مسئلہ کشمیر: نئے عالمی اور علاقائی تناظر میں

کشمیر ایک ایسا سُلگتا موضوع ہے جسے ماہرین دنیا کا سب سے الجھا ہوا مسئلہ قرار دیتے ہیں۔ اٹھاون سال سے برقرار رہنے والے اس مسئلہ نے نہ صرف بھارت اور بالخصوص پاکستان کے لوگوں پر گہرے ذہنی و نفسیاتی اثرات مرتب کیے بلکہ برصغیر کی معیشت کو بھی استحکام حاصل نہیں کرنے دیا ۔ حالیہ دنوں میں اس مسئلہ کے حل میں تیزی نظر آتی ہے۔ لیکن اس میں عالمی مفادات کا تحفظ بھی اہم صورت اختیار کرگیا ہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں گزشتہ دنوں ’’اسلامک ریسرچ اکیڈمی‘‘کراچی کے لیکچر سیریز کے تحت ایک سیمینار ہوا۔ ’’مسئلہ کشمیر: نئے عالمی اور علاقائی تناظر میں‘‘ کے موضوع پر ہونے والے اس سیمینار میں ماہرین سیاست اور دانشوروں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔سیمینار کی ابتداء میں اکیڈمی کے ڈائریکٹر جناب سید شاہد ہاشمی نے سیمینار کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ عبدالرشید ترابی نے اپنے خطبہ صدارت میں مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر پر دوسروں کی طرح ہمارے بھی کچھ اہداف تھے جنہیں ہم نے کامیابی سے حاصل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی قسمت کا فیصلہ مسئلہ کشمیر کے بہتر حل میں ہے اور پوری امت مسلمہ کی قسمت پاکستان میں حالا ت کی بہتری سے وابستہ ہے جبکہ امت مسلمہ اس وقت قیادت کی متلاشی ہے اور پاکستان اپنے جغرافیائی محلِ وقوع اور ایٹمی قوت ہونے کے ناطے اہم کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ پاکستانی قوم سقوط ڈھاکا کو فراموش نہیں کرسکی ہے اور فوج میں بھی کچھ لوگوں کی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مختلف سوچ ہے۔ نوجوان دانشور اور مظفر آباد پریس کلب کے صدر عارف بہار نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا میں تنازعات حل کرنے والے ماہرین مسئلہ کشمیر کو دنیا کا سب سے زیادہ الجھا ہوا مسئلہ قرار دیتے ہیں۔ مگر مسئلہ کے اصل فریق اور اہم پاکستان نے اس حوالے سے کبھی ٹھوس پالیسی اختیار نہیں کی۔ پاکستان کے حکمرانوں نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ وہ کشمیر کو کتنی آزادی دلاسکتے ہیں اور بھارت انہیں کس حد تک آزاد کرسکتا ہے؟ پھر سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ کشمیری کس حد تک اس میں تعاون کریں گے؟ عارف بہار نے یہ بات زور دے کر کہی کہ پسپائی چاہے کیسی ہی کیوں نہ ہو کشمیریوں کو بھارت کا غلام نہیں بنایا جاسکا اور بھارت سے آزادی کے مسئلہ پر کشمیریوں میں کوئی دورائے نہیں ہیں انہوں نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے کردار کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ پاکستان بیرونی دبائو کے زیر تسلط ہے اس لیے وہ ہر معاملے پر حتیٰ کہ کشمیر پر بھی امریکی دبائو قبول کرتا جارہا ہے اور اس پسپائی نے پاکستان کو مسئلہ کشمیر پر دنیا میں تنہا کردیا ہے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز تجزیہ نگار اور دانشور امان اللہ شادیزئی نے کہا کہ عالمی طاقتیں کبھی اس بات کو پسند نہیں کریں گی کہ جنوبی ایشیا میں پاکستان کی جغرافیائی حدود میں اضافہ اور بھارت کی حدود میں کمی ہو۔ اس سے بڑھ کر المیہ یہ ہے کہ ۱۹۵۰ء سے ے کر آج تک پاکستانی حکمرانوں نے امریکی تابعداری کے سوا کچھ نہیں کیا۔ مسئلہ کشمیر پر بیانات اور حکمت عملی وقتی سیاسی مصلحتوںکے تابع رہی ہے۔ امان اللہ شادیزئی نے کشمیری قیادت پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی مقتدر قوتوں کے بجائے عوام پر بھروسہ کریں۔ ورنہ عین وقت پر آپ تنہا رہ جائیں گے۔ آخر میں اکیڈمی کے ڈائریکٹر سید شاہد ہاشمی نے معزز مہمانان گرامی اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

(رپورٹ: محمد آفتاب احمد)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*