مختصر مختصر

خانۂ کعبہ کی چابی

شاہِ یمن تبع اسد حمیری نے اپنے زمانے میں خانہ کعبہ میں دروازہ اور قفل لگوایا اور اس کی چابی کا اہتمام کیا۔ اس وقت سے یہ چابی شیبی خاندان کے پاس ہے۔ یہ ایک مہتمم بالشان اعزاز ہے جو اس خاندان کو حاصل ہے۔ شیبی خاندان قبیلہ قریش ہی کی ایک شاخ ہے جبکہ حضوراکرمؐ کا تعلق قبیلہ قریش کی دوسری شاخ سے تھا۔ زمانۂ قدیم سے غلاف کعبہ کے ساتھ ہی ایک مخصوص تھیلی بھی تیار کی جاتی تھی جو خانۂ کعبہ کی چابی رکھنے کے لیے ہوتی تھی۔ یہ تھیلی سبز ریشمی کپڑے کی ہوتی تھی جس پر زردوزی کا کام ہوتا تھا۔ اس تھیلی کے ایک طرف سورۂ نساء کی آیت ۵۸‘ دوسری طرف سورۂ نمل کی آیت ۳۰ ؍اور بھیجنے والے بادشاہ یا خلیفہ کا نام گڑھا ہوتا تھا۔ چابی چاندی کی ہوتی تھی جس پر سونے کا ملمع ہوتا تھا اور یہ چابی کافی لمبی ہوتی تھی۔ اب جبکہ غلافِ کعبہ خود مکہ مکرمہ میں سعودی حکومت کی طرف سے تیار کیا جاتا ہے تو یہ تھیلی بھی یہیں بنائی جاتی ہے اور اس پر بھی اسی طرح زردوزی سے ایک طرف سورۂ نساء کی آیت اور دوسری طرف سعودی بادشاہ (خادم الحرمین الشریفین) کا نام گڑھا ہوا ہوتا ہے۔ چونکہ کعبہ مکرمہ کا موجودہ دروازہ ملک خالد بن عبدالعزیز کے عہد میں سونے کا لگایا گیا ہے تو اس کی چابی بھی سونے کی بنائی گئی ہے جو پہلے کے مقابلے میں قدرے چھوٹی ہے۔ اس کی کُل لمبائی ۵۰ سینٹی میٹر ہے اور اس کا وزن نصف کلو گرام کے قریب ہے۔ یہ ایک ہی چابی ہے۔ اسی طرح قفل بھی سونے کا اور نیا ہے۔ بنو شیبہ خاندان میں سب سے زیادہ عمر رسیدہ شخص کے پاس خانۂ کعبہ کی چابی رہتی ہے اور اسے سالانہ ۳۲ ہزار سعودی ریال بطور وظیفہ ملتا ہے۔ غلافِ کعبہ کے لیے ۵ لاکھ سعودی ریال سالانہ دیے جاتے ہیں۔

(بحوالہ: ’’اخبار جہاں‘‘۔ دسمبر ۲۰۰۹ء)

فطرت سے بغاوت

’’تاریخ شاہد ہے کہ جب کسی قوم میں مردانگی اور غیرتِ انسانی کو زوال ہوا، عورتوں نے اپنی نسائیت اور فطرتِ مادری کیخلاف بغاوت کی اور آزادی و بے حجابی کی راہ اختیار کی، ہر چیز میں مردوں کی مسابقت کی کوشش کی، خانگی زندگی سے نفرت و غفلت بڑھی اور ضبطِ تولید کی رغبت پیدا ہوئی، اس کا ستارۂ اقبال غروب ہوا۔ رفتہ رفتہ اس کے نشانات بھی مٹ گئے۔ یونانی، رومی اور ایرانی اقوام کا انجام بھی یہی ہوا۔ یورپ بھی آج اسی راہ پر گامزن ہے جو اس انجام تک لے جاتی ہے۔ عالمِ عربی کو ڈرنا چاہیے، کہیں اس کا انجام بھی ایسا نہ ہو‘‘۔

(مولانا سید ابوالحسن علی ندوی)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*