حوالے سے لچک دکھاتا ہے تو کیا آپ اس کی حمایت کریں گے ؟

ج: پہلی بات یہ ہے کہ چارنکاتی فارمولہ حق خودارادیت کا متبادل نہیں ہے ، دوسری بات یہ کہ یہ فارمولہ مبہم ہے اس کی واضح تشریح کبھی سامنے نہیں آئی۔ سب نے اپنی اپنی تشریح کی ہے ، Self Governance اور Joint Control کی ہر ایک نے الگ الگ تشریح کی ہے ۔ گورنمنٹ آف پاکستان اور اس کی Establishment کی اپنی تشریح ہے، محبوبہ مفتی کی اپنی اور حریت دھڑے کی اپنی تشریح ہے ۔

س: مکمل آزادی دونوں ملکوں سمیت چین کو بھی ہضم ہونے والی نہیں تو مجاہدین کا کیا کردار ہو گا؟

ج: قومیں اور تحریکیں اپنے موقف کے ساتھ زندہ رہتی ہیں۔ ہمارا ایک موقف ہے۔ بے شک منزل ۱۰۰ سال کے بعد یا ۱۰ سال کے بعد مل جائے یا ہزاروں سال اس کا ساراانحصار قوم کے کردار پر ہے لیکن جو قومیں اپنے بنیادی موقف پر Compromise کرتی ہیں۔ تاریخ ان کو بھلا دیتی ہے ۔ جہادی قیادت کا موقف ہے جموں و کشمیر کا بنیادی حق جو دنیا کے تمام دستوروں میں، تمام بین الاقوامی چارٹر میں ہے ، وہ ہے حق خودارادیت یعنی عوام سے پوچھا جائے وہ کس طرح اپنے مستقبل کی تشکیل کرنا چاہتے ہیں، اگر جموں و کشمیر کے عوام بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں صدمہ ہو گا لیکن ہم اسے قبول کریںگے اگر پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو ہر صورت ہمیں اسے قبول کرنا ہوگا۔ یا اگر آزاد رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کا بھی احترام کرناہو گا، بنیادی Factor عوام کی رائے ہے۔ اس کی قطعی اکثریت رائے ہو گی۔ اسی رائے کا احترام کرنا ہو گا یہی ہمارا موقف ہے ۔

س: کل یہاں پر بھارتی اعلیٰ سطح کے سیاستدان سلمان خورشید آئے تھے تو انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے کہا تھا کہ Irish ماڈل طرز پر حل ممکن ہو سکتا ہے ۔ اس کے رد عمل میں آپ کیا کہیں گے ؟

ج: Irish Model ہمارے لیے حتمی فیصلہ ہوگا یہ ممکن نہیں البتہ اگر حتمی فیصلے تک پہچنے کے لیے آئرش ماڈل طرز پر تینوں فریق متفق ہو جائیں، ہمیں اس میں بھی اعتراض نہیں ہوگا البتہ یہ ایک عبوری قدم ہو گا، یہ First Step towards ultimate solution ہوگا۔ ہماری تحریک کو ہمارے آبائو اجداد نے ۴۷ء سے ۸۷ء تک کلہاڑیوں، کانگڑیوں، ڈنڈوں اور پتھروں سے جاری رکھا اور انہوں نے ایک لمحے کے لیے بھی بھارت کی غلامی کو قبول نہیں کیاہے پھر ۸۸ء سے آج تک قربانیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ کمزوری اور تھکاوٹ آ سکتی ہے۔ لیکن Compromise نہیں ہو سکتا ہے۔ مسئلے کے حل میں بنیادی فریق کشمیری عوام کو جب تک شامل نہیں کیا جائے گا۔ ہزار بار بھی مذاکرات ہوں، معاملہ آگے نہیں بڑھے گا۔

س: حال ہی میں لندن اعلامیہ پر نیشنل کانفرنس کے عمر عبداللہ کے دستخط کو آپ کس طرح کی تبدیلی سے تعبیر کرتے ہیں کیا یہ خوشگوار تبدیلی ہے ؟

ج: لندن کانفرنس کا اعلامیہ ہیومن رائٹس کے حوالے سے ، فوجی انخلاء اور حق خوداریت کے حوالے سے اچھا ہے البتہ عمر عبداللہ نے اپنے اندرون کا اظہار کیا کہ فی الحال موجودہ حالات میں Right of Self Determination کوئی Option نہیں ہے ۔ میں اسے مسترد کرتا ہوں۔ ہمارا واحد موقف یہی Option ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور Option نہیں۔ اگر عمر عبداللہ نے دستخط کیے ہیں تو اسے چاہیے کہ اس پورے اعلامیہ کی تائید کرے۔ ویسے Main Stream پارٹیاں آج کل الیکشن کی تیاریوں میں ہیں اور ان کی ہمدردیاں ستم رسیدہ عوام کے ساتھ صرف ووٹ بنک حاصل کرنے کے لیے ہیں۔ Election Oriented ان کی تقریریں ہیں ورنہ ان کا پچھلا کردار اور تاریخ سب کی آنکھوں کے سامنے کھلی کتاب کی طرح ہے ۔ اگر کوئی Main Stream پارٹی آج جموں و کشمیر کے بنیادی حق کو تسلیم کرتی ہے لیکن اپنے بھارت نواز ایجنڈے پر محو سفر ہے تو یہ اس کی دورخی ہے ، منافقت ہے ۔

They can not befool kashmiri people any more انہیں اس سے باز رہنا چاہیے ۔

س: آئندہ الیکشن کے حوالے سے آپ کا موقف کیا رہے گا۔ یہاں یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ آپ کا رابطہ کسی تنظیم کے ساتھ ہے جو یہاں الیکشن لڑے ؟

ج: ہم Election کے پورے Process کو وطن عزیز کی قربانیوں کے ساتھ متصادم سمجھتے ہیں، اس میں حصہ لینا بلواسطہ یا بلا واسطہ ، قوم کی قربانیوں کے ساتھ برہنہ غداری اور بے وفائی ہے ہم نے تمام ٹرانسپورٹرز ، ملازمین اور پورے عوام کو اپیل کی ہے ۔ بے شک ان پر کتنا ہی ظلم بھی ڈھایا جا ئے وہ حصہ نہ لیں۔ یہ بھارتی استبداد کو مضبوط اور منظم کرنے کی مذموم کوشش ہے اور بھارت یہ بات منوانا چاہتا ہے کہ کشمیری عوام بھارت کی آئینی عمل داری کے تحت اپنا سیاسی Vote Cast کرتے ہیں اس طرح وہ بھارت کے ساتھ رہنے اور زندگی گزارنے کا پھر ایک بار اعادہ کرتے ہیں۔ اس طرح International Community کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی جاری ہے ۔ ووٹ ڈلوائے جاتے ہیں بھارت کے مرکزی حلقوں میں ہمارے Intelegence ذرائع موجود ہیں۔ کشمیر کے اندر ساڑھے سات لاکھ فوجی، ٹاسک فورس وغیرہ کو سادہ کپڑوں میں ملبوس کر کے سرحدی علاقوں میں بھیجا جاتا ہے جہاں میڈیا نہیں ہے وہاں ان سے ووٹ ڈلوائے جاتے ہیں کیونکہ وہاں انٹرنیشنل Monitering نہیں ہے۔

س: Behind the Curtain حریت کانفرنس اپنے Demi Candidate لارہی ہے، یہ تاثر مل رہا ہے کہ اس کے لیے تیاریاں ہو رہی ہیں جیسے کہ حلقہ کمیٹی کا قیام، بلاک کمیٹی کا قیام وغیرہ اگر یہ ہوا تو اس صورت میں آپ کا موقف کیا رہے گا؟

ج: میر واعظ کے بیانات سے مجھے معلوم ہوتا ہے کہ وہ قطعی طور پر حصہ لینے کا ارادہ نہیں رکھتے اگر بالفرض وہ حصہ لیتے ہیں پھر چاہے وہ سید علی گیلانی بھی ہوں الیکشن ان کے سیاسی کیریئر کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گا میں یقین سے کہتا ہوںجموں و کشمیر کے عوام اسے اسی نظر سے دیکھیں گے ، جس نظر سے وہ Main Stream پارٹیوں کو دیکھتے ہیں ان کی حریت کا لبادہ چاک چاک ہو گا۔ مجھے یقین ہے حریت کا دعویدار کوئی رہنماالیکشن میں حصہ نہیں لے گا لیکن اگرپس پردہ Proxy Condidate یا Demi کھڑا کرتے ہیں وہ بھی ان کے لیے موت کا پیغام ہو گا اور یقین کے ساتھ کہتا ہوں وہ شہداء کے خون سے غداری ہو گی۔

س: یہاں علیحدگی پسند یک زبان نہیں ہیں اگر Irish Model پر بات کی جائے تو کس سے کی جائے؟ آپ کا Stand کیا ہوگا؟

ج: زخمی دل کے ساتھ آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں یہ المیہ ہے ہماری مظلوم قو م کا کہ ہماری سیاسی قیادت نے ان قربانیوں کی افادیت اور اہمیت کو نظر اندا زکرتے ہوئے اپنے اپنے دائرے میں اپنا اپنا الو سیدھا کرنے کا جو بھیڑا اٹھایا ہے اس سے بڑے نقصانات مرتب ہو رہے ہیں۔ ہر کہنے والے کے پاس جواز ہے کہ ہم کس سے بات کریں۔پھر بھی اگر بھارت اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ میں جموں و کشمیر کی تاریخی حیثیت کو قبول کرتا ہوں اس کے حل کے لیے قیادت کے ساتھ سہ فریقی بات چیت کے لیے تیار ہوں تو مجھے یقین ہے کہ اختلافات کے باوجود گیلانی صاحب، شبیر احمد صاحب اور یٰسین ملک صاحب ایک ہی پلیٹ فارم پر بیٹھ جائیں گے لیکن اس کے لیے بھارت سرے سے تیار ہی نہیں، اصلی رکاوٹ بھارت ہے ۔

س: زمینی سطح پر یہ لگ رہا ہے کہ عسکری کارروائیوں میں بہت زیادہ کمی ہو رہی ہے ۔ لیکن بھارت کے بری فوج کے سر براہ نے کہا ہے کہ دراندازی بڑھنے کا خدشہ ہے کیا اس کو نظر آرہا ہے کہ وہاں کوئی ایسی سر گرمیاں ہو رہی ہیں؟

ج: آپ جنرل دیپک کپور سے پوچھیں کہ انہوں نے جو ۷۲۵ کلومیٹر تار لگائی ہے جو ۱۲ فٹ چوڑی اور ۹ فٹ اونچی ہے اور جگہ جگہ اس میں Electric Currect پاس کی گئی ہے ۔ اور اسرائیل کے دیے گئے Sensory آلات نصب کیے ہوئے ہیں جو انسانی جسم کی حرارت سے Activate ہوتے ہیں اور لاکھوں سیکورٹی فورسز Round the Clock سرحد کی گشت میں مصروف ہیں اور حکومت پاکستان کی طرف سے سیز فائر کا اعلان ہوا ہے ۔ دونوں سائیڈ کی فوجیں سیز فائر کی نگہبانی میں مصروف ہیں اس کے بعد بھی Infiltration کیسے ہو گی یہ ساڑھے سات لاکھ فورس کس مرض کی دوا ہے ، ۱۵ ارب کی تارکس لیے لگائی ہے آخر جنرل کپور کی بات میں کیا وزن ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام تحریکی حلقوں میں اور جہادی حلقوں میں شامل ہو رہے ہیں اور خود وہاں فلک بوس پہاڑوں اور جنگلوں میں مجاہدین کے موبائل کیمپ چل رہے ہیں کوئی Infiltration نہیں ہو رہی ہے۔

س: حال ہی میں آپ کا آپریشن چیف گرفتار ہوا ہے تو کئی لوگوں کا کہنا ہے یہ سرنڈر ہے اور اس سے پہلے پونچھ کشتواڑ میں بھی ایسے واقعات پیش آچکے ہیں۔ اگر یہی رحجان رہا تو کیا ہو سکتا ہے ؟ اور اگر آپریشنل چیف گرفتار ہوا تو ابھی تک دوسرے کا اعلان کیوں نہیں کیا گیا جبکہ ۲۰ سال سے یہ روایت رہی ہے کہ ۲۴ گھنٹوں کے اندر اندر دوسرے کمانڈر کا اعلان ہوتا تھا؟

ج: نثار احمد بٹ صاحب جن کا اصلی نام مصباح الدین ہے ۔ ۱۷ سال سے اس تحریک کے ساتھ ہیں ان کے بارے میں سرنڈر ہونے کا خیال کرنا، یہ دشمن کی Disinformation مہم کا حصہ ہے تاکہ دوسروں کی حوصلہ شکنی ہو سکے ۔ میں سختی سے اس کی مذمت کرتا ہوں۔ نثار احمد کا کردار قابل تقلید ہے وہ ساڑھے چار ماہ پہلے علالت کی بنا پر فارغ ہو چکے تھے ۔ عزیمت کے پہاڑ انہوں نے سر کیے ہیں۔ غازی مصباح الدین پہلے بھی In Operation ہیں اور آج بھی اپنے منصب پر فائز ہیں۔ میں ایک مسلمان اور جہادی سر براہ کی حیثیت سے کہہ رہا ہوں۔ ان کا منصب ایک سیکنڈ کے لیے بھی خالی نہیں ہوا ہے ۔ بد قسمتی سے جس وقت گرفتاری ہوئی ہم نے وضاحت کی تھی لیکن کچھ بیانات Twisted پیش کیے گئے جس سے غلط فہمی پیدا ہوئی۔ احسان الٰہی نے مصباح الدین کے بارے میں کہا تھا کہ وہ گرفتار نہیں ہوئے۔ نثار احمد کے بارے میں میرا خیال ہے وہ ذرا Relaxہوئے تھے اور تھوڑی سی بے احتیاطی کی جس کی وجہ سے وہ گرفتا ر ہوئے۔

(بحوالہ : ماہنامہ ’’کشمیر الیوم‘‘ راولپنڈی۔ شمارہ: جنوری ۲۰۰۸ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.